Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

واپسی کاسفر

(گزشتہ سے پیوستہ)
وہ اپنے مربی سے جن کووہاں کابچہ بچہ امین وصادق کے ناموں سے جانتاتھا،اپنے رب کایہ فرمان سن کرکانپ اٹھے تھے کہ خبردار!تمہیں کسی قبیلے کی محبت اس بات پرمجبورنہ کردے کہ تم انصاف کادامن اپنے ہاتھ سے چھوڑدو۔انہیں اس بات کاقوی یقین تھاکہ اگرہم نے اس زمین پراللہ کابتایاہوانظام عدل قائم کردیاتووہ ہم پراپنی رحمتوں اوربرکتوں کے خزانوں کی بارش کردے گا۔یہی وجہ ہے کہ خلیفہ ثانی حضرت عمرؓکے زمانے میں جب فتوحات کا دروازہ کھلاتوایک معرکہ میں مال غنیمت کے اس قدر ڈھیرلگ گئے کہ اطراف میں بیٹھے ہوئے لوگ ایک دوسرے کودیکھ نہیں سکتے تھے۔ان نعمتوں کودیکھ کرخلیفہ ثانی حضرت عمرؓاوران کے ساتھیوں نے روناشروع کردیاکہ کہیں آخرت کی نعمتوں کی بارش دنیامیں تونہیں شروع ہوگئی۔
انہوں نے اپنے آقاومربی ختمی الرسل محمدﷺ سے سن رکھاتھاکہ مومن بدکارہو سکتاہے، چور ہو سکتاہے کہ گناہ اس سے سرزدہو جائیں لیکن مومن جھوٹانہیں ہوسکتا۔انہوں نے اپنے آقاومربی ختمی الرسل محمدﷺسے یہ بھی سن رکھاتھاکہ جب ایک شخص جھوٹ بولتاہے تواس کے جسم سے ایک ایسی بدبونکلتی ہے کہ رحمت کے فرشتے اس سے کئی فرسنگ دوربھاگ جاتے ہیں۔ یہی سچ بولنے کی صفت نے اس دورکی تاریخ میں لوگوں میں اعتراف جرم کی یہ جرأت پیداکی انہوں نے خودزناکے جرم کا اقرارکیااورسزاکے لئے اپنے آپ کوپیش کیا۔ انہیں اپنے وعدوں کاپاس تھاکہ ان کارب ان سے یہ کہتاہے کہ تم سے تمہارے وعدوں کے بارے میں دریافت کیاجائے گا۔یہ وہ کمال تھاجومیرے پیارے ختمی الرسل محمدﷺ نے ان کی زندگیوں میں پیداکیاتھا۔
انہیں یہ بھی واضح طورپربتادیاگیاتھاکہ منافق کی تین نشانیاں ہیں کہ جب بات کرے توجھوٹ بولے،جب وعدہ کرے توپورانہ کرے اورجب اس کے باس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے۔اس امت پرہی نہیں بلکہ اس پوری دنیاکی ترقی کی بنیادہی ان تین ستونوں پررکھی ہوئی ہے۔اب آپ خودہی فیصلہ کرلیں کہ کیامیراماتم اورمیرے نالے درست نہیں کہ اپنی انہی گم گشتہ اقدارکی طرف لوٹ جانے میں ہی ہماری عافیت ہے؟
ہم گلیوں،بازاروں،حلف اٹھاکر عدالتوں، اسمبلیوں اوراقتدارکے ایوانوں میں بیٹھ کرکس دھڑلے سے ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں اورجھوٹی گواہیاں دیکرامانت میں خیانت کرتے ہیں۔کیاساری دنیاکے سامنے ہم زبانی اورتحریری وعدے کرکے پوری مکاری کے ساتھ برملایہ نہیں کہتے رہے کہ یہ کون سے قران وحدیث ہیں؟کیاہمارے ذمہ جو امانت سپردکی گئی ہے کہ جب تم حکمران بنوتوعدل وانصاف کانظام قائم کرو،اس میں کھلم کھلاخیانت نہیں کررہے؟ملک کی سب سے اعلیٰ عدالتوں کے منصفین کے احکام کی روگردانی کرکے عدل وانصاف کی بری طرح تضحیک کے مرتکب نہیں ہوئے؟اس پرمستزادکہ اعلیٰ عدلیہ کو دھوکہ دیتے ہوئے سوئس عدالتوں کوملک وقوم کی لوٹی ہوئی دولت کی بابت خودہی تمام مقدمات بندکرنے کاخط لکھ دیاگیا۔
قوم کوتویہ عجب تماشہ بھی یاد ہے کہ جب یہاں کی مفلوک الحال قوم سیلاب کی تباہ کاریوں میں مبتلا تھی توقوم کاسربراہ صدر زرداری اپنے بچوں کولے کر تفریح کے لئے پیرس کے انتہائی خوشگوار اور شاندارموسم میں عالمی شہرت یافتہ شاہراہ’’ شانزے لیزے‘‘میں گھوم رہاتھا،فرانس کے عجائب گھر، کھنڈرات سے لطف اندوزہورہاتھا اورفرانسیسی حکومت کی میزبانی کے مزے لوٹ رہا تھااور بالآخربرطانیہ کے بے مقصد دورے میں اپنے ہی ایک جیالے کے ہاتھوں ذلیل ورسواہوگیالیکن قوم ایسے سسٹم میں گرفتارہے کہ آج ایک مرتبہ پھرآزمودہ صدرپھرسے اسی عہدے پربراجمان ہیں۔
دوقومی نظریہ کی بنیادپرحاصل کردہ معجزاتی ریاست کاازلی دشمن بھارت کااعلیٰ افسرجب اپنی عدالت عالیہ میں اپنی ہی ریاست کے بارے میں حلفیہ اقرارکررہاہے کہ بھارتی پارلیمنٹ اورممبئی حملوں میں خودبھارتی حکومت ملوث تھی اورہمارے اسی میڈیاپر بیٹھے کچھ ننگ دیں اوروطن فروش اینکرمیڈیاپرنہ صرف بھارت کی وکالت کررہے تھے بلکہ اب بھی وہ انتہائی بے شرمی کے ساتھ پاکستانی اداروں پرالزام تراشی کرکے اب بھی خودکومحب وطن کاعلم تھامے قوم کوبھاشن دیتے رہتے ہیں۔یہ سب کچھ کرنے کے باوجودآپ اپنے لئے کس منہ سے عزت وکامرانی کاحق مانگتے ہیں؟جب تک آپ یہ سب کچھ نہیں بدلتے،اس نام نہاد میڈیاگروپ کابائیکاٹ نہیں کرتے اوراس نظریاتی ریاست کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈہ سے توبہ نہیں کرتے تومیرے رب کی رحمت کے فرشتے اس جھوٹ سے توکئی فرسنگ دوربھاگ گئے ہیں ۔
یادرکھیں ہماری ذلت ورسوائی اس وقت ختم نہیں ہوسکتی جب تک ہم واپسی کاسفرشروع نہیں کرتے۔اس کاتووعدہ ہے کہ تم نے اگرایفائے عہدنہ کیاتودنیا کی رذیل قوموں سے رسوا ہوجا گے۔آج اگرہم اپنے اس وطن کی مٹی سے وفاداری کاحق بھول گئے ہیں توگویاپھرہم اپنے آقاکی پہچان بھی بھول چکے ہیں جس نے ہمیں ماہِ رمضان کی مبارک شب قدرکویہ پاک وطن عطافرمایاتھا۔ آج ہم دنیامیں جوذلیل ورسواہو رہے ہیں،کیااس کی یہ وجہ تونہیں کہ ہماراآقاجوساری دنیاکاخالق ورازق ہے،جودنیا وآخر ت کے تما م خزائن کامالک ہے،اس سے مانگنے کی بجائے ہم آئی ایم ایف اورعالمی اداروں کی تمام شرائط کوبلاچون وچرامان کربھیک کا کشکول اٹھائے دربدرہورہے ہیں اوراپنی حکومت کوسہارادینے کے لئے امریکہ اوربھارت کی غلامی کیلئے تن من دھن داؤپرلگائے بیٹھے ہیں اوردوسری طرف ایک سیاسی جماعت اپنے لیڈرکوجیل سے رہائی دلوانے کیلئے اسی ملک کے درپرسوالی بن کرپہنچ جاتے ہیں جن پرپورامنہ کھول کراپنی حکومت کوگرانے کاالزام لگاتے رہے،کبھی ملک کے خلاف عالمی مالیاتی اداروں کو خطوط لکھے گئے اوراب باقاعدہ ملک میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی مخالفت میں برملاقوم کوگمراہ کررہے ہیں۔اب اسی امریکانے آپریشن کوروکنے کیلئے کھلم کھلادباؤڈالنے کے لئے پاکستان میں ہونے والے انتخابات کے خلاف قرار دادمنظورکرکے اپنے چہرے سے نقاب ہٹادیاہے اوروہ جماعت جس کے لیڈرکی رہائی کامطالبہ کیاجارہاہے،جوامریکہ کو للکار کرکہتاتھاکہ ہم کسی کے غلام نہیں توآج اس مکافاتِ عمل کے بعدکہاں کھڑے ہیں۔
پھرایسے سیاستدان کوکیاکہیں گے جوخودکوعالمِ دین،مفتی اورایک دینی جماعت کے سربراہ بھی ہیں، جوبرسوں سے عمران خان کویہودیوں کاایجنٹ کہہ کرمخاطب کرتے رہے اور عمران خان بھی مولاناکی تذلیل کیلئے مختلف عنوانات سے اپنے جلسوں میں للکارتے رہے اورآج ان دنوں ایک دوسرے کوگلے لگانے کیلئے بیتاب ہیں۔کیایہ اس وقت جھوٹ بول رہے تھے یااب جھوٹ کاسہارالیکرشیروشکرہورہے ہیں۔یہ بھی مکافاتِ عمل ہے کہ قدرت نے ان سب کے چہروں کے تمام نقابوں کوتارتارکردیاہے لیکن میں یہ سوچ رہاہوں کہ روزِجزاکے دن جب کوئی بھی فردایک قدم تک نہیں ہلاسکے گاجب تک وہ اپنے منہ سے نکلے ہرلفظ کاحساب نہیں دے گاتواس وقت یہ کیاجواب دیں گے۔
کچھ تو سمٹو کہ نظر ہم بھی اٹھا کر دیکھیں
ہم کو اے جلوہ بے باک حیا آتی ہے

یہ بھی پڑھیں