Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

سفاک منافق

رعونت،درندگی اورسفاکی،تہذیب کے ہر قرینے اورانسانیت کے ہرسلیقے سے عاری ہوتی ہے۔وہ اپنی خوں آشامی کاجوازخود ہوتی ہے اوراپنی حیاباختگی کی دلیل خودتراشتی ہے۔ کسی کی برہمی،کسی کی تنقیداورکسی کی حرف گیری سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اگرایسا ہونا ہوتا توامریکابہت پہلے سے اپناچلن تبدیل کرچکاہوتا اوراسے اندازہ ہوگیاہوتاکہ اسلحے اورٹیکنالوجی کے زورپرانسانوں کے پرخچے اڑانے اوربستیاں پیوندزمین کردینے سے نہ کوئی قوم سربلندہوتی اورنہ کوئی ریاست آبروپاتی ہے۔امریکی تاریخ حیاباختہ جنگوں،آزاد خودمختار ممالک کے امورمیں ننگی مداخلت اورمعصوم انسانوں کے قتل سے بھری پڑی ہے۔اگرکسی کے پاس مستنداورمصدقہ اعدادوشمارجمع کرنے کاہنرہوتا توپتہ چلتاکہ امن،انسانی حقوق،جمہوریت اور آزادی کادرس دینے والی سپرپاورکے دامن پر جھوٹ کے کتنے داغ اورمکاری کے کتنے چھینٹے ہیں۔
بھول جایئے کہ چھ اگست1945ء کو ہیروشیما پرپہلاایٹم بم’’امن وآشتی‘‘ کے اسی علمبردارنے گرایاتھاجس سے تین لاکھ سے زائد انسان ہلاک اور لاکھوں اپاہج ہوگئے۔بھول جایئے کہ9اگست 1945ء کواسی مبلغِ انسانیت نے ناگاساکی پردوسراایٹم بم گرایا تھا جس سے شہرکی ایک تہائی آبادی ہلاک ہوگئی تھی۔261سال پہلے1763ء میں پہلے جراثیمی ہتھیاربھی امریکامیں موجودہ امریکیوں کے آبائواجدادنے استعمال کئے تھے۔ پہلی جنگِ عظیم کے دوران جنگی قیدیوں پرزہریلی گیس استعمال کرنے کااعزاز بھی امریکاکے پاس ہے۔1925ء میں جب جنیواکنونشن کیمیائی اور جراثیمی ہتھیاروں کے استعمال پرپابندی لگارہاتھا توسب سے زیادہ مخالفت امریکہ نے کی تھی اوراس پابندی کوقبول کرنے سے انکاربھی کردیاتھا۔یہ باتیں بھول جائیے کہ قصہ ماضی ہو چکی ہیں لیکن آج بھی امریکہ این پی ٹی پر دستخطوں سے انکاری ہے۔وہ روس سے کئے گئے اینٹی بلاسٹک میزائلوں کے معاہدے سے بھی یکطرفہ طورپر منحرف ہوچکا ہے۔آج بھی اس کے ایٹمی گودام میں 12ہزارسے زائد ایٹم بم پڑے ہوئے ہیں۔آج بھی اس کے پاس کیمیائی اورجراثیمی ہتھیاروں کاسب سے بڑاذخیرہ ہے اورآج بھی اس کی غارت گری اور انسانیت کشی جوں کی توں ہے بلکہ کئی گنابڑھ چکی ہے بس تھوری سی یہ تبدیلی آئی ہے کہ اب نسل کشی کاکام اسرائیل سے لے رہاہے۔
تقریباً22سال قبل جولائی2002ء میں افغانستان کے ایک گاوں میں شادی کی ایک تقریب جاری تھی۔بچیاں ڈھولک کی تھاپ پر گیت گارہی تھیں،پٹاخے چھوٹ رہے تھے۔ آسمانوں کی بلندیوں سے امریکی طیاروں نے دیکھااو اسے طالبان کی جنگی تیاریوں کاکوئی کیمپ خیال کرتے ہوئے درجنوں بم گرادیئے۔عورتوں اور بچوں سمیت48بے گناہ انسانوں کے پرخچے اڑا دیئے۔عالمِ اسلام نے جھرجھری تک نہ لی۔مری مری،منمنی سرگوشیوں کے سوااحتجاج کی کوئی لے بلند نہ ہوئی۔قبریں کھدیں اورجلنے سے بچ جانے والے اعضا دفن کردیئے گئے۔امریکی سنٹرل کمانڈنے سینہ تان کرکہا :ہم اس حملے میں پوری طرح حق بجانب تھے،ہمارے جہازوں پر فائرنگ کی گئی تھی۔اس سفاکی کے دوسال بعد ایسا ہی المیہ عراق کے ایک سرحدی گائوں میں بھی پیش آیاجہاں شادی کی ایک تقریب پربم برسا کر55افراد کوموت کے منہ میں دھکیل دیاگیا۔زمین پررینگتے کیڑوں مکوڑوں کودیکھ لینے والی ٹیکنالوجی کوشادی کی تقریب المہدی آرمی کی چھاونی نظرآئی۔خبررساں ایجنسی رائٹرنے ایک عینی شاہدکے حوالے سے بتایاکہ شہید ہونے والوں میں15بچے اور 25خواتین بھی شامل تھیں۔ایک اور عینی شاہد نے العربیہ ٹی وی چینل کوبتایاکہ امریکی طیاروں نے کم وبیش ایک سوبم گرائے۔ٹی وی چینل نے یہ بھی دکھایاکہ کس طرح لہوبہہ رہاہے اورکس طرح ایک گردسے اٹی ہوئی سڑک پرکٹی پھٹی لاشوں کے ڈھیرپڑے ہیں۔
ابوغریب جیل اوربگرام ایئربیس کی متعفن کہانیاں سامنے آنے کے بعد تحقیقات، گواہیاں، بیانات، کورٹ مارشلزاوربازپرس کا ڈرامہ بھی اس تہذیب یافتہ دنیانے دیکھالیکن اب تک کوئی نہیں جواس کھلی بربریت پرامریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے۔آج بھی جب وائٹ ہائوس ،پینٹاگون یاسٹیٹ آفس کاکوئی کارندہ کسی مسلمان ملک کارخ کرتاہے توحکمرانوں پرشادی مرگ کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔اس کے لئے سرخ قالین بچھتے، خیرمقدمی بینرلگتے اورپرتکلف ضیافتوں کااہتمام ہوتا ہے ۔اس کے خون آلود ہاتھوں کوتھامنا،مصافحہ کرنااورچومنا اعزازوافتخارخیال کیاجاتاہے۔اس کی تشریف آوری کواپنی عزت افزائی سمجھاجاتاہے۔
بیسویں صدی میں18کروڑکے لگ بھگ انسان جنگوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔اقوام متحدہ وجودمیں آئی بھی توخونریزی نہ روک سکی۔اب توامریکہ نے کسی آزادملک پرحملہ آور ہونے کے لئے جھوٹے سچے پرمٹ کی روایت بھی ختم کردی ہے اورحفظِ ما تقدم کانیافلسفہ تخلیق کیاہے،گزشتہ صدی کے اختتام پرجولائی 1998ء میں اقوام متحدہ کے120رکن ممالک ہیگ میں جمع ہوئے ۔انہوں نے جینواکنونشن کے ضابطوں کوزیادہ موثربنانے اورجنگی جرائم کے مرتکب فوجیوں کوسزادینے کے لئے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے چارٹر کی منظوری دی۔ اس عدالت کوعملا وجود میں آئے ہوئے26سال ہونے کوہیں لیکن امریکا کی بد مستیاں جاری ہیں۔ اس نے اس عدالت کے خلاف سب سے زیادہ واویلاکیااورکہاہماری فوج تودنیاکے ایک سوممالک میں موجود ہے،ہمیں سیاسی وجوہ کی بناپراس عدالت میں گھسیٹاجاتارہے گا۔
عالمی رائے عامہ کومطمئن کرنے کے لئے صدر کلنٹن نے جاتے جاتے اس چارٹرپردستخط توکر دیئے لیکن قصرسفیدمیں قدم رکھتے ہی بش نے اپنے فرعونی اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس کی توثیق سے انکارکردیااوراوبامابھی انہی کی پالیسی پر کاربندرہے اوراب تک کسی امریکی صدرنے اس کی توثیق پر دستخط نہیں کئے ۔ اس عدالت کوغیرموثر بنانے کے لئے امریکہ نے دنیاکے89ممالک سے معاہدہ کرلیاہے کہ اگرکوئی امریکی فوجی یا سویلین انسانی حقوق کی خلاف ورزی اورجنگی جرائم میں ملوث پایاگیاتواسے امریکاکے حوالے کردیاجائے گا۔ امریکہ نے قانون بنارکھاہے کہ جو ملک اس نوع کا معاہدہ کرنے سے انکاری ہو،اس کی امدادروکی جا سکتی ہے۔احتیاط مزیدکے طورپرامریکہ نے 2002ء میں سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے ذریعے اپنے آپ کوایک سال کے لئے اس عدالت سے مستثنی قراردلوایا، جولائی2003ء میں اس میں مزیدایک سال کی توسیع کردی گئی اور اس کے بعد اب تک ہر سال امریکا استثنی کا حق دار ٹھہرتا ہے۔
ادھرامریکہ کے لے پالک اسرائیل نے غزہ کی پٹی اوردیگرعلاقوں میں گزشتہ9ماہ سے ایک دفعہ پھر بیگناہ فلسطینیوں کا خون بہانے کاسلسلہ جوشروع کررکھاہے،وہ تھمنے کانام ہی لے رہااوربھارت بھی کھل کرنہ صرف اسرئیل کواسلحہ سپلائی کررہاہے بلکہ کئی سو ہندوبیروزگارنوجوانوں کوباقاعدہ بھرتی کرکے بیگناہ مسلمانوں کے خون بہانے کے لئے بھیجا گیاہے اور اس عالمی سانحے کامودی سرکارایک اورخفیہ فائدہ یہ اٹھارہی ہے کہ تیزی کے ساتھ کشمیرمیں نوجوانوں کوگرفتارکرکے غائب کررہی ہے اور مسلم اکثریت کوختم کرنے کے لئے ہندووں کی آبادکاری کی جارہی ہے۔انہیں بلاسودقرضوں سمیت دیگرمالی امدادبھی فراہم کی جارہی ہے اور اسرائیل کے نقش قدم پرچلتے ہوئے ہندووں کی نئی آبادیاں بنائی جارہی ہیں۔ایک مرتبہ پھرمقبوضہ کشمیر میں کئی ہزار گمشدہ افرادکی اجتماعی قبروں کاانکشاف بھی ہواجس کی بازگشت اب عالمی پریس میں بھی اٹھائی جارہی ہے۔ کشمیری پہلے ہی برسوں کی خانہ جنگی کی وجہ سے بھوک ومفلسی کاشکار ہیں اوربھارتی بنیایہ سمجھتاہےکہ معاشی طور پرکشمیریوں کوتباہ کرکے ان کوحقِ خورارادیت کے نعرے سے دستبردار ہونے پرمجبورکردے گا،ان کے بعض لیڈروں کو خرید کران کشمیریوں کوبھارت کے ساتھ مکمل الحاق پرمجبورکردیں گے لیکن بھارتی بنیے کی تمام مکاریاں اورچالبازیاں اب تک ناکام ہوگئیں ہیں۔
لیکن کسی سے کیاگلہ،مراکش سے انڈونیشیا تک ایک سناٹے کاراج ہے۔بڑے بڑے بادشاہ، سلطان اورامیر،صف شکن سورمااور عالی قدررہنما خاموش ہیں۔حرفِ مذمت تودورکی بات ہے،خونِ مسلم کی ارزانی پردوآنسوبہانے والاکوئی نہیں،آخرکون آنسو بہائے؟سب کی آنکھیں تووائٹ ہائوس (قصر سفید)کی بارگاہِ نازپرلگی ہوئی ہیں اورجب کوئی سواری وہاں سے ادھرکارخ کرتی ہے توقالینوں کاکاروبارچمک اٹھتاہے اورپھولوں کی دوکانیں خالی ہوجاتی ہیں۔
انسانی حقوق کے عالمی چیمپئن نے غزہ اورکشمیرکے معاملے پرجس طرح انصاف کی دھجیاں اڑائی ہیں،انسانی حقوق کے تمام ادارے اس پرلعنت ملامت کررہے ہیں مگرمغرب کے اس رویہ پرقدرت نے پوری دنیا کے سامنے ان کے دوغلے پن کوبے نقاب کردیاہے اوریہ دکھادیاکہ خودکومہذب کہنے والوں کے ہاں کتوں کوتوفیملی ممبرکادرجہ حاصل ہے مگرکسی جیتی جاگتی انسانی جان کی کوئی قدروقیمت نہیں!
آج تمہاری خونخواری پرحیرت ہے حیوانوں کو
تم توکل تہذیب سکھانے نکلے تھے انسانوں کو
کیساشوق چرایاتم کو شہروں کی بربادی کا
جگہ جگہ آبادکیاہے تم نے قبرستانوں کو
اتنے بھی سفاک منافق دنیانے کب دیکھے تھے
کتوں کامنہ چومنے والے قتل کریں انسانوں کو

یہ بھی پڑھیں