Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

قرآن کافلسفہ اورسائنس کی ترویج

اسلام کی اثر آفرینیوں کادائرہ بہت وسیع ہے۔ اس نے جہاں توحیدکے اسرارفاش کیے ہیں، عظمتِ انسانی کا پرچم لہرایاہے،اخلاق وسیر کے گوشوں کوپاکیزگی عطاکی ہے،جہاں دلوں میں محبت الٰہی کی شمعوں کو روشن کیا ہے اورایسے پاکیزہ اورایسے اونچے معاشرہ کی تخلیق کی ہے کہ جس کی نظیرپیش کرنے سے تاریخ عالم قاصرہے وہاں مذاہب عالم پراس کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے فکرو تعمق کے دواعی کو اکسایا ہے، عقل وخردکے اجالوں کوعام کیاہے اوردنیاکے تیرہ وتاریک افق پراستدالال واستنباط کے نئے نئے آفتاب ابھارے ہیں۔ کیایہ بات آسانی سے سمجھ میں آنے والی ہے کہ بادیہ نشینانِ عرب تھوڑے ہی عرصے میں تہذیب وتمدن کے فراز اعلیٰ پر فائز ہو جائیں، حکمت ودانش کے افسردہ میکدوں میں پھر سے جان ڈال دیں اورعلوم وفنون کے اجڑے ہوئے دریا میں چہل پہل پیداکردیں،اورکیایہ امر تعجب خیزنہیں کہ عرب کی امی اورناآشنائے حرف قوم دیکھتے ہی دیکھتے فلسفہ وحکمت کے تخت دادرنگ پر تسلط جمالے اورنہ صرف یونانیوں کے بادہ فکرو اندیشہ سے تشنہ کامان ادراک کی تسکین کاسامان بہم پہنچائے بلکہ اس کے جرعوں میں کیف و ذوق کی ان سرمستیوں کابھی اضافہ کر دے جواسلام کی دعوت عرفاں کے ساتھ خاص ہیں ۔
ہماری رائے میں یہ محیرالعقول انقلاب نتیجہ ہے قرآن حکیم کی ان تعلیمات کاجن سے تحقیق وتجسس کی روح بیدارہوئی اوریہ تبدیلی اور عظیم تغیرمرہون منت ہے اس وحی کاجس کا حرف آغاز ’’اقرا‘‘ہے۔قرآن حکیم نے کیوں کر مسلمانوں میں خالص علمی ذوق کی پرورش کی اورکس طرح ان کے اسلوب فکرکوسائنس اورفلسفہ کے حسین سانچوں میں ڈھالا؟اس سوال کا ٹھیک ٹھیک جواب تلاش کرنے کیلئے ہمیں ان چارنکات پر غور کرنا ہوگا ۔
1۔ قرآن حکیم نے اس عالم ہست وبودکی معروضیت کوواشگاف الفاظ میں تسلیم کیا۔زندگی کو احترام کی نظرسے دیکھااوربتایاکہ مسلمان کا نصب العین دنیاوآخرت کے حسن اورنکھار سے بہرہ ورہوناہے ۔
2۔اس کتاب ہدی نے اس حقیقت کو کھول کر بیان کیاکہ اس کائنات میں جوہمارے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے نظام وقاعدہ کی استواریاں پائی جاتی ہیں،اوراس کی تخلیق میں متعین غرض وغایت پنہاں ہے ۔
3۔ اسی صحیفہ مبارکہ نے پہلے پہل اور ہمیشہ کیلئے اس مغالطہ کودورکردیاکہ دین اور عقل وخردکے تقاضوں میں تضادرونماہے ۔
4۔اوریہ بھی اسی کتاب کااعجازہے کہ اس نے فکرواستدالال کی ان راہوں کی طرف رہنمائی کی جنہیں ہم منطق کی اصطلاح میں استقرار کہتے ہیں ۔
اس کائنات کی نوعیت کیاہے؟آیا یہ خوب صورت آسمان،یہ ہرے بھرے اشجار،یہ سانپ کی طرح بل کھاتے ہوئے دریا،یہ ٹھوس پتھر اور ایستادہ پہاڑحقیقی وجود سے بہرہ یاب ہیں یا ان کاوجودمحض باطل اورنظروخیال کی سیمیائی ہے؟ اس بارے میں ارباب فلسفہ ومذہب میں شدید اختلاف پایا جاتاہے اوراس کانتیجہ یہ ہے کہ تہذیب وتمدن علوم وفنون کی پرورش وارتقاسے متعلق دوبالکل ہی متضادنظریے دنیامیں رائج رہے ہیں۔اگرکائنات موجودہے اوریہ عالم ہست وبودوجودخارجی سے متصف ہے تواس کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے فکرونظرکا صحیح اسلوب اختیارکیا ہے اورعلوم وفنون کی نشاط وآفرینیوں اورتہذیب وتمدن کی نقش آرائیوں کیلئے وجہ جوازڈھونڈلینے میں کامیابی حاصل کی ہے۔اگر اس عالم کی حقیقتیں صرف تصور یا صورت کاکرشمہ ہیں یاان کاسرے سے کوئی وجود ہی نہیں،تواس کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے زندگی کی اہمیتوں کوگھٹایا ہے،اس کی غرض وغایت کو سمجھنے میں ٹھوکرکھائی ہے اورایسی راہبانہ اور غیر عمرانی زندگی کی حوصلہ افزائی کی ہے جس سے انسانیت کو بجز قنوط اورمایوسی کے کچھ حاصل نہیں ہواہے ۔
نفی وایجاب کے یہ دونوں راستے نہ صرف جداجداہیں بلکہ دونوں مختلف منزلوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ایجاب کے معنی زندگی کی گہما گہمی اور ارتقاکے ہیں۔علم وفن کے فروغ کے ہیں۔آگے بڑھنے اورکائنات کی ناہمواریوں پرقابوپانے اور اس کو اپنے دائرہ تسخیرمیں لانے کے ہیں،اورنفی کا مطلب محرومی،یاس،قنوط اورجہل ونادانی یا جمودو پسماندگی کواپنانا ہے ۔
اس بناپراسلام نے اس عالم آب وگل کو اگرتسلیم کیاہے تواس کے معنی صرف یہاں کی ابھرتی ہوئی اورنمایا ں ومحسوس حقیقتوں کومان لینے ہی کے نہیں بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے انسانی علم وبصیرت پرپورے پورے اعتماد کا اظہار کیا ہے اورفکرونظر کا ایسا اسلوب اختیارکیا ہے جس کی یقین افروزی کسی تشکیک کی متحمل نہیں۔ دوسرے لفظوں میں اسلام نے کائنات کی معروضی حیثیت کومان کراس اساس اوربنیادکی نشاندہی کی ہے کہ جس پرآگے چل کرانسانی فکروتجربہ کے غرفے استوارہوتے ہیں ۔
یونانی حکماکی اکثریت اس عالم رنگ وبو کو مانتی تھی ان میں استخوانِ نزاع صرف یہ دوباتیں تھیں کہ اس کی ترکیب وساخت میں کن عناصر کو دخل ہے یایہ کہ یہ عالم،ساکن وراکد ہے یا متحرک۔افلاطون ان میں پہلاشخص ہے جس نے اس مسلمہ سے انحراف اختیارکیااوربحث ونزاع کے اس دھارے کوڈھائی سوسال کے بعداس نقطہ کی طرف موڑدیاکہ جس عالم مادی کی ترکیب وساخت کے بارہ میں اب تک میدان مناظرہ گرم رہا۔ اس کے متعلق سوچنے کی بات دراصل یہ ہے کہ آیایہ عالم حقیقی عالم بھی ہے یانہیں،افلاطون کے نزدیک یہ دنیاحقیقی دنیاکامحض عکس یامثنی ہے اوروہ حقیقی، مکمل اوغیرمتغیردنیاصرف تصوریاصورت کی جلوہ گری سے تعبیرہے۔افلاطون کااشکال دراصل اس عالم کی نا ہمواریوں پرمبنی ہے۔وہ جب یہ دیکھتا ہے کہ یہاں نقص یا شر ہی کا دور دورہ ہے، زلزلوں کی تباہ کاریاں اورتغیروفناکی ہولناکیاں ہیں تووہ ایسے عالم کوحقیقی عالم ماننے سے انکار کر دیتا ہے اورپکاراٹھتاہے کہ اس نقص یاشرکوڈیمی ارج کی طرف منسوب نہیں کیاجاسکتاکہ جس نے ان تصورات کاملہ اورنصب العینی صورکومادہ میں مرتسم کرنے کی کوشش کی ہے۔یہ نقص مادہ کا ہے۔ اس کی صلاحیت قبول وپذیرائی کاہے کہ ان کامل تصورات کوپوری طرح اپنانہیں سکا ہے۔ افلاطون نے کائنات کی اس تعبیرسے گو تصوریت کی بنیادرکھی جوآگے چل کراس عالم مادی کی مکمل نفی پرمنتج ہوئی تاہم اتناغنیمت ہے کہ اس نے ایک صورت گزارلی اورمادہ کے وجودکوبہرحال تسلیم کیا ۔
عیسائیت نے جب اس بات کی ضرورت محسوس کی کہ مذہبی اذعانیات کوعقل وخرد کی روشنی میں پیش کیاجائے تواسے افلاطون کے نظریات اورپلا ٹینیوس کی تشریح،پذیرائی کیلئے زیادہ موزوں معلوم ہوئی،جن میں تصوریاروح کو قدرتا فوقیت وامتیازحاصل ہے اورجسم کی حیثیت ایسی برائی یارکاوٹ کی ہے جوقلب وروح کی پروازاورترقیامت میں حائل ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ جب تک ایک شخص جسم کے تقاضوں سے رستگاری حاصل نہیں کرلیتااورجسمانی خواہشوں اورولولوں سے دامن کشاں نہیں رہتااس وقت تک نجات کے استحقاق سے محروم رہتاہے ظاہرہے یہ طرزفکرسراسرزندگی کی ٹھوس اورضروری حقیقتوں سے گریزاورفرارپرمبنی ہے اورسوچنے کے اس نہج کامنطقی نتیجہ ہے جس کوافلاطون اوراس کے شارح پلاٹینیوس کے تتبع میں عیسائیت نے اختیار کیا ۔
اگرکائنات کے مظاہرمعروضیت سے متصف ہیں توپھرجسم بھی معروضی ہے اوراس کے تقاضے بھی اپنی آغوش میں معروضیت لیے ہو ئے ہیں اور اس بنیاد پراگرغورکیجیے توان تقاضوں اور خواہشوں کی پرورش اورارتقاکامسئلہ بھی بجائے حسیت کے حقیقت نگری قرارپاتا ہے۔اس بارہ میں فیصلہ کن نکتہ دراصل یہ ہے کہ کوئی بھی عمل، یاتگ وپوکی کوئی بھی صورت حتیٰ کہ مجاہدہ اور ریاضت بھی ان معنوں میں روحانی نہیں ہے کہ اس میں قطعاًجسم کاحصہ نہیں ہے،خواہش وتمناکی کارفرمائی نہیں ہے،ہمارے نزدیک کسی عمل یافعل میں،جو بہرحال جسمانی ہی ہوتا ہے۔ روحانیت کاعنصراس وقت ابھرتاہے جب آپ اس کو ان محرکات نفسی کی بناپراختیارکرتے یاانجام دیتے ہیں جو کسی عظیم نصب العین یاکسی بلند قدر سے تعلق رکھتے ہیں یعنی جب یہ فعل یاعمل ذاتی منفعت کی سطح سے اونچاہوکرکسی آفاقی یاانسانی مطح نظرسے ہمقراں ہوتاہے،ورنہ کوئی فعل یاعمل اپنے روپ میں روحانی یاغیرروحانی نہیں ہوتا۔عمل و فعل کی یہ ثنویت اس غلط مفروضے پرمبنی ہے کہ انسان جسم وروح کی دومتضاد حقیقتوں سے ترکیب پذیر ہے حالانکہ جسم وروح دوعلیحدہ علیحدہ اور مخالف چیزوں کانا م نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت انسانی کے دوپہلوہیں دوپرتوہیں۔زیادہ واضح لفظوں میں یوں کہناچاہیے کہ انسان کے سوچنے اور عمل کرنے کی دوسطحیں ہیں۔ایک سطح کوہم روحانی کہتے ہیں اورایک جسمانی۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں