(گزشتہ سے پیوستہ)
عالم ومافیہ کوغیرحقیقی قراردینے کی دوسری واضح مثال ہمیں ہندواصول’’مایا‘‘میں ملتی ہے جس کا سیدھا سادہ مفہوم یہ ہے کہ یہ دنیااپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ دھوکہ ہے اورہرگزاس لائق نہیں کہ انسان یہاں رہے.یہاں کی دلچسپیوں سے دل بہلائے یاتہذیب وتمدن کی طرفہ طرازیوں کو شائستہ اعتنا سمجھے۔’’مایا‘‘‘کے اس منفی فلسفہ نے زندگی کے کارزارمیں اپج، جرات اورتخلیق واختراع کی نشاط آفرینیوں سے ہندوں کوکس درجہ محروم رکھا،یہ صرف تاریخ ہی کامسئلہ نہیں زمانہ حال کااشکال بھی ہے کیونکہ اس کی تہہ میں سوال یہ پوشیدہ ہے کہ آیا عالم کے بارہ میں یہ غیرسائنسی اورغیرہمدردانہ نقطہ نظرانسانوں میں تحقیق وتجسس کی روح بیدارکرسکتا ہے اوراس کائنات سے متعلق اس گہرے لگا،عمیق توجہ اور مبنی برکاوش التفات کو پیداکرسکتاجوعلم وعرفان کیلئے بمنزلہ اوّلیں شرط کے ہے۔رادھا کرشنن نے ’’ایسٹرن ریلیجنزاینڈویسٹرن تھاٹ‘‘ میں اعتراض کے اس تیکھے پن کومحسوس کیاہے اور جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ہم نہیں کہہ سکتے جواب کی نوعیت سے ڈاکٹرشویزرکی تسکین ہوتی ہے یانہیں۔
مایاکی اس فلسفیانہ اورمتصوفانہ تعبیرسے صرف یہ بات سمجھ پائے ہیں کہ ہندواہل فکرنے مغربی تہذیب کے زیراثراس خلیج کوبالآخر محسوس کرہی لیاہے،جوزندگی کے تقاضوں اورزندگی کی نفی کے مابین حائل ہے۔لطف یہ ہے کہ اس خلیج کی نشاندہی سب سے پہلے اسلام نے کی لیکن اس وقت نہ عیسائی اقوام نے اس پرغورکیااورنہ ہندو فلسفہ نے’’مایا‘‘کی اس نئی تعبیر وتشریح کی ضرورت سمجھی ۔ لیکن اب جبکہ زمانہ کے ارتقانے دونوں کوزندگی کی شورشوں میں دھکیل دیا ہے۔ دو نوں ہی جان گئے ہیں کہ رہبانیت اور ’’مایا‘‘ کا فلسفہ موجودہ زمانہ میں چلنے والانہیں ۔
یہ جان لینے کے بعدکہ کائنات کی معروضی حیثیت تسلیم کرلینے سے کیونکرسا ئنسی ذہن اورمزاج پیداہوتاہے اوراس نقطہ نظر کو اپنا لینے سے تہذیب وتمدن کے مختلف گوشوں میں کس درجہ دوررس اورخوشگوارتبدیلیاں معرض وجود میں آتی ہیں۔اب یہ دیکھیے کہ قرآن حکیم نے اس حقیقت کوکس کس اسلوب سے بیان کیاہے:
کیاکافروں نے اس بات پرغورنہیں کیا کہ آسمان اورزمین دونوں ملے جلے تھے ہم نے ان دونوں کوجداجداکردیااورتمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں کیااس پربھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ (انبیا:30)
(2)خدا نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا اور اس میں یقینا صاحب ایمان لو گوں کیلئے نشانی ہے۔(العنکبوت:44)
کیا یہ لو گ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے عجیب روپ میں ان کو پیدا کیا گیا ہے اور آسمانوں کی طرف نظر نہیں دوڑاتے کہ کیسا بلند کیا گیا ہے ، اور پہاڑوں کے بارہ میں نہیں سوچتے کہ کس طرح استادہ کیے گئے ہیں اور زمین پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اس کو ان کے پاں تلے بچھایا گیا ہے ۔ (غاشیہ:20:!7)
(3)اور ہم نے قریب کے آسمانوں کو ستاروں کے چراغوں سے زینت بخشی ۔(الملک:5)
(4)آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے ۔(الشوریٰ:11)
سورہ نحل میں اس حقیقت کا اظہار فر مایا کہ کا ئنات کو معروضیت کے لباس سے آراستہ کرنا، اور تخلیق و اختراع کے خلعت سے نوازنا ہی تو وہ صفت ہے جس کی وجہ سے ہمیں اپنی تمام مخلوق سے امتیاز حاصل ہے ۔
(5)کیا جو تخلیق و ابداع سے کام لیتا ہے وہ ایسا ہے جوکچھ بھی پیدا نہ کر سکے ۔(17)
تخلیق عالم کیلئے قرآن حکیم نے جو پیرا یہ بیان اور الفاظ بیان کیے ہیں ، ان سے ان تمام تصورات کی نفی ہو جاتی ہے کہ جن کوتصوریت نے جنم دیا ہے ۔دوسرا نقطہ بھی کچھ کم اہم نہیں اگر یہ عالم ، بخت و اتفاق کا کر شمہ نہیں بلکہ اس کو حکیم و دانا خدا نے بنا یا ہے تو پھر ضروری ہے کہ اس میں نظم و تر تیب ہو ۔ قاعدہ اور قانون ہو اور اس کو اس نہج سے ڈھالا جا ئے کہ انسان اس سے پورا پورا استفادہ کر سکے ۔جہاں تک قرآن کا تعلق ہے اس نے کائنات کے بارہ میں بار بار اس حقیقت کو پیش کیا ہے کہ اس کار گاہ حسن میں کہیں بھی بھونڈا پن یا نقص نہیں ۔ کہیں بھی نظم و ترتیب کی کوتاہیاں نہیں ۔ یہاں ہر چیز کا ایک انداز ہے اور ہر شے قرینہ اور ڈھنگ کی آئینہ دار ہے ۔
قرآن حکیم اس عالم کو انسانی اغراض و مفادات کے منافی قرار نہیں دیتا ۔اس کو معاند اور غیر ہم آہنگ نہیں مانتا بلکہ اس کو اس لائق ٹھہراتا ہے کہ انسان یہاں رہ سکے ۔ اس کی نشاط آفر ینیوں میں شریک ہو سکے اور اس کے حسن اور نکھار سے ذوق و کردار کی زلف دوتا کو سنوار سکے ۔ بلکہ اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر کہنا چاہیے کہ اس کے اندر پنہاں ان جاری و ساری قوانین کو جان سکے ، اور ان کو معاشرہ کی بہتری اور بہبود کیلئے استعمال کر سکے ۔
اس میں کچھ شبہ نہیں کہ سا ئنس کو فی نفسہ غر ض و غایت سے کو ئی سرو کار نہیں اس کا موضوع بحث تو صرف یہ ہے کہ یہ مادہ کے مضمرات ارتقا کومعلوم کرسکے اوراس علم کی روشنی میں تجربہ وآگاہی کے مزید قدم اٹھا سکے۔ حدودوبحث میں الجھنے کی بجائے یہ سمجھنے کی کوشش کرے کہ خالص سائنسی نقطہ نظرسے یہ عالم کسی غرض وغایت کی طرف رہنمائی نہیں کرتا،یا یوں کہنا چاہیے اس بارے میں اس کی روشنی قطعاً غیر جانبدارانہ ہے۔اس سے نہ تواس بات کاپتہ چلتاہے کہ یہ عالم بامقصدہے،اوراس چیزکااندازہ ہوسکتا ہے کہ بامقصدنہیں ہے لیکن اگر فلسفیانہ نقطہ نظرسے دیکھیے تومعلوم ہوجائے گاکہ اس عالم میں بغیرغرض ومقصدکومانے اوربناکسی غایت ومعنی کے تسلیم کیے،مظاہرہستی کی کوئی معقول توجیہ ممکن ہی نہیں۔اس سلسلہ میں دوٹوک سوال یہ ہے کہ یہ عالم مادی کیوں قاعدہ قانون کی افادیتیں اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔پانی کیوں پیاس بجھاتاہے،کھانے سے کیوں سیری اورتوانائی حاصل ہوتی ہے اور معدہ کی ترکیب وساخت کیوں اس وضع کی ہے کہ وہ کھانوں کوآسانی سے جزو بدن بناسکے۔اسی طرح عقاقیراورجڑی بو ٹیوں میں صحت بخشی کی صلاحیتیں کیوں مضمرہیں۔ زیادہ واضح لفظوں میں جواب طلب یہ سوال ہے کہ یہ عالم اوراس کے تمام مشمولات بحیثیت مجموعی کیوں ان خصوصیات کے حامل ہیں کہ ان سے بوقلموں ضرورتوں کوپوراکیاجا سکے ۔ کیاصرف یہ انسان کی تلاش اوردریافت کا نتیجہ ہے کہ اس نے ان اشیا میں افادیت کے مختلف پہلوں کوڈھونڈھ نکالا۔ یاافادیت کے یہ پہلوچونکہ پہلے سے اشیامیں اللہ کی تدبیر و حکمت نے ودیعت کررکھے تھے اس لیے ہماری طلب وجستجوکے نتیجے میں ہمیں معلوم ہوئے ۔
ظاہرہے تخلیق کایہ اندازصاف صاف غمازی کرتاہے کہ یہ عالم ہست وبودبغیرکسی حکمت وارادہ کے یونہی اس اندازکانہیں بن گیاہے کہ انسان یہاں کی سازگاریوں سے لطف اندوز ہوسکے اور یہاں کی ایک ایک چیزکواپنی ضرورتوں کیلئے استعمال کرسکے یایہ جانابوجھااور سوچاسمجھاہوانظام ہے جوانہی اغراض کے پیش نظرقائم کیاگیاہے ۔
ہم دراصل غایتی اسلوب فکرکی نمائندگی کرکے یہ ثابت کرناچاہتے ہیں کہ قرآن حکیم نے اس عالم کے بارہ میں جس نقطہ نظرکی وضاحت کی ہے اس سے علم اورسائنس کے تقاضے کہیں زیادہ خوبی سے تکمیل پذیرہوتے ہیں کیونکہ جب قرآن حکیم بارباراس حقیقت کوبیان فرمائے گاکہ اس عالم کی ہر ہرشئے تمہارے لیے ہے حتی کہ یہ اتھاہ سمندر، وسیع وعریض زمین یہ تاباں اورفروزاں چاندو سورج اوریہ لیل ونہارکی تبدیلیاں اور گردشیں تمام ترتمہارے ہی فائدے کیلئے وقف ہیں تواس اسلوب اظہارسے لامحالہ انسان کے دل میں ان سب کوجاننے کی شدیدخواہش کروٹ لے گی۔
(جاری ہے)