Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

وطن کی تبا ہی اور با بوئوں کی مراعات

قو می ترا نے کے خا لق ،حفیظ جا لندھری نے ایک مر تبہ کہا تھا۔
جہاں کہیں انقلاب ہوتا ہے
قدرت الہ شہاب ہوتا ہے
صا حبو، قدرت الہ شہا ب ہما رے وطن کے وہی سب سے بڑے با بو ہیں جنہو ں نے اپنی با ئیوگرافی شہا ب نامہ کے عنوان سے تحر یر کی تھی۔ مجھے یہاں زیا دہ وضا حت کر نے کی ضرورت یوں نہیں کہ حفیظ جالندھری کے شعر سے وا ضح ہے پا کستان میں وجود میں آ نے کے ابتدا ئی برسوں میں جو دھڑا دھڑ حکو متیں تبد یل ہو رہی تھیں اور ملک تبا ہی کی جا نب گا مزن ہو رہا تھا تو اس کے پیچھے شہا ب کی صو رت میں کس قدر افسر شا ہی کا ہا تھ ہو تا تھا۔ اور اب بھی بے شک اس ملک کوتباہی کے دھا نے تک پہنچا نے میں ہما رے سیا ست دان بھی شر یک ہیں۔ لیکن وہ مستقل طو ر پر اقتدار سے جڑے تو نہیں رہتے۔ یعنی ایک عر صہ کے بعد انہیں اقتدا رسے علیحدہ ہو نا ہی ہو تا ہے۔ مگر با ت ہے بیو روکریسی او ر اس کے اعلیٰ عہدوں پہ فائز با بوئون کی یہ اپنی کر سیوں سے جڑے رہتے ہیں ، خواہ کسی بھی سیا سی جماعت کی حکو مت ہو۔ اور یہ با بوعوام کی حالت زار سے مکمل طور پر لاتعلق نظر آتے ہیں۔ جہاں عام آدمی اپنی زندگی گزارنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، وہیں یہ با بواقتدار سے لطف اندوز ہوتے ہوئے عیش و عشرت کی زندگی گزار رر ہے ہیں اور اپنا پروٹوکول، مراعات، لگژری گاڑیاں، محلات چھوڑنے کو تیار نہیں۔ خاص طور پر افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ عوام کے دکھوں سے بالکل غافل نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے پرتعیش طرز زندگی سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں، محلات میں رہتے ہیں اور لگژری گاڑیوں میں گھومتے ہیں، جبکہ باقی ملک مہنگائی کی آگ میں جل ریا ہے۔
امیر اور طاقتور لوگ اپنا سرمایہ، پبلک کی نظر میں لانا نہیں چاہتے اور ہاں، عوام کی آنکھوں میں دیانت دار بھی نظر آنا چاہتے ہیں۔یہ ابھی تک اپنے آقاؤں کے بنائے ہوئے ضابطوں کے سہارے چل رہے ہیں جن کا ان کے اپنے ملکوں میں کوئی تصور ہی نہیں۔ انگریزوں نے ہم پر حکمرانی کے لئے جو ضابطے بنائے تھے یہ وہی ضا بطے عوام پر حکمرانی کے لئے سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔در اصل آفیسر لفظ کو اتنا رعب دار بنا دیا گیا ہے جیسے یہ کسی اور جہاں کی مخلوق ہوں۔ اور اس ماحول نے آفیسرز کی گردنوں میں ایسے سریے ڈال دیئے ہیں کہ وہ کسی کی داد رسی تو کیا اس کو ملنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ ان کا ماحول ان کے تکبرکے پارے کو نیچے آنے ہی نہیں دیتا۔ حالانکہ ایک سادہ سا لفظ ہے جس کے معنی ہیں”دفتری”۔ اور یہاں آفیسر کا مطلب ہے کہ اس کے آگے پیچھے خدمتگار ہونے چاہیں جو اس کو پروٹوکول مہیا کریں اور عوام پر اس کا رعب ہو۔ جب کوئی شہری اپنی حق تلفی کے لئے کسی دفتر میں جا کر اپنی روداد ہی نہیں سنا سکتا۔ دفتر کے باہر ملازم کا مقصد ہی یہ ہے کہ کوئی اندر نہ جا پائے تو پھر ہماری اخلاقیات اور تعلیم وترہمیں اپنے اندر اس سوچ اور جذبے کو پیدا کرنا ہوگا جس کا تعلق اپنی ذات سے بڑھ کر ملک و قوم کے بہتری سے ہو۔ کوئی جج ہو، جرنیل ہو، بیوروکرٹ ہو یا سیاستدان سب کے پاس اسی ریاست کے مہیا کردہ اختیارات اور وسائل ہیں جواس قوم کی امانت ہیں جن کا مقصد ریاست اور عوام کی فلاح و بہبود ہے نہ کہ ذاتی مفادات کے لئے ان کا استعمال۔ بات وہی ہے کہ بیوروکریسی کے اندر کرپشن نے موجودہ معاشی بحران میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ بدعنوان اہلکار غبن اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں اور یہ کرپشن بھی پاکستان میں ڈالر کی قلت کی وجوہات میں سے ایک ہے۔ حکومت ہر دور میں ان بدعنوان اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے عوام کا ہر حکومت اور معیشت پر اعتماد کا فقدان ہے۔ موجودہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کو بیوروکریسی کے اندر کرپشن کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے افغانستان میں ڈالر کی غیر قانونی منتقلی اور ایران کے ساتھ تجارت کو روکنے کے لیے بھی اقدامات کرنے ہوں گے۔ حکومت برآمدات کی حوصلہ افزائی کرے اور برآمدات بڑھانے کے لیے کاروباری اداروں کو مراعات فراہم کرے۔
برآمدات میں اضافے سے ملک زیادہ غیر ملکی کرنسی کمائے گا جس سے شرح مبادلہ کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔پچھترسال ہوئے اس ملک کو بنے ہوئے، 75 سال سے ہم اس ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کی راہ تَک رہے ہیں لیکن اسلامی نظام کے نہ آ پانے کی بنیادی وجہ ان با بوئوںکی پھیلائی ہو ئی کرپشن ہے کیونکہ اسلامی نظام میں سزائیں اسلامی ہوں گی، کرپٹ حکمران اور کرپٹ بابو کبھی اس نظام کو نہیں لانے دیں گے جہاں ان کے مفادات کو نقصان پہنچے۔ ہم سب ایک بات جانتے ہیں بلکہ طوطے کی طرح صرف بولنے کی حد تک ہی رٹی ہوئی ہے کہ اللہ پاک فرماتا ہے کہ جیسے اعمال ویسے حکمران، جب تک کوئی قوم خود اپنی حالت نہیں بدلتی میں اسکی حالت نہیں بدلتا، جب جب ہمارے حکمرانوں کے کارنامے سامنے آتے ہیں یہ جملہ ہماری زبانوں پہ آتا ہے کہ کیا کریں ہمارے اعمال کا ہی نتیجہ ہیں۔ جب ہم جانتے ہیں کہ حکمران ہمارے اعمال کا نتیجہ ہیں، ہم نہیں بدلتے تو حالات کیسے بدلیں گے، اللہ پاک کی مدد و نصرت کہاں سے آئے گی ۔تا ہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس ملک کو یہاں تک پہنچا نے میں سارا قصور حکمرانوں اور بیو رو کریسی کا ہے،بلکہ اس میں ہم عوام کا کیا دھرا بھی شا مل ہے۔ ہم پورا دن سوشل میڈیا پہ، چوکوں چوراہوں پہ لمبی لمبی دانشوریاں جھاڑتے ہیں لیکن اللہ پاک کی سنت کہ پہلے خود کو بدلو اس پہ دھیان نہیں دیتے، ہم خود چور ہیں کیا ہم کسی اچھے آدمی کو برداشت کریں گے؟ کبھی نہیں، جب تک ہم خود ٹھیک نہیں ہوں گے، خود کرپشن اور خیانت سے باز نہیں آئیں گے، اس کے خلاف نہیں اٹھیں گے، خود اپنے اندر تبدیلی نہیں لائیں گے تب کوئی بھی اس ملک کی تقدیر نہیں بدل سکتا یہ بات سمجھنے کی کوشش کریں تو سہی۔ میں آپ کو نہیں کہہ رہا کہ آپ اسٹیبلشمنٹ پہ تنقید نہ کریں، آپ عدلیہ کو نہ کوسیں، آپ ملک کی معیشت اور امیج کو تباہ برباد ہوتے دیکھیں، کبھی نہیں۔ یہ ملک میرا اور آپ کا ہے کسی اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ یا حکومت کا نہیں۔ ہم وہیں کریں گے، اسی کا ساتھ دیں گے جو ٹھیک ہوگا لیکن سب سے پہلے خود کو تو بدلیں ناں۔

یہ بھی پڑھیں