Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

قرآن کافلسفہ اورسائنس کی ترویج

(گزشتہ سےپیوستہ)
ہم جانتے ہیں کہ غایتی طرزاستدالال پر کچھ اعتراضات بھی واردہوتے ہیں چنانچہ ان میں سب سے زیادہ مشکل اورتیکھاسوال یہ ہے کہ اگر کائنات کایہ مرقع کسی باکمال ذات کانقش حسیں ہے تواس میں مصیبت،ظلم،بیماری اوراندوہ وتشویش کے داغ دھبے کیوں نظرآتے ہیں یاپھرایک فلسفی کے الفاظ میں اگر اس دبستان کانصف حصہ فکر، ذوق، حسن اورعقل وہنر کے پھول بوٹوں سے آراستہ ہے تو دوسرے نصف حصے میں دشمنی، کینہ، بیماری اورحرص وآزکی عفونتوں کے ڈھیرکیوں پڑے ہیں؟
ہیوم نے اپنے مکالمات میں ایسی نوع کے اعتراضات پرتشکیک کاقصررفیع تعمیرکیاہے کہ خیر میں آخرشرکے پیوندکی کیاضرورت تھی اورحسن وزیبائی کے ساتھ قبح وعیب کی نمائش کا کیامو قع تھا؟
افلاطون نے تویہ کہہ کرسوال کی سنگینی سے پیچھاچھڑا لیاکہ یہ عالم جس پرتم اعتراض کر رہے ہوحقیقی کب ہے؟یہ توحقیقت کی بھونڈی تصویر ہے۔ حقیقی عالم تصور ات یاصورکاہے جو واقعی خوبصورت مکمل اورغیرمتغیرہے لیکن ہمارے لیے یہ مشکل ہے کہ جواب کی اس نوعیت پراطمینان کا اظہارکرسکیں اس لیے کہ ہم توقرآن کی روسے اس عالم کی معروضیت کے پرزورحامی ہیں۔ہمارے نزدیک اس اشکال سے نکلنے کی تین معقول صورتیں ہیں:
1۔یا توہم کیٹس کے اس موقف کوتسلیم کرلیں کہ یہ عالم درحقیقت ایک درسگاہ ہے جہاں عملی تر بیت دی جاتی ہے کہ ہم شراورتضادکی ناساز گاریوں کو خیروتوافق کے سانچوں میں ڈھالنے کا فن سیکھیں۔دوسرے لفظوں میں جس کامطلب یہ ہے کہ جہاں جوتضادونقص پایاجاتاہے وہ قدرت کے سہووتغافل کانتیجہ نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ ہماری عقل ودانش میں اضافہ ہواورہم یہ جان سکیں کہ ان پرقابوپانے کاکیاطریقہ ہے ۔
2۔یامعتزلہ کی زبان میں یوں کہیں کہ یہ عالم اپنی موجود شکل ہی میں بہترین ہے اورشرونقص کا احساس محض اضافی ہے یعنی جزئیات کے ادھورے سے علم کی بناپرہے۔اس حکمت کی بناپرنہیں جوہمہ خیراور خوبی ہے۔
3۔وریاپھربدرجہ آخراس نقطہ نظرکومان لیں کہ اعتراض کی یہ نوعیت اس عالم سے متعلق ہے جو ہنوزمعرض تعمیرمیں ہیں یعنی اگر ارتقاکاعمل جاری ہے اوراس عالم امکان کوابھی اورنکھرناہے اور تکمیل واتمام،کی مزیدمنزلیں طے کرناہے تو کیوں نہ نقص وشرکے اس عیب کوعبوری اور عارضی شئے قراردیاجائے جس کوبا لآخرانسان کی سعی اورکو شش سے مٹنااورختم ہوناہے۔
ان مطالب کی تائید میں قرآن حکیم کے ان شواہد پر غور فر مائیے
(1) یہ اندازہے عزیزاورصاحب علم خداکا(یٰسین: 38)
(2)بلا شبہ جوکچھ زمین پرہے اسے ہم نے اس کیلئے سنوارااوربنایاتاکہ انہیں آزمائیں کہ ان میں کس کاکام بہترہے۔ (الکہف:7)
(3)وہی ذات ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے رام کر دیا تاکہ تم اس کے گوشوں میں چلوپھرواوراس کی دی ہوئی روزی میں سے کھاؤاوراسی کی طرف جانا اور جی اٹھنا ہے ۔ (الملک:15)
(4)اورسورج اورچاندکاایک حساب متعین ہے(الرحمن:5)
(5)اوراللہ تعالیٰ نے ہرہرشئے کاایک اندازہ مقررکررکھاہے(الطلاق:3)
(6)اورتمہاری خد مت میں لگادیا رات اور دن کوسورج اورچاندکواورتمام نجوم وکوا کب کوبھی مسخرکردیا ۔(النحل:12)
(7)کیاتم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے جوکچھ زمین میں ہے،اس کوتمہارے لیے مسخرکردیا ۔ (الحج:65 )
(8)اورہم نے زمین اورآسمان اورجوکچھ ان کے درمیان ہے کھیل کے طورپرپیدانہیں کیا ۔ (دخان:38)
وہ تیسرانقطہ جوسائنس اورفلسفہ کی ارتقائی کڑیوں کوآگے بڑھانے کاباعث ہوسکتاہے اور جس کی بدولت مسلمانوں نے تین چارصدیوں ہی میں علوم عقیلہ کوثریاتک اچھال دیا،یہ تھا کہ فکرودانش کی پروازاورفطرت کے انکشافات میں کہیں ایساموڑ نہیں آتاکہ جہاں دین کی استواریاں مجروح ہوں ۔قرآن حکیم نے جس نقطہ نظرکی پرورش کی،اس کاحاصل یہ تھا کہ عقل ودین میں کو ئی تضادپایانہیں جاتابلکہ یوں کہنازیادہ مناسب ہے کہ دونوں ایک ہی حقیقت کے دوپتوہیں۔جس پروردگارنے انسانی روح کی تابش وضو کیلئے اقدار کی تلقین کی ہے، زندگی کانقشہ ترتیب دیا اور انسان کی علمی رہنمائی کیلئے فقہ وقانون کے حسین سانچے بخشے ہیں،وہ بھلایہ کیوں چاہے گاکہ اس کی عطا کردہ عقل وخردکی صلاحیتیں ان اقدار کے خلاف پڑیں،زندگی کے اس نقشے کی تغلیظ کریں اور ربوبیت کے اس پہلوکوجھٹلانے کاباعث قرار پائیں کہ جس سے مقصودہی یہ ہے کہ انسان کو اس کائنات میں اس کاصحیح صحیح مقام عطاکیاجائے اور ان تمام فکری وعقلی اور عملی خوبیوں سے مکمل طور سے نوازاجائے جواس کوخلافت الہیہ کی مسند بلند پرفائز کرنے میں ممدومعاون ہوسکتی ہیں، مذہب وعقل میں دوئی کی ایک ہی صورت ممکن ہے کہ ہم کائنات میں ثنویت کے قائل ہوجائیں اور اس بات کومان لیں کہ مذہب ودین کے تقاضوں کی تکمیل وارتقاتو اللہ کے ذمہ ہے، اور عقل وخرد کی طرفہ طرازیوں کی تخلیق کاذمہ کسی ایسی قوت نے لے رکھا ہے جس کاتعلق خیرکی بجائے شرسے ہے،تضاداورنفی سے ہے اوراس قوت نے عقل وخردکی جدت طرازیوں کوپید اہی اس غرض سے کیاہے تاکہ دونوں میں ہمیشہ ٹھنی رہے اورکبھی بھی مصالحت اوریکجہتی قائم نہ ہوسکے لیکن اگرانسان ایک ہے،اس کی فطرت ایک ہے اوراس پوری کائنات میں ایک ہی اللہ کی فرمانروائی اورحکومت کا سکہ رواں ہے،تب یہ ناممکن ہو جاتا ہے کہ ذہن وعقل میں تصادم وتضادرونماہو یاکسی درجے میں بھی دوئی پائی جائے کیونکہ جب دونوں کا سرچشمہ ایک ہے اصل اورجڑایک ہے تواس کالازمی اورمنطقی نتیجہ یہ نکلتاہے کہ ان دونوں میں نہ صرف یہ کہ تضادوتنافرنہ ہوبلکہ اس کے برعکس کامل ہم آہنگی اوراتحادپایاجائے اوریہی وہ طرزِ فکراور اسلوب نگاہ ہے جس کو قرآن حکیم نے عقل وذہن کے بارہ میں اختیارکیاہے ۔
مذہب اورعقل یادین اورسائنس کے تجربات زندگی کے دولاینفک پہلوہیں،جن سے کسی بھی طرح ہم دامن کشاں نہیں رہ سکتے اس لیے کہ اگرہم علم کے اس ذریعہ پراعتمادنہیں کرتے ہیں جوہمیں لاکھوں انبیاکی وساطت سے پہنچاہے تواس کے معنی یہ ہیں کہ ہم اس عظیم تہذیبی وروحانی ورثہ سے محرومی اختیارکرلیتے ہیں جس سے کردارواخلاق سنورتے ہیں ،ایمان ویقین کی دولت،بے پایاں کی تعمیر حاصل ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کریہ کہ جس کی وجہ سے ہمیں تگ ودو، اورجدوجہد کیلئیایک متعین اوربامعنی نصب العین دستیاب ہوتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح اگرہم عقل وخردکے تقاضوں کوبیدارنہ رکھیں تحقیق و مشاہدہ سے کام نہ لیں،نئے نئے تجر بات و انکشافات سے بہرہ مند نہ ہوں اوراس بات کااندازہ نہ کریں کہ ہمارے تجربات اورغوروفکرکس حدتک فطرت کے رازہائے سربستہ کوفاش کرسکتے ہیں تواس سے جونقصان پہنچے گااس کاتحمل کب آسان ہے؟اس سے ہماری شخصیت نامکمل رہے گی یعنی اپنے ان مضمرات عقلی کے اظہارسے قاصر رہے گی جوزمان ومکان میں نئے نئے انقلابات کی تخلیق کرتے رہتے ہیں۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں