(گزشتہ سے پیوستہ)
تہذیب وتمدن کے دائرے سکڑکرخشک ہو جائیں گے،فکر ٹھس اورمردہ ہوجائے گی،اورزندگی کے پورے نظام کووہ تازہ اور سازگارآب وہوامیسر نہیں آسکے گی جس میں کسی زندہ ومتحرک ثقافت کانہال پھلتا پھولتا اور پنپتا ہے ۔دوسرے لفظوں میں گویاہمیں اگر بھرپور زندگی بسرکرناہے اور فکرونظرکے وقائق سے لیکرقلب وروح کے لطائف تک ہرہرشئے سے استفادہ کرناہے توضروری ہے کہ ہم ایسا مدرسہ فکر تسلیم کریں جودین ودنیااورعقل ومذہب دونوں کی برکات کا یکساں حامل ہو،اوراللہ کاشکرہے کہ ہمارامدرسہ فکراسلام اپنے دامن میں ان دونوں کوسمیٹے ہو ئے ہے۔
قرآن حکیم اس بات کی تصریح کرتاہے کہ کسی شخص کے پہلومیں دودل نہیں ہوسکتے جس کاصاف مطلب یہ ہے کہ ہم عقائدوتصورات میں ثنویت برقرارنہیں رکھ سکتے یعنی یہ نہیں ہو سکتاکہ قرآن وسنت کی تعلیمات سے ہم کائنات،فطرت یااپنے گردوپیش کے حالات کے بارے میں ایک رائے قائم کریں اورعلوم وفنون سے اخذکردہ نتائج کی بناپرہم جن تصورات وعقائدکوحق بجانب سمجھیں وہ دوسری نوعیت کے حامل ہوں۔
اگرمذہب ودین اللہ کاپیغام ہے اوراس علم ازلی کی فیض رسانیوں کا نتیجہ یہ ہے جس میں ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں کسی لغزش یا کوتاہی کاامکان نہیں توپھریہ ضروری ہے کہ اس سے اخذکردہ تعلیمات کسی طرح بھی روح عصر کے منافی نہ ہوں یعنی کسی بھی دورمیں علم وتجربہ کا کوئی بھی انکشاف اہل حق کے حلقوں میں اچنبھانہ پیدا کرسکے بلکہ ہونایہ چاہیے کہ جب بھی سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقیات سے کوئی نئی حقیقت فکرو نظر کے سامنے آئے ایسامعلوم ہوکہ اس میں کوئی انوکھاپن نہیں بلکہ اصولی حدتک جانی پہچانی سی حقیقت ہے۔ہاں یہ بات البتہ صحیح ہے کہ کبھی کبھی ان میں تصادم وتضادمحسوس ہوتاہے اورایسی شدت اختیارکرلیتا ہے کہ گویایہ دونوں باہم حریف ہیں،جن میں فیصلہ کن لڑائی چھڑگئی ہے اور نظر بہ ظاہراب صرف یہی امکان باقی ہے کہ دونوں میں سے ایک زندہ رہے اوردوسراہمیشہ ہمیشہ کیلئے اپنی شکست تسلیم کرلے۔جن لوگوں نے مغرب میں احیائے علوم کی تحریک کا سرسری مطالعہ بھی کیاہے وہ اس بات کی شہادت دیں گے کہ کلیسااورسائنس کے مابین اس طرح کے متعدد موڑ آئے ہیں جن میں دونوں حریف خم ٹھونک کر ایک دوسرے کے مقابلے میں آکھڑے ہو ئے ہیں۔
لیکن تصادم کی یہ شکل عارضی ثابت ہوئی ہے اوربعدکی تحقیقات سے پتہ چلاہے کہ اصل میں ان دونوں میں تضادغلط فہمی کانتیجہ ہے اورعموماً اس وقت محسوس ہوتاہے جب یاتومذہب ودین کی تعبیرصحیح اصولوں پرمبنی نہ ہواوریاپھرسائنس اور علوم سے غیرسائنسی اور غیرعلمی نتائج اخذکیے جائیں۔ اگرمذہب کی تعبیروتشریح میں ان سائنٹیفک اورعلمی اصولوں کومدنظر رکھا جائے کہ جن کی روشنی میں کسی بلندترحقیقت کی صحیح معنوں میں تعیین ہوتاہے اورسائنس سے صرف وہی نتائج اخذ کیے جائیں جوآخری اوراٹل ہوں توناممکن ہے کہ دونوں میں ذرہ بھی اختلاف رونماہو ۔
علاوہ ازیں یہ تصادم اورتضادبڑی حدتک ہماری جلدبازی اوربے صبری کارہین منت بھی ہوتا ہے۔ہماری عادت یہ ہے کہ سائنس کے ہر نئے انکشاف پرشورمچا دیتے ہیں کہ بس اب مذہب ودین کی خیرنہیں حالانکہ وہ انکشاف کسی حیثیت میں بھی آخری اورفیصلہ کن نہیں ہوتا بلکہ اگلے انکشاف کی محض تمہیدہوتاہے اوراگلاانکشاف اگر حرفِ آخربھی ہوتب بھی اس سے اصول دین کا کچھ بھی نہیں بگڑتابلکہ اس کے برعکس ہوتا صرف یہ ہے کہ بعض جزئی اورتشریح طلب مسائل میں مذہب ودین کی تشریح وتعبیر کا اندازو اسلوب بدل جاتاہے اور پہلے سے کہیں زیادہ لطیف اور زیادہ اونچاہوجاتاہے،یہی نہیں زیادہ یقین افروز بھی ہوجاتاہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم نے مطالعہ کائنا ت پر بہت زوردیاہے اور باربار فکروذہن کومتوجہ کیاہے کہ وہ اپنے گردوپیش پھیلی ہوئی وسیع تردنیاپرغورکرے۔آسمان اور زمین کودیکھے۔ اختلاف لیل ونہارکوہدف تعقل ٹھہرائے۔ ہواں کے دوش پرسوارہو۔سحاب وابر کی فیض رسانیوں کے حدود کاجائزہ لے۔پہاڑوں کی استواری کوزیربحث لائے۔اونٹ کودیکھے اور فطرت کے ان عجائبات کوملاحظہ کرے جواس کی تخلیق میں ودیعت کردیئے گئے ہیں ۔فکرونظراور غوروتفحص کی یہ دعوت چوتھانکتہ یاپہلوہے جس کی بناپرمسلمانوں میں علوم عقلیہ کیلئے طلب وجستجو کے داعیے بیدارہوئے۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان صحرا نور دوں نے محض اسلام کی بدولت تہذیب وتمدن کے بلند ترین میناروں کو چھولیا اور طب،کیمیا،جغرافیہ، فلکیات، منطق، فلسفہ اورکلام میں اتنی ترقی کی کہ برسوں یورپ ان کی تحقیقات کو جویاں رہا ۔
مطالعہ ومشاہدہ کی اس دعوت میں دو باتیں خصوصیت سے قابل غورہیں۔ایک یہ کہ قرآن حکیم نے جس فکروتعمق کی دعوت دی وہ ارسطا طالیسی استخراجی فکرنہیں ہے کہ جونتائج کے اعتبار سے بالکل عقیم اوربے ثمرہے اورجس سے کچھ حاصل ہو نے والانہیں بلکہ فکرو تعمق کامزاج استقرائی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ جزئیات کے مطالعہ وتجربہ سے کلیات اخذکیے جائیں۔ظاہرہے کہ یہ راہ ٹھیٹھ سائنس کی راہ ہے اوراس میں نت نئے انکشافات کابہرحال خطرہ موجودہے لیکن اس کے باوجودقرآن حکیم کااصرارہے کہ تم اس نہج پرغورکرو اوراسی اندازسے سوچو اورفکرونظر کی ضیا افروزیوں کوعام کرو۔اللہ تعالی جوعلام الغیوب ہے خوب جانتاہے کہ اس راہ کے خطرات کیا ہیں اور اس مطالعہ وتحقیق سے علمی دنیامیں کیا کیا انقلاب آنے والے ہیں۔اس کے ہوتے ساتے جب رب کائنات کاحکم ہے کہ مسلمان ذہنوں کوٹھس نہ ہونے دیں۔علم وتحقیق کی شمعوں کوروشن رکھیں اورتحقیق وتفحص کاپرچم چاردانگ عالم میں لہراتے ہیں تواس کاصاف مطلب یہ ہے کہ قرآن حکیم جن نظام حیات کاداعی ہے اس میں اورعقل کی تیزرفتاریوں میں کہیں تصادم وتناقض کاخطرہ پنہاں نہیں ۔
یہ ہے قرآن کافلسفہ اورسائنس کی ترویج میں فکری حصہ۔ تفصیل اورحوالہ کیلئے در ج ذیل آیات پرغورفرمائیے
توتم ایک طرف کے ہوکردین(اللہ کے رستے) پرسیدھامنہ کئے چلے جائو اور(اللہ کی فطرت کوجس پراس نے لوگوں کوپیداکیاہے) اختیار کئے رہو(اللہ کی بنائی ہوئی)فطرت میں تغیروتبدل نہیں ہوسکتا۔ یہی سیدھادین ہے لیکن اکثرلوگ نہیں جانتے۔روم:30
حکمت ودانش جسے چاہتے ہیں ارزانی فرما دیتے ہیں اورجس کوحکمت ودانش سے نوازا گیا اسے بڑی چیزمل گئی ۔البقرہ:269
بلاشبہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے بصائرآچکے ہیں ۔الانعام:104
اوران میں کچھ وہ لوگ ہیں جوکہتے ہیں اے ہمارے پروردگارہمیں دنیامیں بھی بہتری عنایت کیجیے اورآخرت میں بھی بہتری سے بہرہ مند کیجیے اور ہم کو آگ کے عذاب سے محفوظ رکھیے۔ البقرہ:201
اللہ نے کسی شخص کے سینہ میں دودل نہیں رکھے۔الاحزاب:4
کیاان لوگوں نے اپنے اوپرآسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کیونکر بنایا ہے اور کیونکر آراستہ کیااورسجایاہے۔اوراس میں کوئی رخنہ تک نہیں۔اورہم نے زمین کو پھیلایا اور بچھایا اوراس میں پہاڑوں کوجمایااوراس میں ہرطرح کی خوش منظرچیزیں اگائیں اس لیے کہ اس کی طرف رجوع ہو نے والا ہربندہ ان پرغورکرے اورعبرت پذیر ہو۔(ق:8-6)
ِبلا شبہ آسمانوں اورزمین کے بنانے میں۔ اوریکے بعد دیگرے دن کے آنے میں۔ اور جہازوں میں جوکہ سمندرمیں چلتے ہیں،آدمیوں کے نفع کی چیزیں اوراسباب لبکراوربارش کے پانی میں جس کواللہ تعالیٰ نے آسمان سے برسایا۔پھراس سے زمین کوزندہ کیاجبکہ یہ خشک ہو چکی تھی۔ اور ہرقسم کے حیوانات اس میں پھیلادیے اورہواں کے بدلنے میں اورابر میں جوآسمان اورزمین کے مابین مسخر ہے۔دلائل ہیں ان لوگوں کیلئے جوعقل سے کام لیتے ہیں ۔البقرہ:164
غرض یہ ہے کہ مسلمانوں میں جوعلم وفن کی ترقی ہوئی اورکندی،رازی،ابن ماجہ،ابن سینا، فارابی اورابن رشدوغزالی ایسے عظیم مفکرین پیدا ہوئے تواس کی وجہ یہ نہیں کہ یونان وایران کے سرمایہ تہذیب وتمدن نے ان کے قلب وذہن میں یکایک تبدیلی پیداکردی تھی بلکہ اس کی بڑی اور بنیادی وجہ وہ داخلی انقلاب تھاجس کوقرآن حکیم کی تعلیمات نے پیداکیااوروہ تڑپ اورلگن تھی جو اسلامی تعلیمات کے نتیجے میں خودبخودکاوش وجستجو کا باعث ہوئی۔ورنہ یہ وہی عرب تھے جو کافور کو نمک سمجھتے تھے اورچاندی کوسونے سے زیادہ قیمتی جانتے تھے، جو طرح طرح کے اوہام کاشکارتھے ۔