(گزشتہ سے پیوستہ)
انہی خطرات کی بنیادپراسرائیل بھی پاکستان کواپناپہلااورسب سے بڑا دشمن گردانتاہے کہ ایٹمی صلاحیت کے حامل پاکستان کی موجودگی میں اسرائیل اپنی سرحدوں کومزید وسعت دینے سے قاصر رہے گا۔ہنوداوریہوداس بات پرمتفق ہیں کہ اب جنگ کی صورت میں پاکستان کومٹاناآسان نہیں رہااس لئے سازشوں کے ذریعے پاکستان کے اندرخلفشار برپا کرکے اس کواندرونی طورپراس قدرکمزورکردیاجائے کہ ان کے ناپاک مقاصد بغیرجنگ کے پورے ہوجائیں۔
اگست1984میں ایک ایسے ہی واقعے کی نشاندہی امریکاکے ایک یہودی دانشور’’ڈیوڈریز‘‘ نے برطانیہ کے ایک جریدے’’روسی‘‘1990کے شمارہ ستمبرمیں انکشاف کیاتھا کہ اسرائیل نے بھارت کے ساتھ مل کرپاکستان کی ایٹمی تنصیبات پرفضائی حملہ کرنا چاہالیکن بروقت اطلاع ملنے پرپاکستانی فضائیہ نے اپنی ایٹمی تنصیبات کی مسلسل نگرانی شروع کردی ۔یہ صورتحال دیکھ کر اسرائیلی حملہ آورجنگی طیاروں نے سری لنکاکے ہوائی اڈوں کواستعمال کیاتھااور اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی نے پاکستان پرحملہ کرنے کے لئے یعنی (ڈی ڈے) نومبرکی پہلی تاریخ1984بھی طے کرلی تھی لیکن پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کے جواب میں ایک خوفناک ردعمل کابھی ایساہی جب اظہار کیا گیا اور ذاتی طورپر پاکستانی فوج کے سربراہ نے مائیکل مولن کواس سے آگاہ کردیاتھاکہ کسی بھی بھارتی مکروہ جسارت کوکھلی جنگ تصورکیاجائے گااور پاکستان اپنی سلامتی کیلئے کسی حدودوقیودکاپابندنہیں ہوگااور بھارت کوتواپنے ٹکڑے سمیٹنامشکل ہو جائے گاجس سے اس وقت جنگ کاخطرہ توٹل گیا لیکن اسی دن ٹرائیکا (بھارت، اسرائیل اورامریکا ) نے یہ طے کرلیاکہ اب جنگ کے ذریعے نہیں بلکہ پاکستان کوایسے اندرونی خلفشارمیں مبتلاکر دیاجائے جس کی بنا پرملک کوخانہ جنگی میں مبتلاکردیاجائے اوراس کے ساتھ ہی معاشی طورپرایساکمزور کردیا جائے کہ خود پاکستانی عوام مہنگائی اورغربت کے ہاتھوں اس قدرمجبورکر دیئے جائیں کہ روٹی کے بدلے بم سے دستبرداری کوبخوشی قبول کرلیں۔
پاکستان میں جس قدرتیزی کے ساتھ دہشت گردی میں اضافہ ہورہاہے اوراس کے ساتھ ہی سیاسی انارکی پیداکرکے مشرقی پاکستان جیسے حالات پیداکئے جارہے ہیں۔دہشت گردی کو روکنے کے لئے دہشت گردوں کے تعاقب میں ان کی سرکوبی کے لئے اعلان ہوچکاہے جس سے خطرات میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔یادرکھیں دشمن یہی چاہتا ہے کہ سیاسی انارکی پیداکرنے کے ساتھ پڑوسی ممالک کے ساتھ خانہ جنگی کاماحول پیدا کردیا جائے تاکہ خاکم بدہن پاکستان کواندر بیٹھے عناصر کے ہاتھوں ٹکڑے کردیاجائے۔ یادرکھیں! پاکستان کوتوڑنے والوں کاانجام ہم سب کے سامنے ہے۔ مجیب کواس کے سارے خاندان سمیت ڈھاکہ میں کیفرکردارتک پہنچادیا گیا،اندرا گاندھی کواس کے اپنے محافظ نے گولیوں سے چھلنی کردیااور جنرل یحییٖ خان ایک خطرناک بیماری کاشکارہوکر چل بسا ۔پاکستان کو دوٹکروں میں تقسیم کرنے والے ملک یونین روس کی یونین قائم نہ رہ سکی اوروہ کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا۔ پاکستان کوختم کرنے کے بارے میں پچھلے کئی سالوں سے پروپیگنڈہ کیا جا رہاہے لیکن اللہ کے فضل وکرم سے یہ ابھی تک دنیا کی تمام ظالم صہیونی طاقتوں کامقابلہ کررہاہے لیکن صدمہ اس بات کاہے کہ ملک میں ایک دفعہ پھرغیرآئینی کھلواڑ شروع ہو چکا ہے۔
حکومت اوراپوزیشن دونوں پیچھے ہٹنے کوتیار نہیں،دونوں ایک دوسرے کوسیاسی اختلافات کوذاتی دشمنی تک لے گئے ہیں۔ اب کوئی ایسی تیسری قوت نہیں جوان کے درمیان اختلافات کی بھڑکتی آگ کوسردکرنے کاکام کرسکے۔عدلیہ کے پے درپے فیصلوں نے حکومت کوکئی آزمائشوں میں مبتلاکردیاہے جبکہ پی ٹی آئی جوعدلیہ سے خارکھائے بیٹھی تھی، اب عدلیہ کے فیصلوں پرکسی بھی مصالحت کیلئے تیارنہیں جبکہ عدلیہ نے ایک مرتبہ ملکی حالات پراپنے خدشات کااظہارکرتے ہوئے خودکوبری الذمہ اورسیاسی جماعتوں کوآپس میں مذاکرات کاکہاتھالیکن اس وقت ملک جس نازک دورمیں داخل ہوچکاہے،بعیدنہیں کہ مزیدتاخیرکے بعداس کا سنبھلناناممکن حدودکوچھوناشروع کردے جس کی بھاری قیمت سب کوہی چکاناپڑے گی۔
پاکستان کے موجودہ حالات کیامخبرصادق میرے رسول اکرمﷺکی بشارتوں کی نویدتونہیں سنارہے؟کیایہ دووہی میدان جنگ نہیں جن کاتذکرہ آپ ﷺنے یروشلم اور ہندوستان کانام لیکرفرمایاہے،امام بخاری کے استادمحترم امام نعیم بن حماد کی کتاب الفتن میں احادیث میں ان دونوں علاقوں کاذکرکیاگیاہے کہ’’اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایاکہ میری امت میں سے کچھ لوگ ہندوستان کے خلاف جنگ کریں گے اللہ تعالی ان کوفتح سے ہمکنارکرے گا،چنانچہ وہ ہندوستان کے بادشاہوں کوزنجیروں میں جکڑکر لائیں گے،اللہ تعالی ان کے گناہوں کومعا ف فرمادے گااوروہ پھرشام میں عیسی ابن مریم کو پائیں گے‘‘۔یہ دونوں معرکے الگ اوران کے بیانات بھی جداجداہیں لیکن یہ دونوں میدان جنگ جس تیزی سے گرم ہورہے ہیں وہ بھی ہم دیکھ رہے ہیں۔اسرائیل کانیتن یاہوفلسطین میں ہنودکے اسلحہ کی ترسیل کے ساتھ ہندو نوجوانوں کوبھرتی کرکے مسلمانوں کے قتل عام میں شریک ہوچکاہے۔اب خواہ یہ معرکے آج ہوں یا کچھ دیربعد،ایک بات مخبرصادق میرے رسول اکرمﷺکی بشارتوں سے واضح ہے کہ مغفرت اور فتح انہی دونوں مقامات کاحصہ اورانہی لوگوں کامقدرہے۔تعجب اورحیرت تویہ ہے کہ میرے مخبرصادق رسول اکرمﷺجن دو قوموں سے جنگ کوجنت کی بشارت سے مربوط کرتے ہیں ہم انہی سے دوستی، اعتماد کی فضااور پرامن بقائے باہمی کی باتیں کرتے ہیں۔اس رسول برحقﷺکی بشارتوں کے منکرروزحشراس کی شفاعت کس منہ سے طلب کریں گے جن کے شب وروزان صہیونی طاقتوں کے احکام کی تعمیل میں صرف ہورہے ہیں۔
عربی کی ایک بڑی حکیمانہ مثل مشہور ہے کہ جب اونٹ بلبلانے لگے تو اس کے سامنے سے ہٹ جاؤ،جب کوئی سیلابی ریلہ اپنے کناروں سے باہر آنے کی کوشش کرے تو اس کے سامنے سے بھی ہٹ جاؤ اور جب کبھی غلام کا چہرہ سرخ ہو جائے تو اس کے سامنے سے بھی ہٹ جاؤ۔ہندوستان میں گجرات احمد آباد، کشمیر اور فلسطین میں غلام مسلمانوں کا نہ صرف چہرہ سرخ ہو گیا ہے بلکہ ان کی آنکھوں میں بھی برسوں کی توہین اور تضحیک کی سرخی بھی اپنے عروج پر ہے،برسوں ظلم و ستم سہتے سہتے ان کے صبر کا سیلاب بھی کناروں کو کسی بھی وقت توڑ کر ان صہیونی طاقتوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جانے کو تیار ہے اور اسی طرح راجستھان سندھ کے صحرائو ں میں اونٹوں نے بلبلانا شروع کر دیا ہے ۔تاج گرانے اور اچھالنے کا وقت آن پہنچاہے۔ پانی پت تو کبھی بھی دور نہیں رہا لیکن اب یہ طوفان پانی پت سے ہوتا ہوا اپنے مستقل مستقرکی طرف اس طرح لپکے گا کہ آئندہ کئی صدیاں انسانیت کیلئے امن و امان کی ضامن رہیں گی ۔ مقتدراشرافیہ اورسیاستدانوں کو بھی پاکستانی قوم کی توہین اور تضحیک کی بڑی بھاری قیمت چکانی پڑے گی اور میرا وجدان اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ وہ وقت اب دور نہیں۔لیکن دیکھئے بابا اقبال کیا کہتے ہیں!
فتوی ہے شیخ کایہ زمانہ قلم کا ہے
دنیامیں اب رہی نہیں تلوار کارگر
لیکن جنابِ شیخ کو معلوم کیا نہیں؟
مسجد میں اب یہ وعظ ہے بے سودوبے اثر
تیغ وتفنگ دستِ مسلماں میں ہے کہاں
ہو بھی، تو دل ہیں موت کی لذت سے بے خبر
کافرکی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دل
کہتا ہے کون اسے کہ مسلماں کی موت مر
تعلیم اس کو چاہیے ترکِ جہادکی
دنیا کو جس کے پنج خونیں سے ہوخطر
باطل کے فال وفرکی حفاظت کے واسطے
یورپ زِرہ میں ڈوب گیادوش تاکمر
ہم پوچھتے ہیں شیخِ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شرہے تومغرب میں بھی ہے شر
حق سے اگرغرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات
اسلام کا محاسبہ، یورپ سے درگزر