خاموشی کی زبان آپ سمجھتے ہیں؟ نہیں،تواس میں میراکیا قصور!خاموشی میں ایک چیخ پوشیدہ ہوتی ہے،ایک احتجاج، ایک طوفان،اورجب خاموشی بول پڑے توگھمسان کارن پڑتا ہے،پھرکوئی نہیں بچتاجی،کوئی بھی نہیں۔ وہ جومحلات میں آسودہ ہیں اوروہ جو کھولیوں اورجھونپڑیوں میں تڑپ رہےہیں سب ایک جیسےہوتے ہیں۔ بس دیکھتےجائو،ایک انتظار کےبعدکیاہوتاہے،حادثہ ایک دم تونہیں ہوتاناں!برسوں وقت اس کی پرورش کرتا ہے، پالتاپوستاہے،پھرایک دن لاواپھٹ پڑتاہے، پھر وہ دہکتی آگ کچھ نہیں دیکھتی.مال و منال، عزت وآبرو، ذلت ورسوائی،زرداراوربے زرکچھ بھی نہیں۔
عجیب سلسلہ ہے کہ ہمارے حکمران اوراپوزیشن دن دیہاڑے قوم کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرکے خود کو مسیحا ثابت کرنے کا سہرااپنے سر سجانے کی کوششوں میں مگن ہیں۔ قوم کوبھیڑبکریاں سمجھ کرخطاب کیا جاتا ہے،ان کے مصائب کابڑی دلسوزی سے ذکر کرکے ہیروبننے کی اداکاری کمال کی حدوں کوچھورہی ہے۔کیا آپ جانتے نہیں کہ آپ کے اعمال کے آئینے تو بکھرے پڑے ہیں اور وہ ہمیں شکل دکھانے سے باز نہیں آتے ۔آئینے کی لاکھ کرچیاں کر دیں،وہ کبھی اپنا کام نہیں چھوڑتے۔
انتخابات کو6ماہ گزرگئے،کیاقوم کے ٹیکسوں پرپلنے والے اسمبلی ممبران نے عوام کی فلاح کے لئےکوئی پروگرام دیاہے، بس ایک دھینگامشتی جاری ہے،ایک دوسرے پرالزامات کی بھرمار نےقوم کاسانس لینامشکل کردیاہے۔ہرکوئی قوم کولوٹنے کے لئے کوئی کسرنہیں چھوڑ رہا۔ کیااپوزیشن نے بجٹ میں خودکووصول کرنےوالی مراعات کوٹھکرایاہےبلکہ دودرجن سے زائد قائمہ کمیٹیوں کے سربراہوں نے اسپیکرسےاپنے لئے نئی گاڑیوں کامطالبہ کردیاہے۔ دوسری طرف عدلیہ کے ہراس فیصلے کی توتائیدکی جاتی ہے،انصاف زندہ بادکے نعرے لگائے جاتے ہیں لیکن جونہی کوئی فیصلہ خلاف آتاہےتووہی عدلیہ مطعون ٹھہرائی جاتی ہے،گویاہرکوئی اپنی فرعونی صفات واختیارات کی حکمرانی چاہتاہے۔
آپ کویہ خبرتومل چکی ہوگی کہ سلمان شہبازکے آئی پی پی’’چنیوٹ پاور‘‘کوتین مہینے کی63کروڑکی کیپیسٹی پیمنٹ کی گئی ہے۔یہ وہ ادائیگی ہےکہ جس کا تعلق اس بات سے ہرگزنہیں کہ چنیوٹ پاورنےکتنی بجلی پیداکی اورکتنی تقسیم کی بلکہ یہ صرف اس کیپیسٹی کی ادائیگی ہےجواس کے پلانٹ میں موجودہے۔یادرہےکہ نوازشریف جون2013میں وزیر اعظم بنے۔اسی سال نومبر میں چنیوٹ پاورلمیٹڈنے نیپرامیں پاور جنریشن کے لائسنس کے لئے درخواست دی۔نیپرا کےافسر نےلائسنس کی درخواست کاجائزہ لینےکے بعداسے مسنوخ کر دیا کیونکہ کمپنی نے بجلی کی ڈسٹری بیوشن کے لئے انفراسٹرکچر لگانے سےانکارکردیا تھا ۔ نیپراکے اس افسر کے انکارکی کیاقیمت چکانی پڑی،وہ ایک الگ داستان ہے!
سیاں جی(نوازشریف)کوتوال ہواورسگاباپ پنجاب کاوزیراعلی،توپھرڈرکیسا،ہنگامی طور پرفیصل آباد الیکٹرک اتھارٹی کی طرف سے ایک لیٹرلیاگیا جس میں انہوں نےاس بات کی حامی بھری کہ وہ اپنےخرچے پرچنیوٹ پاورسے ڈسٹری بیوشن لائن بچھانے کوتیار ہیں۔ چنانچہ جون2014ء کوسلمان شہباز کی کمپنی کالائسنس منظورکرلیاگیا۔اس لائسنس کی درخواست میں کہاگیاتھاکہ چنیوٹ پاور62 میگاواٹ میں سے15 میگاواٹ بجلی رمضان شوگرمل کوبیچے گی،رمضان شوگربھی شریف خاندان کی ملکیت ہے۔نیپراکے قواعد کے مطابق آئی پی پی ایک میگاواٹ تک کی بجلی ڈائریکٹ پرائیویٹ کنزیومرکوبیچ سکتاہے، اسے’’بلک پاورپرچیز‘‘ کہتے ہیں اورسلمان شہبازکو15میگاواٹ بجلی بیچنے کی اجازت دے دی گئی گویااس حکم نامے کے بعد آئندہ ان تمام ایماندارآفیسرکوبھی متنبہ کردیاگیاکہ سیٹھ منشا کواستعمال کرتے ہوئے حسبِ منشاکام بہرصورت ہوکررہیں گے اورکوئی ہماری منشا کے خلاف زبان وقلم استعمال کرنے کی جرأت نہ کرے۔
کہتے ہیں کہ لالچ کی کوئی حدنہیں ہوتی،تین ماہ بعدچنیوٹ پاورنے لائسنس میں ترمیم کی درخواست کی جس کے مطابق چنیوٹ پاورلمیٹڈ مزید دوسری پرائیویٹ کمپنیوں کوبھی بجلی بیچنا چاہتا تھا۔ان کمپنیوں میں شریف ڈیری فارمز،شریف ملک پراڈکٹس،یونیٹاس سٹیل، کرسٹل پلاسٹکس شامل تھیں۔ان سب کمپنیوں کی ضرورت ایک میگاواٹ سے کم تھی اس لئے وہ بلک پرچیزکی کیٹیگری میں نہیں آتےتھے لیکن اوپرتایا نوازشریف بیٹھاتھا،نیپرا کے کسی افسرمیں دم نہیں تھا کہ انکارکرسکے،اس لئے یہ درخواست بھی منظور کرلی گئی۔
چنیوٹ پاورپلانٹ گنےکےبھوسے اورچینی کےخام مال کواستعمال کرکے بجلی بناتاہے۔اس پلانٹ کی قانونی اورفنی میعاد20 سال ہوتی ہے لیکن نیپرانے چنیوٹ پاورکو20کی بجائے 30سال کالائسنس عنایت کردیا۔صرف یہی نہیں، نیپراکامانناتھاکہ اس طریقے سے بجلی پیداکرکے چنیوٹ پاوروالے ماحولیات کی زبردست خدمت کریں گے،چنانچہ انہیں کاربن کریڈٹ کابھی حقدارٹھہرایاگیاجس کی مدمیں سالانہ کروڑوں روپے مزید حکومت نے سلمان شہباز کودینے شروع کردیئے۔ وہ دن ہے اورآج کادن،چنیوٹ پاور لمیٹڈ ، رمضان شوگرکے خام مال سے بجلی تیارکرکے اپنے ہی خاندان کی فیکٹریوں کو سستی بجلی بیچتی ہے اورکیپیسٹی پیمنٹ کے نام پرعوام کے ٹیکسوں سے ہرمہینے21 کروڑ روپے مفت میں وصول کرلیتی ہے ۔ یہ سب باتیں ہوامیں نہیں کہی گئیں،ان سب کے دستاویزی ثبوت بھی موجودہیں لیکن اس کے باوجود ہمارے حکمرانوں کے دلوں میں شب و روزعوام کے دکھوں کادرداس زورسے اٹھتاہے کہ محسوس ہوتاہے کہ نجانے یہ رات بھی گزارپائیں گے کہ نہیں۔
ادھردوسری طرف ہمارے یہی حکمران ملکی معیشت کی بربادی اورڈوبنے پرشب وروزماتم کررہے ہیں کہ قوم کواس دھوکے میں رکھاجائےکہ یہ توملک کی تقدیرسنوارنے کے اعلی اور ارفع کام کے لئےقربانیاں دےرہےہیں اورعالمی اداروں اورامیردوست ممالک کے سامنے مددکے لئے ہاتھ پھیلائے کھڑے فریادکررہے ہیں لیکن کیاہم جانتے ہیں کہ انہی حکمرانوں کی عیاشیوں کی بناپردنیاہمارے بارے میں کیاسوچ رہی ہے۔
دنیاپاکستان کوایک خطرناک ملک سمجھتی ہے۔ جب تک آپ اس حقیقت کوقبول نہیں کریں گے،آپ الجھتے رہیں گے۔یہ توثابت ہوگیاکہ آپ معاشی طورپراس قدرکمزورہوچکے ہیں کہ بیشترمالی امورکے ماہرین اب ملک کودیوالیہ قراردے چکے ہیں،اس لیے آپ کسی بھی وقت دنیا کے لئے ایک مسئلہ بن سکتے ہیں۔آپ لوگوں کودنیاکے مشاہدے کوسنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے،ورنہ ہم ایسی کھائی میں گرنے جارہے ہیں کہ قلم وہ منظرنامہ لکھنے سے لرزاں ہے۔اب بھی اگرہم نہ سنبھلے توخاکم بدہن تاریخ بطورعبرت آپ کویادرکھے گی۔
معیشت دنیاکی سب سے بڑی سچائی ہے۔ اگرآپ معاشی طورپرطاقتورہیں توآپ جوہری بم رکھ سکتے ہیں اورمیزائل بناسکتے ہیں۔ چین اورروس کے پاس بھی یہ ہیں لیکن دنیاانہیں خطرہ نہیں سمجھتی،کیوں؟کیونکہ دنیاکامانناہےکہ یہ دونوں ممالک معاشی طور پر مستحکم ہیں۔وہ کبھی بھی اس دنیاکے لئے خطرہ نہیں بنیں گے اورکسی بھی صورت اپنی اس ایٹمی اسلحے کوکسی اور کے ہاتھ فروخت نہیں کریں گے لیکن پاکستان ایک کمزورملک ہے،وہ اپنے جوہری اثاثوں کی زیادہ دیرتک حفاظت نہیں کرسکتا۔یہ انہیں پیسے کے لئے فروخت کرسکتاہے یانفسیاتی دباؤ میں استعمال کرسکتاہے،جس سے آپ دنیاکے لئے ناقابل برداشت ہوجاتے ہیں۔
میں ایک مثال کے ساتھ اس مسئلے کی وضاحت کردیتاہوں۔فرض کریں کہ آپ ایک غریب آدمی ہیں اورآپ کے پاس ایک بہت ہی مہلک اورقیمتی رائفل ہے۔آپ اس رائفل کے ساتھ کیاکرسکتے ہیں؟آپ اسے پیسے کے لئے فروخت کرسکتے ہیں،یاآپ اسے کسی کے سرپررکھ کرانہیں لوٹ سکتے ہیں یااس کی جان لےسکتے ہیں۔دنیاسوچتی ہے کہ آپ اتنے بھوکے اورغریب رائفل بردارہیں اورآپ کسی بھی وقت ان میں سے کسی بھی آپشن کواپناسکتے ہیں۔یہ بھی یادرکھیں کہ ہمارے ایٹمی پروگرام کے مخالفین ایک لمحے کے لئے بھی ہمارے اس پروگرام کوقبول کرنے کے لئے تیارنہیں ہیں اوراقوام متحدہ جیساادارہ بھی ان کی لونڈی کے طورپرکام کررہاہے۔
برانہ منائیں اوراس حقیقت کوتسلیم کریں کہ ان حالات میں پہنچانے میں ہمارے حکمرانوں کاسب سے بڑاہاتھ ہےکہ یہ اپنےاقتدارکےلئے ہرناجائز حربے کواپنے لئے جائزقراردینے میں ماہر ہیں ۔ پھردوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ کے خلاف یہ تاثر بھارت نے اپنی پوری حکمت عملی کے ساتھ پھیلایاہے۔ انڈیانے1990ء کی دہائی میں ان گنت طلباکو اسکالر شپ کے ساتھ امریکا، کینیڈا، برطانیہ ویورپ اورمشرق بعیدکے ممالک بھیجا۔انہوں نے اعلیٰ اداروں سے ڈگریاں حاصل کیں اورپھر انہیں عالمی اداروں میں ملازمت دلوائی ۔یہ لوگ امریکی کانگریس میں اورسینیٹرزکے عملے کاحصہ ہیں اورمیڈیاانڈسٹری اورتھنک ٹینکس میں بھی ہیں بلکہ برطانیہ میں پہلی مرتبہ انڈین نژادوزیراعظم بن کراپنی کابینہ کے اہم اداروں کی سربراہی بھی انڈین نژاد کےسپردکرکےکئی برس انڈیاکے اس خواب کو حقیقت بھی بنا کر دکھادیا۔وہ وہاں بیٹھ کرہرروز آپ کے خلاف خوف پھیلاتے ہیں اوردنیااس خوف کوسچ مانتی ہے۔
(جاری ہے)