آپ کا ماضی بھی اس حقیقت کی تائید کرتا ہے۔دنیاجانتی ہے کہ آپ نے اکیلے ہی سوویت یونین کی طاقت کوتباہ کیا۔آپ نے ہندوستان جیسی مکارطاقت کوابھرنے نہیں دیااورتمام ترمعاشی کمزوریوں کے باوجودآپ وہ حاصل کرلیتے ہیں جوآپ چاہتے ہیں اوردنیاکوحیران وپریشان کر دیتے ہیں۔یہاں تک کہ آپ نے جے ایف تھنڈر بھی بنایاہے جس نے عالمی طورپرخودکومنوایاہے، آپ میزائل ٹیکنالوجی میں وہاں کھڑے ہیں جس نے ان کی نیندوں کوحرام کردیاہے لہٰذاعالمی پالیسی سازوں کولگتاہے کہ آپ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔لیکن عالمی طاقتیں آپ کوجنگ کاموقع نہیں دیں گی۔ان کامانناہے کہ آپ روایتی جنگ نہیں لڑسکتے۔ آپ فوری طورپرحتمی ہتھیارکے ساتھ ایک جنگ شروع کریں گے،اوریہ پوری دنیا کے لئے خطرناک ہوگا، لہٰذاوہ آپ کواس سطح تک نہیں پہنچنے دیں گے۔
آپ کویادہوگاکہ انڈیا نے بالاکوٹ میں سرجیکل اسٹرائیک کی۔پاکستان نے شورمچایالیکن دنیا کا کوئی ملک پاکستان کی مدد کے لئے آگے نہیں آیا، کیوں؟ کیونکہ دنیااس بات کااندازہ لگاناچاہتی تھی کہ آپ کس سطح پرردعمل دے سکتے ہیں۔اگلے دن آپ نے دو بھارتی طیارے مارگرائے۔ بھارت نے27فروری کی رات کوسرحدپر 9میزائل تعینات کیے اورآپ نے14 میزائل تعینات کرکے ایک کھلااورخطرناک پیغام دے دیاکہ پاکستان خودپرحملہ کے جواب میں کہاں تک جاسکتاہے جوکہ آپ کاحق بھی تھا۔یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی جنرل ضیاء کی کرکٹ ڈپلومیسی کاواقعہ بھی ذہن میں رکھ لیں کہ کس طرح جنرل ضیا نے بھارتی سرزمین پرراجیوکویہ پیغام دیاتھا کہ اگر اس نے اسرائیل کے ساتھ مل کرپاکستان پرحملہ کرنے کی کوشش کی تواس کے جواب میں دنیامیں پھربھی 55مسلم ریاستیں باقی رہیں گی لیکن صدیوں تک دنیابھرمیں ہندوریاست کانام ونشان باقی نہیں رہے گا۔
اب یہی معاملہ ایک مرتبہ پھردرپیش آگیا۔ 27فروری کی رات سردجنگ کے بعددنیاکی سب سے خطرناک رات تھی۔ایک چھوٹی سی شرارت پوری دنیاکوتباہ کرسکتی تھی۔لہذادنیا فوری طورپر متحرک ہوگئی اوربڑی مشکل سے حالات کوپرسکون کردیا۔یہ پاکستان کا ایک امتحان تھا،اس ٹیسٹ سے پتہ چلاکہ آپ لوگ ہمیشہ آخری جنگ کے لئے تیاررہتے ہیں ،لہٰذ ا ان تمام قوتوں نے یہ فیصلہ کرلیاکہ وہ آپ کودوبارہ اس سطح تک نہیں پہنچنے دیں گے۔وہ آپ کواپنے میزائلوں کوباہرلانے کاموقع نہیں دیں گے۔وہ آپ کوسرحدوں پربھی مشتعل نہیں کریں گے۔انہوں نے اس کامتبادل یہ سوچ کرفیصلہ کرلیاہے کہ وہ آپ کومعاشی طورپرتباہ کردیں گی۔
میرے الفاظ نوٹ کرلیں۔ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آئی ایم ایف جان بوجھ کرآپ کے پیکیج میں تاخیرکیوں کرتاہے؟تاکہ ڈالرمزیدمہنگاہو جائے جس سے افراط زربڑھتاجائے گا،قرضوں میں جہاں اضافہ ہوگاوہاں پیٹرول،گیس اوربجلی بھی مہنگی ہوجائے گی۔اس سے ترقیاتی بجٹ میں بھی کمی آئے گی۔اس سے بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔ اس سے ریاست کے ذریعے کالعدم تنظیموں پراتنا دبا ؤپڑے گاکہ وہ حکومت کے خلاف بغاوت کریں گے۔اس سے پاکستان کی برآمدات میں بھی اضافہ نہیں ہونے دیاجائے گا۔ٹیکسوں میں اتنااضافہ ہوگاکہ عوام اس معاشی بوجھ تلے دب جائیں گے اورحکومت اورریاست دونوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔
پاکستان کے خلاف یہ خطرناک منصوبہ شروع ہوچکاہے۔آپ نے جیک رسل نسل کے کتوں کے بارے میں ضرورسناہوگا۔یہ ایک چھوٹے سائزکا خوفناک کتاہے جوریچھ کاپیچھا کرتا ہے۔یہ سائز میں اتناچھوٹاہے کہ ریچھ اسے پکڑنہیں سکتا۔یہ ریچھ کوپیچھے سے زخمی کرتارہتاہے اوراسے اتنازخمی کر دیتاہے کہ وہ اپنے پیروں پرکھڑانہیں ہوسکتا۔جیک رسل مکمل طورپرمطمئن ہوکراپنے مالک کومطلع کرتا ہے،اورشکاری ریچھ کوگولی ماردیتاہے۔عالمی مالیاتی ادارے بھی جیک رسل کی طرح ہیں۔جیک رسل نے پاکستان پر حملہ کردیاہے۔وہ آپ کوزخمی کررہے ہیں۔وہ ہرآئے دن آپ کومعاشی طورپراتناکمزور بنارہے ہیں کہ آپ اپنے میزائلوں کوباہرلاناتو دورکی بات،انہیں فائرکرنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ آپ کے پاس سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اداکرنے کے لئے بھی پیسے نہیں ہوں گے۔
آپ ٹیکس جمع کرنے کاکام فوج کے حوالے کرنے پرمجبورہوں گے جس طرح آپ نے بجلی چوروں کے خلاف فوج کومیدان میں اتاراتھا۔ اورجس دن ایساہوتاہے،توپھرآپ اپنے دن گننا شروع کردیں، کیونکہ ٹیکس جمع کرنے سے فوج کی ساکھ خراب ہوجائے گی۔اس کے لئے لوگوں کی محبت کم ہونا شروع ہوجائے گی،اورفوج کے خلاف آپ کے ملک کی ایک جماعت پہلے ہی سوشل میڈیا پرمحاذکھول چکی ہے۔امریکی اداروں کی طرف سے بھی انسانی حقوق کے نام پرآپ کوانتباہ کیاجارہا ہے،برطانوی پارلیمنٹ میں بھی ان کے گماشتے سرگرم ہوگئے ہیں،اورعالمی ادارے یہی چاہتے ہیں۔ انہوں نے آپ کومعاشی طورپرزخمی کرکے اورلوگوں کے دلوں سے محبت کوختم کرنے کے عمل پرتیزی سے کام کررہے ہیں۔مجھے خدشہ ہے کہ اگرحالات اسی تیزی کے ساتھ بڑھتے گئے تو خاکم بدہن ایک دن ایسانہ آجائے کہ وہ آپ کو ہندوستان کے قدموں پر بٹھا دیں اورآپ بھی بھوٹان اور مالدیپ بنادیں۔ آپ امداد لیتے رہیں گے اوران کے احکام کے مطابق ملک چلاتے رہیں گے اور بس۔
تاہم پہلی مرتبہ میں یہ لکھنے پرمجبورہوگیاہوں کہ فوج کوآئی پی پیزنامی تباہی کی ذمہ داری لینے سے بری نہیں کرسکتے۔ بدقسمتی سے فوج ہماری معیشت کی اس سب سے بڑی ڈکیتی پر ان لوگوں کی طرف سے آنکھیں بندکررہی ہے جوایک بار پھراقتدارمیں ہیں بلکہ پی ڈی ایم کاآزمودہ شاہکارہے۔قوم سمجھتی ہے کہ فوج درپردہ خاموش توہے لیکن یہ رویہ سیاست دانوں کوانتہائی مہلک گولہ وبارود فراہم کررہاہے جواپنے مفادات کے لئے قومی خزانے پرایسابوجھ بن گئے ہیں جواس ملک کوڈبونے کے درپے ہیں۔باجوہ کے نظریے نے پاکستان کو اپنے تمام منفی اثرات کے ساتھ نشانہ بنایا،اس نے اپنے مفادات کے حصول کے لئے کشمیرکوفروخت کردیا اورملک کے دودرجن صحافیوں کابلاکراپنی بزدلی کی کہانیاں سناکرقوم کومایوس کیا۔کشمیرکوانڈیاکی جھولی میں گراکرفیض حمید کے توسط سے اجیت ڈوول کے ساتھ مودی کے پاکستانی دورے کااہتمام کرنے میں مصروف تھاتاکہ اپنے آقاؤں کوخوش کرکے جہاں نوبل پرائزکااہل قرارپائے وہاں اسے دوبارہ مدت ملازمت میں توسیع مل جائے جبکہ عمران خان نے تواسے ایسی پیشکش بھی کردی تھی جس کوخودعمران خان نے تسلیم بھی کیا۔ لیکن جب بات نہ بن سکی توعدم اعتمادکاراستہ کھول کرہمیں یہ پی ڈی ایم تحفے میں دیااورجب سے باجوہ نے عمران کے سرپرہاتھ رکھنے کا سفر شروع کیااوربعدازاں پی ڈی ایم کوہمارے سروں پرمسلط کیا ہم تب سے تیزی کے ساتھ اپنی تباہی کی طرف بھگٹٹ بھاگ رہے ہیں۔میں ہمت کرکے اگریہ کہوں کہ آخر ہمیں ان بدمعاشوں کاساتھ دینے کی کیاضرورت تھی؟
ہمیں اس سوال کاجواب تلاش کرناہوگا،اپنی غلطیوں کوتسلیم کرناہوگااورپھرحالات کودرست کرنے کے طریقے تلاش کرنا ہوں گے۔آئی پی پیزکے لائسنس منسوخ کرکے ان سے قوم کی لوٹی ہوئی دولت بازیاب کی جائے اوراگراس کے لئے اگرعالمی عدالت میں بھی جاناپڑے تواپنے مضبوط کیس کے لئے تیارہوناپڑے گا۔اس کے علاوہ ہمت کرکے باجوہ،فیض حمید اورچند دیگر سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے ساتھ ساتھ ان ججزکوجو ان کے اشارے پرفیصلے سناتے رہے،سب کوکٹہرے میں لاکر صفائی کاکام شروع کرناہوگا،اس کے علاوہ ہمارے پاس اورکوئی چارہ نہیں۔
ہینڈڈ پیچ ورک کاسہارالینے کی بجائے ہمیں یہ کام فوری طورپراخلاص کے ساتھ شروع کرناہوگا۔ یادر کھیں اگرہم غلط دشمن کے خلاف یہ غلط جنگ لڑتے رہے تو حالات مزیدخراب ہوتے جائیں گے اورعین ممکن ہے کہ مہنگائی کے ہاتھوں مجبورقوم خودکشیاں کرنے کی بجائے خودکش بمباربن جائے؟