Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

جر منی میں پاکستانی پر چم کی بے حرمتی

صا حبو، کیا یہ حقیقت نہیں کہ پا کستان نے ہمسایہ ملک افغا نستان کو ہمیشہ برادرِ صغیر کے طور پر اہمیت دی،یہ خیا ل کرتے ہو ئے یہ ایسا ہمسایہ ملک ہے جو پاکستان کے ساتھ گہرے جغرافیائی، مذہبی،نسلی،ثقافتی اور سماجی رشتوں سے جڑا ہوا ہے۔ سرحدوں کے آرپار باہمی رشتہ داریاں بھی ہیںاور دکھ سکھ بھی مشترک ہیں۔پاکستان نے ان رشتوں کی پاسداری کرتے ہوئے ہر مشکل وقت میں افغانستان کا ساتھ دیا۔روس نے اس پر حملہ کیا تو اپنی سرحدیں جو پہلے ہی آزادانہ آمدورفت کیلئے کھلی تھیں، مزید آسان بنادیںاور نہ صرف لاکھوں افغان باشندوں کو اپنی سرزمین پر پناہ دی بلکہ ان کے دشمنوں کے خلاف جنگ بھی لڑی اور 80ہزار قیمتی جانوں کے علاوہ اربوں ڈالر کے مالی مفادات کی بھی قربانی دی مگر ان احسانات کے بدلے افغانستان کی طرف سے ٹھنڈی ہوا کا کوئی جھونکا ہماری طرف کم ہی آیا ہے۔اس وقت پاکستان میں دہشت گردی کی جو لہر آئی ہوئی ہے،تمام تر شواہد اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق اسے کابل حکومت کی ہمدردی حاصل ہے۔20جولائی کو جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں پاکستان کے قونصل خانے پر افغانوں کا حملہ، توڑپھوڑاور پاکستانی پرچم اتار کر اسے نذرآتش کرنے کی مذموم کوشش اسی سلسلے کی انتہائی افسوسناک کڑی ہے۔جرمن میڈیا کے مطابق کوئی چارسو افراد نے،جو افغان پرچم اٹھائے ہوئے تھے،اچانک پاکستانی قونصل خانے کی عمارت پر دھاوا بول دیا۔پرچم اتار کر اسے جلانے کی کوشش کی۔توڑ پھوڑ کی،پاکستان کے خلاف نعرے لگائے اور فرار ہوگئے۔پاکستان نے اسلام آباد میں جرمن سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کرکے اس واقعہ پر شدید احتجاج کیا اور جرمنی کی حکومت پر زور دیا ہ وہ جنیوا کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے،پاکستانی سفارتی مشن کی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرے اور حملے میں ملوث افراد کے خلاف موثر کارروائی کرے۔
تا ہم جرمن حکام نے واقعہ کی مکمل تحقیقات کرانے کا یقین دلایا ہے اور اس سلسلے میں کچھ لوگ گرفتار بھی کئے گئے ہیں۔جرمن میڈیا کے مطابق ہلڑبازی کرنے والے لوگ پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اورحکومت کے سیاسی مخالفین کے خلاف مبینہ کارروائیوں کے حوالے سے بھی نعرے لگارہے تھے جس سے یہ تاثر لیا جارہا ہے کہ حملہ آوروں میں پاکستانی بھی شامل تھے۔نادرا کو ہدایت کی گئی ہے کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والے افراد کی شناخت کی جائے۔ان میں کوئی پاکستانی شامل ہواتو اس کا شناختی کارڈ بلاک اور پاسپورٹ منسوخ کردیا جائے گا۔چند روز قبل لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر حکومت مخالف درجن بھر افراد نے مظاہرہ کیا،سفارت خانے پر جوتے پھینکے اور پاکستان کے خلاف نعرے لگائے تھے۔خیال کیا جارہا ہے کہ یہ اسی سیاسی مکتب فکر کے لوگ تھے جو پاکستان کے اندر اور بیرونی دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے مہم چلائے ہوئے ہیں۔اس کی کڑی فرینکفرٹ کے واقعہ سے ملائی جارہی ہے اور اس تناظر میں ضروری اقدامات تجویز کئے جارہے ہیں۔وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کابل حکومت کے معاندانہ رویے کی بنا پر کیا پاکستان کو 40لاکھ افغانوںکی میزبانی جاری رکھنی چاہئے؟پاکستان نے غیرقانونی طور پر رہائش پذیر افغانیوں کو پاکستان سے نکل جانے کا حکم دیا تھا۔حال ہی میں رجسٹرڈ افغانیوں کو بھی مزید ایک سال تک پاکستان میں رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔افغان پناہ گزینوں نے پاکستان میں جائیدادیں بھی خریدی ہیںاور کاروبار بھی وسیع پیمانے پر کررہے ہیں۔ فرینکفرٹ میں ہونے والے واقعہ کے بعدحکومت کو افغان پالیسی کے بارے میں سوچنا پڑے گا اورکابل حکومت کو بھی اپنے رویے پر نظرثانی کرنا ہوگی تاکہ باہمی اعتماد بحال ہوسکے۔
البتہ اس سارے قضیے میں کچھ قصور ہمارا بھی ہے۔ وہ یو ں کہ ہم ان کی جا نب یک طر فہ محبت کا ہا تھ بلا سو چے سمجھے بغیر بڑھا تے چلے گئے ۔ یہ ہم ہی تو تھے جنہوں نے افغا نستان کو پا کستان کا پا نچواں صو بہ قرا ر دیا تھا۔ٹھیک ہے کہ اب ہم مطا لبہ کر رہے ہیں کہ افغا نستان سے پا کستان آنے وا لے ویزا لے کر آ ئیں، مگر ویزا کی پابند ی بھی تو ہم نے ہی ختم کی تھی۔ یہ ہم ہی تو تھے جنہوں نے چا لیس لا کھ افغان مہا جر ین کو پو رے ملک میں پھولنے پھلنے کی اجا زت دی تھی۔ انہوں نے خوب فا ئدہ اٹھا یا اور اہم کا روباروں پہ قا بض ہو گئے۔ پھر یہ کہ کیا ہم نے کبھی نیک نیتی سے پا کستان اور افغا نستان کے درمیان سمگلنگ بند کر نے کی کو شش کی؟
بہر حا ل اگر اب تازہ ترین صورت حا ل کا تجزیہ کریں تو یہ امر تعجب خیز ہے کہ مٹھی بھر افراد جنگلا پھلانگ کر قونصل خانے کی عمارت کے احاطے میں نہ صرف داخل ہوئے بلکہ قومی پرچم کی توہین بھی کی۔ دفتر خارجہ اور سفارتی حکام نے اس واقعہ پر شدید احتجاج کرتے ہوئے جرمن حکام سے ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے مگر یہ کافی نہیں۔ ویانا کنونشن کے تحت سفارتی عملہ اور سفارت خانوں کی سیکورٹی کی ذمہ داری میزبان ملکوں پر عائد ہوتی ہے۔ لہٰذا جرمن حکومت کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ قونصل خانے پر شرپسندوں کے دھاوے سے سفارتی عملے کی جان کو جس طرح خطرہ لاحق ہوا اس پر بھی جرمنی سے جواب طلبی کی جانی چاہیے۔ جرمن حکومت کو آئندہ ایسے واقعات پیش نہ آنے کی یقین دہانے کراتے ہوئے پاکستان کے سفارتی عملے اور جرمنی میں پاکستانی کمیونٹی کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کرنے چاہئیں۔ دفتر خارجہ کو دیگر ممالک میں بھی سفارتی مشنز اور عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے اقدامات یقینی بنانے چاہئیں۔ یہ ایسا واقعہ نہیں ہے جس سے چشم پوشی کی جاسکے، یہ قومی وقار اور قومی پرچم کے تقدس کے علاوہ سفارتکاروں اور اوورسیز پاکستانیوں کی سیکورٹی کا معاملہ ہے جس کو کسی طور بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا اس معاملے کو بھرپور انداز سے متعلقہ سفارتی فورمز پر اُٹھانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں