(گزشتہ سے پیوستہ)
کیاقائداعظم نے کشمیرمیں استصواب رائے عامہ کی حمایت اس لئے کی تھی کہ ہم اپنی ناکام خارجہ پالیسی کی بناپرپاکستان کی شہ رگ کو اس قدرآسانی سے انڈیاکے حوالے کردیں۔ ملک کا سابق آرمی چیف قصرسفیدکے فرعون کے قدموں میں بیٹھ کرکشمیرکاسودہ کرکے اپنے ہی ملک کے دو درجن سے زائدصحافیوں کوبلاکراپنی بزدلی کا رونا روتے ہوئے اپنے ہتھیاروں کوناکارہ قرار دے کر ازلی دشمن انڈیاکے سامنے سرنڈرہوجائے اور آج بھی اسی ملک کے خزانے سے مراعات وصول کر رہا ہواورکوئی اس کے جرمِ عظیم پر باز پرس کرنے والانہ ہو۔
اس وقت کا وزیراعظم قصرسفیدکے فرعون کے احکام کی تعمیل میں امریکا سے واپسی پر ائیرپورٹ پرہی اپنے حواریوں کوجلسے کی صورت میں بلاکریہ اعلان کرے کہ گویامیں ایک مرتبہ پھر ورلڈکپ جیت کرواپس لوٹا ہوں۔کشمیریوں کو یہ یقین دلائے کہ میں تمہاراوکیل ہوں،اس لئے کسی مظاہرے کی بھی ضرورت نہیں اور ہر جمعہ کو سقوط کشمیرپرایک گھنٹے کی علامتی ہڑتال کا اعلان کرکے پہلے ہفتے چندمنٹوں کیلئے فوٹوسیشن کرکے واپس لوٹ جائے اورپھراپنے دورِ اقتدار میں کبھی اسے کشمیریادنہ آیاہو۔اب انڈیاکشمیرکی آبادی کوایک سازش کے تحت کم کرنے کیلئے لاکھوں ہندوؤں کو کشمیرمیں بسارہاہے اوراسی متنازعہ کشمیرمیں ترقی یافتہ ممالک کی سرمایہ کاری کانفرنس کااہتمام کرکے اپنے ناجائزقبضے کو مزید مستحکم کررہاہے۔
کیا بھارت سے تمام متنازعہ امورپرکوئی خفیہ مفاہمت ہوچکی ہے جومسئلہ کشمیراب بھی ہماری ترجیحات سے غائب کردیاگیاہے۔
قائداعظم کی وفات کے چھ سال بعدہی نوکر شاہی نے اپنی سرزمین پرامریکاکوفوجی اڈے دے دئیے جہاں سے سوویت یونین کے خلاف جاسوسی پروازیں جاری رہیں جس کے با عث روس پاکستان کواپنادشمن سمجھنے لگااورکشمیرمیں رائے شماری کی قرار دادکے خلاف حق تنسیخ استعمال کرکے اسے کالعدم بنادیا۔اسی طرح مشرقی پاکستان سے فوجوں کی واپسی کی قرار دادکوبھی منسوخ کرکے بھارتی فوج کومشرقی پاکستان پرقبضہ کرنے کا بھرپورموقع فراہم کردیا۔سات دہائیوں کے بعد روس کے ساتھ مراسم بحال کرنے کی کوششیں تو شروع ہوئی لیکن روس کی اپنے پڑوس آذربائیجان میں ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں الجھادیا ہے، اور ادھرپاکستان کی معاشی حالت کو مزید برباد کرنے کیلئے سیاسی تناؤکوعروج پر پہنچا کر ایک مرتبہ پھر دباؤ بڑھادیاگیاہے تاکہ اس کی آڑ میں ملک کو مزید انتشارمیں مبتلاکرکے اپنے مقاصدحاصل کئے جائیں۔
قائداعظم نے کہا تھاکہ ملک میں جمہوریت ہوگی اوراب 18ویں ترمیم کے بعدہرصوبے کو اندرونی طورپرمالی خودمختاری حاصل ہوگئی ہے، جبکہ ان کے جانشینوں نے مشرقی پاکستان کوآبادی کے تناسب سے نمائندگی دینے سے انکار کر دیا تھا جو مشرقی بازو الگ ہونے کاسبب بنا۔اسی ملک میں کمانڈو نے اپنے اقتدارکوطول دینے کیلئے امریکی کونڈا لیزا رائس کے احکام بجالاتے ہوئے اپنی فوجی وردی میں دبئی میں جنرل کیانی کی معیت میں بے نظیرسے این آراوکامعاہدہ کرتے ہوئے انہیں ملک سے لوٹی ہوئی ساری دولت کے مقدمات سے بری کرکے ملک میں آنے کی دعوت دی جس سے دیگر ہزاروں قومی مجرموں نے بھی خوب فائدہ اٹھایا اور اپنے تمام جرائم سے یک قلم رہائی مل گئی لیکن ان تمام مراعات کے باوجودکمانڈواپنااقتدارنہ بچاسکا اور قومی دولت لوٹنے والوں نے ایک مرتبہ پھرملکی دولت کوشیرمادرسمجھ کرڈکارناشروع کردیا۔ اس طرح پاکستان کی بنیادوں کوکھوکھلاکردیا گیا اور استعمارکے گماشتے(خاکم بدہن)اس کے ٹوٹنے کانہ صرف تاریخوں کاذکرکرنے لگے اور اپنے شیطانی دماغوں سے اس کے نقشے بنانے لگے۔یہ خبیث پاکستان کی نفرت میں اتنے اندھے ہوگئے کہ انہوں نے یہاں کھلم کھلامسلح دہشت گردوں کی قبائلی علاقوں کے علاوہ بلوچستان میں ہندوستان کی مددسے شورش پیداکردی ہے جس سے نمٹنے کیلئے ہماری افواج کوہرروزاپنی جانوں کی قربانی دینی پڑرہی ہے۔
ہماری بدقسمتی کاباب ابھی بھی بندنہیں ہوا۔ قوم نے اپنے سیاسی حکمرانوں اورمقتدراشرافیہ سے جان چھڑانے کیلئے کبھی آزاد عدلیہ کیلئے سڑکوں پراپنے جان ومال کی قربانی دی اورکبھی عمران خان کواپنانجات دہندہ سمجھ کراپنی تمام توانائیاں اس کے گودمیں ڈال دیں لیکن پونے چار سال تک عمران خان نے قوم سے کئے گئے ہر وعدے پریوٹرن لیتے ہوئے اسے اپنی سیاسی بالغ نظری قراردیتے ہوئے قوم کے ساتھ کھلادھوکہ کیا۔ ان کوجب اپنی غلط پالیسیوں کی بناپرملک کو اپنے پیشروؤں کی طرح عالمی مالیاتی اداروں کے کڑی شرائط کے ساتھ قرضوں کے بوجھ میں ڈبو کر ملک کومہنگائی کے طوفان میں مبتلاکردیاتواپنے مخالفین کی عدم اعتمادکی تحریک کے دوران انہوں نے بالکل اسی طرح اپنے اقتدارکوڈوبنے سے بچانے کیلئے ذوالفقاربھٹوکی طرح امریکا کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے تمام مخالفین کوامریکاکے ایجنٹ قراردیتے ہوئے قوم کواپنے دفاع کیلئے دہائیاں دینی شروع کر دیں لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے قوم کے اہم ادارے پربھی تابڑتوڑحملے شروع کردِئیے جوآج سے قبل کبھی بھی فوج کے خلاف ایسی ناپسندیدہ مہم نہیں دیکھی گئی اورسوشل میڈیا آئے دن اس بڑھتی ہوئی آگ پرڈھیروں پٹرول پھینک کراس میں اضافہ کررہاہے جس کو دیکھنے کے بعدوہی دشمن جوایک عرصے سے ملک کی سلامتی کے خلاف منصوبے بنارہے ہیں،ان کاکام بہت آسان ہوگیاہے۔
وہی عدلیہ جس نے عمران خان کوامین وصادق کاسرٹیفکیٹ عطاکیاتھا،اسی عدلیہ کے حکم سے آج وہ پابندسلاسل ہے۔وہی عمران خان اپنے دورِ حکمت میں عوامی اجتماعات میں امریکی خط لہرا کراس کوموردالزام ٹھہراتے رہے،لیکن دوسری طرف انہی کی جماعت کی سنئیررکن شیریں مزاری اپنے ٹویٹ میں امریکی سفیرکے ہیلی کاپٹر پر طورخم سرحدکے دورے کی تصاویرلگاتے ہوئے اپنے شدیدغصے کااظہارکررہی تھیں لیکن اس سے چندگھنٹوں کے بعدان کی خیبرپختونخواہ حکومت کے وزیراعلیٰ اور دیگروزرا امریکی سفیرکے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے یوایس ایڈکی طرف سے اپنے صوبے میں20سے زائدپراجیکٹس پرامریکی مددکی تکمیل پرنہ صرف شکریہ اداکررہے تھے بلکہ امریکا کی طرف سے36گاڑیوں کاتحفہ بھی قبول کر رہے تھے۔یہ دہرامعیار ساری قوم نے کھلی آنکھوں سے دیکھاہے۔
آج ایک مرتبہ پھرپاکستان میں تمام سیاسی جماعتوں میں ایک دوسرے کے خلاف دشنام طرازی کاایک طوفان جاری ہے جبکہ ملکی معاشی اور سیاسی ابتری نے قوم کویہ سوچنے پرمجبورکر دیا ہے کہ اب ضرورت اس امرکی ہے ان تمام آزمودہ سیاستدانوں سے چھٹکارہ حاصل کرنے نئے ایماندار افرادکے ساتھ اس ملک میں وہ نظام لایا جائے جواس ملک کی تقدیربدل دے۔دورنہ جائیں صرف پیچھے یہ مڑکردیکھ لیں کہ اس ملک میں ’’آئی پی پیز‘‘ جیسے خطرناک پروجیکٹ کوکن شرائط پرپاکستان لایاگیااورپھر ہرآنے والے حکمرانوںنے اس کی آڑ میں میں ملک کے کھربوں روپے لوٹ لئے اوراب بھی عوام کے جسم سے خون کاآخری قطرہ تک نچوڑاجارہاہے۔
ہمیں اس مقام پرلیجانے کی سازش ہوچکی ہے کہ ہمارے پاس تنخواہ دینے کیلئے بھی رقم موجودنہ ہو جبکہ ملک کے تمام اثاثہ جات پہلے ہی غیرملکی مالیاتی اداروں کے پاس گروی پڑے ہیں اور شنیدیہ ہے کہ ملکی ائیرلائن’’پی آئی اے‘‘جس کو عملًاتباہ کرنے کیلئے عمران خان کے ایک وزیر سرورخان نے خوداسمبلی میں کھڑے ہوکر ایسا بیہودہ جھوٹااعلان کردیاجس کے بعدساری دنیامیں ہمارے جہازوں کی آمدورفت پرپابندی لگادی گئی جبکہ بعدازاں متعلقہ عالمی ادارے پاکستان کے تمام پائلٹ کو اس الزام سے بری بھی کرچکے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں پڑوسی ملک میں 346 ایسے پائلٹ کا لائسنس منسوخ کردیاگیالیکن اس کے باوجودان کی ائیرلائنزرواں دواں ہے۔
شوریہ ڈوول،اجیت ڈوول کابیٹا(بی جے پی) سے وابستہ،پاکستانی تاجرسیدعلی عباس کے ساتھ ٹارچ انویسٹمنٹ کمپنی کاشریک مالک ہے۔ یہ کمپنی پاکستان کے ای کامرس سیکٹر،جس میں جاز کیش، ایزی پیسہ اورفنٹیک ایکو سسٹم، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان،پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن شامل ہیں،میں اپنے نمایاں شیئر ہولڈنگ کی وجہ سے تنازعات میں گھری ہوئی ہے۔ قابل ذکربات یہ ہے کہ ٹارچ انویسٹمنٹ کمپنی جولکسن گروپ میں بھی حصہ رکھتی ہے اورمیک ڈونلڈزاس کی بنیادی تنظیموں میں سے ایک ہے،پی آئی اے کی ممکنہ نجکاری کی روشنی میں، بھارتی اداروں کی جانب سے سیدعلی عباس جیسے پاکستانی افرادکے ساتھ اشتراک کے ذریعے پی آئی اے میں شیئرہولڈنگ حاصل کرنے کے کوششوں میں مصروف ہے،جن میں ڈوول خاندان سے تعلق رکھنے والے افرادبھی شامل ہیں۔اس سے اس طرح کے لین دین کی شفافیت اوراحتساب کے ساتھ ساتھ پاکستان کے قومی مفادات پرممکنہ اثرات کے بارے میں اہم سوالات بھی اٹھتے ہیں۔کیاہماری عدلیہ ملک کے اتنے بڑے نقصان پرکوئی سوموٹونوٹس لینے کی ہمت کرے گی؟
اس وقت ملک میں تمام اشرافیہ خودملکی خزانے پرایک بوجھ بن چکی ہے اورمراعات کی آڑمیں آسائشوں سے لطف اندوزہوکر ملک کی بربادی پرآنکھیں موندکربیٹھی ہوئی ہے۔اس کیلئے ملک کوبچانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پرخودعوام کواب باہرنکلناہوگااوراپنی تمام توانائیاں صرف کرکے ان تمام عہدشکنوں کوان کے بیرونی آقاؤں سمیت حتمی انجام تک نہ صرف پہنچانا ہوگابلکہ ان سے ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لینے کیلئے جنگی بنیادوں پرقانون سازی کرناہوگی ۔