Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

اقتداراورجوتم پیزار

ہرسال کیلنڈرپرجب ماہ اگست شروع ہوتا ہے تواس صدی کاسب سے بڑامعجزہ اوررب کائنات کاسب سے بڑاانعام’’پاکستان‘‘ ہم سب کی خوابوں کی تعبیرسجدہ شکربجالانے کا تقاضہ کرتاہے۔ قائداعظم ؒکی قیادت کاسب سے بڑاکارنامہ پاکستان کاقیام ہے لیکن پاکستان کے قیام کی حقیقت کیاہے؟یہ برصغیرکی سیاسی صورتحال کااتفاق ہے،کوئی تاریخی حادثہ ہے،برطانوی ہندکی وحدت کوختم کرنے کی سازش ہے یاانسانی معاشرت کے لئے اللہ تعالی کے قوانین کے عمل اورردِعمل کانتیجہ ہے؟حقیقت یہ ہے کہ پاکستان دورِحاضرہ میں عالمگیر امت مسلمہ کی بازیافت کااعلان ہے اوریہ بھی حقیقت ہے کہ ہم۔۔۔۔!
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تاامروز
چراغِ مصطفویٰ سے شراربولہبی
1924ء میں سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کے ساتھ وہ برائے نام مرکزیت جومسلمانوں کوحاصل تھی وہ بھی ختم ہوگئی اوراس پر مسلمانوں سے دائمی بغض اورعنادرکھنے والی طاقتوں نے اطمینان کاسانس لیالیکن اس واقعے کے سولہ برس بعدیعنی1940ء میں برصغیرکے مسلمانوں نے اپنے عالمگیرملی تشخص کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کامطالبہ کردیا۔غورکیجئے تو اندازہ ہوجائے گاکہ برصغیرکے مسلمانوں نے پاکستان کے قیام کامطالبہ کرکے اجتماعی سطح پراصولی اعتبارسے اتباعِ سنتِ نبویﷺ کافریضہ سرانجام دیاہے۔ ہمارے ہادی برحق رسولِ اکرم ﷺنے ایمانی رشتے کی بنیادپرایک عالمگیرامتِ مسلمہ کی تشکیل فرمائی۔برصغیرکے مسلمانوں نے دورِحاضرمیں اسی تشخص کی تجدیدفرمائی۔رسولِ اکرمﷺنے یثرب کی سرزمین کوپہلی اسلامی ریاست کے لئے منتخب فرمایا، برصغیرکے مسلمانوں نے اعلان کیاکہ یہاں اپنے اکثریتی علاقوں کوایک آزاداور خودمختارمملکت کی شکل دیکروہ اسے دورحاضرمیں ’’عمل پذیراسلام کی تجربہ گاہ‘‘بنائیں گے۔یثرب مدینتہ النبی ﷺ بنا،یہ خطہ پاکستان بنا۔
ایک اورحیرت انگیزبات یہ کہ دنیاکے دیگرتمام علاقوں کے مقابلے میں برصغیرکے مسلمانوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی اور جب پاکستان کامطالبہ کیااس وقت یہاں مسلمانوں کی تعداددس کروڑکے لگ بھگ تھی لیکن ہندواکثریت کے مقابلے میں وہ تعداد بہت کم تھی،یعنی ایک چوتھائی تھی۔تعدادکی وہ کمی پیشِ نظررکھئے اورقرآنِ پاک میں سورہ الانفال کی 26 ویں آیت مبارکہ پرغور کیجئے جس میں ارشاد ہواہے،تم زمین میں تھے، تمہیں بے زورسمجھاجاتاتھا،تمہیں خوف تھاکہ لوگ تمہیں مٹانہ دیں،پھراللہ نے تمہیں جائے پناہ مہیاکی، اپنی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبوط کئے اورتمہیں اچھارزق دیا،شائدکہ تم شکرگزاربن سکو‘‘۔
آں کتاب زندہ، قرآن حکیم
حکمت ولایزال است وقدیم
پاکستان دورِحاضرمیں اس ارشادِ قرآنی کی تشریح اوراسلام کی نشاطِ ثانیہ کی علامت کے طورپر وجودمیں آیاہے اوراس تاریخ ساز عمل میں قائداعظم محمدعلی جناحؒ کی قیادت نے اساسی اور کلیدی کردارادا کیا ہے۔ یہ بہت بلندرتبہ ہے اوراسی زاویہ نظرسے قائد اعظم کے شخصی کردارپربھی غوروفکرکی ضرورت ہے کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی اوررسول اکرم محمد ﷺ کی ذات ِ اقدس سے قلبی وابستگی نے ان کی شخصی اورسیاسی دونوں زندگیوں کوکس طرح باہم مربوط اورمنظم کیا۔ قائد اعظم نے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے برطانیہ میں’’لنکن ان ‘‘ میں داخلہ لیاکیونکہ وہاں دنیاکی قانون سازشخصیات میں سرِفہرست ہمارے رسولِ اکرم ﷺ کا اسمِ گرامی تحریرتھااورپھرنصف صدی بعد قیامِ پاکستان کے وقت اقتدارکی منتقلی کرتے ہوئے لارڈماؤنٹ بیٹن نے یہ کہہ کرجوہم پر طنزکیاتھا:مجھے امیدہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ رواداری کاوہی سلوک کیاجائے گاجیسا اکبرِاعظم کے دورمیں کیا گیا تھا ‘‘توقائدنے فوری جواب میں کہاتھاکہ’’مسلمانوں کی رواداری اکبرِاعظم تک محدودنہیں ہے بلکہ ساڑھے تیرہ سوبرس پہلے ہمارے پیارے رسول اکرم محمد ﷺنے یہودیوں اورعیسائیوں کوفتح کرکے ان سے نہ صرف منصفانہ بلکہ فیاضانہ سلوک کیاتھا‘‘۔
نوجوان قائدکے قلب میں رسول اکرم ﷺ سے وابستگی کی جوایک روشن کرن تھی،اسی کرن کی روشنی ان کے لئے سیاست کی راہ کے انتہائی صبرآزماسفر میں بھی زادِراہ بنی رہی۔شخصی اعتبار سے قائداعظمؒ میں خامیاں بھی رہی ہوں گی لیکن ان خامیوں کے اثرات ان کی ذات پریااس سے متعلق افرادتک رہے جبکہ ان کی خوبیوں کے اثرات ان کی قیادت میں نمایاں ہوئے جس کی توانائی نے برِصغیرکے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی پردیرپااورتاریخ سازاثرات مرتب کئے۔
قائد اعظم ؒنے قیامِ پاکستان کاجوکارنامہ انجام دیاوہ اس اعتمادکے بغیرممکن نہیں ہوسکتاتھاجو پورے برِصغیرکے آبادمسلمانوں نے ان کی قیادت پرکیا۔انہوں نے اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کوکبھی کسی غلط فہمی میں نہیں رکھابلکہ بالکل واضح طورپر بار بار اعلان کیاکہ پاکستان اکثریتی صوبوں میں بنے گااور اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کواس عظیم مقصد کے لئے قربانیاں دینی ہوں گی۔ سر زمین پاکستان کی آزادی کی یہ انفرادیت ہے کہ اس سرزمین کی آزادی کے لئے ان مسلمانوں نے بھی سوچ سمجھ کر قربانیاں دیں جن کا اس سرزمین سے کوئی براہِ راست کوئی رشتہ نہیں تھالیکن یہاں آبادمسلمانوں سے ایمانی رشتے کے تقاضے کاان کوپوراشعور تھا،تاریخ میں اس کی کوئی دوسری مثال موجونہیں ہے۔یہ قائداعظمؒ کی قیادت کی سحرانگیزی تھی اوروہ سحرانگیزی سچائی کی تھی، امانت ودیانت کی تھی۔ انہوں نے جذباتی نعرے بازیاں کبھی اختیارنہیں کیں۔ان کودوبہت بڑی طاقتوں کاسامناتھا، ایک ہندو کانگریسی قیادت اوردوسری برطانوی حکومت۔ مادی اعتبارسے صورتحال بے سروسامانی کی تھی، مسلمان منتشرتھے،بکھرے ہوئے تھے لیکن ایمانی توانائی مسلمانوں کو بہرحال حاصل تھی۔ قائداعظم کی قیادت کی صداقت نے اسی ایمانی توانائی کاشعور مسلمانوں میں بیدارکردیا۔اصل توانائی ان دیکھی طاقتوں کوہی حاصل ہوتی ہے۔ایمان ان دیکھی توانائی ہے لیکن ساری نظرآنے والی طاقتوں پرغالب آجاتی ہے، اوریہ حقیقت ہے کہ:
آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
قیامِ پاکستان کی راہ کی رکاوٹیں سامنے لایئے،مخالفین کی بھرپورسازشی منصوبہ بندیاں پیشِ نظررکھئے،اس قتل وغارت گری کا تصورکیجئے جوصرف اس لئے برپاکی گئیں کہ پاکستان مستحکم بنیادوں پرقائم نہ ہوسکے اوروہ پھرجذبہ،وہ عزم اورتعمیرکافیصلہ کن اندازجس سے جوکچھ بظاہرناممکن نظرآرہاتھا،اسے ممکن بنادیا۔پاکستان کاقیام دورِحاضرمیں اسلام کے احیاکے حوالیسے خصوصی اہمیت کاحامل ہے۔سور العمران کی آیت 54 میں ارشاد ہواہے: وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی تدابیرفرما رہاتھااوراللہ سب سے بہترتدابیر فرمانے والاہے ‘‘ اور سورہ ابراہیم کی آیت 46میں ارشادہے:کافروں نے اپنی ساری چالیں چل دیکھیں لیکن ان کی ہرچال کاتوڑاللہ کے پاس تھا،حالانکہ ان کی چالیں ایسی غضب کی تھیں کہ پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں۔سچی بات یہ ہے کہ:
جہاں ہوں سعی بشرکی تمام راہیں بند
دیاردوست کارستہ وہیں سے کھلتا ہے
ارشاداتِ قرآنی پیش نظررکھئے اورپاکستان کے قیام سے لیکرپاکستان کے ایٹمی طاقت بن جانے تک کے واقعات پرغور کیجئے، انسانی معاشرت کے لئے قدرت کی منصوبہ بندی کی کارفرمائیاں واضح ہوتی چلی جائیں گی ۔قیامِ پاکستان کی ایک وجہ ہمارے مخالفوں کاشدید تعصب اورسیاسی ریشہ دوانیاں بھی بنیں۔قیامِ پاکستان کومتزلزل کرنے کی ہرممکن کوششیں کی گئیں اورہرکوشش ناکام ہوئی اورایٹمی طاقت کی حیثیت سے نمایاں ہونے میں جس عمل نے ہمارے لئے سب سے بہتردلیل فراہم کی وہ بھارت کاایٹمی دھماکہ تھا۔پاکستان کی داخلی صورتحال اوراس کے وجودکے علاقائی اورعالمی اثرات پرمسلسل تدبراورتفکر کی ضرورت ہے۔ جہاں ہم داخلی سطح پرسماجی تطہیرکے مرحلوں سے گزرہے ہیں(وہاں نائن الیون کے بعد اس خطے کی صورتحال بالکل بدل چکی ہے۔پاکستان دشمن قوتیں بھوکے بھیڑیوں کی طرح ہم پرٹوٹ پڑی ہیں اورایک فاسق وفاجرجنرل ہمیں جن خطرات کے بھنور میں پھینک کرپہلے ملک سے فراراور اب اللہ کے ہاں بلالیاگیاہے،لیکن اس کے بوئے کانٹوں کی فصل اس کے بعدہرآنے والی حکومت کی شکل میں قوم کوکاٹناپڑی ہے اور اب بھی موجودہ حکومت تواس سے بھی دس قدم آگے چل رہی ہے،اس لئے اس وقت دشواریاں پہاڑوں جیسی معلوم ہوتی ہیں)۔قیامِ پاکستان کاعلاقائی اثریہ ہواکہ بھارت اس سارے علاقے پراپناتسلط قائم نہیں کرسکااور عالمی اثریہ ہواکہ جہاں اسلام عالمی سطح پرنمایاں سے نمایاں ترہوتاچلاگیاوہاں ہماری بداعمالیاں اورنافرمانیوں نے یہ روزِ بدبھی دکھایاہے کہ ایک ایٹمی قوت کاحامل ملک معاشی طورپراس قدرکمزوروناتواں کردیاگیاہے کہ عالمی گدھ شب وروزاس کے گردمنڈلا رہے ہیں۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں