(گزشتہ سے پیوستہ)
وقت کے دوپیمانے ہیں،شب وروزاورماہ وسال۔ ایک پیمانہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے کاموں کے لئے مقررکیاہے۔دوسراپیمانہ اللہ تعالیٰ کے اپنے حساب کاہے جس کاایک’’یوم‘‘ہمارے ایک ہزارسال کے برابریا اس سے بھی کہیں زیادہ کاہے۔ دورِرسالت مآبﷺمیں انسانی معاشرت کے لئے اللہ تعالیٰ کے مقررکردہ قوانین اورانسانی اعمال میں مکمل ہم آہنگی،مثالی ہم آہنگی ہوگئی تھی لہٰذا تاریخ کی مکمل روشنی میں ایک مثالی معاشرہ،ایک مثالی مملکت وجودمیں آگئی۔اس مثالی معاشرے کی روشنی جہاں تک پہنچائی جاسکتی تھی مسلمانوں نے پہنچائی ۔ زمانے کا،انسانی معاشرہ کا،سفرتواب بھی اسی سمت ہے لیکن اس راہ پرہم مسلمانوں کواپنے ایمان وعمل سے جو روشنی پھیلانی چاہئے تھی کہ سفر میں تیزی آجائے،ہم صدیوں سے اپنا وہ فریضہ بھلابیٹھے ہیں۔قیامِ پاکستان نے ہمیں دورِ حاضر میں اپنے ایمانی کردارکی ادائیگی کاایک اورموقع فراہم کیاہے۔پاکستان میں ہم گزشتہ77سالوں میں اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کرکے یااس کے شعور سے محروم ہوکرجووقت ضائع کرچکے ہیں اوراس سے نسلِ انسانی کاجوخسارہ ہواہے ہم سب کواپنی اپنی ذمہ داریوں کے اعتبارسے اللہ کے سامنے اس کی جوابدہی کرنی ہوگی۔کیاواقعی ہمارا ایمان ہے کہ جوابدہی ہوگی؟کیاہم کو اس حقیقت کاشعوربھی ہے کہ و ہ جوابدہی ہونی ہے اورضرور ہونی ہے؟قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی ہم نے بہت بڑی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
بے خبر تو جو ہر آئینہ پیام ہے
تو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے
لیکن سورہ محمدکی آخری آیاتِ مبارکہ کے اختتامی الفاظ بھی کہہ رہے ہیں:اگرتم اللہ کے حکم سے منہ موڑوگے تواللہ تمہاری جگہ دوسری قوم کولے آئے گا اوروہ تم جیسے نہیں ہوں گے۔اس وقت ہماراسب سے بڑاامتحان یہی ہے۔کاش!ہمیں اس سچائی کاادراک ہوجائے کہ اللہ کے خوف سے محرومی سب سے بڑی محرومی ،سب سے تباہ کن محرومی ہے جس کاکوئی ازالہ کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے!
حقیقت یہ ہے کہ چندنوں کے بعدپاکستان 14اگست کو77سال کا ہوجائے گامگر1971ء کے بعد 2019ء اب تک کی تاریخ کے بد ترین سال ہیں۔ یادرہے کہ ارض وطن ایوب خان ،غلام محمد اور جسٹس منیر کی سازشوں کی وجہ سے ابتدا ہی سے مظلوم رہا۔ 1968ء میں ایوب گیا،یحیٰی اوربھٹونے بنگلہ دیش کی بنیادرکھی، لیکن تقسیم کااصل سبب ایوب ہی تھااورپھر1971میں ارض وطن تقسیم ہوگیا۔18ویں ترمیم کے تحت جوصوبوں کواختیارات تفویض کئے جاچکے ہیں،اگریہی کام 1970ء میں کرلیاجاتاتوملک تقسیم نہ ہوتا۔پھر شعلہ بیان بھٹو کے دورکی تباہی شروع ہوئی۔بھٹو کے جعلی الیکشن پرپاکستان قومی اتحاد کی طرف سے بائیکاٹ پر1977ء میں ضیاء الحق کامارشل لاآیا اور1988 ء تک قوم نے وہ بھگتا ۔پھر1988ء تا 1993 جرنیلوں کے ماتحت بینظیراورنوازشریف کے مختصردور،پھر 1993ء تااکتوبر 1999ء دوبارہ بے نظیراورنوازشر یف کے مختصرادوار،اس کے بعد1999 ء سے اگست2008ء تک9 سالہ پرویزمشرف کی آمریت کا دوررہا۔قوم کی بدنصیبی اورالمیہ یہ بھی ہواکہ اس ملک میں ثاقب نثارنے جسٹس منیرکی بدترین یادتازہ کردی جوآج بھی اس ملک کے خزانے سے لاکھوں روپے ماہانہ اپنی آسائشوں کے لئے وصول کررہاہے۔
پھرزرداری کی صدارت اورپی پی پی کاپانچ سالہ دور۔ گیلانی اورراجہ اشرف کا دور،پھرنواز شریف کا تیسرا مختصر دور،جنرل پاشا ظہیرالاسلام وغیرہ پرسا زشوں کاالزام بھی لگا۔خاقان عباسی کاعارضی دوراوربعدازا ں جنرل باجوہ کے کندھوں پربیٹھ کرعمران خان نے اقتدار سنبھالا۔ عمران کا 2018ء سے اپریل2022 ء تک پونے چارسالہ کادورحکومت،جس میں جہاں بیرونی قرضوں میں ملک کو ڈبو دیاگیاوہاں ڈیڑھ لاکھ سے زائدجانوں کی قربانیاں دینے والاکشمیرفروخت کردیاگیا۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ فوج کے سپہ سالاراوروزیراعظم کو قصرسفیدکے فرعون نے بلاکرجواحکام جاری کئے،ان پرعملدرآمدکے لئے جہاں ایٹمی طاقت سے مسلح فوج کاسپہ سالارباجوہ دودرجن صحافیوں کوبلاکرکشمیرکے معاملے پراپنی بزدلی کا اظہارکرتے ہوئے جنگ سے راہِ فرارکا سبق سنارہا تھاجبکہ اسی فوج میں اگرخدمت گزار خچر اپنی کارگزاری سے محروم ہوجائے تواسے گولی ماردی جاتی ہے اوردوسری طرف عمران نے قوم کی توجہ ہٹانے کے لئے اپنی امریکہ سے واپسی پر ہوائی اڈے پرہی اپنی پارٹی کے جم غفیرکوبلاکرجلسہ کرکے اعلان کردیاکہ مجھے یوں لگ رہا ہے کہ میں ایک مرتبہ پھرورلڈ کپ کافاتح بن کرلوٹاہوں اور اس کے ساتھ خودکوہم بدنصیب کشمیریوں کاوکیل بن کرحکم دے ڈالاکہ اب مقبوضہ کشمیرکے متعلق انڈیاکے غاصبانہ قبضے کے خلاف کسی بھی قسم کامظاہرہ کرنے کی ضرورت نہیں،میں خودکشمیرکا کیس لڑوں گا۔وزیراعظم ہائوس پہنچ کراعلان کیا گیاکہ ہرجمعہ کے دن ساری قوم ایک گھنٹے کے لئے کشمیرکے لئے احتجاج کے لئے باہرنکلے گی اورخود صرف پہلے ہفتے دس منٹ کے لئے وزیراعظم ہاؤس کے باہر فوٹوسیشن کے بعد انہیں کبھی کشمیریادنہیں آیا۔
بادشاہ گرباجوہ جوکشمیرکے معاملے کواپنے مفادات کے لئے قربان کرکے اپنے آقاؤں کے توسط سے نوبل پرائزاورپھرسے توسیع کاخواب دیکھ رہاتھا، آئی ایس آئی کے سربراہ کی تعیناتی پرعمران خان کے ساتھ کھل کراختلافات سامنے آگئے اورفیصلہ کرلیاگیاکہ ایک نیام میں دوتلواریں نہیں سماسکتیں توپھرعدم اعتمادکافیصلہ ہوگیا۔ پاناما کیس میں فارغ کئے جانے والے نوازشریف جو باجوہ کے خلاف کھلم کھلاآن لائن جلسوں میں تقریریں کررہے تھے،زرداری جواینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکیاں دے رہے تھے،اس تمام بھان متی کے کنبے کوجمع کرکے عمران کوفارغ کردیاگیاجبکہ آخری دنوں میں ایوان صدرمیں عارف علوی کی طرف سے بلائی گئی ملاقات میں عمران اپنے اقتدارکوبچانے کے لئے دوبارہ مدت ملازمت میں توسیع دینے کی آفربھی کررہاتھالیکن گھربھیجنے کافیصلہ ہوچکاتھا۔ آخری حربے کے طورپرقومی اسمبلی کے اسپیکراسدقیصرنے بھی عمران کے احکام کی تعمیل سے معذرت کر لی توڈپٹی اسپیکرسوری کوآئینی طورپرپیش کی گئی تحریکِ عدم اعتمادکاحشرنشرکرنے کے لئے استعمال کیاگیالیکن رات دیرگئے عدالتیں بھی لگ گئیں اورعدمِ اعتمادکی کامیابی کے بعدپی ڈی ایم کاکنبہ اس ملک پرمسلط کردیاگیا۔
پی ڈی ایم کی چندماہ کی حکومت میں نیب کاحشرنشرکرکے کرپشن کے تمام مقدمات ختم کرنے کے قوانین جاری ہوگئے اور پاکستانی روپے کی قدرخوفناک حدتک گرگئی اورملک دیوالیے کے کنارے پہنچادیا گیا۔ ادھردوسری طرف2014ء کے دھرنے سے قوم روزانہ عمران خان کے ایک ایک گھنٹے کے خطاب سنتی چلی آرہی تھی۔عمران خان پرتوشہ خانہ اور دیگربدعنوانیوں اور کرپشن کے مقدمات نے ساری قوم کوچکراکررکھ دیاتھا۔الیکشن کمیشن کے فیصلے نے عمران کے عدالتی امین و صادق کے القاب کومشکوک کردیا۔ادھرقوم کوبھی سیاستدانوں کی تقاریراوربیانات کا نشہ لگ چکاہے اورسیاسی حریف بھی عمران کودوسرابھٹوثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ایک لمبی داستان ہے جس سے آپ سب ہی واقف ہیں۔ عمران جیل میں ہے لیکن ایک مرتبہ پھرعدلیہ کی دیوی ان پرایسی مہربان ہوئی ہے کہ ان کے حریف 9مئی کے واقعہ کوبغاوت قراردیکرکبھی اس کی جماعت پرپابندی لگانے کی خواہش کااعلان کرتے ہیں اورکبھی مفاہمتی بیان سامنے آجاتاہے۔قوم پریشان ہے کہ ملک کواس انتہائی نازک دورسے نکالنے کی بجائے اقتدارکی خواہش میں ایک دوسرے سے جوتم پیزارہیں۔
فوج مارشل لاء نافذکرے گی توپابندیاں لگ جائیں گی۔عمران کے حوالے کریں گے تومزید تباہی ہوگی۔موجودہ حکومت کومیڈیااور اپوزیشن چلنے نہیں دیتے۔عدلیہ کاکرداربھی مشکوک ہوگیا ہے۔ملک سودی قرضوں تلے ڈوبتاچلاجارہاہے۔ اسٹیٹ بینک کوآئی ایم ایف کی غلامی میں دیا جا چکاہے۔ تجارت خسارہ بڑھتاجارہاہے۔ان حالات میں ملک کا دھڑن تختہ ہوجائے،پرواہ نہیں۔اب ضرورت اس امرکی ہے کہ فوج سب کواکھٹاکرکے تین سال کی ایمرجنسی نافذکرے اورتمام سیاسی جماعتوں پرمشتمل قومی ٹیکنوکریٹ حکومت قائم کرے تاکہ معیشت مستحکم ہوجائے لیکن ضدی سیاست دانوں سے اس طرح کی قومی حکومت کے قیام کی توقع نہیں کی جاسکتی جو ملک کودیوالیہ ہونے سے بچالے۔
پھر1971ء اور1977ء جیسے حالات ہیں۔ایک دوسرے کوبے ایمان اورکرپٹ ہونے کے الزامات نے ایک خوفناک ماحول پیداکردیا ہے ،پولرائزیشن ہے،قوم تقسیم کی جارہی ہے اورخانہ جنگی کاشدیدخطرہ پیداہوگیاہے۔ساری قوم بے بسی میں اپنے رب سے استغفار کرتے ہوے رحم کی دعامانگ رہی ہے کہ پاکستان کوآزمائش کے دورسے نکال کراسے نیک اورصالح قیادت عطافرما،آمین