اگر پاکستان نہ بنتا تو کیا ہم دینی ،اخلاقی، سیاسی،معاشی طور پر آج سے بہتر ہوتے،ہم دل جلوں کو یہ سوال سن کر شدید دکھ ہوتا ہے۔یہ سوال بر عظیم پاک و ہند اور خصوصاً پاکستان کے عام مسلمانوں کے ذہن میں پیدا نہیں ہوتا،وہ بیچارے تو سیدھے سادے مسلمان ہیں اور پاکستان کو اسلام کا گھر بلکہ ملجا وماوی جانتے ہیں۔ان سادہ لوگوں کے نزدیک پاکستان اللہ تعا لیٰ کا بیش بہا عطیہ ہے۔اللہ تعالی جل شانہ وہ رحیم ذات ہیں جس نے ماہِ رمضان میں قرآن الفرقان نازل فرمایا،اسی خدائے ر حیم و رحمان نے ماہِ رمضان مبارک کی 27ویں ستائیسویں رات کو پاکستان جیسی عظیم الشان نعمت سے نوازا۔
اگر پاکستان نہ بنتا؟یہ الفاظ ہمارکلیجہ جلا دیتے ہیں۔یہ سوال کوئی بھی صاحبِ ایمان بآسانی نہیں سن سکتا اور وہ بھی اس عالم میں کہ پاکستان وجود میں آچکا،دنیا کے چھوٹے بڑے ممالک کے مقابل خم ٹھونک کر کھڑا ہو چکا۔ 78سال ہونے کو ہیں،پھر ایسا سوال کیوں؟کیا پاکستان کے وجودِ مسعود کو مشکوک کرنے کیلئے؟جب تحریکِ پاکستان جاری تھی تو خدا پر ایمان رکھنے والا عام فرد مسلمان جس کے پاس سارا علم کلمہ طیبہ تک محدود تھا ،وہ پورے یقین کے ساتھ اس تحریک کو دینی تحریک سمجھتا تھا اور نعرہ زن تھا،،لے کے رہیں گے پاکستان، اور پاکستان کا مطلب کیا ’’لا الہ الا اللہ‘‘۔ہاں ان سادہ دل مگر قوی الایمان عام مسلمانوں کے مقابل لغت ہائے حجازی کے ہزاروں قارون اپنے علم کلام اور اپنی منطق کے پیچ و خم میں الجھے ہوئے ، تماشائے لبِ بام کے اسیر اور رہین تھے،ان کے دماغ روشن تھے،انہیں قرآن حفظ تھے،ان میں سینکڑوں حفاظ بخاری و مسلم بھی تھے مگر ان کے قلب مقفل تھے ورنہ حقیقت کو کیوں نہ پا جاتے؟ان علمائے عظام میں مٹھی بھر وہ بھی تھے جن کا دین ان کے قلوب میں جا گزیں تھا، جن کے دلوں کے پٹ کھلے تھے،یہ تھے وہ خوش قسمت علما امت جو بر اعظم پاک و ہند کے عظیم ترین جہاد میں کود گئے اور سپاہیانہ لڑے مگر علما کی اکثریت محروم رہی۔یہ سوال کہ پاکستان کا بننا بہتر ہے یا مضر،یہ انہی علمائے کرام کا سوال تھا جن کا دین ان کے دماغ کی متاع تھا، جن کا دین ان کے قلب کا سرمایہ نہ تھا۔قلب تو مقفل تھے، قرآن الفرقان کا ارشاد گرامی ہے کہ:آنکھیں اندھی نہیں ہو جاتی،وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں۔دوسرا گروہ روشن خیال متعلقین کا وہ طبقہ تھا جو خود کو اعلیٰ رتبہ ادب و شعر پر فائز سمجھتا تھا،تیسرا گروہ وہ کیمونسٹ حضرات کا تھا اور ان کا ایک معتدبہ حصہ ادبا و شعرا میں شامل تھامگر علما کے سوا ان دونوں گروہوں کی مسلمانوں کے یہاں کوئی عوامی حیثیت نہیں تھی۔
اگر ماضی اور حال کے روابط عقیدت کے بندھن سے آزاد ہو کر سوچیں کہ آخر یہ کیا ہوا کہ ہمارے علماء مکرمین امت سے کٹ کر اور ہٹ کر کھڑے ہوگئے اور کھڑے کھڑے شور مچاتے رہے کہ مسلمانوں کا فائدہ متحدہ برعظیم میں ہندو غلبے کے تحت ہے نہ کہ ایک آزاد مسلم مملکت میں،جس کے باعث برعظیم پاک و ہند کے مسلمانوں کی دو تہائی آبادی ہندو کی محکومیت کے عذابِ الیم سے بچ سکتی تھی اور کچھ بھی نہ ہوا سہی،کیا اللہ کا یہ احسان کم ہے کہ کروڑوں کی مسلم آبادی کو ان کا آزاد وطن میسر آ گیا؟وہ علما اس زمانے میں یہ سمجھتے تھے کہ پاکستان میں مسلمانوں کی حکومت کے زیرِ سایہ اسلام کا نفاذ زیادہ مشکل ہو گا ،اس کے بر عکس متحدہ ہندوستان میں اسلام کا نفاذ آسان تر ہوگایعنی حکومت الہٰیہ اور نظامِ مصطفی کا قیام حضرت امیر المومنین و المومنات،امیر الاحیا و الاموات گاندھی خوش صفات کے زیرِ اقتدار اور ان کے بت پرست دیگر ورثا کے زیرِ حکومت بہتر طریق پر عمل میں آسکتا ہے۔گاندھی جی کے ذریعے نظامِ اسلام کا نفاذ سہل تر جاننے والے کون لوگ تھے؟وہ علما اکابر تھے جن کے نزدیک ہندو لیڈر وں کی ہر بات حق تھی،مسلمان قائدین کی ہر بات باطل ۔اگر ذرا غور کر لیں تو ایمان کی خاطر جنگ اور جہاد کرنے والے عام مسلمان تھے جن کا علم دین محدود تھا،ان کے مدمقابل سیکولر روش کے طالب،لغت ہائے حجازی کے قارون تھے ، شیوخ القرآن ،شیوخ الحدیث،خطبائے اسلام،ائمہ دین متین،حد ہو گئی علما سیکولر،غیر علما مسلمان بنیاد پرست،اسلام کے غلبے پر بھرپور ایمان کے مالک!
آج اسلامی بنیاد پرستی کے معنی تو یہی ہے نا ں کہ مسلمان کو اسلام کی حقیقت پر یقین ہو۔اس کا مطلب اسلام کا فراواں علم حتما ًنہیں،اگر کوئی عالم بھی صاحبِ تصدیق ہو تو الحمد للہ،مگر عموما جو دیکھا جارہا ہے وہ متوسط طبقہ ہی مراد ہے۔اہلِ دین اور اہلِ ایمان کا متوسط طبقہ وہ امت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اس لئے کہ وہ غیرت والے ہیں۔اس متوسط طبقے کو قوم کی اکثریت کثیرہ کا بھرپور تعاون حاصل ہے،خدا کے فضل سے پاکستانی عوام کا ایمان نہیں ڈولتا،وہ پاکستان کو اللہ کی عظیم نعمت جانتے ہیں اور پاکستان کے پروانے ہیں۔مجھے اچانک ایک کتاب یاد آ گئی ہے،اس کانام ہے(Indian Destiny)’’تقدیرہندـ‘‘۔مصنف کا نام تھا سرل مودک،مصنف عقیدے کی رو سے ہندو تھا۔اس نے اپنی کتاب میں متحدہ قومیت کے مخالفوں کی خوب کھال کھینچی ہے اور اس نظریے کے حامیوں کو خوب خوب اچھالا ہے۔ماضی کے بہت سے اکابر میں شہزادہ دارا شکوہ کی بے حد تعریف کی ہے۔وہی داراشکوہ جس کے بارے میں حضرت علامہ اقبال نے فرمایا تھا۔
تخم الحادے کہ اکبر پرورید (الحاد کا بیج جو اکبر نے بویا تھا وہ دوبارہ شہزادہ داراشکوہ کے دل میں پھوٹ پڑا) اور آپ کو سن کر حیرت ہوگی کہ مسٹر سرل مودک نے اس کتاب میں یہ بھی تحریر کر دیا کہ داراشکوہ کے مقابل ایک تنگ دل اور متعصب شخص اورنگ زیب تھا اور ہمارے دور میں داراشکوہ کا جانشین ابوالکلام ہے اور اورنگ زیب کا جانشین مسٹرجناح۔یعنی اس کتاب میں سیکولر ذہن کا جانشین جس شخص کو بتایا گیا تھا وہ امام الہند،خطیب الہند اور متعصب تنگ دل مسلمان بتایا گیا مسٹر جناح کو۔ اور اورنگ زیب اور قائد اعظم کے تعصب اور تشدد کو جن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اس کا مطلب مہذب محاورے کے مطابق بنیاد پرست ہے۔ آپ سوچ لیں کہ یہ بیان ایک ہندو اسکالر کا ہے اور ساتھ ہی یہ یاد رکھیں کہ حضرت علامہ شبیر عثمانی نے قائد اعظم کے جنازے کے موقع پر جو کلمات ارشاد فرمائے ان میں یہ الفاظ بھی تھے کہ قائد اعظم محمد علی جناح ؒحضرت اورنگزیب عالمگیر کے بعد برعظیم کے سب سے بڑے مسلمان تھے۔ ایمان وایقان کا تعلق دل سے ہے ۔کلمہ طیبہ کے عربی حروف وہ مشرکین مکہ نہ سمجھ سکے جو ابو جہلی گروپ سے تعلق رکھتے تھے ، کیا ان کو عربی نہیں آتی تھی؟ان کو عربی آتی تھی اس کے باوجودکلمہ طیبہ کے الفاظ ان کے لئے غیر زبان کے اجنبی الفاظ تھے۔
بقول حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ:
تو عرب ہو یا عجم ہو، ترا لا ا لہ الااللہ
لغت غریب جب تک ترا دل نہ دے گواہی
ایمان کا مسئلہ قلب سے تعلق رکھتا ہے اور کفر کا بھی قلب سے ۔باقی رہا تعقل تو وہ میان غیاب وحضور سراب یا اعراف، وہ تیسری دنیا ہے مذکر اور مونث کے مابین ایک تیسری دنیا،کبھی امریکااور روس کے مابین ایک تیسری دنیا تھی۔وہ افراد جو لغت ہائے حجازی کے قارون تھے وہ ایمان کی منطق کی میزان پر تولتے رہے،حضرت علامہ اقبال ؒنے فرمایا:
عشق فرمودہ قاصد سے سبک کام عمل
عقل سمجھی ہی نہیں معنی پیغام ابھی
یہ منطق باز اور تعقل طراز طبقہ اس وقت بھی لبِ بام تھا،آج بھی لبِ بام ہے،ٰلہٰذا یہ حضرات اس وقت بھی پورے بر عظیم میں مسلمانوں کی محکومی کو مسلمانوں کے حق میں اللہ کی نعمت جانتے تھے اور مسلمانوں کی ممکنہ آزادی کو،ان کے آزاد وطن کو،ان کے اپنے آزاد جھنڈے کو،ان کے اپنے ٹینکوں ،اپنی توپوں اور اپنے سکوں کو اور ان کے اپنے اقتدار و اختیار کو پرخطر جانتے تھے،حیف جب وقتِ جہاد آیا تو وہ جن کو ائمہ مجاہدین بننا تھا ان کے لئے گویا آیاتِ جہاد منسوخ ہو گئی تھیں۔ حضرت علامہ اقبال نے بجا ہی تو کہا تھا:
(جاری ہے)