(گزشتہ سے پیوستہ)
1965ء کا ذکر ہے کہ میں میٹرک کا طالبِ علم تھا۔میرے شہر فیصل آباد( لائل پور)کی سب سے بڑی جامع مسجد کے خطیب اعلی اور مدرسہ کے سربراہ (مسجد اورمدرسے کا نام بطور احترام مخفی رکھنے پر معذرت)نے پوچھا کہ یہ ہٹلر کا وطن جرمل (جرمنی)کہاں ہے؟میں کیسے بتاتا ،لہٰذا میں نے شہر کے ایک کتب خانے سے دنیا کا نقشہ خریدلیا اور مسجد سے ملحق مدرسے کی لائبریری کی دیوار کے ساتھ لٹکا دیا۔مدرسے کے سربراہ نے تمام معلمین اور سنئیر طلبا کو بلا لیا۔وہ سب لوگ مجھ سے بے حد محبت اور پیار کرتے تھے،مسجد و مدرسہ کے تمام بزرگ مجھے اپنا بیٹا سمجھتے تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ میں آج بھی ان کو اپنا مربی سمجھ کر ان کو ہمیشہ اپنی دعاؤں میں یاد رکھتا ہوں۔
مدرسہ کی تمام اہم شخصیات، اساتذہ اور طلبا نقشے کے سامنے دائرہ کی شکل میں بیٹھ گئے ۔ میری حیرت کی انتہا نہیں رہی جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ علما اجل نقشے پر شمال اور جنوب نہیں بتا سکتے تھے۔جغرافیے کا یہ عالم ،تاریخ ہند سے بالکل ناواقف،معاصر غیر اقوام کے دھندوں سے قطعا ًبے نیاز یہ حضرات دینی علوم خصوصاً حدیث شریف اور فقہ میں طاق تھے،منطق میں طرار اور صرف و نحو میں طیار،اس مدرسے کا علمی درجہ ملک بھر میں ایک نمایاں حیثیت رکھتا تھا،اور اب بھی ہے۔ یہاں کے فارغ التحصیل آج بھی پاکستان کے ہر علاقے میں معزز علما و فضلا اور اہل افتا میں شامل ہیں اور کچھ تو آج پاکستان کی صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے اراکین اور وزارت کے مزے بھی لوٹ رہے ہیں ۔ اس عظیم درسگاہ کا نصاب اگر دیوبند ہی کے مطابق تھا تو عیاں ہے کہ دیوبندکے فارغ التحصیل حضرات شائد چند ایک کو چھوڑ کرحالات گردوپیش سے خواہ وہ معاشی تھے خواہ انتظامی تھے یا سیاسی ،کس قدر آگاہ تھے؟اس کے باوصف اصرار تھا کہ مسلمان اپنے سارے فیصلے سیاسی امور سمیت، فقط علما حضرات کے حسبِ فرمان کریں۔
میں اس وقت بھی سوچتا تھا اور آج بھی سوچتا ہوں،اس وقت بھی اظہارِ خیال کرتا تھا اور آج بھی اظہارِ خیال کرتا ہوںکہ ہمارے علما حضرات میں سے کتنے تھے جن کو مسجد اور مدرسے کی زندگی سے باہر کے امور کا تجربہ تھا،ان میں سے کتنے تھے جن کو کسی معمولی ٹاؤن کمیٹی کے کاروبار کا بھی علم تھا؟کیا انہوں نے ہندو کے ساتھ مل کر کبھی کسی دفتر،تجارتی حتیٰ کہ علمی ادارے میں بھی کام کیا تھا،پھر لازم تھا کہ وہ اپنا کام کرتے جس میں وہ ماہر تھے۔قائد اعظم یا دیگر مسلم لیگی زعما نے کب کہا کہ علما حضرات کو عربی نہیں آتی،یا وہ قرآن و حدیث کی عبارات کے معنی نہیں بیان کر سکتے،ہاں!وہ یہ ضرور کہتے تھے کہ حضرات!جس کام کا آپ کو تجربہ نہیں،اس میں آپ ماہرانہ رائے نہ دیں،ہم آپ کے حلقہ علم مداخلت نہیں کرتے ،ہم فتوے نہیں دیتے،ہم درسِ حدیث کا دورہ نہیں کراتے،اس کے اسلوب نہیں بتاتے،یہ اس لئے کہ کسی کو بھی سارے کام نہیں کرنا ہوتے۔ــجس کا کام اسی کو ساجھے لیکن علما نے پھر بھی ہندوستان کے ہندومسلم مسئلے کا حق ان افراد کے سپرد نہیں کیا جو تجارت کے میدان میں،بلدیات کے میدان میں،قانون سازی کے میدان میں،کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصابی اور علمی و تحقیقی میدان میں اور سیاست کے ہر میدان میں ہندو کے ساتھ کام کررہے تھے اور بخوبی جان رہے تھے کہ ہندو جہاں انگریزی استعمار سے نجات کا خواہاں ہے وہیں ساتھ ہی ساتھ کوشاں ہے کہ مسلمانوں کا بہرطریق اس طرح کچومر نکال دے کہ جب انگریز سے آزادی حاصل ہو تو مسلمان من حیث الامت ان کے لئے دردِ سر نہ بن سکیں۔یہ امر بالکل واضح تھا لیکن مسجد اور مدرسے کے باہر جھانک کر جنہوں نے دیکھا ہی نہ تھا اور جن کا نصاب انہیں برادرانِ وطن کی تاریخ و تہذیب سے آگاہ ہونے ہی نہ دیتاتھا ،وہ ہندو قوم کی اجتماعی نفسیات اور مسلمانوں کے بارے میں ان کی نیتوں کو کیا جانتے؟
وہ مسلمان جو ہندو کو ہر میدان میں کار فرما دیکھ رہے تھے وہ بخوبی جان گئے کہ ہندو اپنے معاشرے میں کسی غیر ہندو معاشرے یا سوسائٹی کو ایک متحرک عنصر کی طرح موجود نہیں دیکھ سکتے۔ انہوں نے ہندوستان میں آکر یہاں کے اصلی باشندوں کو تہس نہس کردیا ،قطعاً اچھوت بلکہ چنڈال بنا کر رکھ دیا،بدھ مت اور جین مت کے پیروں کو نابود کر دیا،بدھ مت والوں نے تقریباًآٹھ سو سال بھارت کے کبھی بیشتر اور کبھی کمتر حصے پر حکومت کی مگر جب برہمنی نظام دوبارہ مسلط ہوا تو بدھ مت والوں کو ختم کر دیا گیا،وہ کروڑں تھے مگر محو محض ہو کر رہ گئے۔ وہ آج بھی چین میں ہیں،جاپان میں ہیں،ویت نام،کمبوڈیا،سری لنکا اور برما میں ہیں مگر وہاں نہیں ہیں جو ان کا اصلی وطن تھا،جہاں انہوں نے صدیوں حکومت کی تھی، جہاں کا عوامی مذہب بدھ دھرم بن گیا تھا،لیکن ہمارے علما کی اکثریت کو اس بات کا علم نہ تھا اور نہ ہی اس سے غرض۔وہ کہتے تھے پہلے انگریز کو نکالو،بعد میں ہندو سے نمٹ لیں گے لیکن ہندو شناس اہلِ نظر اور امت کے مستقبل کو ہندو ذہن کے آئینے میں دیکھ لینے والے اہلِ اخلاص نے رفتہ رفتہ یہ طے کر لیا کہ ہندو اگر دو محاذوں پر لڑ رہا ہے ،یعنی انگریزوں کے خلاف اور مسلمانوں کے خلاف تو ہمیں بھی دونوں محاذوں پر یعنی انگریزوں اور ہندوں کے خلاف لڑنا ہو گا۔ہندو بھی اتنا دشمن ہے جتنا انگریز،لہندا یہ اہتمام ابھی سے شروع ہو جانا چاہئے کہ جب انگریز جائے تو ہندو قوم مسلمانوں کو من حیث الامت مغلوب نہ کر لے۔چنانچہ علامہ اقبال اور مولانا حسرت موہانی نے بہت پہلے یہ امر واضح کر دیا ،پھر مولانا محمد علی جوہر کانگرس سے جدا ہوگئے۔شوکت علی بھی مولانا ظفر علی بھی،مولوی تمیز الدین بھی،سردار عبدالرب نشتر بھی،خان عبدالقیوم بھی،اور مولانا محمد اکرم بھی، وعلی ہذاالقیاس،قائد اعظم ؒتو پہلے ہی کانگرس کو پہچان کر الگ ہوگئے تھے۔
علمائے دین کی بھاری اکثریت اتنی سی بات کو نہ سمجھ سکی ،چلیں یونہی سہی،البتہ آج کے پاکستانی عوام یہ پوچھنے کا حق ضرور رکھتے ہیں کہ ہندو کی ہاں میں ہاں ملانے والے ، لہٰذا انگریزی جمہوریت کے متوالے علمائے دین نے جب یہ دیکھا کہ امت کی بھاری اکثریت نے تحریکِ پاکستان کو اپنا لیا ہے تو کیا اپنی جمہوریت پسندی کے اصول کی روشنی میں ان کو مسلمانانِ بر عظیم کی مرضی قبول کر لینی چاہئے تھی یا نہیں؟آج بھی ان علما کا وہی گروہ پر شکوہ اور اسی طرح دیوبند کے باہر کے دین پسند حلقوں کے وابستگان،جو ہر نظام پر خواہ وہ نظام شوری ہی کیوں نہ ہو ، مغربی جمہوریت کو ترجیح دیتے ہیں،مسلمانانِ بر عظیم کے اس واضح جمہوری فیصلے کو قبول کرنے پر کیوں تیار نہیں ! اگر علما کی سیاست ہارتی ہے تو پھر ان کو ہرانے والی جمہوریت مردود،امریکاکو ہر جمہوریت پسند ہے ماسوا ئے اس جمہوریت کے جس کے ذریعے راسخ العقیدہ مسلمانوں کے برسرِ اقتدار آنے کا خدشہ ہو یعنی اپنی اپنی اصول پسندی اور اس کے معیار ،الجزائر اورمصرمیں ہم یہ سب کچھ دیکھ چکے ہیں۔
مسلمانانِ بر صغیر نے بہ خلوص خاطر دینی جہاد کیا تھا۔مسلمانوں کے لئے ایک وطن حاصل کرنے کی خاطر اور الحمد للہ کہ مسلمان عوام کی اکثریت کثیرہ کا پاکستان پر ایمان قائم ہے۔یہ الگ بات ہے کہ سیکولر علما یعنی گاندھی اور نہرہ کے پیروکارہندو ناشناس حضرات اور ان جیسے دیگر متکبر علما نے اس تحریک کو فراڈ قرار دیا تھا اور قائد اعظمؒ کو فراڈِاعظم کا خطاب دیا تھا اور ان بزرگوں کی عالی قدر اولادبھی یہ کہتے ہوئے نہیں شرماتی کہ ہم پاکستان کے بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے،مصداق من صادر کوالدہ فما ظلم(جو اپنے باپ پر گیا اس نے کوئی زیادتی نہیں کی)۔مگر کیا وہ مسلمانانِ بر عظیم کی جدوجہد کوجمہوری نقطہ نظر سے بھی سر آنکھوں پر نہیں رکھتے؟یہ کیا ستم ظریفی ہے کہ ہندو کا جمہوری فیصلہ قبول مگر مسلمانوں کا جمہوری فیصلہ مردود!