Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

دو قومی نظریہ کہا ں ہے؟

خود کو دین کا پاسبان اور اسلام کے محافظ اور داعی جاننے والوں نے 1945ء اور 1946ء کے انتخابات میں کیا رویہ اختیار کیا تھا؟یہی ناں کہ ہمیں اس سے غرض نہیں کہ مسلم لیگ جیتے یا کوئی اور پارٹی،پاکستان معرض، وجود میں آتا ہے یا کہ نہیں،ہم کو تو خدمتِ اسلام سے غرض ہے۔ہم خدمتِ اسلام کے مؤقف پر قائم ہیں،وہ لوگ بری طرح ناکام رہے۔ آج بھی ان عالی شان حضرات اہلِ ایمان کا مؤقف یہی ہے کہ مسلم لیگ جیتے یا ہارے،ہمیں غرض نہیں کسی وطن دشمن سیاسی پارٹی کو فتح حاصل ہو،ہماری بلا سے،یہودی اور برہمن اور امریکن مقاصد کو تقویت نصیب ہو،بیشک ہوتی رہے، ہم خدمتِ اسلام کے مؤقف پر قائم ہیں۔ ہمارا مؤقف درست ہے اور وہ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے اس رویے نے پاکستان پر یہودی، قادیانی اور برہمنی گرفت مضبوط تر کر دی ہے۔
صاحبِ گنبدِ خضریٰ میں فریادی بن کر آیا ہوں
تاج وتخت ختمِ نبوت بیچ دیا دینداروں نے
یہ ہیں وہ لوگ جو یہ منحوس استفسار کرتے ہیں کہ پاکستان نہ بنتا تو کس طرح کا واضح فائدہ میسر آسکتا تھا۔دینی،اخلاقی،سیاسی اور معاشی وغیرہ وغیرہ اعتبارات سے۔ایسے لوگوں کو اب اہلِ قادیان کی جماعت بھی بطور معاون مل گئی ہے،کراچی کی ایک لسانی جماعت بھی جس کا خود ساختہ قائد بھارتی اور اسرائیلی ایجنٹ جو بھارت جا کر قائد اعظمؒ اور علامہ اقبال ؒ کو پاکستان کی دھرتی کو مطعون کرتا ہے اور ہر صاحبِ اقتدار پارٹی کے ساتھ حکومت کے مزے بھی لیتا رہاہے۔اس طرح کی دیگرافراد تاویل کا بادشاہ ہیں اور آج ایسی سب ہی افراد چھوٹے بڑے، مذکر و مونث،پاکستان کے خلاف عقلی دلیلوں کے انبار لگا رہے ہیں۔وہ بڑی جلدی میں ہیں اوراپنیبیرونی آقاں کومددکے لئے بلارہے ہیں کہ شائد ایسا موافق وقت پھر میسر نہ آئے یا شائد ایسے مہربان اور ہمنوا حکومت تا دیر نہ رہے۔
من حیث القوم ہندو نے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا،ہندو سربراہوں کے چیلوں نے بھی اس مملکِ خداداد کو تسلیم نہیں کیا۔یورپی اور مسیحی قومیں خصوصاً انگریز اس بر عظیم میں اسلام کے نام پر کسی مملکت کا ظہور قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔ ان کے پروردہ قادیانی حضرات اور روحانی صاحب بہادر ان کا تا حال یہی حال ہے ۔کیا جس طرح تحریکِ پاکستان کے دوران میں علما کبار ہندو اور انگریز کا خصوصاً مائونٹ بیٹن اور ایٹلی کی حکومت کا رویہ نہ سمجھ سکے،آج بھی اسی طرح غافل ہیں یا دانستہ سیکولر ازم کے پرستا ر ہیں،یہ منحوس سوال کہ’’اگر پاکستان نہ بنتا تو آیا ہم اس اعتبار سے اچھے رہتے ‘‘اٹھا ہی کیوں؟پاکستانی عوام اس سوال کو ان کے ایمان کے خلاف آوازہ مبارزت سمجھتے ہیں،ایسے سوال کو وہ اپنی توہین گردانتے ہیں، لہٰذا انہوں نے ایسے سیکولر عناصر کو جو محراب و منبر اور کرسی و دفاتر کی زینت ہیں،پائے استحقار سے ٹھکرا دیا ہے۔اہلِ پاکستان کی اکثریت کثیرہ کا پاکستان پر بھرپور ایمان تھا اور وہ ایمان قائم ہے اور قیامت تک یہ ایمان قائم رہے گا انشا اللہ۔علمائے سو نے اور دین کے ان علمبرداروں نے تحریکِ پاکستان کے دوران بھی مسلمانوں کا دل دکھایا تھا اور آج بھی انہوں نے وہی اذیت کاری دہرائی ہے۔ خدا توفیق کیش کفر بخشد دیں پناہاں را !
ہاں اس وقت اور اس وقت میں فرق ہے، تحریکِ پاکستان کے دوران میں امت کو ایک قد آور قائد میسر تھا،جس کی بصیرت ،اخلاص،ذہانت اور سب سے بڑھ کر امانت داری پر مسلمانانِ ہند کو بھرپور اعتماد تھا اور آج ایسا کوئی مرکزی فرد جو نظر گاہِ اعتماد بن سکے موجود نہیں۔
پروفیسر بینی پرشاد نے لکھا تھا کہ مسلمان ابھی تک اپنی انفرادی ہستی قائم رکھے ہوئے ہیں،ان سے پہلے یہاں آنے والے گروہ اور قومیں ہندو معاشرے میں مدغم ہو گئے۔ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ مسلمانوں پر عیاں ہے کہ وہ بھارت کو ترکی،ایران اور مصر کی طرح اسلامی رنگ نہیں دے سکے جس کی سب سے بڑی وجہ مغل بادشاہ جلال الدین اکبر تھا جس نے ہندو مت کو ہندوستان سے مٹنے سے بچایا وگرنہ اس وقت اورنگزیب کی حکومت ہوتی تو آج ہندوستان کا نقشہ بالکل مختلف ہوتا ۔ سرل مودک نے کہا کہ مسلمان بھی دیگر غیر ہندو اقوام کی طرح ہندوئوں کی محبت کے باعث ہندوؤں میں ضم ہو جائیں گے،یعنی نابود ہو جائیں گے۔ڈاکٹر رادھا کشنن نے کہا(وہ ڈاکٹر رادھا کشنن جو بھارت کے فیلسوف صدر تھے)کہ ہندودھرم نے بدھ مت کو بھائیوں کی طرح بغل گیر ہو کر ختم کر دیا،سوامی دھرم تیرتھ جی مہاراج نے بھی یہ تسلیم کیا: ڈاکٹر رادھا کشنن کچھ بھی ارشاد فرمائیں،حقیقت یہ ہے کہ برہمنی ہندوؤں نے بدھوں کو قتل کیا،ان کے گھر گرائے،ان کے جانور ہلاک کئے،ان کی فصلوں کو آگ لگا دی،ان کی اکثریت کو علاقہ بدر کر دیا۔شیام پرشاد مکر جی نے قراردادِ پاکستان کے پیش اور پاس ہونے سے تقریبا ایک برس بعد دیاکھیان دیا کہ،،تقسیم کے آوازے ادھر ادھر سے سن رہا ہوں،اگر پاکستان بن گیا تو ہم اسے باقی نہیں رہنے دیں گے‘‘۔
سوامی دیانند جی نے فرمایا کہ بھارت وید دھرم کا وطن ہے اور بھارت کو واپس ویدوں کی طرف جانا ہے اور یہاں بسنے والوں کو ویدی دھرم کے رنگ میں خود کو رنگنا ہو گا۔آر ایس ایس کے بل راج مدھوک نے اظہارِ افسوس کیا کہ ہندو قوم نے ایک ہزار سال پہلے محمدﷺکا بت بنا کر مسجد مندر منڈی بازار وغیرہ میں کیوں نہ سجا دیا۔ مسلمان اپنے پیغمبر کو پوجنے آتے تو ان کے دلوں سے ہمارے بتوں کی نفرت بھی نکل جاتی اور رفتہ رفتہ وہ ہمیں میں گم ہو جاتے جس طرح بدھ مت والے ہو گئے۔ہم نے بدھ مت جی کو اوتار مان لیا اور ان کا بت اپنے بتوں میں شامل کر لیا ۔ہمارے سینکڑوں ہزاروں بتوں میں ایک بت کا اضافہ ہو گیا مگر بدھ کہیں کے نہ رہے(حالانکہ بدھوں کو جبرا ًقہراً ختم کیا گیا تھا جیسا سابقہ سطور میں سوامی دھرم تیرتھ جی کی زبانی بیان ہوا)۔ گاندھی جی فرمایا کہ مجھے اردو زبان کے حروف قرآن کے حروف سے مشترک نظر آتے ہیں، لہٰذا ہندوستانی زبان اختیار کی جائے اور وہ بھی دیوناگری اکھروں میں۔ پنڈت جواہر لال نہرو بڑے روشن خیال انٹیلکچو ئل ہونے کے مدعی تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ ’’ہندوستان میں ایک ہی قوم ہے اور وہ ہے ہندوستانی ،دو قومی نظریہ مٹھی بھر افراد کا پیدا کردہ شاخسانہ ہے ، میں نے غور سے دیکھا ہے ،میں نے خوردبین لگا کر غور سے دیکھا ہے مگر دوسری قوم مجھے تو نظر نہیں آئی‘‘۔
دو قومی مسئلہ کہاں ہے یعنی مسلمانوں کے جداگانہ و جود سے یکسر انکار!1937ء میں جب کانگریسی وزارتوں کا قیام عمل میں آیا تو چھ صوبوں میں ودیا مندر اسکیم نافذ کر دی گئی۔وہ تعلیمی منصوبہ تھا کہ غیر بھارتی عناصر کو بھارتی زندگی میں سے نکال باہر کیا جائے،بھارتی ہیرو اور وہ بھی ہندو سامنے لائے جائیں۔ہندی زبان نافذ کی جائے، گیت بندے ماترم مدرسوں میں گایا جائے،اس بندے ماترم کو قائد اعظمؒ نے مشرکانہ گیت قرار دیا تھا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں