(گزشتہ سے پیوستہ)
اکبر اور جہانگیر کے دور میں جب حکمرانوں نے دربارمیں غیر اسلامی رسم و رواج کو جگہ دی اور ملک میں بعض غیر اسلامی احکام نافذ کئے تو شیخ احمد سرہندی المعروف بہ مجدد الف ثانی کے سامنے سینہ سپر ہو گئے اور انہوں نے دو قومی نظریہ کے تحفظ کی خاطرقید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔دو قومی نظریہ کو عام کرنے میں حضرت شاہ ولی اللہ کا اہم کردار ہے جنہوں نے احمد شاہ ابدالی کو بھارت کے مسلمانوں کے تحفظ اور مرہٹوں کا سر کچلنے کے لئے بھارت پر حملے کی دعوت دیتے ہوئے تحریر فرمایا ’’اگر کفر کو غلبہ حاصل ہو گیا تو مسلمان اسلام کو فراموش کر دیں گے اور پھر جلد ہی ایسا وقت آئے گا کہ مسلم اور غیر مسلم میں کوئی امتیاز نہ کر سکے گا‘‘۔
78سالوں کے بعدآج پھرتحریک پاکستان سے بالکل نابلداوراپنے غیرملکی آقاؤں کی آشیربادسے قائداعظم محمدعلی جناح ؒپرایک بے سروپاالزام لگاتے ہیں کہ وہ پاکستان کوایک سیکولر ریاست بناناچاہتے تھے جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ قائد اعظم نے 1941ء میں حیدر آباد(دکن)میں عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبا کو ایک انٹرویو میں واضع الفاظ فرمایا کہ’’اسلامی حکومت کے تصورکا یہ امتیاز ہمیشہ پیش نظر رہنا چاہئے کہ اس میں اطاعت اور وفا کیشی کا مرجع خدا کی ذات ہے۔ جس کی تعمیل کا واحد ذریعہ قرآنِ مجید کے احکام و اصول ہیں۔ اسلام میں اصلا نہ کسی بادشاہ کی اطاعت ہے نہ کسی پارلیمان کی،نہ کسی اور شخص یا ادارہ کی۔ قرآنِ کریم کے احکام ہی سیاست یا معاشرت کی ہماری آزادی اور پابندی کے حدود متعین کرتے ہیں۔ اسلامی حکومت دوسرے الفاظ میں قرآنی اصول اور احکام کی حکمرانی ہے اور حکمرانی کے لیے آپ کو علاقہ اور مملکت کی ضرورت ہے‘‘۔ بحوالہ: اورینٹ پریس روزنامہ انقلاب لاہور ،8 جنوری 1942ء بانی پاکستان قائد اعظم نے اپریل 1934 میں صوبہ سرحد کی مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کو ایک پیغام میں الفاظ فرمایا کہ’’تم نے مجھ سے کہا ہے میں تمہیں کوئی پیغام دوں۔ میں تمہیں کیا پیغام دوں کہ جب کہ ہمارے پاس پہلے ہی سے ایک عظیم پیغام موجود ہے جو ہماری راہنمائی اور بصیرت افروزی کے لیے کافی ہے۔ وہ پیغام ہے خدا کی عظیم کتاب قرآنِ کریم ’’بحوالہ: تقاریر جناح ، جلد اول، صفحہ615بانی پاکستان قائداعظم ؒنے دسمبر1943 ء میں کراچی میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کے اختتامی خطاب میں خود اپنے ہی سوال کے جواب میں فرمایا کہ’’وہ کون سا رشتہ ہے۔ جس سے منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں؟ وہ کون سی چٹان ہے۔ جس پر ان کی ملت کی عمارت استوار ہے؟ وہ کون سا لنگر ہے۔ جس سے اس امت کی کشتی مخفوظ کر دی گئی ہے؟وہ بندھن، وہ رشتہ ، وہ چٹان، وہ لنگر، خدا کی عظیم کتاب، قرآنِ مجید ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جائیں گے ہم میں زیادہ سے زیادہ وحدت پیدا ہوتی جائے گی،یک خدا، ایک کتاب،ایک رسول فلہذا ایک قوم’’۔ بحوالہ: تقاریر جناح۔ جلد دوم، صفحہ50 برصغیر جنوبی ایشیا میں دو قومی نظریہ ہی پاکستان کا اہم محرک ہے۔جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن حاصل کرنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ ایک ایسا خطہ حاصل کیا جائے جہاں اسلام کے زریں اصولوں کے مطابق نظامِ حکومت قائم کی جا سکے۔اس سلسلے میں قائد اعظم محمد علی جناح کا یہ قول سنہری الفاظ میں لکھنے کے قابل ہے:ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا تھا بلکہ ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو اپنا سکیں۔جنوبی ایشیا میں سندھ اسمبلی وہ نمائندہ ایوان تھا جس نے1938ء میں مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن کی قرارداد پیش کی اور1940ء میں مسلم لیگ نے قراردادِلاہور کے ذریعے قیامِ پاکستان کو اپنی منزل ٹھہرایا۔ قارئین!بھارتی ہندوجاتی اور اس کی قیادت پاکستان اور اہلِ اسلام کا وجود اس برعظیم سے مٹانے کے درپے تھی اور 78سال گزرنے کے بعد اب بھی درپے ہے۔بھارت میں اسکولوں اور مدرسوں میں وہ نصاب پڑھایا جا رہا ہے کہ مسلمان بچہ اپنی قوم کے ماضی سے یا بے خبر رہے یا ان سے نفرت کرے اور ہندو اکابر کا معتقد ہو تا چلا جائے ۔چند روز ہوئے ٹی وی لگایا تو ہندوستان کے ایک چینل پر ایک لڑکا بات کررہا تھا ، میرے پتاکا نام گپتا جی ہے اور میری ماتا کا نام نسیمہ بیگم ہے،میں ہندو ہوں اور میری بہن مسلمان ہے ،ہم چاروں بڑے امن اور چین سے اپنے گھر میں رہ رہے ہیں۔قرآنِ کریم میں قومِ یہود سے اللہ نے ایک سے زیادہ بار کہا ہے کہ وہ دن یاد کرو جب تم فرعون کی رسواکن غلامی میں مبتلا تھے۔فرعون تمہارے مردوں کو قتل کرا دیتا تھا اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتا تھا ۔ ظاہر ہے کہ اگر مرد واقعی قتل ہو جاتے تو اولاد کیسے پیدا ہوتی، عورتیں کیسے وجود میں آتیں۔یہاں مار دینا مجازا ًکہا ہے ،مراد ہے کہ یہودی مردوں کو پامال اور مسکین و عاجز بناکر رکھا جاتا تھا اور یہودی عورتوں کو اچھی تعلیم و تربیت دی جاتی تھی تاکہ وہ قومِ فرعون کی عیاشی کا سامان بنیں۔یہی حال اب ہندوستان میں ہو رہا ہے۔مسلمان بچیوں کو تعلیمی وظائف سے، مسلم نوازی کے طور پر تعلیم و تربیت دی جاتی ہے، جب وہ گریجو ایٹ یا پوسٹ گریجوایٹ ہو جاتی ہیں، طبی تعلیم یا کوئی اور ایسی فنی تعلیم مکمل کر لیتی ہیں تو شادی کا مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے۔جس ماحول میں تعلیم عمل میں آتی ہے وہ سیکولر ہے اور گھر اور رشتہ داروں میں موافق بر نہیں ملتا۔چچیرا بھائی رکشہ چلا رہا ہے،ماموں کا بیٹا سائیکل کو پنکچر لگا رہا ہے،خالہ زاد مستری ہے،اور دور کابھی کوئی پڑھا لکھا رشتہ میسرنہیں لہٰذا بڑے آرام سے مسلمان بچی غیر مسلموں میں بیاہ دی جاتی ہے اور مشہور کر دیا جاتا ہے کہ داماد نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ ہمارے ناشکرگزار مسلمان ،وہ جن کی اکثریت علما اور صاحب بہادر وں پر مشتمل ہے اب اس گروہ میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کو خدا نے قائد اعظمؒ کی جوتیوں کے طفیل کروڑ پتی بنا دیا ہے اور منصب عزت سے نوازا ہے۔کیا یہ لوگ اللہ تعالی کے یہودیوں سے اس خطاب کا معنی بالکل نہیں سمجھتے؟
کچھ عرصہ ہوا رام پور یوپی (بھارت)سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے جو پاکستان کے ایک اہم ادارے میں انگریزی ادبیات کے استاد تھے اور آج کل انگریزی اخبارات میں لکھتے لکھاتے ہیں،مجھ سے رازدارانہ سوز و ساز کے ساتھ کہا’’ملک صاحب!ذرا ہم ٹھنڈے دل سے سوچیں تو سہی 1935ء کے ایکٹ نے صوبائی اختیارات کتنے وسیع کر دیئے تھے کہ گویا پورا پنجاب اور بنگال باقی دو تین چھوٹے یونٹوں سمیت اپنا تھا۔آزادی کے بعد صوبائی حقوق میں اور بھی اضافہ ہو جاتا تو پھر ہم نے علیحدگی کا دردِ سر کیوں مول لیا؟ایسی ہی فلاسفی کواب عام کیا جارہا ہے۔ میں نے عرض کیا،آخر پاکستان میں رہتے ہوئے آپ پاکستان کی بہتری کے بارے میں کوئی تجویز پیش کرنے یا سوچنے کی بجائے الٹا پاکستان کو ختم کر دینے کے ضمن میں کیوں ذہن کو تیار کرتے رہتے ہیں؟ اور قراردادِ لاہور کو منسوخ کرنے کے درپے کیوں رہتے ہیں؟ میں نے وضاحتا کہا کہ مسلم لیگ نے 1921ء میں اور پھر چودہ نکات میں شامل چھٹے نکتے کی رو سے انگریز حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ مسلم اکثریتی صوبوں کی حد بندی کو ہرگز یوں نہ چھیڑا جائے کہ وہاں کے مسلمانوں کی اکثریتی حیثیت متاثر ہو،لیکن متحدہ ہندوستان میں چھٹا نکتہ کیوں ملحوظ رہتا!میں نے مزید عرض کیا کہ اگر آپ جیسا متعقل مجھ جیسے متعصب پاکستانی مسلمان سے بھی یہ رازونیاز کرنے کی جرآت کر سکتا ہے تو نجانے دیگر کس کس سے آپ نے یہ قول لقمانی عرض نہیں فرمایا ہو گا ۔ ’’فِی قلوبِہِم مرض فزادہم اللہ مرضا۔قائدِ اعظم کو فاجر قائد کہنے والے سوچیں تو ذرا کہ امتِ مسلمہ کے باب میں اتنا بیدار ذہن خدائے رحمان و رحیم فاجروں کا عطا کرتا ہے؟ اب یہ ہمارا دینی اور اخلاقی فریضہ ہے کہ بیرونی یلغار اور اندرونی خلفشار کو ختم کرکے اس ریاست کو ایک عظیم مملکت بنائیں، ہمیں اس کی آبیاری کے لئے عزمِ نو کرنا ہو گااور اس کی حقیقی خود مختاری کے لئے نئے سرے سے اپنی صفوں کو استوار کرتے ہوئے دشمن کے ایجنٹوں کو پہچان کران سے گلو خلاصی کرانا ہوگی۔اب بھی وقت ہے،دوست دشمن کی تمیز میں فرق کرنا ہو گا۔