Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

قوم ہر سال 14اگست کوپاکستان کایومِ آزادی بڑے جوش و جذبے اور عقیدت و احترام سے مناتی ہے۔میڈیا میں اس دن کے حوالے سے بہت سیر حاصل معلومات پڑھنے اور سننے کو ملتی ہیں اور اسی حوالے سے اسلامیانِ برصغیر کے متفقہ،جرات مند اور بے داغ کردارکے مالک قائد اعظمؒ نے قیامِ پاکستان کی صورت میں جو عظیم اور تاریخی کارنامہ انجام دیا،اس پر خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے تقریبات کا اہتمام کیا جاتاہے۔بی بی سی کے زیرِ اہتمام ایک عالمی سروے میں قائد اعظمؒ کو جنوبی ایشیاء کا عظیم ترین رہنما تسلیم کیا گیا ہے۔ان کی عظمت کے کئی پہلو ہیں ،جن کا اعتراف دنیا کے تمام انصاف پسند حلقوں نے کیا ہے حتی کہ منصف مزاج ہندو مصنفین اور دانشوروں نے بھی ان کی جرات و استقامت ،بالغ نظری ،دور اندیشی ،جمہوریت وقانون پسندی اور دیانت وامانت کو خراجِ تحسین پیش کیا اور بعض ہندورہنمائوں نے یہ تک کہا کہ کانگرس میں ایک قائد اعظم ہوتا تو برصغیر کی تقسیم نہ ہوتی ۔
قائد اعظمؒ نے علیحدہ وطن کا مطالبہ اس وقت کیا جب سفیر اتحاد کی حیثیت سے برصغیر کی دونوں قوموں کو اکٹھا رکھنے اور ہندو اکثریت کو مسلم اقلیت کے سیاسی و اقتصادی حقوق جمہوری اصولوں کے مطابق تسلیم کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئیں اور انتہا پسند ،تنگ نظراور مسلم دشمن کانگریسی قیادت نے ثابت کردیا کہ وہ متحدہ ہندوستان میں ماضی کی حکمران مسلمان قوم کاوجود برداشت کرنے اور آزادی کے بعد اسے عزت و احترام کے ساتھ اپنے ساتھ رکھنےپر آمادہ نہیں۔قائداعظمؒ نے ایک گولی چلائے بغیر اپنی باعزم قیادت اور اسلامیانِ برصغیر کی جمہوری جدوجہد کے ذریعے آزادخود مختارریاست حاصل کی جس کے بارے میں وہ باربار یقین دلاچکےتھےکہ نئی ریاست اسلام کا قلعہ ہوگی اور اس کے سنہری اصولوں کا احیا کرے گی،جمہوری پارلیمانی نظام کے تحت کام کرے گی اور جدید تقاضوں کے مطابق صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست ہوگی۔
اقبالؒ نے دوقومی نظریہ کے تحت ایک آزاد مسلم ریاست کو جو تصور پیش کیا اور جسے قائد اعظم نے حاصل کرنے کے لئے مردانہ وار جدوجہد کی،اس کے بارے میں بانی پاکستان نے بار بار واضح کیا کہ وہ مسلمانوں کے معاش اور روزگار کا مسئلہ حل کرے گی۔ایک موقع پر انہوں نےکھل کر یہ کہا کہ مجھے ایسے پاکستان میں کوئی دلچسپی نہیں جو جاگیرداروں ،وڈیروں اور سرمایہ داروں کےحقوق کا محافظ ہو۔قائد اعظم نے اپنی زندگی میں پاکستان کےلئے اسلامی جمہوری پارلیمانی نظام پسند کیا،آئین کے بارے میں واضح طور پر کہا کہ اسلام کے جمہوری اصولوں کے مطابق مدون ہوگا۔نئی ریاست میں اقلیتوں کو مکمل حقوق حاصل ہونگے جو اسلام نے انہیں عطا کئے ہیں اور فوج کا کردار منتخب جمہوری حکومت کے ایک ماتحت ادارے کا ہوگا۔
یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ قائد کی زندگی ہی میں فوج کے انگریز کمانڈرانچیف نے حکم عدولی کی اور قائداعظم کے احکامات کے تحت پاکستان کی شہہ رگ کشمیر میں فوجی دستے بھیجنے سے انکار کیا جب کہ بھارت کے فوجی کمانڈر انچیف نے جواہرلال نہروکے احکام کی مکمل اطاعت کی اور سرینگر ائیر پورٹ پر قبضہ کرکے مجاہدین کے بڑھتے ہوئے قدم روک دیئے۔
قائداعظم ؒکی وفات کے صرف دس سال بعد جنرل ایوب خان نے جمہوری نظام کی بساط لپیٹ کر ملک میں فوج کی حکمرانی کا اصول متعارف کرایاجو کسی نہ کسی شکل میں مروج ہے اورآج زرداری صاحب بھی جمہوریت کی آڑ میں سترھویں ترمیم کے تحت فوجی ڈکٹیٹر کے تمام اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ملک پر حکمرانی کر رہے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ موجودہ صدر نے فوجی یونیفارم نہیں پہنا ہوا بلکہ جمہوریت کا لبادہ اوڑھے ڈکٹیٹر کے سارے اختیارات کے ساتھ قوم پر حکمرانی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے یہ ملک اقبال اور قائد اعظمؒ کی تعلیمات کے مطابق نہ توجدیدجمہوری پارلیمانی ریاست بن سکااور نہ اسلامی فلاحی معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکی ہے البتہ فوجی حکمرانی اور ہمارے سیاسی لیڈروں کی غلط حکمت عملی کے نتیجے میں پاکستان کا اکثریتی حصہ جدا ہوگیااور باقی ماندہ ملک میں لسانی،نسلی فرقہ واریت ،صوبائی تعصبات اوراس خطے میں امریکی مداخلت نے ملک کو ایسے خطرات سے دوچار کر رکھا ہے کہ ملک کی سلامتی کی ہر وقت فکر رہتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان نسل کو تاریخ کے حوالے سے بتایا جائے کہ کن مشکل حالات میں پاکستان کو حاصل کیا گیااس کا اندازہ ہمیں قائد اعظمؒ کے اس خط سے ہوتا ہے جو انہوں نے 25ستمبر 1944ء کو یعنی ملاقاتوں کے آخری دنوں میں گاندھی جی کو لکھا۔قائداعظمؒ لکھتے ہیں کہ آپ پہلے ہی قرارداد لاہور کے بنیادی اصولوں کو مسترد کر چکے ہیں، آپ یہ تسلیم نہیں کرتے کہ مسلمان ایک قوم ہیں ،آپ یہ تسلیم نہیں کرتے کہ مسلمانوں کو حقِ خود اختیاری ہے اور وہی اسے استعمال کر سکتے ہیں،آپ یہ نہیں مانتے کہ پاکستان دو خطوں اور چھ صوبوں پر مشتمل ہے ۔۔۔آپ سے خط و کتابت اور بحث کے بعد میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ انڈیا کی پاکستان اور ہندوستان میں تقسیم کی آوازصرف آپ کے لبوں پر ہے ،یہ آپ کے دل کی آواز نہیں۔
گاندھی کے اس رویے سے ناکامی اس بات چیت کا مقدر بن گئی۔
29ستمبر1944ء کوویول نے اپنی ڈائری میں لکھاکہ مجھے (اس گفت و شنید سے)بہتر نتیجے کی توقع تھی۔اس سے ایک لیڈرکے طور پرگاندھی کی شہرت کو شدید دھچکا لگا ہے۔جناح کا کام بہت آسان تھا،انہیں گاندھی جی سے صرف یہ کہتے رہنا تھاکہ تم بکواس کر رہے ہو اور یہ بات ٹھیک بھی تھی لیکن انہوں نے یہ بات گستاخانہ انداز میں کی۔میرے خیال میں اس سے اپنے پیروکاروں میں جناح کی عزت تو شائد بڑھ گئی ہولیکن اس معقول آدمیوں کے درمیان ان کی شہرت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔۔۔‘‘ویول اور دیگرانگریز حکمرانوں کی نظر میں معقول آدمی وہ ہے جو ان ہی کے دماغ سے سوچے اور اس پر عمل کرے۔ان کی معقولیت کی ڈکشنری میں آزادانہ فکروعمل کی کوئی گنجائش نہیں!
مذاکرات کی ناکامی کے بعد قائد اعظم ؒنے 14اکتوبر1944ء کو ایک پریس کانفرنس میں اپنے نقطہ نظرکی وضاحت کی۔ایک اخباری نمائندہ نے ان سے پوچھاکہ کیا مستقبل قریب میں گاندھی جی سے آپ کی ملاقات کا کوئی امکان ہے؟قائد اعظمؒ نے مزاحاًکہا کہ مسٹر گاندھی جی کہتے ہیں کہ اس کا انحصار ان کے دل کی آواز پرہے ،چونکہ میری وہاں تک رسائی نہیں ،اس لئے میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ گاندھی جی کی نیت معاملات کو طے کرنے کی تھی ہی نہیں۔قائد اعظمؒ سے گفت و شنید کے دوران ہی انہوں نے راج گوپال اچاریہ سےکہا تھا کہ اس بات چیت سے میرا اصل مقصد جناح کے منہ سے یہ کہلوانا ہےکہ پاکستان کا تصورہی غلط اورلغو ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ گاندھی جی کو قائداعظم کی صلاحیتوں کا صحیح اندازہ نہیں تھا اس لئے ان کی تمام تدابیر غیر مؤثر رہیں۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں