(گزشتہ سے پیوستہ)
1945ء میں قائد اعظم ؒ کو نظر آرہا تھا کہ اب برطانوی حکومت کو ہندوستان میں الیکشن کرانے ہی پڑیں گے چنانچہ انہوں نے اپنی مہم کا آغاز کرتے ہوئے 16اگست1945 ء کو بمبئی سے یک بیان میں کہا کہ مسٹر گاندھی جی جب مناسب سمجھیںوہ کسی کے بھی نمائندے نہیں ہوتے ،وہ ذاتی حیثیت میں بات کرتے ہیں،وہ کانگرس کے چارآنے کے بھی رکن نہیں۔ وہ اپنے آپ کو صفر کر لیتے ہیں اور اپنی اندرونی آواز سے مشورہ کرتے ہیں،تاہم جب ضرورت پڑے تو وہ کانگرس کے سپریم آمر بن جاتے ہیںاور اپنے آپ کو سارے ہندوستان کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔مسٹر گاندھی ایک معمہ ہیں۔۔۔مسلمانوں اور مسلم لیگ کے خلاف کانگرس میں اتنا زہر اور تلخی ہے کہ انہیں نیچا دکھانے کے لئے وہ ہر سطح سے نیچے گر سکتی ہے اور تمام اصولوںکو ترک کر سکتی ہے۔
10اکتوبر1945ء کو کوئٹہ مسلم لیگ کے زیرِ اہتمام ایک جلسہ عام میں انہوں نے گاندھی جی کی سیاست کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہاکہ:لیڈری حاصل کرنا ،پولیس لاٹھی چارج کے موقع پر بکری کی طرح بیٹھ جانا،پھر جیل چلے جانا،پھر وزن کم ہونے کی شکائت کرنااور پھر اس طرح رہائی حاصل کرلینا،میں اس قسم کی جدوجہد پر یقین نہیں رکھتالیکن جب آزمائش کا وقت آئے تو سب سے پہلے میں اپنے سینے پر گولی کھاؤں گا‘‘۔21نومبر1945ء کو پشاور میں تقریر کرتے ہوئے کہاکہ کانگرس کو پاکستان کا مطالبہ تسلیم کرنا ہوگایا مسلمانوں کو کچلنا ہوگالیکن اب کوئی طاقت دس کروڑ مسلمانوں کو کچل نہیں سکتی۔24نومبر کو انہوں نے اسی شہر میں کہا کہ’’جب تک میں زندہ ہوںمسلمانوں کے خون کا ایک قطرہ بھی بے فائدہ نہیں بہنے دوں گا،میں مسلمانوں کو کبھی بھی ہندوؤں کا غلام نہیں بننے دوں گا۔۔انگریز اور ہندو دونوں مسلمانوں کے دوست نہیں ہیں۔ ہمارے ذہنوں میں یہ بالکل واضح ہے کہ ہمیں ان دونوں سے لڑنا ہے۔۔۔۔ہم ان کی متحدہ طاقت سے لڑیں گے اور انشا اللہ کامیاب ہوں گے۔‘‘
3دسمبر1945ء کو گاندھی جی کی بنگال کے گورنر،،کیسی(Casey)سے ملاقات ہوئی تو گاندھی جی نے ان سے کہا کہ’’جناح ایک جاہ پسند آدمی ہیں اور ان کی سوچ یہ ہے کہ وہ ہندوستان،مشرقِ وسطیٰ اور دیگر ممالک کے مسلمانوں کے درمیان رابطہ قائم کریں،میں نہیں سمجھتاکہ جناح اپنے ان خوابوں سے باہرآسکتے ہیں‘‘۔دراصل گاندھی جی الیکشن کے نتائج اور اس کے متوقع اثرات کااندازہ ہورہا تھااس لئے قیامِ پاکستان سے پہلے ہی انہیںاسلامی یکجہتی کی فکر پریشان کر رہی تھی ،واضح رہے کہ یہ وہی گاندھی جی ہیں جومسلمانوں میں بھی اپنی لیڈرشپ قائم کرنے کے لئے تحریکِ خلافت کی قیادت سنبھالے ہوئے تھے،اب وہ بنگال کے پاکستان مخالف گورنر کے ذہن کومزید زہر آلودکرنے کے لئے اپنے ترکش کے سارے تیر استعمال کررہے تھے۔
23مارچ 1946ء کو کیبنٹ مشن ہندوستان آیا۔3اپریل1946ء کو گاندھی جی کی مشن سے گفتگو ہوئی،انہوں نے صرف ایک دھوتی باندھی ہوئی تھی اور بہت صحت مند دکھائی دے رہے تھے۔گاندھی جی نے مشن سے کہا کہ جناح کو ملک کی پہلی(عبوری)حکومت بنانے دیں،وزارا ملک کے منتخب نمائندوں میں سے ہوں،جناح جس کو چاہیں لیں لیکن وزارا کو اپنی اپنی اسمبلی سے اعتمادکا ووٹ لینا پڑے گا۔اگر جناح حکومت بنانے سے انکار کر دیںتو پھر کانگرس کویہی پیشکش کی جائے۔آپ نے گاندھی جی کا انداز دیکھا کہ وزیر اعظم جناح صرف ان لوگوں کو چن سکیں گے جن پر ان کی اسمبلیاں اعتماد کا اظہار کریں۔اپنی آبادی کی وجہ سے مسلم اقلیتی صوبوںکی اسمبلیوں میں ہندوؤں کی بڑی بھاری اکثریت تھی،ادھر عوام میں انتہائی مقبولیت کے باوجود،مسلم اکثریتی صوبوںکی اسمبلیوں میں مسلمانوں کو آبادی کے لحاظ سے نشستیںنہ ملنے پر مسلم لیگ کو قطعی اکثریت حاصل نہ تھی اس لئے مجبورا ًاسے تقریباسارے کے سارے کانگریسی ہندو یاغیر لیگی مسلمان وزیررکھنے پڑتے۔ایسی پیشکش کو قائداعظم کیوں قبول کرتے اور اس کے بعد حکومت خود بخود کانگرس کے پاس چلی جاتی۔یہ تھی گاندھی جی کی پیشکش قائد اعظمؒ کے لئے!
بر وایں دام بر مرغ دگرنہ
کہ عنقارابلند است آشیانہ
پیتھک لارنس نے گاندھی جی سے کہا کہ اس طرح تو جناح کے زیادہ تر وزارا غیر لیگی ہی ہونگے،گاندھی جی نے کہا کہ اس سے تو گریز نہیں،ایسی بات کو کون آگے بڑھاتا۔لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے متحدہ ہندوستان کے آخری وائسرائے کے طورپر24مارچ کو حلف اٹھایااور فورا ًبعد سیاسی لیڈروں سے ملاقاتیں شروع کر دیں۔گاندھی جی نے 31مارچ سے 14پریل 1947 ء تک ہر روز لارد ماؤنٹ بیٹن سے ملاقات کی ۔یکم اپریل کی ملاقات میں گاندھی جی نے تجویز کیاکہ مسٹر جناح کو متحدہ ہندوستان کا وزیراعظم بنا دیا جائے۔ ۔ اور جب تک وہ ہندوستانی عوام کے مفاد میں کام کرتے رہیں گے،کانگرس ان کے سا تھ پورے خلوص کے ساتھ تعاو ن کرے گی۔۔اس بات کا فیصلہ کہ وہ عوام کے مفاد میں کام کر رہے ہیں یانہیں،صرف اور صرف لارڈ ماؤنٹ بیٹن ہی کریں گے،اگر جناح یہ تجویز نہ مانیں تو پھر کانگرس کو یہی پیشکش کی جائے۔ماؤنٹ بیٹن تسلیم کرتے ہیں کہ میں گاندھی کی یہ تجویز سن کر ہکا بکا رہ گیا۔انہوں نے گاندھی جی سے پوچھا کہ اس تجویز کے بارے میں مسٹرجناح کاکیا تاثر ہوگا؟گاندھی جی نے جواب دیا :اگر آپ انہیں یہ کہیں گے کہ یہ تجویز گاندھی کی طرف سے آئی ہے تو جناح کہیں گے’’مکارگاندھی‘‘۔ماؤنٹ بیٹن نے مزے لے لے کر پوچھا’’غالبا یہ بات درست ہوگی‘‘۔اس پر گاندھی جی بڑے جوش سے کہا’’ نہیں نہیں میں یہ تجویزپورے خلوص سے پیش کررہا ہوں‘‘۔
قائداعظم ؒسے بات کرنے سے پہلے ماؤنٹ بیٹن نے اسی دن یہ بات نہرو کو بتائی تو یہ سن کران کے مہاتما (گاندھی)ان کی جگہ قائدِ اعظم کو وزیراعظم بنانے کی پیشکش کررہے ہیں، نہرو کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔نہرو نے ماؤنٹ بیٹن سے کہا کہ: گزشتہ برس گاندھی جی کیبنٹ مشن کے سامنے بھی ایسی ہی تجویز پیش کی تھی لیکن یہ مسئلے کا ایک غیر حقیقی حل ہے۔ گاندھی جی کو دہلی میں چند دن اور رہنا چاہئے کیونکہ چار مہینے تک مرکز سے دور رہنے کی وجہ سے وہ تیزی سے معاملات سے بے خبرہوتے جا رہے ہیں۔نہرو کی رائے سننے کے بعد ماؤنٹ بیٹن نے قائد اعظمؒ سے بات کرنا مناسب نہ سمجھااور اگر ماؤنٹ بیٹن قائد اعظم سے یہ بات کر بھی لیتے کیا ہوتا؟کیونکہ ماؤنٹ بیٹھ بخوبی جانتاتھاکہ وہ اپنی ذات کے لئے قوم کو دا ؤپر لگادینے والے ہر گز نہیں تھے،اس قسم کی پیشکش کووہ بغیر کسی تامل کے ٹھکرا دیتے۔
ان چند واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ گاندھی جی کی نیت اور طریقِ کارکو قائداعظم خوب سمجھتے تھے اور اللہ تعالی کے فضل وکرم سے ان کا ہر لحاظ سے مناسب جواب دیا!
رہے نام میرے رب کا جس نے پاکستان کو ایک خاص مبارک رات کو ایک بہت بڑے مقصد کے لئے بنایا !
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے