Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

پاکستان کی فریاد

کل میرے پاکستان کی78ویں سالگرہ ہے،مجھے اس کی دوستی پرفخرہے۔جب میں اس کے ہمراہ ہوتاہوں تومجھے ایک گونہ اطمینان ہوتا ہے۔ پاکستان کی ایک بد قسمتی یہ بھی رہی ہے کہ اس کوقائد اوراس کے رفقا کے بعدجوساتھی ملے، اس کے خلوص، اس کی محبت،اس کی ہمدردی، اس کی وسیع القلبی کابے جااستعمال کرتے رہے۔ پاکستان یہ سب چکرسمجھتا تھا مگراپنی طبعی شرافت کی وجہ سے اس نے یہ سارے معاملات اللہ پرچھوڑ رکھے تھے۔ جب میں اپنے گھرسے باہرنکلاتومیں نے جگہ جگہ اجتماعات دیکھے، جس میں مقررحضرات پاکستان سے اپنی دوستی اور محبت میں ایک دوسرے سے بڑھ کررطب اللسان تھے۔میں ایک جلسے سے دوسرے پھر دوسرے سے تیسرے میں پاکستان کو تلاش کرتارہا، ہرکوئی ایک دوسرے پرالزامات کے طعنوں اورتیروں کی بارش کرتانظر آیاجبکہ قوم جانتی ہے کہ ان سب کاکردارایک جیساہے،مجھے یوں واضح نظرآرہاتھاکہ پاکستان اپنی اس 78ویں سالگرہ کی تیاریوں میں نہ توشریک ہونا چاہتا ہے اورنہ ان تمام اجتماعات کرنے والوں کے ساتھ کوئی بات بھی کرنا چاہتاہے کہ اس کودشمن نے اتنے گھانہیں لگائے جس قدران کے ہاتھوں زخم کھائے ہیں۔
ان پریشان کن خیالات کولیکرمیں نے گلی گلی اس کوڈھونڈناشروع کیا،جیسے جیسے میری تلاش بڑھتی گئی،میری امیدکمزور پڑتی گئی اوروقت بھی تنگ ہوتاچلاگیا۔مجھے یہ بھی فکرلاحق تھی کہ شام کوبچوں سمیت پوتے پوتیوں نے بھی پاکستان سے مل کرمبارکباددینا تھی،اگرمجھے پاکستان نہ ملاتومیں اپنے بچوں کوکیاجواب دوں گا،ویسے بھی بچے پاکستان سے میری دوستی کو ایک خواب ہی سمجھتے تھے اورمیں نے بڑے وثوق سے ان کویقین دلایاتھاکہ میں تم کوبتاں گاکہ میں اورپاکستان کتنے اچھے دوست اورساتھی ہیں۔اچانک خیال آیاکہ پاکستان جب گھبراتاہے یاکسی بات پراس کوصدمہ ہوتاہے تووہ ایک ہی جگہ ملتاہے۔یہ خیال آتے ہی میں الٹے پاں بھاگتاہواگھرآیااوراپنے بچوں، پوتوں کوساتھ لے کر قائداعظمؒ کے مزارکی طرف روانہ ہوگیا۔ بابائے قوم کے مزار کے احاطے میں آیاتوکیادیکھتاہوں کہ پاکستان باباکی قبرسے لپٹاہچکیاں لے رہاہے۔
قدموں کی آہٹ پرپاکستان نے اپناآنسوئوں بھراچہرہ قبرسے الگ کیااوراپنی سوجھی ہوئی آنکھوں سے میری طرف لپکا۔میں نے بے اختیاری میں اپنے ہاتھ پھیلائے،بغل گیر ہوتے ہی ہم دونوں ایک دوسرے کوبتائے بغیرپھوٹ پھوٹ کررونے لگ گئے اورمیرے بچے یہ مناظردیکھ کرحیران وپریشاں تھے۔میں نے اپنی نظریں جھکاکر پوچھا کہ پاکستان تم اپنی سالگرہ کے جلسوں میں کیوں نہیں تھے؟اس نے مجھے فوراً اپنے سے الگ کرتے ہوئے ایک ہاتھ سے میراکندھاپکڑ کر زورسے جھٹکائودیاکہ تم بھی مجھے یہی کہنے کے لئے آئے ہو؟ کیاکوئی اپنی سالگرہ اس منافقت سے مناسکتاہے؟ میں نے کہاکہ میں تمہاری بات نہیں سمجھا،اس پرپاکستان نے قبرکی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھے یہ کہاکہ کیامجھے میرے باپ نے اسی لئے جنم دیا تھاکہ یہاں قتل وغارتگری ہو، عبادت گاہوں میں خون خرابہ ہو،رشوت، چوربازاری ہو،امتحانوں میں نقل اورغنڈ ہ گردی ہو، عالمی مالیاتی اداروں کے قرض میں ڈوبے ہوئے پاکستان میںصدر، وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ، ججز، اسپیکر زاوردیگر اشرافیہ اس شاہانہ پروٹوکول کے ساتھ سالانہ اربوں روپے اڑادیں اورقوم مہنگائی اور بلوں کے ہاتھوں خودکشیاں کررہی ہو۔قوم کے اربوں نہیں کھربوں روپے لوٹ کر اغیارکے بینکوں میں محفوظ کررکھے ہوں اوررہائش کے لئے اپنے محلات تعمیر کر رکھے ہوں اورجبکہ قوم کے افراد جھونپڑیوں میں سسک رہی ہو۔ایف بی آرکادارہ جس کام محصولات وصول کرکے کارِحکومت کے قوانین کی پابندی کرناہومگروہاں اربوں روپے کی رشوت کی تقسیم میں ایک دوسرے پربندوقیں تان لی جائیں اورجب سرکاری تحقیقاتی ادارہ اس کی تفتیش کے لئے تمام دستاویزات طلب کرکے تفتیش کاآغازکرناچاہے تویہی راشی حضرات لاہورہائی کورٹس سے اس تفتیش کے خلاف احکام لے آئیں۔ کیامیرے باپ نے اس کھلم کھلاکرپشن اور لاقانونیت کے لئے اپنی صحت کوبھی داؤپرلگادیا تھا اورکھلی سڑک پرایک سرکاری ایمبولنس میں اپنی لاچار زندگی کے آخری سانس لئے تھے۔کیا پاکستان اس لئے بنایاتھا کہ ہزاروں میل دورسے وہی استعمارآکرتم پرحکم چلائیں جن سے میں تمہیں باوقاراندازمیں آزاد کرواکے گیاتھا،میری تصویر کو اپنی پشت پرلٹکاکرمیرے سامنے میری غیرت کوسرِعام نیلام کیاجائے اورتم سب منہ میں گھنگھنیاں ڈال کرکسی مصلحت کی بناپراف تک نہ کرو،حتی کہ دنیا کی تمام برائیوں کواپنے ہاں رائج کرکے خودکوترقی یافتہ سمجھو؟
میں جب ایک سال اورکچھ دن کاتھاتومجھ سے میرے بابابچھڑگئے،اس یتیم کوپالنے کے لئے میرے چچاں نے بھرپورکرداراداکیا اورآہستہ آہستہ وہ لوگ بھی مجھ سے بچھڑگئے۔ایک پھوپھی تھی جومیری غمخوار اورہمدردتھی،باپ کی کمی جب مجھے محسوس ہوتی تومیں ان کی گود میں سررکھ دیتااور بے انتہاسکون پاتا۔افسوس وہ بھی مجھ سے جدا ہوگئیں،میں غیروں کے رحم وکرم پر آگیا، جو چچااور رشتہ دارکروڑپتی تھے،نواب تھے، صاحبِ حیثیت تھے،انہوں نے اپناتمام دھن مجھ پرلٹادیا اور مرتے وقت ان کی زبان سے میرے لئے دعائے خیرکے کلمات ہی نکلے کہ اے اللہ!پاکستان کی حفاظت کرنا(آمین)۔ ( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں