Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

پاکستان کی فریاد

(گزشتہ سےپیوستہ)
اب تم خودہی بتاکیاوہ لوگ عظیم تھے جنہوں نے ایک یتیم کی پرورش کے لئے اپنی جان ومال داپرلگادیئے یاوہ لوگ عظیم ہیں جومیری جائیداد،میری دولت کو لوٹتے رہے اوراپنے ناموں اوراپنی اولادوں کے نام منتقل کرتے رہے اورپھرڈھٹائی دیکھوکہ اس یتیم کو بجائے سنوارنے اور بنانے کے ایک بازوسے بھی محروم کردیااورپھربھی میری محبت کاجھوٹادم بھرتے ہیں۔اب تم خودہی بتاکیا میں ان کی محفلوں میں شریک ہوسکتاہوں؟
میں نے کہادیکھومیرے ساتھ میرے بچے اورمیرے پوتے بھی آئے ہیں اورمیں بڑے فخرسے اپنی اورتمہاری دوستی کے متعلق بتاتاہوں تویہ مانتے نہیں۔ پاکستان نے اپنے بازو میرے بچوں اورپوتوں کے سرپررکھے اورکہااے بچو! تمہارے اورتمہارے ابوجیسے لوگ مجھ سے بے غرض محبت کرتے ہیں اورانہی جیسے لوگوں کی وجہ سے میں اب تک مملکتِ خدا داد ہوں ورنہ اپنوں کی ریشہ دوانیوں کاشکارہوکرکب کاختم ہوگیاہوتا۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب تمہارا باپ میراایک بازوکٹ جانے کی خبرسن کرزمین پرگر گیاتھاتواس کے سرپرایک چوٹ آئی تھی تومیرے ہی دوسرے سلامت مگرزخمی ہاتھ نے اس کوسہارادیکرزمین سے اٹھایااوراس کے زخم پراپنی محبت کامرہم رکھااوریہ احساس اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی کے لئے زندگی جیسی قیمتی چیزبھی قربان کردی جائے۔وہ لوگ بھی مجھ سے محبت کرتے ہیں جوایمانداری، وفاداری اورخلوص کے ساتھ میری خدمت میں لگے ہوئے ہیں اور کسی قسم کا صلہ نہیں چاہتے۔
تمہیں یادہے کہ ایساہی سپوت جوسقوطِ مشرقی پاکستان جیسے صدمے کے بعدہالینڈمیں دنیاکی تمام مادی آسائشوں کوترک کرکے صرف میرے زخمی جسد پرآنے والے زخموں کے علاج کے لئے چلاآیااور بالآخراس نے نہ صرف میرے ان زخموں کوعلاج کیا بلکہ اس کوایسامضبوط اورایٹمی قوت بنادیاکہ ہرموذی دشمن کی ناپاک نگاہ سے محفوط بنادیالیکن یہاں کے ڈکٹیٹرحکمران نے اس کے ساتھ کیاسلوک کیا؟
ہم نے اس سے یہ سلوک کیاکہ اس کوعالمِ تنہائی جیسے عذاب میں مبتلاکردیاتاوقتیکہ وہ اسی فریادکناں حالت میں اللہ کے ہاں حاضر ہوگیا۔وہ مردمجاہد ڈاکٹر عبدالقدیر خان یقینااپنے رب کے ہاں بڑے اعزازکے ساتھ ہوگالیکن ہمارے ان ڈکٹیٹروں نے سیاستدانوں سے مل کرمیرے باقی ماندہ جسم کوبھی بھنبھوڑکررکھ دیاہے۔اب عالمی ادارے خاکم بدہن ایک خاص سازش کے تحت مجھے اسے ایٹمی قوت سے محروم کرنے کے درپے ہیں اوراقتدار کے بھوکے بھیڑیے ایک دوسرے پردشنام طرازی میں مصروف ہیں۔
میں نے پاکستان سے ایک مرتبہ پھردرخواست کی کہ میرے بچوں کونصیحت فرمائیں کہ اس خطرناک سیاسی ابتری اورانارکی کے ماحول میں ان کو کیا کرنا چاہئے توپاکستان نے ان کو مسرت سے دیکھتے ہوئے کہاکہ بچو !میری خدمت یامجھ سے محبت کے اوربھی بے شماراندازہیں جومیں تم کوبتانا چاہتاہوں۔لال بتی پررکنا،قانون کی پاسداری کرنا،اپنے اختیارات کاناجائزاستعمال نہیں کرنا اورمظلوموں کے حقوق دلانا،یہ بھی مجھ سے محبت کے اندازہیں۔اپنے کام کوتندہی سے کرنا،میرے باباکے فرمان ’’ایمان، اتحاد،تنظیم‘‘ کی پاسداری کرنا اورجس منصب پرفائزہو،اس کو ایمانداری سے انجام دینابھی میری محبت ہے۔ میری پوتے نے کہا کہ پاکستان!میں نے آج صبح اسکول میں آپ اورہم سب کے باباکے احسانات پرتقریرکی تھی اورمجھے یہ دیکھ کربہت افسوس ہواکہ میں جب تقریرکررہاتھاتواسٹیج پربیٹھے بزرگ بجائے میری بات سننے کے باتوں میں مشغول ہوگئے اورمیری تقریرکے بعد جب یہ اعلان ہواکہ اب ان کی خدمت میں ایک گانااوررقص پیش کیاجائے گاتووہ خوشی کے مارے اپنی اپنی کرسیوں سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے اورمسلسل تالیوں کے ساتھ وہ زمین پرپاؤں مارنے لگے بلکہ کچھ مردوخواتین تواس گیت پررقص بھی کرنے لگ گئے۔
پاکستان نے سردآہ بھری اورمیری پوتے کے سر پر اپنا کانپتا ہاتھ رکھ کر کہابیٹے!تم صحیح کہہ رہے ہو،ہمارے بڑوں نے اپنے مقصدِ حیات کارخ صحیح راہ پرنہیں ڈالاجس کے نتیجے میں ہم اپناتمدن اورثقافت،آداب واطوارفراموش کربیٹھے،پھر پاکستان نے کہابیٹا!یہ میرے باباکی عظمت ہے کہ آزادی کی جنگ میں جہاں لاکھوں افرادقربان ہوتے ہیں انہوں نے ایک گولی چلائے بغیراور ایک قطرہ خوں بہائے بغیراتنی بڑی اسلامی مملکت وجود میں لے آئے،یہ الگ بات ہے کہ فرنگی اور ہندوبنئے کی سازشوں نے میرے ہزاروں بچوں کو ہجرت کرتے ہوئے کاٹ دیالیکن اس کے باوجود وہ جب مجھ سے ملے تو ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔پھر پاکستان نے میرے بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے کہابیٹا!تم استاد ہومگر تمہارا یہ علم اورپیشہ تمہارے لئے دولت کمانے کاذریعہ نہ بنے بلکہ تمہارے ساتھیوں اوردوسرے شہریوں کے لئے باعثِ خدمت ہو،یہی تمہاری محبت کااظہارہو گا۔ پھرننھے معصوم پوتے کی طرف دیکھتے ہوئے کہاکہ یہ عمرمعصومیت کی ہے اوراس کی معصومیت کو بچانا اوراس کی حفاظت کرنایہ تم بڑوں کاکام ہے۔یہ ابن الوقت لوگ جواس وقت میرے نام کی بیساکھی لے کر سیاسی میدان میں اونچااڑناچاہتے ہیں، میرے زخموں سے چورجسدکاعلاج کرنے کی بجائے مجھے نیالباس پہناکرتمہیں دھوکہ دینے کی کوشش کریں گے،وہ زیادہ عرصے تک پنپ نہیں پائیں گے۔
بچو!میں تمہیں آج ایک رازکی بات بتاتاہوں کہ تمہارے ابواورداداکی محبت جووہ مجھ سے کرتے ہیں،ایک عجیب سی محبت ہے ۔یہ دنیامیں جہاں جہاں بھی گئے میرے نام کوبلندہی کرتے رہے! ایک بات اوربتادوں کہ آج صبح تمہارے ابونے اپنے تمام ساتھیوں کوکانفرنس روم میں جمع کیااور میرے بھائی اقبال کی لکھی ایک نظم’’لب پہ آتی ہے دعابن کے تمنا میری‘‘سب نے مل کرپڑھی، پھر ہر ایک نے باری باری میری تاریخِ آزادی اورلوگوں کی مجھ سے عقیدت اورمحبت کے اوپراپنے خیالات کااظہارکیا۔محبت کا یہ اظہارکسی کے زور، کسی زبردستی،کسی لالچ کے بغیرتھا،سب ساتھیوں کے چہروں پرجذبات کی حرارت،آنکھوں میں فرطِ محبت سے امڈے ہوئے آنسواورکپکپاتے ہوئے لب اس بات کی غمازی کررہے تھے کہ یہ اوران جیسے بے شمارلوگ اب بھی مجھ سے بے غرض محبت کرتے ہیں توبچو!تم بھی اپنے ابواوران کے ساتھیوں جیسے بنوکیونکہ تم ہی سے ان کی کل اورمیری نئی صبح وابستہ ہے۔پاکستان کی آوازگلوگیرتھی اوروہ خاموش کھڑااپنے باپ سے کہہ رہاتھا!
’’بابا!تم نے میراایک تشخص بنایا،تمہارے ساتھیوں نے اس میں رنگ بھرااورکچھ نادانوں نے اس رنگ کواپنی حماقتوں سے مٹانے کی کوشش کی۔اچانک رات کے وقت شب خون مارکرایک طالع آزماجواپنے آپ کوایک کمانڈوجنرل بھی کہتاتھا،تمہاری کرسی پرقبضہ جماکربیٹھ گیا۔مسلسل آٹھ سال سے کچھ اوپراس نے مجھ پربے پناہ مظالم ڈھائے۔میرے بچوں اوربچیوں کواس نے ایک استعماری طاقت کے ہاتھوں ڈالروں کے عوض فروخت کردیا،میری بیٹی عافیہ کواس کے معصوم بچوں سمیت ان درندوں کے حوالے کردیاجوآج بھی آسمان کی طرف منہ کرکے کسی محمدبن قاسم کوبلارہی ہے لیکن اس ظالم فاسق کمانڈونے بڑے فخر سے اپنے اس اقبالِ جرم کواپنی کتاب میں تحریرکرکے خوداپنے ان تمام گناہوں کو ریکارڈکرکے اب خوداللہ کی عدالت میں پہنچ گیا ہے، بلکہ میری غیرت وحمیت کواس نے تارتارکردیااورجاتے ہوئے اپنی کھال کوبچانے کے لئے ایک رسوائے زمانہ قانون این آر او کے تحت تمہاری کرسی اورمیری تقدیر و قسمت کوانہی کے سپردکرگیاجن پراس ملک کے لوٹنے کے بے شمارالزامات تھے اوراس کے بعد بدقسمتی کایہ سلسلہ اب تک چل رہاہے۔
متنازعہ کشمیرجس کوتم نے میری شہ رگ قرار دیاتھا اس کوبھی خاموشی سے ہندوبنئے کے سپردکردیا گیا ہے۔خودکوکشمیرکاوکیل کہنے والے نے ڈیڑھ لاکھ سے زائدکشمیریوں کی جانی قربانیوں سے غداری کرتے ہوئے تھالی میں رکھ کرکشمیرکومودی کی جھولی میں ڈال دیا۔میری ہی بہادرفوج کاسربراہ میرصادق اورمیرجعفردردرجن صحافیوں کوبلاکراپنی بزدلی اور بے بسی کارونا روتا رہا۔ ہماری عدلیہ جس کاکام ایسے تمام بہروپیوں کااحتساب کرناہوتاہے، وہ بھی اپنے فیصلوں سے میرے جسم پر چھیدکرتے رہے اوران کی کارکردگی کانام عالمی انڈیکس میں سب سے نچلی سطروں میں پہنچ گیاہے۔بابا! مگراب بھی بہت سے لوگ میری محبت میں تن من دھن کی بازی لگانے کے لئے تیارہیں اورمجھے امیدہے میرانام،میری شناخت انشااللہ ختم نہیں ہوسکتی!
پھر پاکستان نے اپنا آنسوئوں سے ترچہرہ اٹھایا ، میرا اورمیرے بچوں کاہاتھ پکڑا،ہم نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کرپاکستان پائندہ باداور قائداعظمؒ زندہ بادکے پرجوش نعرے لگائے، قومی ترانہ پڑھ کر مزارسے باہرآئے۔سب نے باری باری پاکستان کے ساتھ ہاتھ ملایا اورتجدیدِعہدکرکے ہم لوگ اپنے گھرکو واپس ہوئے (پاکستان پائندہ باد)

یہ بھی پڑھیں