Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

یومِ آزادی۔۔۔۔۔۔۔تجدیدِعہد

(گزشتہ سے پیوستہ)
کیا مسلم عوام نے جس وطن کے لئے اتنی قربانیاں دیں،وہ اس لئے کہ ان کے ملک پر امریکا اورمغرب کاتسلط قائم ہوجائے،ان کو امریکی انتظامیہ کاایک ادنی سااہلکاریہ بتائے کہ فلاں کووزیراعظم بنائو،فلاں کووزیرداخلہ،فلاں کوملکی سلامتی کامشیر،فلاں کو ہمارے ہاں سفیرمقررکرواو ر فلاں کوعدلیہ کاسربراہ بناؤ؟کیاقائداعظم محمدعلی جناح نے پاکستان کے اثا ثے ’’ریزرو بینک آف انڈیا‘سے نکال کراس لئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں رکھے تھے کہ سٹی بینک کاایک’’کنٹری مینیجر‘‘ درآمدکرکے اس کوملک کا وزیراعظم بنادیاجائے جو پاکستان کے قومی اثاثوں کواونے پونے داموں میں فروخت کرکے اپناکمیشن کھراکر کے رات کے اندھیرے میں گم ہوجائے؟ بات یہی تک موقوف نہیں بلکہ بعدازاں آئی ایم ایف کے حاضرسروس نمائندے کواسٹیٹ بینک کاگورنر بناکرملک کی ساری مالی سلامتی کی شہہ رگ ان کے حوالے کردی جائے۔
کیاقائداعظمؒ نے کشمیرمیں استصواب رائے عامہ کی حمایت اس لئے کی تھی کہ کوئی طالع آزماآکریہ کہے کہ اب رائے شما ری سے متعلق سلا متی کونسل کی تما م قراردادیں غیرضروری ہو گئی ہیں!جیساکہ میں نے شروع میں یہ عرض کیاکہ قا ئد اعظم ؒنے قبائلی بستیوں سے فوج ہٹائی لیکن کمانڈومشرف نے نہ صرف فوج کشی کردی بلکہ ایک لا کھ دس ہزارفوج پاک بھارت سرحد سے ہٹاکرقبائلی علاقوں اورافغان سرحدپرلگادی اوروہ بھی قصرسفیدکے فرعون کے حکم پر!پاکستان کو بیرونی حملے سے بچا نے کے لئے نہیں بلکہ افغانستان میں امریکی پٹھو حکومت کو افغان عوام پرمسلط کرنے کے لئے،تاکہ افغانستان پر امریکاکا قبضہ برقرار رہے۔اس وقت بھی ہم جیسے افرادچیخ چیخ کرشور مچاتے رہے کہ اب اگربھارت جوکنٹرول لائن کی باربارخلاف ورزیاں بھی کر رہاتھا،پا کستان پرحملہ کردے توکیاہوگا؟ہماری دفاعی لائن جوڈیونڈر لائن تک پھیل جائے گی تومشرقی محاذپرکون لڑے گا؟ امریکا؟ کیا جب نپولین ،ہٹلر،برژنیف دو محاذوں پرنہیں لڑسکے توپاکستان کے جنرل پاک افغان اور پاک بھارت سرحد وں کی حفاظت کرسکیں گے؟لیکن جواب میں پاکستانی میڈیاکوحکم دے دیاگیااور میری تمام تحریروں پرمکمل پابندی لگادی گئی لیکن اللہ بڑے کریم ہیں کہ پابندی لگانے والابزدل ملک سے فرارہوگیااوراس کی میت ہی واپس آسکی۔ فاعتبِروایاولِی البصارِ
شنیدیہ ہے کہ امریکابہادرکی یقین دہانی پر بھارت سے تمام متنازعہ امورپرخفیہ مفاہمت کا اشارہ دیاگیاتھاجس کے بعدہی حکومت نے ایک لاکھ دس ہزار فوج پاک بھارت سرحد سے ہٹاکر پاک افغان سرحدپر لگا دی تھی۔قا ئداعظم ؒکی وفات کے چھ سال بعدہی نوکر شاہی نے اپنی سرزمین پر امریکاکوفوجی اڈے دے دئیے جہاں سے سوویت یونین کے خلاف جاسوسی پروازیں جاری رہیں جس کے با عث روس پاکستان کواپنادشمن سمجھنے لگااورکشمیرمیں رائے شماری کی قراردادکے خلاف حق تنسیخ استعمال کرکے اسے کالعدم بنادیا۔اسی طرح مشرقی پاکستان سے فوجوں کی واپسی کی قراردادکوبھی منسوخ کرکے بھارتی فوج کومشرقی پاکستان پرقبضہ کرنے کا بھرپور موقع فراہم کردیا۔ لیکن صدمے کی بات تویہ ہے اورہماری تاریخ کے سیاہ اوراق میں یہ بھی درج ہوگیاہے کہ کس طرح قصرسفیدکے فرعون کے حکم پرتھالی میں رکھ کر کشمیرکومودی کے حوالے کردیاگیا۔اس کربناک داستان کومیں کئی مرتبہ اپنے کالمزمیں تحریربھی کرچکا ہوں ۔
قائداعظم ؒنے فرمایاتھا کہ ملک میں جمہوریت ہوگی اورہرصوبے کواندرونی خودمختاری حاصل ہو گی ،جبکہ ان کے جانشینوں نے مشرقی پا کستان کو آبادی کے تناسب سے نمائندگی دینے سے انکار کر دیا اور مغربی پا کستان کے صوبوں کاوجودختم کرکے ایک اکائی بنادیا۔ جب صوبے ہی نہ رہے توپھر صوبائی خودمختاری کیسی؟ہماری انہی آمرانہ حکومتوں کی غلطیوں سے دشمنوں نے خوب فائدہ اٹھایا اور اب تومودی خود عالمی میڈیاپربھی یہ بارہاتسلیم کر رہاہے کہ کس طرح اس نے مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کے لئے کام کیا۔ کیونکہ اندرہی اندرعلیحدگی پسندی کی آگ سلگتی رہی جس پرانڈیاتیل پھینکتا رہا جو مشرقی پاکستان میں آتش فشاں بن کرپھٹ پڑی اورصوبہ سرحد، سندھ اوربلوچستان تک پھیل گئی۔ مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش کے تکلیف دہ سفرپر کئی کتابیں لکھی جاچکی ہیں لیکن میرے رب نے ان تمام کرداروں سے جوانتقام لیا،وہ بھی باعثِ عبرت توہے لیکن ان تمام متکبرشیطانی دماغ تو5 اگست 2024ء کویقینا ششدررہ گئے جب ان کی ایجنٹ خونی حسینہ ڈائن پناہ کے لئے ان کے پاس پہنچ گئی اورچشم فلک نے اسی ڈھاکہ، چٹاگانگ، جیسورکی سڑکوں پرنوجوانوں کو’’پاکستان سے رشتہ کیا ، لاالہ الااللہ‘‘کے فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے دیکھا جبکہ ان تمام بچوں کی عمریں توبنگلہ دیش کی عمرسے کہیں کم ہیں۔
لیکن ہمارے ہاں اب بھی سیاسی ابتری،انارکی اورخلفشارپاکستان کی بنیادوں کوکھوکھلاکررہی ہے اوراستعمارکے گماشتے ماضی کی طرح اب بھی خاکم بدہن اس کے ٹوٹنے کاذکرکرتے رہتے ہیں۔اب بھی اپنے شیطانی دماغوں سے اس کے نقشے شائع کرتے رہتے ہیں۔یہ خبیث پاکستان کی نفرت میں اتنے اندھے ہوگئے کہ ابھی تک اس لنگڑے گھوڑے بھارت پرشرطیں لگارہے ہیں جہاں خود دنیاکی سب سے زیادہ علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔خودبھارتی تجزیہ نگارتسلیم کرتے ہیں کہ 14 بھارتی ریاستوں میں21 بڑی اور53چھوٹی مگرموثرآزادی کی تحریکیں اپنی آزادی کے لئے لڑرہی ہیں بالخصوص ماتحریک سے بھارتی سلامتی کو شدید خطرات کااعتراف بھی کیاجارہاہے۔ ناگالینڈ ،میزورام،منی پورہ،آسام، مغربی بنگال بہار، اترپردیش میں بھی علیحدگی پسندوں نے بھارت کوبہت خوفزدہ کررکھاہے۔اس کے ساتھ ساتھ نکسل باڑی کے ساتھ تین دیگرصوبوں میں بھی بھارتی حکومت بے بس نظر آرہی ہے۔
بھارتی تجزیہ نگاروں کے مطابق موجودہ بھارتی گورنمنٹ کی انتہاپسندانہ سوچ کی وجہ سے آئے دن ان تحریکوں میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے اورخودیہ اعتراف منظرعام پرآچکاہے کہ اس وقت بھارت کے174 ڈسٹرکٹس انتہاپسنداورعسکریت پسندوں کے کنٹرول میں ہیں۔ان ریاستوں کوعسکریت پسند اور انتہا پسندتنظمیں چلارہی ہیں۔ صوبے آسام میں اس وقت علیحدگی پسند گردوں کی 34 تنظیمیں موجود ہیں جواپنے اپنے علاقوں کاانتظام وانتصرام چلارہی ہیں۔اسی طرح ناگالینڈ کی آزادی کی جدوجہد کرنے والی تنظیموں نے نہ صرف بھارت میں جنگی تربیت کے کیمپ لگارکھے ہیں بلکہ ان کیمپوں میں یہ اپنے نوجوانوں کوروزانہ ٹریننگ بھی دیتے ہیں اورایک اطلاع کے مطابق ان کے پاس جنگی پیمانے پر ہتھیار، توپ،ٹینک اورچھوٹے میزائلوں سمیت درجنوں ہتھیار موجود ہیں۔اپنے اپنے علاقوں میں ان تمام تنظیموں کانہ صرف غلبہ ہے بلکہ ان تنظیموں کی اپنی فوج پولیس، آئین، قانون،عدالتیں، کرنسی، جھنڈے اوربڑے سرکاری دفاترمیں ان کے اپنے لیڈروں کی تصاویرآویزاں ہیں۔یہ لیڈربڑے پروٹوکول کے ساتھ اپنے سرکاری دفاترمیں آکربیٹھتے اور کام کرتے ہیں۔مودی حکومت ان کے علاقوں سے ٹرینوں کے گزرنے کاباقاعدہ خراج بھی اداکرتی ہے جبکہ منافقت کایہ عالم ہے کہ بھارتی حکومتیں کئی باران پر پابندیاں بھی عائد کر چکی ہیں،ان تنظیموں کے خلاف کئی بارفوجی آپریشن بھی کئے گئے لیکن بھارتی افواج کے دستے ان ریاستوں میں گم ہوکررہ گئے جن کااآج تک کوئی سراغ نہیں مل سکالیکن اپنی ناکامیوں پرپردہ ڈالنے کے لئے پاکستان میں اب تک دہشتگردی کی تحریکوں کی سرپرستی کررہاہے اورکبھی کبھار اپنے لوگوں کوبیوقوف بنانے کیلئے پاکستان پرسرجیکل اسٹرائیک کی دھمکیاں دیتا رہتاہے جبکہ وہ خوب جانتاہے کہ سرجیکل سٹرائیک کاجواب فی الفوراس کی ندامت اوررسوائی کی شکل میں ساری دنیاتک دیکھ لیتی ہے۔
اب ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم اپنے ملک کواستعماری قوتوں کے نرغے سے نکالنے کے لئے اپناوہ کرداراداکریں جس کاعہدہم نے اپنے رب سے کیاتھاکہ اے بارِ الہ:ہمیں زمین پرایساخطہ عنائت فرماجہاں ہم قرآن وسنت کے مطابق اپنی زندگی گزارسکیں۔ ہمارے کریم ورحیم رب نے تو ہمیں ماہِ رمضان کی انتہائی مبارک شب’’لیلتہ القدر‘‘ کویہ معجزاتی ریاست عطافرمادی،ایک گولی چلائے بغیرہمارے قائدنے اپنے تمام وفادار ساتھیوں کی شب وروزمحنت کے ساتھ علامہ اقبال کے خواب کی تعبیرہمارے حوالے کردی لیکن سوال یہ ہے کہ کیاواقعی ہم نے اپنے رب سے کیاگیا عہد پورا کیا؟ جس کاجواب نفی میں ہے۔ آئیے ہمیں سب سے پہلے اپنے رب کے حضورپوری ندامت کے ساتھ سجدہ ریزہوکراجتماعی توبہ کرناہوگی اورتجدیدعہد کی توفیق طلب کرتے ہوئے اس راستے کی طرف گامزن ہوں جس کے لئے یہ ریاست وجودمیں آئی۔ہمیں آج اپنے رب سے یہ عہدبھی کرناہوگاکہ ہم اپنے اس ملک میں قرآن وسنت کے نفاذ کے لئے اپنی ساری توانائیاں اخلاص کے ساتھ صرف کریں گے اوران تمام عہدشکنوں کوان کے بیرونی آقاؤں کے ساتھ ان کے حتمی انجام تک پہنچائیں گے۔ان شااللہ،اللہ ہم سب کاحامی وناصرہو۔۔۔۔اللہم آمین۔

یہ بھی پڑھیں