ماہ رواں میں تین اہم واقعات ہوئے۔جن میں سے ایک کا تعلق برادر اسلامی ملک بنگلہ دیش سے تھا۔جہاں طلبا کی حکومت مخالف ملک گیر تحریک نے شیخ حسینہ واجد کے 16سالہ دور اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔حالات اس قدر خراب اور ابتر ہوئے کہ حسینہ کو ملک چھوڑ کر فوجی ہیلی کاپٹر میں بھارت جانا پڑا۔جہاں وہ اگرتلہ میں کسی نامعلوم مقام پر اقامت پذیر ہیں۔رونما ہونے والے دیگر دو اہم واقعات کا تعلق پاکستان سے ہے۔پاکستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ ایتھلیٹ ارشد ندیم نے فرانس کے شہر پیرس میں ہونے والے بین الاقوامی ایتھلیٹ مقابلوں میں جیولین تھرو کے میدان میں بھارتی جیولین چیمپئن نیرج چوپڑا کو شکست دے کر فتح حاصل کی،گولڈ میڈل جیتا اور پاکستان کو 14 اگست کے موقع پر فتح و نصرت کی نوید سنائی جس سے دل خوشیوں سے معمور ہو گئے۔اس سے بڑی اور تہلکہ خیز بریکنگ نیوز سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل(ریٹائرڈ) فیض حمید کی گرفتاری تھی۔جنہیں خود ان کے سابقہ ادارے(فوج) نے اپنی تحویل میں لیا۔جیسے ہی یہ خبر عام ہوئی،ہر طرف تبصرے اور تجزیے شروع ہو گئے۔نجی چینلز کے ٹاک شوز اس خبر کا محور بن گئے۔آرمی ایکٹ ریٹائرمنٹ کے دو سال تک جس کی اجازت نہیں دیتا۔تاہم ان خبروں میں وطن عزیز میں پایا جانے والا اہم ترین مسئلہ مہنگائی متذکرہ بالا تینوں واقعات کے شور میں دبا ہوا نظر آیا۔لوگوں کی نگاہیں حسینہ واجد،ارشد ندیم اور جنرل فیض حمید پر ہی مرکوز رہیں۔مگر بحیثیت کالم نگار اور لکھاری میری ذمہ داری بنتی تھی کہ 25 کروڑ عوام کی آواز،ان کی تکالیف کے ازالے کے لیے ارباب اختیار تک پہنچائوں کہ لوگ مہنگائی اور بجلی کے بلوں کے ہاتھوں خود کشیوں پر مجبور ہو رہے ہیں۔پنجاب اور سندھ میں قتل اور خود کشیوں کے چند واقعات رپورٹ بھی ہوئے ہیں جو نیشنل میڈیا نے اپنی سکرین پر دکھائے بھی ہیں۔گزرتے دنوں کے ساتھ صورت حال اور بھی بگڑتی جا رہی ہےجس سے عام لوگ پریشان ہیں اور ان کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔جو بھی حکومت ہو،اس طرح کے دعوے کر کے اقتدار میں آتی ہے کہ مہنگائی پر قابو پایا جائے گا،مسائل کو حل کیا جائے گا مگر جب یہ لوگ حکومت میں آتے ہیں تو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے کچھ نہیں کرتے۔جس سے اضطراب بڑھتا ہے،بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے۔مہنگائی کا کوئی حل بھی ہے؟ یہ معاملہ گزشہ دو دہائیوں سےایسے ہی چلا آرہا ہے۔وجہ صرف یہ ہے کہ یہاں پالیسیوں کا فقدان ہے۔کوئی پالیسی بنتی بھی ہے تو آنے والی نئی حکومت اسے ختم کر دیتی ہےجس سے کسی بھی پالیسی کا تسلسل برقرار نہیں رہتا۔یہ پالیسی بار آور ہونے سے پہلے ہی اپنی موت آپ مر جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ باہر جانے کے رجحان اور تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔صرف نوجوان ہی نہیں،تاجر پیشہ بھی روزگار کی تلاش میں ملک سے باہر جانے پر مجبور ہیں۔بڑی تعداد میں نقل مکانی کر رہے ہیں یا کر چکے ہیں۔حکومتی سطح پر معیشت کی بحالی کے بہت سے وعدے کئےجاتے ہیں مگر یہ سبز باغ دکھانے کے مترادف ہیں۔ان دعوئوں میں کوئی صداقت یا حقیقت ہو تو ڈالر کی اتنی اونچی اڑان نہ ہو،روپیہ بھی مستحکم نظر آئے۔
آئی ایم ایف نے ہمارے ساتھ جو کردیا ہے شاید ابلیس بھی نہ کر سکے۔کہتے ہیں ہم آزاد قوم ہیں مگر آزادی والی بات جھوٹ لگتی ہے۔انگریز کی غلامی سے تو نکل آئے لیکن 14 اگست 1947 کو آزاد ہو کر بھی ہم آزاد نہ ہوسکے۔کبھی کسی فوجی ڈکٹیٹر نے ہم پر حکمرانی کی اور کبھی سول ڈکٹیٹر شپ کو مسلط ہوتے دیکھا۔اقبال اور محمد علی جناح نے جو کہا ہم ان فرمودات پر عمل نہ کر سکے۔اسی لیےدنیا کی ترقی یافتہ اور مہذب قوموں سے پیچھے ہیں۔چین ہم سے تین سال بعد آزاد ہوا۔ آج معاشی ترقی کی دوڑ میں کہاں کھڑا ہے۔14 اگست کے موقع پر وزیراعظم میاں شہباز شریف نے یومِ آزادی کی تقریب میں بہت سی باتیں کیں۔یہ خوشخبری بھی سنائی کہ مہنگائی کو کم کرنے پر حکومت کی پوری توجہ مرکوز ہے۔مزید بتایا اگلے چند روز میں وہ پانچ سالہ معاشی پروگرام بھی قوم کے سامنے لا رہے ہیں۔یہ بھی کہا کہ جانتا ہوں بجلی بلوں سے لوگ بہت زیادہ پریشان ہیں جس میں آنے والے دنوں میں کمی کا اعلان کیاجا رہا ہے،ایسا ہوا تو یقینا مستحسن قدم ہو گا کیونکہ لوگ مہنگائی اور بجلی بلوں سے بہت زیادہ پریشان ہی نہیں ابتر حالات سے وہ خودکشیوں تک پہنچ گئے ہیں۔پچھلے دنوں ہی یہ خبر عام ہوئی کہ پنجاب کے ڈسٹرکٹ گوجرانوالہ کی ایک 60 سالہ بزرگ خاتون نے آپریشن کے لیئے رکھے دس ہزار روپے بجلی کے بل میں ادا کر دیئے۔اسے گیارہ ہزار روپے بجلی کا بل آیا تھا۔آپریشن کے لیے رکھی رقم بل میں ادا ہو گئی تو اس کا آپریشن ملتوی ہو گیا۔بزرگ خاتون اس صورت حال سے خاصی پریشان اور دل برداشتہ ہوئی کہ اس نے قریبی نہر میں کود کر جان دے دی۔پنجاب ہی کے ایک اور شہر میں بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی کو اس بنا پر چھریاں مار کر قتل کر دیا کہ وہ اپنے حصے کا بجلی بل ادا کرنے سے قاصر تھا۔انکار پر دونوں بھائیوں میں تکرار ہوئی،معاملہ شدید اشتعال،چھری چلانے اور جھوٹے بھائی کے قتل پر منتج ہوا۔اور بھی کچھ اضلاع ایسے ہیں جہاں اس طرح کے واقعات پیش آئے۔کچھ رپورٹ ہوئے،کچھ رپورٹ ہونے سے رہ گئےجس کے باعث واقعات کی تفصیل ارباب اختیار اور عوام تک نہ پہنچ سکی۔تاہم دکھ کی بات ہے ایک آزاد ملک کے آزاد شہری اپنے آپ کو آج بھی محکوم ہی سمجھتے ہیں۔انہیں نہ معاشی آزادی ہے، نہ ذہنی۔ملک میں کب تک یہ استحصال ہوتا رہے گا۔لوگوں کو کب یہ احساس ہو گا کہ 77 سال بعد ہی سہی،لیکن اب وہ آزاد ہیں۔حکمرانو! کچھ تو سوچو،اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔