Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

ضمیرکی خودکشی

(گزشتہ سے پیوستہ)
افشاں کامحض قصوریہ ہے کہ کاشانہ میں متاثرہ بچیوں کی جانب سے جنسی درندگیوں کے ان ظالمانہ سلوک پر بحیثیت ایک ماں اورعورت اس کی روح تک لرزگئی۔جس کے بعداس نے اپنے ضمیرکی آوازپرلبیک کہتے ہوئے بڑی دلیری کے ساتھ محکمہ ویلفیئرکے ایسے تمام غیرقانونی اور شرمناک احکامات ماننے سے اس وقت انکار کردیا جب محکمے کی جانب سے عنایات کی بارش کی جارہی تھی۔مورخہ 12جولائی2019ء کوسیکریٹری سوشل ویلفیئر عنبرین رضاکوتحریری درخواست کےساتھ کاشانہ کی ان تمام متاثرہ یتیم بچیوں کے محکمانہ انکوائریز میں بیانات بھی ریکارڈکروائےجن میں ان بچیوں نے جنسی کاروبار میں استعمال ہونے سے متعلق تمام روح فرساتفصیلات بھی بتائیں۔
قارئیں!یقین کریں کہ اس کےبعد ہونے والے واقعات کوتحریرکرنے کیلئے میرے قلم اورضمیرمیں ایک خاص جنگ شروع ہوگئی ہے اوردونوں نے ایکاکرکے میرے ہاتھوں میں رعشہ طاری کر دیا ہے،آپ جانتے ہیں کہ میری یہ حالت کیوں ہو گئی ہے؟وہ اس لئے کہ کاشانہ سکینڈل منظر عام پرآنے کے بعدجہاں دو لاوارث لڑکیوں اقراء کائنات اورساجدہ کوقتل کردیاگیا وہاں دیگرگواہ لڑکیوں کوبھی کاشانہ سےغائب کروا دیاگیا،جن کے بیانات تمام محکمانہ انکوائریز میں ریکارڈتھے اور میڈیاپربھی وائرل ہوئے تھے۔یہ وہ وقت تھاجب ذاتی طورپرمیں نے اپنے کئی احباب سے ذاتی دلچسپی لینے کی استدعا بھی کی اورمجھے امید ہوچلی تھی کہ اب ان تمام حقائق کی روشنی میں نہ صرف افشاں اورمتاثرہ یتیم بچیوں کوانصاف ملے گابلکہ متعلقہ اوباش افرادکوانجام تک پہنچایاجائے گا لیکن صدافسوس کہ نمک کی کان میں سب ہی زہریلے نمک کی مانندعذاب الٰہی کودعوت دینے پرتلے ہوئے تھے۔ ۔
12جولائی2019ء کودی گئی تحریری درخواست کے بعدافشاں اورکاشانہ کی یتیم بچیوں پر زندگی تنگ کردی گئی۔سرکاری افسران اور عمران خان کے وزراء اپنے دفاترمیں بلاکرافشاں کے سرکی چادرکھینچتے تھے بلکہ جنسی طورپرہراساں کرتے رہے یہاں تک کہ یتیم بچیوں کے کھانے پینےکابجٹ بھی بندکردیاگیا۔سوال یہ ہے کہ ناکردہ گناہ میں قتل کی گئی کائنات اور ساجدہ کی چیخیں ہی اس ملک پرآنے والے عذاب کیلئے کافی تھیں کہ اس پرمستزاددرجنوں بچیاں بھی اسی انجام سے دوچارکردی گئیں جن کاریکارڈبھی تلف کر دیا گیاہے جوکاشانہ ویلفیئر ہوم میں جنسی کاروبار میں استعمال کی گئیں،جن کوبیچ دیاگیایامار دیا گیا۔یہ معاملہ صرف کاشانہ ہوم کانہیں بلکہ محکمہ سوشل ویلفیئرکے دوسرے فلاحی اداروں، دارالامانوں اور بچوں کے یتیم خانوں میں بھی جنسی کاروبارکایہ بااثر مافیااب بھی پوری طرح سرگرم ہے جس میں محکمہ ویلفیئرکے افسران ملوث ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اپنے پسندیدہ افرادکوتو10سال سے بھی زائد انچارج بناکراپنامذموم اورمکروہ دھندہ جاری رکھا جاتا ہے اوراگرکوئی افشاں جیساکردارسامنے آجائے تواس کے ساتھ ایسانارواسلوک کیا جاتا ہے کہ ہرآنے والا ان کے سامنے ہتھیارڈالتے ہوئے اسی مکروہ دھندے کاایک پرزہ بن جائے۔
اس ظلم کی داستان یہی ختم نہیں ہوتی بلکہ کائنات الیاس اوراس کے دوبہن بھائی مہک الیاس اور علی الیاس کواغواکرکے چائلڈپروٹیکشن بیورو میں لایاگیااوروالدین اوررشتہ دار ہونے کے باوجود انہیں لاوارث قراردے کرچائلڈ پروٹیکشن بیورو لاہورمیں رکھاگیاجہاں ان تینوں کابدترین جنسی استحصال کیاگیا۔کائنات الیاس کوقتل کردیاگیا جبکہ مہک اورعلی الیاس تاحال لاپتہ ہیں۔ ممکنہ طورپروہ بھی مارے جاچکے ہیں۔
آپ ہمیشہ یہ سوال کرتےہیں کہ آخراس پاک وطن پرمصائب اورعذاب کے بادل کب ختم ہوں گے۔آپ خودہی سوچیں کہ جہاں درخواست گزار افشاں کوانصاف دینے کی بجائے اس کا منہ بندکرنے کیلئے عمران خان کی حکومت میں سرکش، ظالم اورفاسق سرکاری افسران کی جانب سے افشاں کو بدترین تشددکانشانہ بنایاگیاہو،اس کے شوہر پر متعددجھوٹے اوربے بنیادمقدمات درج کروا کرکوٹ لکھپت جیل میں ڈیتھ سیلزمیں قید کردیاگیا ہو،اس کا گھر جلادیاگیاہواورغیرقانونی طور پر اس کوسرکاری نوکری سے برطرف کر دیا گیا ہو، اس کے معصوم اوربےگناہ بچوں کو دربدرکردیاگیاہو،اورآج وہ تعلیم اوربنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں۔اب آپ ہی بتائیں کہ اگرآج ایک ایٹمی قوت کے حامل پاکستان کودنیابھرمیں جس طرح کی رسوائیوں کا سامناہے،اندرونِ ملک جس سیاسی انارکی اورابتری کاسامناہے،بے یقینی کے ایک عالم نے ہرپاکستانی کوتشویش میں مبتلا کر رکھاہے،خودکل کے فرعون مکافاتِ عمل کا شکارہوگئے ہیں تواس کے باوجودآج کےحکمران آخر کس عذاب کے منتظرہیں کہ کوئی اوراقراکائنات اورساجدہ ایسے ہی ظلم سےدوچارہو،کوئی اورافشاں سچ کی صلیب اٹھا کرخودسوزی کیلئے چل پڑے؟ میں مقتدرحضرات سے بڑی دلسوزی کے ساتھ پوچھناچاہتاہوں کہ کیاایساہی حادثہ(خدانہ کرے کہ کسی دشمن کوبھی اس کاسامناکرناپڑے ) آپ کے اپنے گھر کی کسی بچی سے ہوجائےتو کیاآپ اب بھی اسی طرح کی مجرمانہ خاموشی اختیار کریں گے۔اگرملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی وزیراعلیٰ ایک عورت اورماں ہونے کے ناطے مریم نوازبھی افشاں کوانصاف دینے سے قاصرہیں توپھراس وقت کاانتظارہے کہ کب قدرت کاکوڑا اپنےانتقام کیلئے اپناکام شروع کردےگا۔نجانےمیرا وجدان یہ گواہی دیتا ہے کہ افشاں! تمہیں خودسوزی کی قطعاً ضرورت نہیں،عرشِ بریں کے فیصلے کاانتظارکرو، ان تمام ظالموں کے خلاف درج کروائی گئی ایف آئی آرکافیصلہ جلد سامنے آنے والاہے جونہ صرف شرمناک بلکہ عبرتناک بھی ہوگا۔
شرمندہ انہیں اوربھی اے میرے خداکر
دستارجنہیں دی ہے انہیں سربھی عطاکر
میرے بن بلائے مہمان کی آوازنے مجھے چونکا دیا۔اس نے آگے پیچھے دیکھااوربڑے اعتماد سے بولا’’سر! آپ مجھے کچھ پریشان دکھائی دے رہے ہیں،کوئی مسئلہ آن پڑاہے؟ اینی پرابلم سر؟‘‘ میں نےٹھنڈی سانس بھری اورتھکی مرجھائی آوازمیں کہا ’’ہاں میں پریشان ہوں،میں بھی اپنے ضمیر کے ہاتھوں تنگ آچکاہوں‘‘اس نے قہقہہ لگایا اور چمک کر بولا ’’آپ بھی میری طرح اپنی ہی نصیحت پر عمل کریں،مطمئن اورخوشحال ہوجائیں‘‘۔میں نے بھی زوردارقہقہہ لگایااوراس کی طرف دیکھ کر کہا ’’بڑی کوشش کرتاہوں لیکن اللہ نے میرے اندرایک عجیب نسل کاضمیرفٹ کردیا ہے، میں جہاں چھوڑکرآتاہوں،یہ بلی کی طرح واپس آجاتا ہے،میرے گھرپہنچنے سے پہلے دہلیز پر کھڑا ہوتاہے اورپہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ مجھ پر حملہ آورہوتاہے اوربالآخرمجھے شکست سے دوچار کر دیتا ہے‘‘۔
’’سر! پھرآپ کاشماران لوگوں میں ہوتا ہےجو اپنےمقدرمیں ناکامی لکھواکرآئے ہیں جو کبھی کامیاب نہیں کہلواسکتے البتہ یہاں نہیں بلکہ وہاں بھی آپ کامیاب ٹھہریں گے،مجھے معلوم نہیں؟ میرے لائق کوئی خدمت ہوتویہ میرا کارڈ رکھ لیں،کبھی یادفرمائیں!‘‘اب میزپر پڑے پھولوں کے ساتھ یہ کارڈبھی مجھے دیکھ کرطنزیہ ہنسی کوچھپانے کی کوشش کررہاہے!
نئے خداؤں سے مشروط دوستی کرلی
فقیہہ شہرنے تجدیدِ بندگی کرلی
وہ بدنصیب جسے سب ضمیرکہتے تھے
سناہے اس نے کہیں چھپ کے خودکشی کرلی
اسے خلوص کہوں یاکہ اپنی نادانی
جوکوئی ہنس کے ملااس سے دوستی کرلی
بہارِصحنِ چمن تک نجانے کب پہنچے
خزاں سے ہم نے سرِدست دوستی کرلی

یہ بھی پڑھیں