Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

بنگلہ دیش میں مسمار ہوتی نفرت کی دیوار

بعض اتفاقات نہایت معنی خیز اور توجہ طلب ہوتے ہیں۔ غور کریں کہ پانچ برس قبل پانچ اگست کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے ریاستی تشخص پہ ڈاکہ ڈالا ۔ اس تاریخ کو تمام دنیا میں کشمیری حریت پسند اور پاکستانی بطور احتجاج یوم استحصال مناتے ہیں۔ اس سال پانچ اگست کو جبکہ دنیا بھر میں یوم استحصال منایا جا رہا تو بنگلہ دیش میں بھارت اپنی اہم حلیف شیخ حسینہ واجد سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اپنے والد بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمن کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے حسینہ واجد نے اپنی جماعت عوامی لیگ کو بھارتی اثاثہ بنا کر بنگلہ دیش میں مودی سرکار کی بی ٹیم بن کر پندرہ برس مسلسل جبر کی قوت سے حکمرانی کی۔ یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ سن پچھتر میں بھارت کے یوم آزادی یعنی پندرہ اگست کو بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمن اپنی ہی فوج کی بغاوت کے نتیجے میں اہل خانہ سمیت دھان منڈی میں واقع رہائش گاہ میں نہایت بے دردی سے قتل کر دئے گئے تھے۔ شیخ مجیب الرحمن اپنی بھارت نوازی اور فتنہ انگیز شعلہ بیانی کی بدولت بھارت کا ایسا قابل اعتبار اثاثہ تھے جس کے ذریعے اندرا گاندھی نے تقسیم بر صغیر کا بدلہ چکانے کے لئے مشرقی پاکستان میں فوج کشی کی اور نسلی تعصب کی بنیاد پر بنگلہ دیش کے قیام کی راہ ہموار کی ۔
پاکستان کے مشرقی بازو کی علیحدگی پر اندرا گاندھی نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کرنے کا دعویٰ کیا۔ بعض اوقات قدرت کے فیصلے بھی عجیب انداز میں ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ پاکستان ٹوٹنے کے چار برس بعد جب بھارت کے یوم آزادی پر بنگالی فوج نے شیخ مجیب کو قتل کیا تو اندرا گاندھی نے سر پکڑ لیا اور بنگلہ دیش کی تخلیق کو اپنی فاش غلطی قرار دیا۔ بہر کیف بنگلہ دیش میں پاکستان دشمنی کی بنیاد پہ بھارت نواز طبقات نے مسلسل بیانیہ سازی کی۔ بنگلہ دیش میں فوجی آمریتیں رہیں۔ لولی لنگڑی جمہوریت بھی آئی ۔ تاہم بھارت نوازی میں سر فہرست عوامی لیگ اور اس کی قائد حسینہ واجد کا نام ہی دکھائی دیتا ہے۔ شیخ مجیب الرحمن کی مقتل گاہ دھان منڈی 32 کو لبریشن موومنٹ میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا۔
بھارت کے یوم آزادی پندرہ اگست کو بنگلہ دیش اپنے بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمن کے قتل کے سوگ میں قومی تعطیل کرتے ہیں۔ تاہم اس برس حسینہ سرکار کے شرمناک اختتام کے بعد عوامی لیگ اور اس کے بانی شیخ مجیب الرحمن کا نظریاتی رد ببانگ دہل کیا جا رہا ہے۔ دھان منڈی میں لبریشن وار یعنی بنگالی جنگ آزادی اور بنگلہ بندھو میوزیم کو احتجاج کرنے والے شہریوں نے نذر آتش کر ڈالا۔ بنگلہ بندھو کے مجسمے منہدم کئے جا چکے ہیں۔ ان سے منسوب یادگاری نوادرات کو جلانے کے علاوہ وہ مجسمے بھی مسمار کر دئے گئے ہیں جن کے ذریعے سرنڈر کی تقریب دستخط کی منظر کشی کر کے بنگلہ دیش اور پاکستان کی علیحدگی کی تلخی کو زندہ رکھنے کی سعی کی گئی تھی۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ بنگلہ دیش کے صدر نے پندرہ اگست کو بنگلہ بندھو کی برسی پہ تعطیل بھی منسوخ کر دی ہے۔ بھارت کے لئے کئی لحاظ سے یہ غم کی گھڑی ہے۔ پہلے تو 5 اگست کو بھارت نواز حسینہ کو بنگالی عوام نے فرار پہ مجبور کر دیا۔ ساتھ ہی بھارت پرست عوامی لیگ کا جبر سے بھرپور راج بھی انجام کو پہنچا۔ اس کے بعد پاکستان دشمنی پہ بنایا گیا بنگالی قوم پرستی کا بیانیہ اپنی موت آپ مرتا جا رہا ہے۔ بنگلہ بندھو اور لبریشن وار کے مجسموں کی صورت میں بنگالی عوام نے دراصل بھارت کی تعمیر کردہ اس نفرت کی دیوار کو مسمار کیا ہے جس کی بنیاد دو قومی نظریے اور پاکستان دشمنی پہ رکھی گئی تھی۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ بنگلہ دیش ایک آزاد ریاست ہے۔ پاکستان بنگلہ دیش کی خود مختار حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے ہمیشہ بنگالی عوام کے لئے خیر خواہانہ اور برادرانہ جذبات کا اظہار کرتا ہے۔ تاہم بھارت کا معاملہ قطعی طور پر اس کے برعکس ہے۔ بھارت کے لئے ہمیشہ سے بنگلہ دیش ایک ایسی دست نگر کالونی ہے جہاں وہ عوامی لیگ اور حسینہ واجد جیسے اتحادیوں کے ذریعے اپنا تسلط برقرار رکھتے ہوئے جنوبی ایشیا میں پاکستان کے خلاف محاذ آرائی کی فضا قائم رکھنا چاہتا ہے۔
بنگلہ دیش میں نہایت مضبوط لسانی ، ثقافتی ، تہذیبی اور سماجی رجحانات غالب رہے ہیں ۔ جغرافیائی رکاوٹوں اور ان طاقتور عناصر کو بنگلہ بندھو کے ذریعے بھارت نے اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے دو قومی نظریے پہ وار کیا۔ بنگالی قوم پرستی کا جو ہتھیار بھارت نے پاکستان کے خلاف استعمال کیا تھا وہ اب بنگلہ دیش میں نئی قوت بن کر ابھرا ہے۔ بنگالی عوام نے بھارت نواز عوامی لیگ ، بنگلہ بندھو اور ان کی سیاسی وارث حسینہ واجد کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہے۔ بنگالی قوم پرستی کا یہ عروج بھارت میں سر اٹھاتے ہندو قوم پرستی کے عفریت کو چیلنج کر رہا ہے۔ اگست کے مہینے میں بھارت بنگلہ دیش میں نہ صرف حسینہ واجد جیسے اثاثے سے محروم ہوا ہے بلکہ بنگلہ بندھو کے پاکستان دشمن بیانئے کا بھانڈا بھی بنگالی عوام کے ہاتھوں بیچ چوراہے پھوٹ چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پہ مودی سرکار کی سرپرستی میں چلنے والے ہندوتوا نواذ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے بنگلہ دیش کے مزید ٹکڑے کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ صاف دکھائی دیتا ہے کہ بنگالی قوم پرست عناصر کے وسیع تر اتحاد کو ہندوتوا نظریے کے حامی بھارت کے وجود کے لئے بھی خطرہ تصور کرتے ہیں۔ بنگالی قوم پرستوں کے ہاتھوں دو قومی نظریے کا خون اور پاکستان کی تقسیم تو بھارت کو منظور تھی۔ لیکن بنگالی قوم پرستوں کے ہاتھوں بھارت کے وفاداروں کا قلع قمع اور وسیع تر بنگال اتحاد بھارت کو منظور نہیں۔ بنگلہ دیش کو اپنی آزادی مبارک لیکن مودی سرکار کہ مسلم دشمنی اور عوامی لیگ کی سر پرستی دو قومی نظریے کا ثبوت نہیں تو پھر کیا ہے؟ امید ہے کہ بنگالی عوام بھارت کے چنگل سے آزاد ہو کر جلد ہی اتحاد و حکمت سے اندرونی استحکام بحال کر لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں