(گزشتہ سے پیوستہ)
ارشاداتِ قرآنی پیش نظررکھئے اورپاکستان کے قیام سے لے کر پاکستان کے ایٹمی طاقت بن جانے تک کے واقعات پرغور کیجئے،انسانی معاشرت کے لئے قدرت کی منصوبہ بندی کی کارفرمائیاں واضح ہوتی چلی جائیں گی۔قیامِ پاکستان کی ایک وجہ ہمارے مخالفوں کاشدید تعصب اورسیاسی ریشہ دوانیاں بھی بنیں۔قیامِ پاکستان کومتزلزل کرنے کی ہرممکن کوششیں کی گئیں اورہرکوشش ناکام ہوئی اورایٹمی طاقت کی حیثیت سے نمایاں ہونے میں جس عمل نے ہمارے لئے سب سے بہتردلیل فراہم کی وہ بھارت کاایٹمی دھماکہ تھا۔پاکستان کی داخلی صورتحال اوراس کے وجودکے علاقائی اورعالمی اثرات پرمسلسل تدبر اور تفکر کی ضرورت ہے۔جہاں ہم داخلی سطح پرسماجی تطہیرکے مرحلوں سے گزررہے ہیں،وہاں نائن الیون کے بعداس خطے کی صورتحال بالکل بدل چکی ہے۔پاکستان دشمن قوتیں بھوکے بھیڑیوں کی طرح ہم پر ٹوٹ پڑی ہیں اورایک فاسق و فاجر جنرل ہمیں جن خطرات کے بھنورمیں پھینک کرپہلے ملک سے فرارہوگیااوراب عالمِ برزخ میں اپنے اعمال کے حساب و کتاب بھگت رہاہوگاوہاں ہمارے تمام نابالغ سیاستدانوں نے اس معجزاتی اورعطیہ خداوندی انعام سے بدترین سلوک کے باوجودجہاں معاشی اوردیگردشواریاں پہاڑوں جیسی معلوم ہوتی ہیں، کے باوجودقیامِ پاکستان کاعلاقائی اثریہ ہواکہ بھارت اس سارے علاقے پراپنا تسلط قائم نہیں کرسکااورعالمی اثریہ ہواکہ اسلام عالمی سطح پرنمایاں سے نمایاں ترہوتا چلاگیا اورآج دفاعی نقطہ نظرسے سواندرا گاندھی،من موہن سنگھ،باجپائی اورہزار مودی آنکھ ٹیڑھی کرکے بھی دیکھنے کی جرأت نہیں کر سکتے۔اب تک عالمی استعماراورٹرائیکاکے ساتھ سازش کرکے یہ کوشش کر چکے لیکن اس کے عملی جواب سے تھراکررہ گئے کہ خودعالمی سطح کے دفاعی نگاروں اورتجزیہ نگاروں کی آرا کے مطابق یہ عمل ساری دنیاکوہزاروں سال تک تاریک کردے گااورممکن ہے کہ وہی لمحہ قیامت کاہو۔
وقت کے دوپیمانے ہیں،شب وروزاورماہ وسال۔ایک پیمانہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے کاموں کے لئے مقررکیاہے،دوسراپیمانہ اللہ تعالیٰ کے اپنے حساب کا ہے جس کا ایک’’یوم‘‘ہمارے ایک ہزارسال کے برابریا اس سے بھی زیادہ کاہے۔ دورِرسالت مآبﷺمیں انسانی معاشرت کے لئے اللہ تعالیٰ کے مقررکردہ قوانین اورانسانی اعمال میں مکمل ہم آہنگی،مثالی ہم آہنگی ہوگئی تھی لہٰذا تاریخ کی مکمل روشنی میں ایک مثالی معاشرہ،ایک مثالی مملکت وجود میں آگئی۔اس مثالی معاشرے کی روشنی جہاں تک پہنچائی جاسکتی تھی مسلمانوں نے پہنچائی۔ زمانے کا،انسانی معاشرہ کا،سفرتواب بھی اسی سمت ہے لیکن اس راہ پرہم مسلمانوں کواپنے ایمان وعمل سے جو روشنی پھیلانی چاہئے تھی کہ سفرمیں تیزی آجائے،ہم صدیوں سے اپناوہ فریضہ بھلا بیٹھے ہیں۔قیامِ پاکستان نے ہمیں دورِحاضر میں اپنے ایمانی کردارکی ادائیگی کاایک اورموقع فراہم کیاہے۔ پاکستان میں ہم گزشتہ 77 سالوں میں اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کر کے یااس کے شعورسے محروم ہوکرجووقت ضائع کر چکے ہیں اوراس سے نسلِ انسانی کاجوخسارہ ہواہے ہم سب کواپنی اپنی ذمہ داریوں کے اعتبارسے اللہ کے سامنے اس کی جوابدہی کرنی ہوگی۔کیاواقعی ہماراایمان ہے کہ جوابدہی ہوگی؟ کیا ہم کواس حقیقت کاشعوربھی ہے کہ وہ جوابدہی ہونی ہے اورضرور ہونی ہے؟قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی ہم نے بہت بڑی ذمہ داری قبول کرلی ہے:
بے خبر تو جو ہر ِآئینہ پیام ہے
تو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے
لیکن سنئے!سورہ محمدکی آخری آیاتِ مبارکہ کے اختتامی الفاظ بھی کیاکہہ رہے ہیں’’اللہ توغنی ہے،تم ہی اس کے محتاج ہو۔اگرتم منہ موڑوگے تواللہ تمہاری جگہ کسی اورقوم کولے آئے گا اوروہ تم جیسے نہ ہوں گے‘‘۔اس وقت ہماراسب سے بڑا امتحان یہی ہے۔کاش!ہمیں اس سچائی کاادراک ہوجائے کہ اللہ کے خوف سے محرومی سب سے بڑی محرومی ،سب سے تباہ کن محرومی ہے جس کا کوئی ازالہ کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے!
یادرکھیں!دنیا میں تبدیلی ہمیشہ ایک آدمی لاتاہے جسے ہملیڈرکہتے ہیں،جولوگوں کوہرقسم کے مصائب سے نجات ،خود داری کی منزل کے حصول کے خوابوں کی تعبیراورغلامی کی زندگی سے نجات اور جینے کے وژن اورقوم کی مستورقوت کواستعمال کرنے کاڈھنگ جانتاہے۔وہ اس قدر باصلاحیت ، بہادراوربے لوث ہوتاہے کہ اس کی قوم اس کے منہ سے نکلے ہوئے ہرلفظ پرایمان کی حدتک یقین کرتی ہے۔قدرت نے ان تمام اوصاف سے مرصع ہماراقائدمحمدعلی جناح صحیح معنوں میں جب عطاکیا تو تاریخ نے دیکھاکہ انہوں مسلمانانِ ہند کے حقوق کے لئے ایسی جدوجہدکی رہنمائی کی اپنی خطرناک بیماری کے باوجوداس کواس لئے چھپاکررکھاکہ کہیں مخالف قوتیں قیامِ پاکستان میں رخنہ نہ ڈال سکیں۔انہوں نے اپنی ذات سے متعلق تمام رنجشیں بھلاکراپنے مخالفین اوردشمنوں کے ساتھ مضبوط دلائل کے ساتھ پاکستان کامقدمہ لڑا، مسلمانوں کی توانائی کو صحیح سمت گامزن کرکے دنیاکے نقشے میں ایک نیاملک پاکستان قائم کرکے دکھادیا ، جس نے مسلمانانِ برصغیرکی غلامی کوخودداری میں تبدیل کرکے ایسی تاریخ رقم کردی جس کواس کے بعد دہرایانہ جاسکااوراس کے باوجودکہ ہمارے قائد کے جلدرخصت ہونے کے باوجود،ہرقسم کے کرپٹ حکمرانوں کی طویل فہرست کے باوجودبھی آج وہ ایک ایٹمی قوت بن کر دنیاکی آنکھوں میں آنکھیں ملاکرکھڑا ہے ۔
گزشتہ ہفتے عالمی میڈیاپراینکرنے مجھ سے پاکستان میں ہونے والی کرپشن،سیاسی نارکی اور ابتری کے ذمہ داروں کے تعین اوران کے احتساب کے متعلق کئی سوال جب پوچھے جو یقینا زمینی حقائق کے مطابق بالکل کڑوے سچ کی طرح دل میں چھید کرتے چلے گئے لیکن اس کاممکنہ جواب مزیدتلخ ہوگاکہ میں یہ کیسے مان لوں کی ہم زمین میں بیج تولیموں کابوئیں اورامید میٹھے آم یادیگرپھل کی لگالیں۔
( جار ی ہے )