(گزشتہ سے پیوستہ)
اپنی ذات سے متعلق تمام رنجشیں بھلاکراپنے مخالفین اوردشمنوں کے ساتھ مضبوط دلائل کے ساتھ پاکستان کامقدمہ لڑا، مسلمانوں کی توانائی کو صحیح سمت گامزن کرکے دنیاکے نقشے میں ایک نیاملک پاکستان قائم کرکے دکھادیا ، جس نے مسلمانانِ برصغیرکی غلامی کوخودداری میں تبدیل کرکے ایسی تاریخ رقم کردی جس کواس کے بعد دہرایانہ جاسکااوراس کے باوجودکہ ہمارے قائد کے جلدرخصت ہونے کے باوجود،ہرقسم کے کرپٹ حکمرانوں کی طویل فہرست کے باوجودبھی آج وہ ایک ایٹمی قوت بن کر دنیاکی آنکھوں میں آنکھیں ملاکرکھڑا ہے ۔
گزشتہ ہفتے عالمی میڈیاپراینکرنے مجھ سے پاکستان میں ہونے والی کرپشن،سیاسی نارکی اور ابتری کے ذمہ داروں کے تعین اوران کے احتساب کے متعلق کئی سوال جب پوچھے جو یقینا زمینی حقائق کے مطابق بالکل کڑوے سچ کی طرح دل میں چھید کرتے چلے گئے لیکن اس کاممکنہ جواب مزیدتلخ ہوگاکہ میں یہ کیسے مان لوں کی ہم زمین میں بیج تولیموں کابوئیں اورامید میٹھے آم یادیگرپھل کی لگالیں۔
آپ اپنے گھرکے آنگن میں ایک پودالگاتے ہیں،پانی دیتے ہیں اوراپنے ساتھ دیگراردگردکے افرادکواس کی دیکھ بھال کی نصیحت بھی کرتے ہیں۔میرے آقانبی اکرمﷺکاارشادگرامی ہے:: ایک مومن دوسرے مومن کاآئینہ ہے۔بس اس آئینے میں دیکھ کرخودسے سوال کریں تویقیناجواب مل جائے گا کیونکہ آئینہ کی پہلی صفت تویہ ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بولتااوردیکھنے والے کواس کے چہرے پرلگے سب داغ دھبوں کے متعلق سچ بتادیتاہے اور چہرے پرلگے ہوئے تمام داغ دھبوں کی صفائی کی نصیحت کرتاہے اوردوسری صفت یہ ہے کہ بعدمیں دیکھنے والے کوپہلے چہرہ کے متعلق کچھ نہیں بتاتایعنی غیبت سے پاک ہوتاہے۔آج بطورپاکستانی اس آئینے میں دیکھ کر ایمانداری سے بتائیں کہ آپ نے قائدکے لگائے ہوئے پودے کے ساتھ کیاسلوک کیا۔یہ سوال پاکستان کے ہرشہری سے ہے کہ کہ اس باغ کے مالی قائداعظم موجودہوتے تو کیا وہ افسردہ ہوکراس مجرمانہ غفلت کی بازپرس نہ کرتے۔
قائدنے توہمیں یہ یقین دلایاتھاکہ پاکستان ایک اسلامی جمہوری ملک ہوگاجس کابنیادی مقصدہرشہری کواسلامی اصولوں کے مطابق انصاف ملے گالیکن ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کی رپورٹ میں پاکستانی عدالتی نظام کوقانون کی حکمرانی کی پابندی کرنے والے ممالک میں سب سے نچلے نمبر139 ممالک میں130ویں نمبر پر کیوں ہے؟ملک کے دولخت ہونے پر،طبقاتی منافرت پر،سیاسی منافقت پر،نام نہادسیاسی مفاہمت پر،بڑھتی ہوئی لسانیت پر،معاشی تباہی پر،معاشرتی اقدارکی تباہی پر،اسلامی احیاکی نفی پر،جمہوری انحطاط پر،سستے اورسہل انصاف کی عدم دستیابی پر،قول وفعل میں تضادپر،ملکی مفاد پرذاتی مفادکوترجیح دینے پر،آئی پی پیزکے نام پرملکی خزانے کے کھربوں روپے ڈکارجانے پراوران تمام لوٹ کھسوٹ اورملک میں جاری ان افعال کواپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے ان کو دوبارہ ایوان اقتدارتک پہنچانے پراپنے کردارپرشرمندہ ہونے کی بجائے خاموش رہتے؟اے روحِ قائد!ہم شرمندہ ہیں کیونکہ ہم سب ان افعال میں شریک ہیں۔
یقین کریں اگرقائدکچھ عرصہ مزید زندہ رہ جاتے تووطن عزیزکوپہلاآئین بہت جلدمل جاتا،جاگیرداری نظام کاخاتمہ ہوجاتا، وڈیرے، سرمایہ داراورفوجی ڈکٹیٹراس ملک پرقابض نہ ہو پاتے،مافیازکے لئے یہ زمین تنگ ہوجاتی،کرپشن کے دروازے کبھی نہ کھلتے،لوٹ کھسوٹ کا بازارگرم نہ ہوپاتا،خاندانی اورنسل درنسل سیاست پروان نہ چڑھتی،سفارش،رشوت اور اقرباپروری کی لعنت جنم نہ لیتی،سرکاری ادارے سیاست زدہ نہ ہوتے، اشرافیہ اورمراعات یافتگان کاوجودبھی نہ ہوتا، پروٹوکول کے نام پر ملکی خزانے کولوٹنے کاسلسلہ ختم ہوجاتا، اس بیدردی سے وطن عزیزکولوٹنے والوں کوعبرت کانشانہ بنادیاجاتااوربینکوں سے لئے گئے کھربوں روپے کے قرضے معاف نہ کروائے جاتے۔ ملک عالمی منظرنامے پرایک بھکاری ملک کی بجائے مضبوط اورمستحکم ملک کے طورپرپہچاناجاتا۔صدافسوس کہ آج ہم ایک بدترین دورسے گزررہے ہیں،ہم نے اس ملک کوتباہ کرکے رکھ دیاہے،لالچ اور بددیانتی نے اس ملک کاحلیہ بگاڑکررکھ دیاہے،من حیث القوم ہم سبھی اس ملک اورقوم کے مجرم ہیں،ہم نے قائداوراقبال کے ملک کی قدرنہیں کی۔کیاہم برصغیر پاک و ہندمیں مغل حکمرانوں کے زوال کے اسباب سے واقف نہیں ہیں کہ آج ہم میں وہ تمام عادات اورطورطریقے پائے جاتے ہیں جن کی بناپربرِصغیرکے مسلمان حکمران تباہ وبربادہوئے تھے۔
معروف امریکی اسکالرپروفیسروالپرٹ ہندوستان کی تاریخ پردسترس رکھنے والے ماہرین میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ پروفیسر والپرٹ نے1984ء میں جناح کی سوانح حیات میں تحریرکرتے ہیں:کچھ لوگ تاریخ کے دھارے کوتبدیل کردیتے ہیں، جبکہ ان میں سے بھی کچھ دنیاکے نقشے کوبدل دیتے ہیں۔ان میں بہت کم لوگ ہی نئی قومیت پرملک تعمیرکرتے ہیں،اور جناح نے یہ تینوں کام کردکھائے۔قائداعظمؒ نے تن تنہامخالفین کاسامناکیا، علالت کی بھنک بھی نہ پڑنے دی،تاکہ حصولِ منزل کے سفرمیں کوئی رکاوٹ نہ پیش آئے۔
قائدنے اپنے حصے کاچراغ جلادیا،اب یہ ہمارافرض ہے کہ ہم قائدکے اصول ایمان،اتحاداورتنظیمِ محکم کواپنی زندگی میں داخل کریں اورقائدکے ایک معتدل اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے خواب کوشرمندہ تعبیرکریں۔اگراس فانی زندگی میں کامیابی چاہتے ہیں توبندوں کوبندوں کی غلامی سے نکالنے کے لئے اللہ کی غلامی اختیارکرلیں۔