Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

مصورپاکستان اورہم!

علامہ اقبال کا کلام انسانی فکر و عمل کی تاریخ کا نہائت دقیق تجزیہ ہے۔انہوں نے اپنی غیر معمولی بصیرت کی بنا پر تاریخی حوادث سے متعدددورس نتائج اخذکئے،بعض وہ نتائج بھی جو ابھی رونما نہیں ہوئے تھے۔ان کا یہ شعرمبنی برحقیقت ہے:
حادثہ جو ابھی پردہ افلاک میں ہے
عکس اس کامرے آ ئینہ ادراک میں ہے
بر صغیر کے مسلمانوں کی تاریخ پر اقبال نے خصوصیت کے ساتھ توجہ دی،انہوں نے دیکھا کہ یہ وسیع وعریض خطہ مدت تک مسلمانوں کے فکروعمل کی عظیم جولانگاہ بنا رہا اور انہوں نے بڑی کامیابی کے ساتھ ایک عظیم الشان اسلامی معاشرہ تشکیل کیا جس کے برجستہ تمدنی نقوش ناقابلِ محو ہیں ۔مسلمان یہاںاگرچہ دوسری اقوام کی نسبت تعداد میں کم اور مختلف علاقوں میں بکھرے ہوئے تھے لیکن عقیدہ توحید نے انہیں ہمیشہ اسلام کے رشتہ وحدت میں منسلک رکھا۔متعدد مسلمان خاندانوں نے یہاں ایک ہزار سال تک حکومت کی،ان میں غزنوی،غوری،خلجی،تغلقی ،لودھی اور مغل خاندان زیادہ معروف ہیں۔یہ حکومتیں اگرچہ مذکورہ خاندانوں کے نام سے منسوب تھیں لیکن چونکہ وہ ا سلامی اصولوں کی اساس پر استوار کی گئیں اور اسلامی اقدار کی حفاظت اور نشرواشاعت کیلئے کوشاں رہیں ،اس لئے انہیں اسلامی حکومتوں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ان کے حکمران مسلمان تھے اور دین اسلام کو اپنی حکومت کا تشخص اور طرہ امتیاز قرار دیتے تھے۔وہ اپنی قائم کردہ عدالتوں میں اسلامی قوانین رائج کرتے ،مدرسوں اور مساجد کی تاسیس کرتے اور ان میں اسلامی تعلیمات و روایات اور مسلمانوں کی زبان وادب کو فروغ دیتے،اکثر سلاطین ِ وقت صوفیا اور علما کی عزت و تکریم کرتے اور ان سے ہدایات حاصل کرتے،صوفیا ہمیشہ سلاطین کو رعایاکے ساتھ عدل و احسان کی تلقین فرماتے۔
محمد بن قاسم کے بعد محمود غزنوی نے مسلمانوں کیلئے ہندوستان کے دروازے کھول دیئے ،محمود غزنوی نے دہلی کو مسلم حکومت کا دارلسلطنت قرار دیا۔تمام مسلمان بادشاہوں اور حکمرانوں نے اپنی حکومت کی شناخت دین اسلام کو قرار دیا اور ہر ایک نے اپنے آپ کو دین کے مبلغ ومحافظ اور اس کی عظمت کے مظاہر وموید کے طور پر ملقب کیا ،اس حوالے سے اکثر سلاطین کے القاب قابل ملاحظہ ہوںمثلاً
معز الدین غوری، قطب الدین ایبک، شمس الدین التمش،رکن الدین فیروز شاہ،غیاث الدین بلبن،علائو الدین محمد شاہ،ظہیرالدین بابر، نصیر الدین ہمایوں،جلال الدین اکبر، نورالدین جہانگیر،شہاب الدین شاہجہان اور محی الدین اورنگزیب عالمگیروغیرہ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سلاطین تخت نشینی کے وقت یہ اصرار کرتے تھے کہ وہ دین سلام کے تحفظ اور ترویج میں ہمیشہ کوشاں رہیں گے۔اگر احیانا کوئی بادشاہ دینی امور کی اشاعت میں کچھ کوتاہی کرتا تو صوفیا اور علما اسے متنبہ کرتے اوراس کی اصلاح کی بھرپور کوشش کرتے۔صوفیا میں نظام الدین اولیاء، بہا ئو الدین ذکریا، شرف الدین بوعلی قلندر،جلال الدین بخاری،شیخ احمد سرہندی اور شاہ ولی اللہ سلاطین وقت کواسلامی احکام کی تعمیل کی تاکید فرماتے رہے۔
برصغیر کی تاریخ سے متعلق جن عظیم حکمرانوں کو علامہ اقبال نے خراجِ تحسین ادا کیا ان میں محمود غزنوی،اورنگ زیب عالمگیر،احمد شاہ ابدالی اور ٹیپو سلطان خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں۔یہ وہ اشخاص ہیں جنہوں نے پرچمِ توحید کو ہمیشہ بلند رکھا اور باطل قوتوں سے نبردآزما ہوئے ۔ اٹھارویں صدی میں جب مسلمانوں کا عظیم الشان معاشرہ بادشاہوں اور امیروںکی اخلاقی بے راہروی کی بنا پر فتنہ وفساد اورانتشار کا شکار ہوا تو اقتدار انگریزوں کے ہاتھوں میں چلا گیا۔اس کے بعد مسلمانوں کی بیداری میں سرسید احمدخاں، شبلی نعمانی، مولانا حالی،اکبرالہ آبادی اور سب سے بڑھ کر علامہ اقبال نے نہائت اہم کردار اداکیا ۔علامہ اقبال نے ہندو قوم کے تاریخی کردار اور اس کے عصری خطرناک عزائم کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کے دین و مذہب ،جان و مال اور تہذیب و تمدن کی حفاظت کیلئے اپنی فکری اورعملی توانائیاں وقف کر دیں ،انہوں نے فرمایا:
’’آئندہ نسلوں کی فکر کرنا ہمارا فرض ہے ،ایسا نہ ہو کہ ان کی زندگی گونڈ اور بھیل ا قوام کی طرح ہو جائے اور رفتہ رفتہ ان کا دین اورکلچر اس ملک میں فنا ہو جائے ،،۔علامہ اقبال نے برصغیر میں مسلمانوں کیلئے ایک آزاد مملکت کا تصور ہزارسالہ اسلامی تمدن کی حفاظت اور بقا کیلئے پیش کیا ،ان کے نزدیک مذہب قوت کے بغیر محض ایک فلسفہ ہے ۔انہوں نے فرمایا ’’اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں اسلام ایک تمدنی قوت کے طور پر زندہ رہے تو اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کرے‘‘۔
علامہ اقبال اسلام کے بغیر مسلمان کی زندگی کا تصور بھی نہیں کرتے تھے،وہ مسلمانوں کی آزادی کی حفاظت صرف نفاذِ اسلام کیلئے چاہتے تھے۔ انہوں نے فرمایا:اگر ہندوستان میں مسلمانوںکا مقصد سیاست سے محض آزادی اور اقتصادی بہبود ہے اور حفاظتِ اسلام اس مقصد کا عنصر نہیں جیسا کہ آج کے قوم پرستوں کے رویئے سے معلوم ہوتا ہے تو مسلمان اپنے مقاصد میں کبھی بھی کامیاب نہ ہو ں گے‘‘۔ہماری تاریخِ ادب میں علامہ اقبال آزادی وطن کے سب سے بڑے شاعر ہیں ۔اس حوالے سے ان کے ساز سخن کے نغمات حریت و استقلا ل ہیں لیکن وہ اسلام کے بغیر آزادی وطن کا تصور بھی نہ کرتے تھے۔انہوں نے بڑے غیورانہ لہجے میں فرمایا:
’’اگر آزادی ہند کا نتیجہ یہ ہوا کہ جیسا دارلکفر ہے ایسا ہی رہے یا اس سے بھی بدترین ہو جائے تو مسلمان ایسی آزادی وطن پر ہزار مرتبہ لعنت بھیجتا ہے‘‘۔ علامہ اقبال نے برصغیر میں ایک آزاد اسلامی ریاست کی تشکیل کا مطالبہ محض اس لئے کیا تھا کہ شریعت اسلامی کا نفاذ ہو سکے تاکہ اس کے نتیجے میں ہر شخص کو معاش کی ضمانت مل سکے ۔ اس بارے میں انہوں نے قائد اعظم کے نام خط میں لکھا۔۔۔۔’’شریعت اسلامیہ کے طویل وعمیق مطالعے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اسلامی قانون کو معقول طریق پر سمجھا اور نافذکیاجائے تو ہر شخص کو کم از کم معمولی معاش کی طرف سے اطمینان ہو سکتا ہے لیکن کسی ایک آزاداسلامی ریاست یا چند ایسی ریاستوں کی عدم موجودگی میں اسلامی شریعت اسلامیہ کا نفاذاس ملک میں محال ہے‘‘۔
انہوں نے مسلمانوں پر واضح کیا کہ برصغیر میں مسلمانوں کی نجات کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ ہندوستانی قومیت کے تصور کو ترک کرکے اسلامی قومیت کو اپنی شناخت بنائیں کیونکہ اسلام ہی انہیں موجودہ تباہ کن حالات سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔انہوں نے مسلمانوں پر اسلام کے احسانات ِ عظیم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:’’اسلام ہی وہ سب سے بڑا جزوِ ترکیبی تھا جس سے مسلمانانِ ہند کی حیات متاثر ہوئی۔اسلام ہی کی بدولت مسلمانوں کے سینے ان جذبات و عواطف سے معمور ہوئے جن پر جماعتوں کی زندگی کا دارومدار ہے اور جن سے متفرق اور منتشر افراد بتدریج متحد ہو کرایک متمیز اور معین قوم کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اوران کے اندر ایک مخصوص اخلاقی شعور پیدا ہوجاتا ہے‘‘۔
حکیم الامت کا سب سے بڑا کارنامہ جس کی بنیاد پر پاکستان قائم ہوا ،یہ ہے کہ انہوں نے ہندی قومیت کے تصور کی مکمل نفی کی اور مسلمانوں میں اسلامی قومیت کا شعور پیدا کیا ۔ اقبال جغرافیائی وطن پرستی کے سخت مخالف تھے کیونکہ یہ ان کے نزدیک وحدتِ ملی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں