Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

مصورپاکستان اورہم!

(گزشتہ سے پیوستہ)
انہوں نے اسلام کو زندگی بخش قوت قرار دیتے ہوئے فرمایا ’’اسلام ایک زندہ قوت ہے جو ذہن ِ انسانی کونسل ووطن کی قیود سے آزاد کر سکتی ہے جس کا عقیدہ ہے کہ مذہب کو فرد اور ریاست دونوں کی زندگی میں غیر معمولی حیثیت حاصل ہے اور جسے یقین ہے کہ اسلام کی تقدیر خود اس کے ہاتھ میں ہے ــ۔اسلام بحیثیت مذہب کے دین وسیاست کا جامع ہے ،یہاں تک کہ ایک پہلو سے دوسرا پہلو کا جدا کرنا حقائق اسلامیہ کا خون کرنا ہے۔
اقبال کیلئے اسلام ہی مسلمان کی زندگی ہے ،کوئی مسلمان اسلام سے باہر اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتا ۔انہوں نے فرمایا:’’اسلامی تصور ہمارا وہ ابدی گھر یا وطن ہے جس میں ہم اپنی زندگی بسر کرتے ہیں ،جو نسبت انگلستان کو انگریزوں سے اور جرمنی کو جرمنوں سے ہے ،وہ اسلام کو ہم مسلمانوں سے ہے‘‘۔
رسالتِ محمدیہ کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:’’ہمارے عقیدے کے مطابق بحیثیت مذہب کے اللہ تعالیٰ نے اسلام کو بذریعہ وحی نازل کیا لیکن ایک معاشرت یا ملت کے طور پر اسلام کا وجود کلیتا رسولِ اکرمﷺ کی ذاتِ بابرکات کا رہینِ منت ہے‘‘۔
وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادی سینا
نگاہ ِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں ،وہی فرقاں،وہی یسٰیںوہی طہٰ
1919ء میں ایک خط میں لکھا:’’خدا کی راہ میں مجھ سے جو کچھ ہو سکا میں نے کیا ،لیکن دل چاہتا ہے کہ جو کچھ ہو ااس سے بڑھ کر ہونا چاہئے تھااور زندگی تمام و مکمل نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بسر ہونی چاہئے تھی ‘‘۔
اقبال اسلام کے ابدی حقائق پر محکم ایمان رکھتے تھے ۔انہوں نے اپنی زندگی اسلام کی تفسیر وتوضیح میں صرف کی تاکہ مسلمان عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق اس کی لا متناہی برکات سے مستفیذ ہوں۔حضرت علامہ کے نزدیک اسلام ہی مسلمانوں کا بہترین مدافع اور محافظ ہے۔اسلام مسلمانوں سے اپنے تحفظ کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ انہیں تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔مسلمانوں کے ملک و ملت اور جان و مال کی حفاظت صرف اسلام سے وابستگی میں ہے ۔انہوں نے فرمایا:’’ایک سبق جو میں نے تاریخِ اسلام سے سیکھا ہے یہ ہے کہ آڑے وقت میں اسلام ہی نے مسلمانوں کی زندگی کو قائم رکھا ،مسلمانوں نے اسلام کی حفاظت نہیں کی ‘‘۔اس دین کی حقانیت اور اہمیت کے بارے میں رقمطراز ہیں:’’میری طلب و جستجو صرف اس بات پر مرکوز رہی ہے کہ ایک جدید معاشرتی نظام تلاش کیا جائے اورعقلاً یہ ناممکن معلوم ہوتاہے کہ اس کوشش میں ایک ایسے معاشرتی نظام سے قطع نظر کرلیا جائے جس کا مقصد ِ وحید ذات پات ،رتبہ و درجہ ،رنگ و نسل کے تمام امتیازات مٹا دیناہے‘‘۔
اسلام تما م نوعِ انسانی کے حقوق کا احترام کرتا ہے ۔اس دین میں اسود و احمر،عربی اور عجم اور بندہ وآقا کی تمیز کچھ حکم نہیں رکھتی۔اقبال اس جاہلانہ تصورکو سختی سے مسترد کرتے ہیں کہ اسلام کومعاشرتی حیثیت سے نکال کر شخصی ضابطہ بنا دیا جائے۔انہوں نے1930ء کے تاریخی خطبے میں فرمایا:’’کیا آپ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ایک اخلاقی اور سیاسی نصب العین کی حیثیت سے اسلام کا بھی وہی حشر ہو جو مغرب میں مسیحیت کا ہوا؟کیا یہ ممکن ہے کہ ہم عجمی اسلام کو بطور ایک اخلاقی تخیل کے تو برقرار رکھیں لیکن اس کے نظامِ سیاست کے بجائے ان قومی نظامات کو اختیار کر لیں جن میں مذہب کی مداخلت کا کوئی امکان باقی نہ رہتا ‘اسلام کا مذہبی نصب العین اس کے معاشرتی نصب العین سے الگ نہیں،دونوں ایک
٭اسلام بحیثیت دین، مذہب اور سیاست کا مجموعہ ہے دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔اگر آپ نے ایک کو ترک کیا تو بالآخر دوسرے کو ترک کرنا بھی لازم آئے گا۔میں نہیں سمجھتا کہ کوئی مسلمان ایک لمحے کیلئے بھی ایسے نظامِ سیاست پر غور کرنے کیلئے آمادہ ہو گا جو کسی ایسے وطن یا قومی اصول پر مبنی ہو جو اسلام کے اصولی اتحاد کے منافی ہو،،۔
حضرتِ علامہ کے نزدیک اسلام ہی عالمِ انسانیت کیلئے فلاح اورامن کا دستور ہے،اسلام ایک سوشل نظام ہے جو حریت و مساوات کے ستونوں پر کھڑا ہے اور اس وقت احترامِ انسانی کیلئے سب سے بڑی نعمت ہے۔اسلام کا مطالبہ وفاداری صرف خدا کیلئے ہے ،تخت و تاج کیلئے نہیں اور چونکہ ذاتِ باری تعالی تمام زندگی کی روحانی اساس ہے اس لئے اس کی اطاعت کا دراصل مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ہی فطرت ِ صحیحہ کی اطاعت کرتا ہے۔
حضرتِ اقبال کے نزدیک،،اسلام،،ایک عالمگیر سلطنت کا یقینا منتظر ہے جو نسلی امتیازات سے بالا تر ہوگی اور جس میں شخصی اور مطلق العنان بادشاہوں اور سرمایہ داروں کی کوئی گنجائش نہ ہو گی۔حضرتِ علامہ نے مسلمانوں کے تاریک ترین ایام میں اپنی قوتِ ایمانی سے فرمایا:
’’دنیا میں کارفرما قوتیں اکثر اسلام کے خلاف کام کر رہی ہیں لیکن ’’یظہرہ علی الدین کلہ‘‘کے دعوی پر میرا ایمان ہے کہ انجام کار اسلام کی قوتیں کامیاب اور فائز ہو ں گی‘‘۔
آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب ہو جائے گی
اس قدر ہو گی ترنم آفریں بادِ بہار
نکہت خوابیدہ غنچے کی نوا ہو جائے گی
آملیں گے سینہ چاکانِ وطن سے سینہ چاک
بزمِ گل کی ہم نفس بادِ صبا ہو جائے گی
پھر دلوں کو یاد آجائے گاپیغامِ سجود
پھر جبیں خاکِ حرم سے آشنا ہو جائے گی
شب گریزاں ہوگی آخر جلوہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہو گا نغمہ توحید سے
حضرتِ علامہ اقبال نے مسلمانوں کے تحفظ وبقا کیلئے جو راستہ دکھایا ،قائداعظم مسلمانوں کے قافلے کو لیکر اس پر چل پڑے اور بہت قلیل عرصے میں منزل حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے یعنی پاکستان‘اسلام کا پاکستان،ہمیشہ زندہ رہنے والا پاکستان۔قائداعظم نے علامہ اقبال کو خراجِ تحسین ادا کرتے ہوئے فرمایا: :
’’اقبال سے بہتر اسلام کو کسی نے نہیں سمجھا،میں نے ان سے زیادہ وفادار اور اسلام کا شیدائی کسی کو نہیں دیکھا ۔اقبال اس وقت تک زندہ رہیں گے جب تک اسلام زندہ ہے،، اور بلا شبہ اسلام ہمیشہ زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں