Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

مدبّر اقبال کاتدبّر

برصغیرکی تقسیم جیسی زمینی حقیقت کے بعداب تاریخ کوجھٹلانے یاان حقیقی خاکوں میں جھوٹ وبدنیتی کارنگ بھرکرتاریخی واقعات کی شکل بگاڑکرنئی نسل کوگمراہ کرکے اقبال سے بدظن کرنے کی کوشش ایسے ہی ہے جیسے چاندپرتھوکاواپس اپنے منہ پرگرتاہے۔8دہائیوں کے گزرنے کے بعد اقبال پرپنڈت نہروکے اس بے جاالزام کوکیوں دہرایاجارہاہے کہ اقبالؒ اپنی زندگی کے آخری دورمیں سوشلزم کے زیرِاثرتصورِپاکستان سے دستبردارہوگئے تھے۔کیاان الزامات سے زمینی حقائق بدل سکتے ہیں کہ دوبارہ ایسااکھنڈ بھارت قائم ہوجائے جہاں ہرروزکشمیراورگجرات جیسی قیامتیں مسلمانوں پرڈھائی جائیں!اقبال جنہوں نے پاکستان جیسی ریاست کاخواب دیکھا،ان کواس الزام میں آخرکیوں ملوث کیاجارہاہے؟ اور ایک ہی وقت میں بھارت اورپاکستان میں ایسابے ڈھنگاراگ کیوں سنائی دے رہاہے؟آئیے تاریخ کے جھروکوں سے حقائق کی دنیامیں جھانکتے ہیں:
پنڈت جی اپنی کتاب دی ڈسکوری آف انڈیا جو انہوں نے1944ء میں قلعہ احمدنگرکے زنداں میں بیٹھ کرتحریرکی تھی،اس کتاب میں انہوں نے بطور شاعر اورمفکراقبالؒ کے فیضان کی تحسین فرمائی ہے مگراقبال کوخراجِ تحسین کرتے وقت وہ یہ بھی کہہ گزرے ہیں کہ اقبال ایک شاعر،عالم اورفلسفی تھے اورپرانے جاگیرداری نظام سے وابستہ تھے۔ پنڈت جی مزید لکھتے ہیں کہ ’’اقبال پاکستان کے اولین حامیوں میں سے تھے لیکن ایسامعلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اس تجویزکی لغویت اوران خطرات کومحسوس کرلیاتھاجواس تجویزمیں مضمر ہیں۔ برطانوی مصنف ایڈورڈتھامس نے لکھاہے کہ ’’ایک ملاقات کے دوران اقبال نے ان سے یہ کہا کہ انہوں نے مسلم لیگ کے ایک اجلاس میں صدر کی حیثیت سے پاکستان کی حمائت کی تھی مگران کویقین تھاکہ یہ تجویز مجموعی طورپرہندوستان اور خصوصاًمسلمانوں کے لئے مضرہے۔شائد انہوں نے اپناخیال بدل دیاتھایاپہلے اس مسئلے پر زیادہ غور نہیں کیاتھا کیونکہ اس وقت تک اس نے کوئی اہمیت حاصل نہیں کی تھی۔ان کاعام نظریہ زندگی پاکستان یاتقسیمِ ہندکے اس تصور کے ساتھ جو بعدمیں پیداہوا،ہم آہنگ نہیں تھا۔آخری عمرمیں اقبال کارحجان اشتراکیت کی طرف بڑھتاگیا۔ سوویت یونین کی زبردست کامیابی نے ان کوبہت متاثرکیااوران کی شاعری کارخ بدل گیا‘‘۔
پنڈت نہروکایہ الزام سراسرغلط ہے،ان کایہ الزام لاعلمی پرنہیں بلکہ بدنیتی پرمبنی ہے جن لوگوں نے اقبال کی شاعری،فلسفہ اور سیاست کاسرسری سے بھی کم مطالعہ کیاہے وہ بھی اس صداقت کی گواہی دیں گے کہ جاگیرداری نظام کااقبال سے بڑادشمن ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔پنڈت جی سے سب سے بڑا تاریخی سہویہ ہواکہ وہ بھول گئے کہ ان کی کتاب سے3برس قبل قائداعظم کے دیباچہ کے ساتھ قائداعظم ؒکے نام اقبالؒ کے خطوط شائع ہوچکے تھے،یہ انگریزی کتاب یقیناپنڈت جی کی نظرسے گزرچکی ہوگی،اس کتاب میں شامل 28مئی1937ء کاوہ طویل خط بھی شامل ہے جس میں پنڈت جی کی ’’بے خداسوشلزم‘‘کوبھی زیرِبحث لایا گیاہے اوربتایاگیاہے کہ مسلمان تورہے ایک طرف،خودہندومعاشرہ بھی ’’بے خداسوشلزم‘‘کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔پنڈت جی کی سوشلزم کوردکرتے وقت اقبالؒنے قائداعظمؒ کوبتایاہے کہ اگراسلامی شریعت کی دورِحاضرکے معاشی نظریات کی روشنی میں ازسرِنوتفسیرکی جائے تومسلمان عوام کی روٹی روزگارکامسئلہ بہترطورپرحل ہوسکتاہے۔ مسلمان کوغربت کے عذاب سے نجات دلانے کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ مسلمانوں کی الگ قانون سازاسمبلی ہواوریہ اسمبلی متحدہ ہندوستان کی بجائے ایک الگ خودمختارمملکت میں ہی قائم کی جاسکتی ہے۔اس خط کے مندرجات زبانِ حال سے پکار پکارکرکہہ رہے ہیں کہ:
اول:اقبالؒ جواہرلال نہروکے ’’بے خداسوشلزم‘‘ پراسلام کے اقتصادی نظام کوترجیح دیتے ہیں۔
دوم:اسلام کے اقتصادی نظام کوعہدِجدیدکے سیاق وسباق میں نافذکرنے کے لئے جداگانہ مسلمان مملکت کاقیام ضروری ہے۔
سوم:اپنی وفات سے فقط چندماہ پہلے وہ قائداعظم کویہ مشورہ دے رہے تھے کہ وہ قیامِ پاکستان کوکل ہند مسلم لیگ کاسیاسی پروگرام بنالیں۔
چہارم:اس خط کے آخرمیں وہ قائداعظم ؒسے سوال کرتے ہیں کہ کیاوہ وقت نہیں آپہنچاجب ہمیں کھل کرقیامِ پاکستا ن کواپنی منزل قراردے دیناچاہئے؟
پنڈت جی دانستہ طورپراقبال کی وفات سے تین ماہ پیشترمیاں افتخارالدین کے ہمراہ جاوید منزل میں علامہ اقبال سے جوملاقات کی تھی،اس ملاقات کی خوشگواریادوں کایہ واقعہ بیان کرناکیوں مناسب نہیں سمجھالیکن اسے ڈاکٹرعاشق حسین بٹالوی نے اپنی کتاب ’’اقبال کے آخری دوسال‘‘ میں بیان کردیاہے۔محترم بٹالوی صاحب لکھتے ہیں:
پنڈت نہرواس زمانے میں زورشورسے سوشلزم کاپروپیگنڈہ کرنے میں مصروف تھے،انڈین نیشنل کانگرس کے دواجلاسوں کے وہ صدررہ چکے تھے اوردونوں مرتبہ اپنے خطباتِ صدارت میں انہوں نے کہاتھاکہ ہندوستان کے تمام مصائب کاعلاج سوشلزم ہے لیکن کانگرس کے بڑے بڑے لیڈروں میں کوئی شخص بھی اس بارے میں پنڈت نہرو کامعاون یا ہم خیال نہیں تھابلکہ سردار پٹیل،راج گوپال اچاریہ اورستیہ مورتی نے توعلی الاعلان پنڈت نہروکے اس عقیدے سے اختلاف کااظہار کیاتھا۔دورانِ ملاقات میں ڈاکٹرصاحب نے پنڈت نہروسے پوچھاکہ سوشلزم کے بارے میں کانگرس کے کتنے آدمی آپ کے ہم خیال ہیں؟ پنڈت جی نے جواب دیاکہ ،نصف درجن کے قریب،۔ڈاکٹرصاحب نے فرمایا’’تعجب ہے، خودآپ کی جماعت میں آپ کے ہم خیالوں کی تعداد صرف نصف درجن ہے،ادھر آپ مجھ سے کہتے ہیں کہ میں مسلمانوں کوکانگرس میں شامل ہونے کامشورہ دوں،توکیامیں دس کروڑمسلمانوں کو چھ آدمیوں کی خاطرآگ میں جھونک دوں؟‘‘اس پرپنڈت جی خاموش ہوگئے۔
اسی ملاقات میں ایک اورناگواواقعہ بھی پیش آیا تھا اورپنڈت جی نے اس کوبھی قوم کوبتانا مناسب نہیں سمجھا،ہاں البتہ بٹالوی صاحب نے بیان کردیاہے:
ابھی ان دوعظیم المرتبت انسانوں کے ساتھ گفتگوجاری تھی کہ یکایک میاں افتخارالدین بیچ میں بول اٹھے کہ’’ڈاکٹرصاحب!آپ مسلمانوں کے لیڈرکیوں نہیں بن جاتے؟مسلمان مسٹرجناح سے زیادہ آپ کی عزت کرتے ہیں،اگرآپ مسلمانوں کی طرف سے کانگرس کے ساتھ بات چیت کریں تونتیجہ بہترنکلے گا۔ ڈاکٹر صاحب لیٹے ہوئے تھے،یہ سنتے ہی غصے میں اٹھ کر بیٹھ گئے اور انگریزی میں کہنے لگے’’تواچھا،یہ چال ہے کہ آپ مجھے بہلاپھسلا کر مسٹرجناح کے مقابلے میں کھڑاکرنا چاہتے ہیں،میں آپ کو بتادیناچاہتاہوں کہ مسٹرجناح ہی مسلمانوں کے اصل لیڈرہیں اور میں توان کامعمولی سپاہی ہوں‘‘۔اس کے بعد ڈاکٹر صاحب بالکل خاموش ہوگئے اورکمرے میں تکدر آمیزسکوت طاری ہوگیا۔نہرو نے فوراً محسوس کر لیا کہ میاں افتخارالدین کے دخل در معقولات نے ڈاکٹر صاحب کوناراض کردیاہے اوراب مزید گفتگو جاری رکھنابے سودہے چنانچہ وہ اجازت لے کررخصت ہوگئے۔
حیرت یہ ہے کہ انہوں نے ان ناقابلِ فراموش یادوں کوتوآسانی سے فراموش کردیامگر ایڈورڈ تھامسن کی گپ شپ کوناقابلِ تردید تاریخی صداقت کادرجہ دے دیا۔ایڈورڈتھامسن آکسفورڈ یونیورسٹی میں بنگالی زبان کے استادتھے اورتاریخ ہندسے بھی علمی شغف رکھتے تھے۔وہ دومرتبہ برطانیہ کے اخبارمانچسٹرگارڈین کے نامہ نگارکے روپ میں بھی برٹش انڈیا تشریف لائے تھے۔گاندھی، رابندرناتھ ٹیگور،راج گوپال اچاری، سردارپٹیل اورجواہرلال نہروکے ساتھ ان کے گہرے دوستانہ تعلقات تھے جہاں وہ ہمیشہ مسلم لیگ کی مخالفت میں سرگرم رہتے تھے،وہاں کانگرس کی پرجوش وکالت کاکوئی موقعہ بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔جس روایت کاسہارالیکرپنڈت جی نے اقبال پرالزام تراشی کی ہے وہ ایڈورڈ تھامسن اورعلامہ اقبال کی زبانی گفتگو پرمبنی ہے۔ایڈورڈ تھامسن موصوف کایہ بیان قائداعظمؒ کے نام اقبالؒ کے متذکرہ بالاخطوط کی دستاویزی شہادت کے ساتھ ساتھ اقبال نہرو ملاقات کے مندرجہ بالااحوال ومقامات کی بنیادپر جھوٹ ثابت ہوتاہے۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں