(گزشتہ سے پیوستہ)
اقبالؒ آخردم تک اپنے تصورِپاکستان کوقیامِ پاکستان کی صورت میں جلوہ گردیکھنے کی تمنامیں سرشاررہے۔ قائداعظم کے ایک ادنیٰ سپاہی کی حیثیت میں سرگرمِ عمل رہے اوراسلامیانِ ہندکویہ مشورہ دیتے رہے کہ میری زندگی کی دعائیں مانگنے کی بجائے محمدعلی جناح کی طویل زندگی کی دعائیں مانگو،صرف جناح ہی قوم کی کشتی کوساحل ِمرادتک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔نہ معلوم یہ باتیں پنڈت جی کے ذہن سے کیوں محوہوگئی تھیں یا انہوں نے ان باتوں کو ناخوشگواراوراپنی سیاسی آئیڈیالوجی کی تردیدسمجھ کراپنی کتاب میں درج کرناکیوں مناسب نہیں سمجھا؟
پنڈت نہرونے1933ء میں لندن کی گول میزکانفرنس میںمسلمان مندوبین کے طرزِفکروعمل کو تنقیدکانشانہ بنایاتھا۔گاندھی کے اس رویہ کی حمائت میں نہروکی لب کشائی پراقبال حیرت زدہ رہ گئے کیونکہ اقبال اس کانفرنس میں شریک تھے مگرنہرو شریک نہیں تھے۔کانگرس کی نمائندگی گاندھی نے کی تھی۔گاندھی نے واپسی پرکہاکہ انہوں نے ذاتی طورپرمسلمانوں کے تمام مطالبات کوقبول کرلیاتھامگرسیاسی رجعت پسندی کی بنا پر مسلمانوں نے کانفرنس کوناکام بنادیا۔نہرونے گاندھی کی باتوں میں آکرمسلمان مندوبین کے خلاف ایک انتہائی سخت سیاسی بیان داغ دیاچنانچہ علامہ اقبال نے گاندھی کے اس الزام کی تردید میں نہروکوجوخط تحریرکیااس میں علامہ کااخلاق ملاحظہ فرمائیں:
’’میں پنڈت جواہرلال نہروکے خلوص اور صاف گوئی کی ہمیشہ سے قدرکرتارہاہوں۔ مہاسبھائی معترضین کے جواب میں جوتازہ ترین بیان انہوں نے دیا ہے اس سے خلوص ٹپکتاہے اور یہ چیزآج کل کے ہندوستانیوں میں کم یاب ہے لیکن ایسامحسوس ہوتاہے کہ پچھلے تین سالوں میں جوگول میزکانفرنسیں لندن میں منعقد ہوئی ہیں ان میں شریک ہونے والے مندوبین کے رویہ کے متعلق پنڈت جی کی تحقیق کی بنیادکسی تعصب پرمبنی ہے‘‘۔اس خوش گمانی کے اظہارکے بعدعلامہ اقبال نے اصل حالات کوبے نقاب کرتے ہوئے بتایاکہ ’’ گاندھی جی نے مسلمانوں کے مطالبات کوذاتی طورپر ماننے کاعندیہ تودیا تھا مگرساتھ ہی یہ بھی واضح کردیا تھاکہ وہ اس بات کی حتمی ضمانت نہیں دے سکتے کہ کانگرس کی مجلسِ انتظامیہ بھی ان مطالبات کوتسلیم کرلے گی،ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتادیا تھا کہ کانگرس انہیں ان مطالبات کے سلسلے میں مکمل اختیاردینے کے لئے کبھی بھی رضامندنہیں ہو گی، گویاعملًا گاندھی جی نے مسلمانوں کے تمام مطالبات کورد کردیا تھا، مسٹرگاندھی کی دوسری غیرمنصفانہ شرط یہ تھی کہ مسلمان اچھوتوں کے مخصوص مطالبات کی حمایت ترک کردیں مگر مسلمانوں نے اچھوتوں کی حمائت سے دستبرداری سے انکارکرکے گاندھی جی کوناراض کردیاتھا‘‘۔چنانچہ اپنے اس خط میں انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ اپنے زدِعام سوشلسٹ خیالات کے پیشِ نظرپنڈت جواہرلال نہرو اس انسانیت کش شرط کی کیسے حمائت کریں گے؟کم ازکم انہیں یہ زیب نہیں دیتاکہ وہ مسلمانوں کوسیاسی معاملات میں رجعت پسندی کا الزام دیں۔اس صورت میں وہ لوگ جوہندوں کے فرقہ پرستانہ مقاصدکو اچھی طرح سمجھتے ہیں،اس نتیجے پرپہنچنے میں حق بجانب ہوں گے کہ پنڈت جی فرقہ وارانہ فیصلے کے خلاف ہندو مہاسبھاکی جاری کردہ مہم میں ایک سرگرم رکن ہیں‘‘۔
مسلمانوں کے خلاف پنڈت جواہرلال نہروکا دوسر االزام یہ تھاکہ مسلمان ہندوستانی قومیت کے مخالف ہیں۔اس کے جواب میں علامہ اقبالؒ نے فرمایا:اگرقومیت سے ان کی مراد یہ ہے کہ مختلف مذہبی جماعتوں کوحیاتاتی معنوں میں ملاجلاکرایک کردیاجائے توپھر میں ہی اس نظریہ قومیت سے انکارکامجرم ہوں۔میں پنڈت نہروسے ایک سیدھاساسوال کرنا چاہتاہوں،جب تک اکثریت والی قوم دس کروڑکی اقلیت کے کم سے کم تحفظات کوجنہیں وہ اپنی بقاء کے لئے ضروری سمجھتی ہے،نہ مان لے اورنہ ہی ثالث کافیصلہ تسلیم کرے بلکہ واحد قومیت کی ایسے رٹ لگاتی رہے جس میں صرف اس کااپناہی فائدہ ہے، ہندوستان کامسئلہ کیسے حل ہوسکتا ہے؟ اس سے صرف دوصورتیں نکلتی ہیں،یاتو اکثریت والی ہندوستانی قوم کویہ مانناپڑے گاکہ وہ مشرق میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے برٹش سامراج کی ایجنٹ بنی رہے گی یاپھرملک کومذہبی،تاریخی اورتمدنی حالات کے پیشِ نظراس طرح تقسیم کرناہوگاکہ موجودہ شکل میں انتخابات اورفرقہ وارانہ مسئلہ کاسوال ہی نہ رہے‘‘۔
پنڈت نہروکے جواب میں دیاگیا علامہ اقبالؒ کایہ بیان یقینی طورپرپنڈت جی کی نظروں سے گزراہوگا۔یہ بیان تصورِپاکستان کی نفی سے نہیں بلکہ اثبات سے عبارت ہے ۔ایسے میں پنڈت جی کایہ کہناکہ 1930ء کے بعداقبالؒ اپنے تصورِ پاکستان سے دستبردارہو گئے تھے، دیانت داری پرمبنی نظرنہیں آتا ،جب پنڈت نہرونے (ماڈرن ریویوکلکتہ )میں دنیائے اسلام کی صورتحال پرتین مضامین میں وطنیت اورلا دینیت کے فروغ کاخیر مقدم کیاتھاتواس کے جواب میں اقبال نے بھی (ماڈرن ریویوکلکتہ)ہی میں پنڈت جی کی فکری گمراہی کوراست فکری میں بدلنے کاسامان کیا۔ اپنے طویل مضمون کے آغازمیں اقبال نے برملاکہا:
’’میں اس بات کوپنڈت جی اورقارئین سے پوشیدہ نہیں رکھناچاہتاکہ پنڈت جی کے مضامین نے میرے ذہن میں احساسات کاایک دردناک ہیجان پیداکردیاہے۔جس انداز میں انہوں نے اپنے خیالات کااظہارکیاہے اس سے ایک ایسی ذہنیت کاپتہ چلتاہے جس کو پنڈت جی سے منسوب کرنامیرے لئے دشوارہے۔وہ اپنے دل میں مسلمانانِ ہندکے مذہبی اورسیاسی استحکام پسند نہیں کرتے‘‘۔
قارئین!ذراغورفرمائیں کہ اقبال کایہ تجزیہ کہ ’’پنڈت جی کی سیاسی تصوریت نے احساسِ حقائق کوکچل ڈالاہے‘‘وقت نے بہت جلد سچ ثابت کردکھایا،جب پنڈت جی کے دل میں برصغیرکی زندگی کے ٹھوس حقائق کااحساس جاگ اٹھاتومولانا ابو الکلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں بھی ٹھوس حقائق یعنی قیامِ پاکستان کی حقیقت کوقبول کرنے کامشورہ دینے لگے۔مولانا آزاد نے اپنی تصنیف انڈیا ونزفریڈم میں اس بات کا ذکر یوں فرمایاہے: ’’کچھ دنوں کے بعد جواہر لال مجھ سے دوبارہ ملنے آئے۔ اس نے ایک طویل تمہید کے ساتھ آغاز کیا جس میں اس نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں خواہش مندانہ سوچ میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے بلکہ حقیقت کا سامنا کرنا چاہئے۔ بالآخر وہ اس بات پر آئے اور مجھ سے تقسیم کی مخالفت ترک کرنے کو کہا‘‘۔
اسلامیانِ ہند نے1944ء کے انتخابات میں اپنے ووٹ کے ذریعے نہرواورگاندھی کے سیاسی خواب پرستوں کوزندگی کے جن حقائق کااحساس دلایاتھا،اقبالؒ نے برسوں پہلے نہرو کوان حقائق کی جانب متوجہ کرتے ہوئے کہاتھاکہ سیاسی تدبرکا تقاضہ یہ ہے کہ زندگی کے حقائق سے فرارکرنے کی بجائے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کران سے پنجہ آزما ہوا جائے‘‘۔اپنے زیرِنظر مضمون میں بھی علامہ اقبال نے جداگانہ مسلمان قومیت کے سوال پردوٹوک اندازمیں اظہارِخیال کیاتھا۔ اقبالؒ نے اسلامیانِ ہندکے سیاسی مسلک پران الفاظ پرروشنی ڈالی تھی:
’’اسلام سے اس وقت تصادم ہوتاہے جب کہ وہ ایک سیاسی تصوربن جاتی ہے اوراتحادانسانی کا بنیادی اصول ہونے کا دعوی کرتی ہے اوریہ مطالبہ کرتی ہے کہ اسلام شخصی عقیدے کے پس منظرمیں چلاجائے اورقومی زندگی میں ایک حیات بخش عنصرکی حیثیت سے باقی نہ رہے،جداگانہ مسلمان قومیت کاسوال صرف ان ممالک میں پیداہوتاہے جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں اورجہاں قومیت کایہ تقاضہ ہے کہ وہ اپنی ہستی کومٹادیں۔جن ممالک میں مسلمان اکثریت میں ہیں،اسلام قومیت سے ہم آہنگی پیداکرلیتاہے کیونکہ یہاں اسلام اور قومیت عملاایک ہی چیزہے۔میں یقین کامل کے ساتھ کہہ سکتاہوں کہ اسلامیانِ ہندکسی ایسی سیاسی تصوریت کاشکارنہیں بنیں گے جوان کی تہذیبی وحدت کاخاتمہ کردے گی،اگر ان کی تہذیبی وحدت محفوظ ہوجائے توہم اعتمادکر سکتے ہیں کہ وہ مذہب اورحب الوطنی میں ہم آہنگی پیداکرلیں گے‘‘۔
علامہ اقبالؒ کایقین ِکامل بالکل درست نکلا، اسلامیانِ ہندنے بالآخرمتحدہ ہندوستانی قومیت کے سیاسی تصورکوغلط ثابت کرتے ہوئے جمہوری عمل کے ذریعے پاکستان قائم کر لیا ۔ ان کی تہذیبی وحدت محفوظ ہوگئی اوریوں پاکستان میں اسلام سے عشق اور وطن سے محبت میں کوئی تضادباقی نہ رہا۔اب ہمارادین اسلام ہے اورہماراوطن دارلسلام ہے اوردوسری طرف آپ نہروکی صداقت کااس بات سے اندازہ لگالیں کہ ساری دنیا کے سامنے انہوں نے تحریری طورپراس بات کااعتراف کیاکہ وہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دیں گے لیکن خودہی اپنی تحریرسے منحرف ہوگئے اوراس وعدہ خلافی نے ان کی ساری شخصیت کابھرم طشت ازبام کردیاہے۔