Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

اگرمنظربدل جائے۔۔۔۔!

اگرسننے والے مزاج آشناہوں توگفتگوکرنے کامزاآتاہے اوران سب کی سننے کی خواہش بھی مزادیتی ہے لیکن پتہ نہیں ان دنوں طبیعت کیوں بوجھل سی رہتی ہے۔اردگرد سناٹاہے اورجذبات کی شائیں شائیں نے کپکپی طاری کررکھی ہے۔ گزشتہ چندنوں سے ٹیلیفون کاگلہ دباکرسب کے ساتھ رابطہ منقطع کئے خاموش بیٹھاہوں۔ اچانک کل صبح ایک بچی نے گھر کادروازہ زورزور سے پیٹناشروع کردیا۔دروازہ کھولاتوشکائت شروع کردی کہ اتنی دیرسے ٹیلیفون کررہی تھی لیکن کسی نے اٹھانے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کی توسوچاخودہی دیکھ آؤں۔ منافقت بھری مسکراہٹ سے آنے کا مقصد دریافت کیاتوبولی: مجھے پاکستان کے یومِ آزادی پر تقریر کرنی ہے لکھ دیں۔میں نے یہ کہہ کرانکارکردیاکہ یومِ آزادی توگزر چکا تواس نے فوری جواب میں کہاکہ ’’کیایومِ آزادی صرف ایک ہی دن کے لئے ہوتاہے؟‘‘۔مجھے یقیناایسے جواب کی توقع نہیں تھی۔میں نے مختلف اندازمیں اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ بضدتھی کہ ہمارے اسکول والوں نے ایک علامتی پاکستانی پارلیمنٹ کاسٹیج سجایاہے اوروہاں مختلف مہمانان کوبطوراسمبلی ممبران اوران میں سے ایک سنئیرترین بزرگ نے بطوراسپیکرشرکت کرنی ہے اس لئے اس پروگرام کی اہمیت کوسمجھتے ہوئے آپ کی مدددرکارہے۔جب اس کااصراربڑھاتو اچھا خودلکھ لوں گی لیکن،لیکن کیا؟آپ اسے دیکھ تو لیں گے ناں۔میں نے جان چھڑاتے ہوئے حامی بھرلی کہ ہاں ضروردیکھ لوں گا۔ اب یہ میرے سامنے ہے۔یوم آزادی جمہوریت پرایک مباحثہ ،ہنسی آتی ہے اب تو۔خیرایک بچی کے خیالات پڑھ لیجیے۔اس سے متفق ہوناکیاضروری ہے،معلوم نہیں۔
جناب اسپیکر!ایوان میں موجودافرادکی تقاریر آپ نے سنیں جن میں انہوں نے آزادملک کے آزاد شہریوں کی پرکیف زندگی کے بڑے سہانے مناظر دکھائے ہیں۔ان تمام حضرات کی تقاریرسے میں محظوظ ہوئے بغیرنہیں رہ سکتی۔ یقین ہوگیاہے کہ بینائی اس حد تک کمزورہوسکتی ہے،معلومات کااس قدرفقدان ہوسکتاہے یاہم حقائق سے نظریں چراتے ہیں!ہماری خودمیں مصروف زندگیاں ہمیں اجازت نہیں دیتیں کہ ہم عوام کی اس دھندلائی ہوئی تصویرکادوسرارخ بھی دیکھ سکیں جہاں صرف دکھ ہے ،درد ہے،محرومی ہے،احساسِ غلامی ہے،اپنے تمام اورمکمل وجودکے ساتھ بھی بے دست وپائی ہے،آزاد ملک کے شہری ہونے کے باوجود احساسات تک پہرے میں ہیں،زندگی کی ہرسانس مقروض،ہرفکرپہ پہرہ ہرجنش پرچیک ہربات کی نگرانی۔ یہ تو ایک مڈل کلاس اورکچھ سوچنے سمجھنے والے کاحشرہے اوریہ بھی عوام کی زندگی کاایک رخ ہے۔
آپ کوسن کربہت اچھالگے گامیرے قابل احترام ساتھیوں کوبہت خوشی ہوگی سن کر،یہاں ہرایک آزادہے۔دال کھائے،چٹنی کھائے،کھاسکے توکھائے ورنہ آزادہے کہ رات کو بھوکاہی سوجائے۔اگراس کامعصوم بچہ بیمارہے اوراس کودواکی ضرورت ہے تووہ بالکل آزادہے چاہے اس کوبخارسے سلگ کرمرنے دے،چاہے پانچ روپے کی میٹھی گولیاں لا دے، جس طرح چاہے مرنے دے اس پرکوئی پابندی نہیں۔وہ کسی کی ذمہ داری نہیں ہے،اس کی موت کسی کابوجھ نہیں ہے۔اگراس وطن کے شہری کو بڑھاپے یاادھیڑعمری نے آلیاہے،اس کوکوئی تکلیف ہے تووہ بالکل آزاد ہے چاہے اپنی کھولی میں دم توڑے،سڑک کے کنارے کھانس کھانس کرمرجائے یاچلتی ہوئی کسی منی بس سے اترتے ہوئے اس کے پہیوں تلے کچلاجائے اورہاں اگرکوئی مقروض ہے،اولادوں کابوجھ ہے،ذمہ داریاں ہیں،قرض اتارناہے تووہ بالکل آزادہے گردہ بیچ ڈالے، اپنالہوفروخت کردے،اپنی ایک آنکھ بیچ دے۔اگر عورت ہے تواپناجسم بیچ دے،عزت وآبروسرِبازار نیلام کردے کیونکہ وہ آزاد وطن کی آزادشہری ہے۔
اگرکوئی نوجوان اپنی ڈگریاں ہاتھوں میں اٹھائے شہرمیں دن بھرآوارہ گردی کرناچاہے توکرسکتاہے،اسے مکمل آزادی ہے۔وہ جب تک اورجتناچاہے سڑکیں ناپ لے اورجب چاہے جس طرح چاہے خودکشی کرلے۔ریل کی پٹری پرلیٹ جائے،گھرمیں پنکھے سے لٹک جائے،زہرپی لے، ۔اس پرکوئی پابندی نہیں ہے۔اس کی اپنی زندگی تھی،اپنی موت ہے،وہ آزادہے جس طرح چاہے مرجائے۔ایک اوردلچسپ بات ہے جومیرے تمام فیوڈل ساتھیوں کوپسندآئے گی کیونکہ ہماراایوان زیادہ ترفیوڈلزسے ہی بھراہوا ہے ناں ۔ان کی خوشی کے لئے یہ پہلو بھی اجاگرکرنامناسب سمجھتی ہوں کہ ہمارے ہاں ہرطرح کی آزادی ہے،ہم جس کی بہن بیٹی بیوی کوجب چاہیں اورجہاں سے چاہیں اٹھالیں اوراس کے ساتھ جوچاہے سلوک کریں اورپھرجس طرح چاہیں کہانی ختم کرادیں، خواہ ہم اسے کاری کہہ دیں اس کوزندہ دفن کردیں، چاہیں تواس کوختم کرنے سے پہلے کتوں سے نچوابھی سکتے ہیں۔ اگران کے اس ظالمانہ سلوک کے خلاف حکومت سے کاروائی کے لئے کہیں تواسمبلی میں بیٹھے ان سرداروں کی طرف سیایک تنبیہ سب پرپرزہ طاری کردیتی ہے کہ خبردار!یہ ہماراری روایات ہیں،اس میں مخل ہونے کی کسی کواجازت نہیں اورکسی کی مجال نہیں کہ ان درندوں کے خلاف کوئی کاروائی کرسکے کیونکہ انہیں علم ہے کہ ہمیں کوئی کچھ نہیں کہے گا،ہم آزادہیں۔
لوگوں کی یہ بات قطعی غلط ہے کہ ہم پرکوئی چیک لگاسکتاہے اورجوہماراسماج ہے ناں،اس میں تومزید آزادی یہ بھی ہے کہ جب جس کابس چلے وہ دوسری خاتون کوجلادے۔یہ نہیں کرسکتاتوکم ازکم اس پرتیزاب توپھینک سکتاہے ناں۔ہماراقانون ہماری پولیس بھی بالکل آزادہیں،ان کوکوئی کچھ نہیں کہہ سکتا،نہ ہاتھ پکڑسکتاہے نہ پوچھ سکتاہے،وہ جس کوچاہیں مجرم بنادیں اور جس کوچاہیں معصوم۔ اسی آزادی کی وجہ سے آج یہ ایوان وجودمیں آیاہے جس میں صرف مراعات یافتہ لوگ ہی براجمان ہو سکتے ہیں۔مگر جناب اسپیکر! میرے معززاراکین یقینااس حقیقت سے واقف ہوں گے کہ آزادی اورجمہوریت کے راگ الاپنے والے تمام لوگ کس طرح ایوان تک پہنچتے ہیں۔حالت جب یہ ہوکہ عوام کے نمائندگان کونمائندگی دینے کافیصلہ بھی ایسے ہوکہ پہلی مرتبہ ایک آزادالیکشن کمشنرکی تعیناتی پرسب نے سکھ کاسانس لیاتھالیکن اس انتخابات میں ہونے والی دھاندلیوں پرہر جماعت کوشدید تحفظات ہیں اورکچھ توان کے خلاف باقاعدہ تحریک چلانے کاعندیہ بھی دے رہی ہیں جبکہ یہ تقرری انہی کے قلم سے منظورہوکراس معراج تک پہنچی تھی۔
جناب اسپیکر!میں پوچھتی ہوں جس ملک میں صابن اور ڈٹرجنٹ سے لے کرتمام کی تمام اشیاصرف غیرملکی کمپنیاں بناتی ہوں اورملک میں روٹی سے لے کرپٹرول اورتیل وگیس کی قیمتیں تک آئی ایم اورورلڈ بینک طے کرتے ہوں اس ملک کوکیاآپ آزاد کہہ سکتے ہیں؟آزادی کسی دیوی پری یاکسی مجسمہ کانام تونہیں ہے کہ وہ آپ نے نصب کردیااورسب نے تالیاں بجادیں۔اس کے بعدزندگی پہروں میں رہے سانس بھی قیدمیں ہو،ہم نے صرف لفظ ِجمہوریت کالالی پاپ عوام کوپکڑادیاکہ خوش ہوجائے۔ آزادی تواپنی سر زمین پراپنے عقیدے نظریے کے ساتھ اپنے وسائل کوخود استعمال کرکے اپنی مٹی پرآزادی سے چل کرپیٹ بھر کرروٹی کھانے اورنیندبھرکرسونے کانام ہے۔آزادی میں اپنے حال اورمستقبل کے فیصلے خودکرنے کااختیار ہوتاہے۔آزادوطن میں ہرایک اپنانقطہ نظر بیان کرنے اوراپنی مرضی سے جینے میں آزادہوتاہے۔
جمہوری وطن کے لوگوں اوربچہ جمہورامیں بڑافرق ہوتاہے۔کاش یہ ہمارے مظلوم اورپسے ہوئے عوام کوپتاہوتا۔اگروہ یہ جان جائیں توجومنظرآج ہے وہ نہ ہو۔جس آزادی کے راگ ہم اورآپ الاپتے رہتے ہیں وہ اگرحقیقتاًعوام کونصیب ہوتی توہماری اورآپ کی بڑی مشکل ہوجاتی۔ہماری یہ پرتعیش زندگی جس کاہرہرپل غریب عوام کے خون سے نچڑ کر بناہے،مجھے ان بڑے بڑے ایوانوں لمبی لمبی ائیرکنڈیشنڈ گاڑیوں بلند وبالاسیمینارہالوں سے غریب عوام کے جلے ہوئے خون اوربھنے ہوئے گوشت کی بو آتی ہے۔میرادل لرزتا ہے کہ جن کے ٹیکسوں سے ہم نے عیاشی کی،جنہیں مہنگائی کے عذاب نے پیس ڈالا،غریب عوام کی کھال توکیاان کی چربی اورگوشت کی تہہ کوبھی جلاکریہ ساراکاروبارہم نے سجالیا ہے،کہیں ایسانہ ہوکہ ایک دن ہم سب اس میں دفن ہوجائیں۔
خالقِ ارض وسماان کابھی رب ہے،آزادی کے نعروں میں جس دن اس نے چاہارنگ بھردیاتوہم اورآپ عوام سے بچ کرکہاں جائیں گے؟اس لیے کہ جس کاخون،جس کاپسینہ جس کاووٹ اورجس کانوٹ ہے،اس کاکوئی اختیارنہیں۔آپ چاہے بجلی دیں،چاہے نہ دیں اورخودایئرکنڈیشنڈکمروں میں بیٹھ کران کوصبراوراولوالعزمی کادرس دیں،ایسانہیں ہو سکتا۔یہ سب کچھ ہم پرعوام کاقرض ہے جو انہوں نے اپنی کمرتوڑ کرہمیں دیاہے،ہمیں یہ لوٹاناہوگا۔ ہمارے اکابرین نے اپنی انتھک محنت اوردیانتداری کے ساتھ جس آزادی کو حاصل کیاتھایقینااس خواب سے ہم اب بھی کوسوں دورہیں!
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں