Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

اگرمنظربدل جائے۔۔۔۔!

(گزشتہ سےپیوستہ)
جناب سپیکر!آزادی اورغلامی میں کیافرق ہے،اس کااندازہ ہرآئے دن شہیدہونے والے نہتے فلسطینیوں سے پوچھ لیں یاپھران کشمیریوں سے پوچھ لیں جن کاوکیل ہونے کاہم دعویٰ کرتے ہیں۔کشمیریوں پرہونے والے ظلم وستم کااندازہ آپ کیالگائیں گے کہ جس کشمیرکو قائدنے پاکستان کی شہہ رگ قراردیاتھا،اس کوتوہم نے ایک پلیٹ میں رکھ کرمودی کو پیش کردیا ہے۔ان ڈیڑھ لاکھ کشمیری شہداکاخون کیارائیگاں چلاجائے گا، ہزاروں عصمت مآب بیٹیوں پرہونے والے مظالم کاکوئی مداوانہیں ہوگا؟؟ہزاروں نوجوانوں کوبرسوں سے گھروں سے اغواکرکے غائب کردیا گیاہے جن کے منتظرماں باپ اب بھی ہرعید اورتہوار پراپنے گھر کے دروازے پرنگاہیں جمائے پتھرہوگئے ہیں،جن کاقرض اب بھی ہم
پاکستانیوں پرواجب ہے جوابھی تک پاکستان کی دیوانہ وارمحبت میں اس قدرسرشارہیں کہ پاکستان کی تکمیل کے لئے اب بھی اپنی جانوں کو ہتھیلیوں پرلئے بیٹھے ہیں لیکن ہمارے مقتدر سربراہ قصرسفیدکے فرعون کے حضورسربسجودہوکراپنی اطاعت پرمہرثبت کرکے کشمیریوں کی پشت میں خنجرگھونپ کرآگئے ہیں۔
آپ ان کشمیریوں کوکیاجواب دیں گے جوآج بھی باوجودنامساعدحالات کے عیدالفطر بھی پاکستان کے جھنڈے لہراتے ہوئے مناتے جس کی وجہ سے بھارتی فورسزبہیمانہ ظلم کرتے ہوئے کرفیونافذکرکے گولیوں کی بوچھاڑمیں آزادی کے متوالوں کو روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں اوریہی عمل وہ 14اگست کودہراتے ہیں تاکہ پاکستان کایومِ ِ آزادی نہ مناسکیں اور بھارتی یوم آزادی کے دن سیاہ جھنڈے اٹھاکراپنی نفرت کااظہارنہ کرسکیں۔کیاہم وہ مناظرفراموش کرسکتے ہیں جب ضعیف العمری اورعلالت کے باوجود جناب سیدعلی گیلانی کشمیریوں کے ایک جم غفیرمیں یہ پرعزم نعرے’’ہم ہیں پاکستانی،پاکستان ہماراہے‘‘کاپیغام ہم تک پہنچاتے رہیں ہیں لیکن ہم نے جواب میں ان کے ساتھ کیاکیا؟ کیااپنے عشاق کے ساتھ کوئی ایساسفاک سلوک بھی کرتاہے جوہم نے ان کے ساتھ کیا؟اس ظلم کاجواب نہ صرف ہم پرفرض بلکہ قرض ہے جسے چکانے کے لئے شائدخون کے دریا عبورکرنے پڑیں۔
بڑا مزہ ہو جو محشر میں ہم کریں شکوہ
وہ منتوں سے کہیں چپ رہو خداکے لئے
جبکہ ہمارے ایک حکمران نے خودسینے پرہاتھ رکھ کرکشمیرکاوکیل ہونے کادعویٰ کیااورہندوستان کے اس عمل کے خلاف ہرہفتے ایک گھنٹے کے احتجاج کااعلان کرتے ہوئے صرف پہلے دن فقط دس منٹ کے لئے فوٹوسیشن کیااوراس کے بعد آج تک اس کوکشمیریادتک نہیں آیااوردوسرامجرم جودردرجن صحافیوں کی موجودگی میں اپنی بزدلی کااعلان کررہاتھا،آج یہ دونوں کردارکہاں ہیں؟
کیامجھے دوبارہ یادکرواناپڑے گاکہ ایک متکبرعورت اندراگاندھی نے سقوطِ کشمیرکے موقع پرہمارے زخموں پرنمک چھڑکتے ہوئے کہاتھاکہ آج ہم نے دوقومی نظریہ کوخلیج بنگال میں ڈبودیاہے لیکن پاکستان کوتوڑنے والوں سے قدرت کاانتقام دیکھیں کہ سب سے پہلے اس کاجواں سال بیٹاسنجے ہیلی کاپٹر کے حادثے میں جل کرراکھ ہوگیا، خوداندراکو اس کے ذاتی محافظوں نے گولیوں سے چھلنی کردیااور بعدازاں اس کے بیٹے راجیوکوایک تامل خاتون نے خودکش حملے میں ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔
دوسرے کردارمجیب کوٹھیک بھارتی یوم آزادی کے دن فوج کے افسروں نے پورے خاندان سمیت گولیوں سے بھون دیااورایک بھارتی مشہورصحافی کے مطابق تین دن تک سیڑھیوں میں پڑی مجیب کی لاش کو آوارہ بلیاں اورکتے نوچ رہے تھے جن کوہٹانے کے لئے باقاعدہ گولی چلانی پڑی۔اس وقت حسینہ واجد بھارت میں مقیم تھی اس لئے بچ گئی لیکن میں سمجھتی ہوں کہ قدرت نے اس کو5اگست2024ء کوعبرت کے لئے محفوظ کیاتھاکہ خودمودی بھی دیکھ لے کہ دوقومی نظریہ نے کس طرح اسی خلیج بنگال سے ابھرکرخودکو منوایا ہے کہ وہاں کی گلیوں میں وہ نوجوان بچے جن کی عمریں بھی سقوط ڈھاکہ سے کم ہیں، سڑکوں پر’’پاکستان سے رشتہ کیا، لاالہ الااللہ‘‘کے فلک شگاف نعرے لگارہے ہیں اور اوردنیاکاکوئی ملک حسینہ کو پناہ دینے کے لئے بھی تیارنہیں جبکہ حسینہ کودوبارہ اپنے مکارہندومودی کے ہاں پناہ لینی پڑگئی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی بھٹوخاندان سمیت اس کی اولاد میں ایک بیٹی کے سواسب غیرفطری موت میں مارے گئے اوریحیٰی خان بھی باقی ساری عمربسترپرایڑیاں رگڑتے اپنے انجام کوپہنچ گیاگویاپاکستان کوتوڑنے والے سارے کرداروں سے کسی نے عبرت حاصل نہیں کی۔کیاکشمیرکے شہدا سے ظلم کرنے والے بچ سکیں گے؟
جنابِ اسپیکر!ارضِ پاکستان کے غداروں سے سبق حاصل کرنے کی بجائے ایک مرتبہ پھر9مئی کوپاکستان میں ایک خونی انقلاب لانے کی کوشش کی گئی،خود فوجی دفاعی تجزیہ نگار انگشت بدنداں ہیں کہ سارے ملک کے اہم اورمخصوص علاقوں کوٹارگٹ کرنے کے لئے ایسی منظم پلاننگ توخودفوج نہیں کرسکتی جبکہ ایک خاص پلاننگ کے تحت بلوائیوں کووہاں بھیج کر ملک کوتوڑنے کی سازش کی گئی۔ جنابِ اسپیکر!9مئی ہماری قومی تاریخ کاوہ سیاہ دن ہے کہ وہ کام جودشمن پچھلے75 برسوں سے کرنے کی جرأت نہ کرسکاوہ یہاں سیاسی چلمن میں چھپ کراقتدارکی ہوس میں چندبھیڑیوں نے سرانجام دینے کی ناکام کوشش کی۔اس جماعت کے رہنماؤں نے بلوائیوں اورفسادیوں کی پشت پرکھڑے ہوکراپنے لیڈر کے آگ اورشعلے اگلتے ہوئے احکام پراشتعال انگیزتیل چھڑکنے کاکرداراداکیاجس کی ویڈیوزتک ریکارڈکاحصہ بن چکی ہیں لیکن اس کے باوجود ریاست نے جوناقابلِ سست روی کااظہار کیاہے،اس کی تلافی کیسے ہوگی؟
اس سازش کی کڑیاں تواسی دن شروع ہوگئی تھیں جب موجودہ فوجی سربراہ نے بطورآئی ایس آئی کے سربراہ کے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کواطلاع دی کہ ملک میں ہونی والی اربوں روپے کی کرپشن خود ان کے اپنے گھرسے ہورہی ہے جس کی سرپرستی ان کی اہلیہ کررہی ہیں۔ان کے سامنے سارے دستاویزی ثبوت رکھ دیئے گئے تاکہ وہ اپنے گھرکی خبرلیتے ہوئے اس کی تصدیق کرکے اس کاتدارک کریں لیکن انہوں نے فوری طورپرجنرل باجوہ کوجنرل عاصم کونہ صرف اس عہدے سے ہٹانے بلکہ اسے فوج سے نکالنے اور مقدمہ دائر کرنے کاکہاجبکہ اس وقت جنرل باجوہ اپنے غیرملکی دورے سے واپسی پرجہازمیں محوسفرتھااوراس نے احکام کی تحقیق کا وعدہ کیالیکن خودوزیراعظم اس قدربے تاب تھے کہ خودائیرپورٹ پہنچ گئے اور فوری طورپرکاروائی کامطالبہ دہرانے لگے۔ جنرل باجوہ کے اس غلط اقدام کی حمائت نے ملک کو کس قدرنقصان پہنچایا،اس کامحاسبہ کون کرے گا؟
وزیراعظم نے اپنی نیم کامیابی پردوسرامجرمانہ قدم یہ اٹھایاکہ پلان کے مطابق جنرل فیض کواس عہدے پرمتعین کرکے ایک لمبا پلان بنایاکہ چین کی طرح آئندہ بیس سال تک اس ملک پرکیسے حکومت کی جائے جس کے لئے ضروری تھاکہ آئندہ کے لئے جنرل فیض کوآرمی کاچیف بنایاجائے لیکن فوجی ضابطے اس کی اجازت نہیں دے رہے تھے جس کے لئے سنئیرترین جنرلزنے سرجوڑ کراس سازش کامقابلہ کرنے کے لئے معاملے کی سنجیدگی سے وزیراعظم کوآگاہ کرنے کی کوشش کی لیکن اقتدارکی ہوس نے انہیں اس قدراندھاکردیاکہ وہ اپنے مذموم ارادوں کی تکمیل میں ہرقانون اورضابطے کویکسرتباہ کرنے کے لئے تل گئے۔
یہی وہ موقع تھاکہ ملک بچانے کے لئے آئینی راستہ اختیارکرتے ہوئے عدم اعتمادکی تحریک لائی گئی لیکن اب نئے چیف کی تقرری کوروکنے اوراپنے من پسندجنرل فیض کونیاچیف بنوانے کے لئے عمران خان اپنی زخمی ٹانگ سمیت عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے سڑکوں پرآگئے اورلوگوں کوترکی ماڈل کی طرح فوج کے خلاف انقلاب لانے کی دعوت دینے کا اعلان کر دیالیکن اللہ کی قدرت دیکھئے کہ کروڑوں افرادکوجمع کرکے اسلام آبادپردھاوابولنے والاعوام کی عدم شرکت کی وجہ سیلاہور کاراوی پل بھی عبورنہ کرسکااوردل شکستہ ہوکرواپس لوٹ گیا،جس کے بعدباقاعدہ9مئی کامنظم واقع ترتیب دیاگیاجس کے تمام خوفناک مناظرہم سب کی آنکھوں کے سامنے موجود ہیں اورقوم اب اس خوفناک سازش کے عبرتناک اورشرمناک انجام کی منتظرہے۔
جناب اسپیکر!آزادی عوام کے لحاظ سے یہ چند پہلوتھے جومختصراًمیں نے آپ کے سامنے رکھ دئیے۔ وقت کی کمی کے باعث اختصاربرتاہے۔ آزادی کیاہوتی ہے،کیسی ہونی چاہیے ؟آپ تھوڑی دیرکیلیے خودکوعوام یاکشمیری سمجھ کرمحسوس کیجئے پھرہم میں سے کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ عوام آزادہیں یانہیں۔میں آزادی اوغلامی کافیصلہ آپ پر چھوڑتی ہوں!
ستم گروقت کا تیور بدل جائے تو کیا ہو گا
مراسرترا پتھر بدل جائے تو کیا ہو گا
امیروں کچھ نہ دو،طعنے تومت دوان فقیروں کو
ذرا سوچو اگرمنظر بدل جائے تو کیا ہو گا

یہ بھی پڑھیں