Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

قلب وروح کی جان۔۔۔۔سیدعلی گیلانی

میں کس منہ سے اس بزرگ سیدصاحب کا شکریہ اداکروں جوہمیشہ مشکل وقت میں بھولاہوا سبق یاددلادیتے تھے۔جب بھی دل بہت بے چین ہوتاتو فوری طورپران سے فون پر رابطہ پر ہمیشہ کی طرح دانش وحکمت کے ایسے موتی جھڑتے کہ روح تک اداس اورسرشار ہوجاتی اورہرمرتبہ تنگ دامنی کامعاملہ آن کھڑاہوتالیکن اب منوں مٹی میں پاکستانی جھنڈے میں ملبوس اللہ کے ہاں اپنی دائمی منزل پراپنی وفاداریوں کے صلے میں یقیناجنت میں بیٹھے اپنی جاودانی کامیابی پرمسرور ہوں گے۔ان کے فراق میں ان کے موصول پیغامات سے دل کی پیاس بجھاتارہتا ہوں۔ تین دن قبل ایک اہم کانفرنس میں شرکت کاموقع ملا جہاں آزادی کے نامورہیروز اوران کی جدوجہد آزادی کی جب بات ہوئی تو میرے حصے کاتفاخر مردمجاہدسیدعلی گیلانی کاتذکرہ آیاتوایک عرصے کے بعد پھوٹتی سحراچھی لگی،صبح نورکی تازگی دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی،اورسجدہ شکرادا کیا۔ یوں محسوس ہورہا تھاکہ روح کا ساراآلام دھل گیاہے اور روٹھے ہوئے الفاظ ایک دفعہ پھرایک قطار میں مسکراتے کھڑے اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں، پھرسے ہمدم،ہمدرد اورغمگسار،بڑھ کرگلے ملنے کے لئے متمنی،جونہی میرے بیانئے نے محبت سے بازو پھیلائے فورا بغیر کسی تاخیرکے برچھی کی طرح سینے میں اترگئے۔
یہ سب ایک بوڑھے،بیماروعلیل اورایک سفیدریش کے حامل بزرگ کی وجہ سے ہواجن سے برسوں پہلے حرم میں نہ صرف ملاقات ہوئی بلکہ تین ہفتے ان کی میزبانی کاشرف بھی حاصل ہوا۔اس کے بعد ملاقات کی آرزوبرسوں سے دل کو بے چین کئے رہی اوریہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ دل کی مراداب اس زندگی میں توپوری نہیں ہوسکتی اوراس بات سے بھی واقف تھاکہ کبھی نہ توان سے پہلے کی طرح بات ہوسکے گی اورنہ ہی ان کودیکھ سکوں گالیکن اس کے باوجودفون پریابلاواسطہ ان سے عمربھررابطہ رہا۔سید علی گیلانی مرحوم جنہوں نے اس کارزارمیں قدم رکھنے سے قبل اپنے رب سے یہ عہد کیا،کہو، میری نماز، میرے تمام مراسِم عبودیت، میراجینااور میرامرنا،سب کچھ اللہ رب العالمین کے لئے ہے جس کاکوئی شریک نہیں۔ (انعام: 162)
اپنی زندگی کے بیشترقیمتی سال بھارتی مکارہندو بنئے کی بنائی ہوئی جیلوں میں گزاردیئے اوربرسوں گھرمیں نظربندی کی حالت میں ہی ان تمام ظالموں کی خواہشات کے منہ پرتھوک کراپنے اس رب کے ہاں حاضرہوگئے جس نے قرآن میں اپنے ایسے بندوں کویہ بشارت دی کہ: اے نفسِ مطمئن،چل اپنے رب کی طرف اِس حال میں کہ تواپنے انجامِ نیک سیخوشاوراپنے رب کے نزدیک پسندیدہ ہے۔شامل ہوجا میرے نیک بندوں میں اور داخل ہوجامیری جنت میں۔ (الفجر:27-30)
زندگی کی آخری دہائی میں جہاں رابطے کے تمام ذرائع پرمکمل پابندی کے ظلم وستم برداشت کئے وہاں ان کی اولادپربھی زندگی تنگ کردی گئی۔درجنوں مرتبہ جس کے مکان پرراکٹ برسائے گئے،جسے خلقِ خداکے قلب ودماغ سے اتارنے کی ان گنت سازشیں کی گئیں لیکن وہ اتناہی زیادہ قلب وروح کی جان بنتاچلاگیا۔جسے تھکا ڈالنے،دھمکانے اورخریدنے کاہرحربہ آزمایا گیا لیکن وہ ہردفعہ تازہ دم،کسی خوف سیعاری اورکسی بھی خطرے کی پرواہ کئے بغیرمایوسی کودھتکارتے ہوئے منزل کی طرف بڑھتا ہی چلاگیا .اوربالآخر اس مظلوم نے اسی بے بس شہرسرینگرمیں نظربندی کی حالت میں اپنے رب سے ملاقات کے لئے رخصت ہوگیا جہاں دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کادعوی کرنے والے اس بزرگ سے اس قدر خوفزدہ تھے کہ کرفیوکااعلان کرکے اس کے نمازجنازہ پربھی پابندی لگادی گئی اورکفن کے طورپرپاکستانی پرچم کواتارنے کاحکم دیتے ہوئے مردمجاہدکی وصیت کے خلاف شہداکے قبرستان میں دفن ہونے تک کی اجازت نہ دی گئی لیکن تاریخ نے دیکھاکہ دنیابھرمیں ان سے محبت کرنے والوں نے اپنے آنسوؤں کے ساتھ ان کی غائبانہ نمازجنازہ پڑھی اورمیں نے سینکڑوں ایسے افرادکو بلک بلک رروتاہوادیکھا جنہوں نے کبھی ایک بار بھی ان کونہ دیکھااورنہ ہی براہ راست ان سے ہمکلام ہونے کاشرف حاصل ہوا۔
پابندی سے قبل اس مردمجاہدکوکرفیوکی پابندیوں کی بناپربرسوں مسجد میں نمازِجمعہ پڑھنے کی اجازت ملی،نہ ہی وہ اپنے کسی عزیزیاہمدم کے ہاں کسی بھی خوشی یاغمی میں شریک ہونے دیا گیا،گویا اسے کشمیریوں سے دوررکھنے کی ایک سازش پرعمل جاری رہالیکن اس تمام آلام ومصائب کے باوجودوہ اس شان اورعزم صمیم سے کھڑارہاکہ عظمت اس پر ٹوٹ ٹوٹ کر برستی رہی اوراس کی ایک اپیل پرسارے کشمیرکے مردوزن اورجوان دیوانہ وارگولیوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہونااپناایمانی فرض سمجھتے رہے۔
دوسروں کاذکرہی کیا،ایک وقت ایسابھی آیاکہ مقبوضہ کشمیرکی جماعت اسلامی نے بھی اس کاساتھ دینے سے انکارکردیااور حریت کانفرنس سے مطالبہ کیاگیاکہ ان کوالگ کرکے جماعت کے کسی اورلیڈرکونمائندگی کااختیاردیاجائے۔کمالِ جرات لیکن نہائت صبروتحمل کے ساتھ وہ اپنی راہ پرگامزن رہا۔سرینگرکے ایک مزدور کا بیٹاجس نے اپنی بھرپورجوانی میں اپنے لئے ایک راہ چن لی تھی اورپھرعمربھرناک کی سیدھ میں اس راہ پرچلتارہا اورکبھی کسی موقع پراس کے قدم نہیں ڈگمگائے،جسے دیکھ کرتوحیرت ہوتی تھی،جس کے بارے میں سنو تودل سے بے اختیاراس کی درازی عمرکی دعا ئیں نکلتی رہیں اورغورکریں تواھدنا الصراط المستقیم کامفہوم سمجھ میں آنے لگتاہے۔ عمربھر اس نے جھوٹ اورفریب کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا اور عمربھراس کو کوئی مشتعل بھی نہیں کرسکا۔ ( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں