(گزشتہ سے پیوستہ)
حضرت جنید بغدادی ؒفرماتے ہیں کہ دلوں کے امراض،خواہشات نفسانی کی اتباع سے پیدا ہوتے ہیں۔
اس آیت میں ان کے دلوں میں مخفی کفر کو مرض فرمایا گیا ہے کہ جو روحانی اور جسمانی دونوں اعتبار سے بڑا مرض ہیروحانی مرض ہونا تو ظاہر ہے کہ اول تو اپنے پیدا کرنے والے پالنے والے رب کی ناشکری اور اس کے احکام سے سرکشی جس کا نام کفر ہے، یہ خود روح انسانی کے لئے سب سے بڑا مرض اور شرافت انسانی کے لئے بدترین داغ ہے دوسرا دنیا کی ذلیل اغراض کی خاطر اس کو چھپاتے رہنا اور اپنے دل کی بات کو ظاہر بھی نہ کرنا۔یہ بھی روح کا بڑا مرض ہے اور نفاق کا جسمانی مرض ہونا اس بنا پر ہے کہ منافق کے دل میں ہمیشہ یہ ڈر رہتا ہے کہ کہیں میرا اصلی حال نہ کھل جائے شب و روز اس کی فکر میں رہنا خود ایک جسمانی مرض ہے۔چوتھی اور پانچویں آیت میں منافقین کا یہ مغالطہ مذکور ہے کہ وہ فساد کی اصلاح سمجھتے اور اپنے آپ کو مصلح کہتے تھے قرآن کریم نے واضح کیا کہ فساد و اصلاح زبانی دعوئوں پر ،دائر نہیں ہوتے چھٹی آیت میں منافقین کے سامنے صحیح ایمان کا ایک معیار رکھا گیا کہ امنواکما امن الناس یعنی ایمان لائو جیسے ایمان لائے اور لوگ اس میں لفظ ناس سے مراد باتفاق مفسرین صحابہ کرامؓ ہیں، کیونکہ وہی حضرات ہیں کہ جو نزول قرآن کے وقت ایمان لائے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف وہی ایمان معتبر ہے، جو صحابہ کرام ؓکے ایمان کی طرح ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرامؓ کا ایمان ایک کسوٹی ہے جس پر ساری امت کے ایمان کو پرکھا جائے گااس کے خلاف کوئی عقیدہ اور عمل خواہ ظاہر میں کتنا ہی اچھا نظر آئے اور کتنی ہی نیک نیتی سے کیا جائیاللہ کے نزدیک ایمان معتبر نہیں منافقین نے صحابہ کرام کو سفہا یعنی بیوقوف کہا اور یہی ہر زمانے کے گمراہوں کا طریقہ رہا ہے کہ جو ان کو صحیح راستہ دکھائے اس کو بیوقوف اور جاہل قرار دیتے ہیں۔ مگر قرآن پاک نے بتا دیا کہ درحقیقت وہ خود ہی بیوقوف ہیں، ساتویں آیت میں منافقین کے نفاق اور دوغلے پن کو اس طرح ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ لوگ جب مسلمانوں سے ملتے تو کہتے تھے کہ ہم تو مومن مسلمان ہیں اور جب اپنی قوم کے سرداروں، یا کافروں سے ملتے تو انہیں کہتے ہم تو تمہارے ہی ساتھ ہیں, اور تمہاری قوم کے فرد ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ تو محض تمسخر و استہزا کے لئے یعنی ان کو بیوقوف بنانے کے لئے ملتے ہیں ۔
آٹھویں آیت میں ان کو اس احمقانہ گفتگو کا جواب اللہ نے دیا ہے کہ یہ بے شعور لوگ کہ جو مسلمانوں کو بیوقوف بنانے کی کوششیں کرتے ہیں دراصل خود بیوقوف ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حلم و کرم سے ان کو ڈھیل دے کر خود انہی کے استہزا کا سامان کر دیا ہے کہ ظاہر میں کسی عذاب کے نہ آنے سے وہ اور غفلت میں پڑ گئے اور اپنی سرکشی میں بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ ان کا جرم اور سنگین ہوگیا اور پھر دفعتا پکڑ لئے گئے۔نویں آیت میں منافقین کے اس حال کا ذکر ہے کہ انہوں نے اسلام کو قریب سے دیکھا اس کا ذائقہ بھی چکھا پھر کفرو اسلام دونوں کو دیکھنے سمجھنے کے بعد انہوں نے اپنی گھٹیا دنیاوی اشیا کی خاطر اسلام کے بدلے کفر کو ترجیح دی ان کے اس عمل کو قرآن کریم نے تجارت (بیوپار) کا نام دے کر یہ بتلایا کہ ان لوگوں کو تجارت کا طریقہ بھی نہ آیا کہ بہترین قیمتی یعنی ایمان دے کر ردی اور تکلیف دہ چیز یعنی کفر خرید لیا۔
آخری چار آیتوں میں منافقین کے حال کی دو مثالیں دے کر ان کا قابل نفرت ہونا بیان کیا گیا ہے۔ ان آیات مقدسہ میں ان ظالم منافقین کو تنبیہ بھی کر دی گئی ہے کہ وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے احاطہ قدرت سے باہر نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر وقت ہر حال میں انہیں ہلاک بھی کرسکتے ہیں اور ان کی بینائی و شنوائی بھی چھین سکتے ہیں۔حضرت امام مالک ؒسے عمدہ شرح بخاری میں نقل کیا گیا ہے کہ بعد زمانہ نبوت کے نفاق کی یہی صورت ہے جس کو پہچانا جاسکتا ہے اور ایسا کرنے والے کو منافق کہا جاسکتا ہے،سرکار دو عالمﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ -1 جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے-2 جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے-3 اور جب ان کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو اس میں خیانت کرتا ہے۔(مشکوٰۃ)
قرآن کریم کے اٹھائیسویں پارے میں اللہ پاک نے منافقین کی چند اور نشانیاں بیان فرمائی ہیں اے محمدﷺ جب منافق لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیںکہ ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ بے شک خدا کے پیغمبر ہیں اور خدا جانتا ہے کہ درحقیقت تم اس کے پیغمبر ہو۔ لیکن خدا ظاہر کیے دیتا ہے کہ منافق (دل سے اعتقاد نہ رکھنے کے لحاظ سے)جھوٹے ہیں انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور ان کے ذریعے سے (لوگوں کو)راہ خدا سے روک رہے ہیں کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں۔ یہ اس لئے کہ (پہلے تو) ایمان لائے پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی،سو اب یہ سمجھتے ہی نہیں اور جب تم ان کے جسم دیکھتے ہو تمہیں کیا ہی اچھے معلوم ہوتے ہیں اور جب وہ گفتگو کرتے ہیں تو تم ان کی تقریر توجہ سے سنتے ہو (مگرا فہم و ادرک سے خالی)گویا لکڑیاں ہیں جو دیوار سے لگائی گئی ہیں (بزدل ایسے کہ)ہر روز کی آواز کو سمجھیں کہ ان پر بلا آئی یہ تمہارے دشمن ہیں ان سے بے خوب نہ رہنا خدا ان کو ہلاک کرے ،یہ کہاں بہکتے پھرتے ہیں اور جب ان سے کہا جائے کہ آئو رسول خدا تمہارے لئے مغفرت مانگیں تو سر ہلاا دیتے ہیں اور تم ان کو دیکھو کہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیرلیتے ہیں۔تم ان کے لئے مغفرت مانگو یانہ مانگو۔ ان کے حق میں برابر ہے خدا ان کو ہرگز نہ بخشنے گا بے شک خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا، یہی ہیں کہ جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول خدا کے پاس رہتے ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو یہاں تک کہ یہ (خود بخود)بھاگ جائیں حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں لیکن منافق نہیں سمجھتے۔(سورہ المنفقون آیت نمبر1 تا7 )