Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

قلب وروح کی جان۔۔۔۔سیدعلی گیلانی

(گزشتہ سے پیوستہ)
وہ جانتاتھاکہ راہ کٹھن بھی ہے اورطویل بھی لیکن وہ پھربھی اپنی ترجیحات اورمقاصدپریکسورہا۔ وہ رازاس پرآشکارہوگیاتھاکہ جس سے مسلم دنیا کے اکثررہنمااب بھی بے خبرہیں کہ عرصہ گیرامتحان میں اصل اہمیت کامیابی اورناکامی کی نہیں،حسنِ نیت اورحسنِ عمل کی ہوتی ہے۔آدمی نتائج کانہیں جدوجہد کامکلف ہے،نتیجہ تواللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پہلے تووہ خود اپنی پارٹی قیادت کے خلاف صف آرا ہوا،جدجہدکے طویل برس اوران گنت قربانیاں بھی اسے تھکانے میں ناکام رہیں۔پارٹی کے کارکنوں کوآوازدی جو ہمیشہ کی طرح اس پر اعتماد اپنانصب العین سمجھتے تھے کہ زندگی کی کتاب میں جاہ پسندی،ریااورمفادکاکوئی باب نہیں۔ اپنا سارا اخلاقی دباڈال کراس نے جماعت کی قیادت کوبدل ڈالا،پھروہ حریت کانفرنس کی مصلحت کاشکارہونے والی قیادت کے خلاف اٹھا۔ایک فرد،متعدد لیڈروں اورگروہوں کے خلاف جوپاکستان کوبھول کربھارت سے مذاکرات پرآمادہ ہوگئے تھے، جانتے ہوئے بھی کہ کن لوگوں نے انہیں آمادہ کیاتھا۔
اندلس کاجلیل القدرحکمران درباریوں کے ساتھ نوتعمیرمحل میں نمودارہواجس میں سونے کاقبہ جگمگارہا تھا۔جب دوسرے داد دے چکے توقاضی سعید کی طرف متوجہ ہوا’’بادشاہ تم پر شیطان سوار ہے قاضی نے کہا کہ سونے سے عمارتیں نہیں بنائی جاتی‘‘ آسمان اورزمین کے درمیان ایک سناٹاتھا اوردل تھے جوخوف اوراندیشوں سے دھڑک رہے تھے۔ جب بادشاہ کی آوازابھری ’’سعید کو لوگ بے سبب ہسپانیہ کاضمیرنہیں کہتے،قبہ گرادیاجائے‘‘۔
کبھی کبھی ایک تنہاآدمی اٹھتاہے اورمنظرکوبدل ڈالتاہے۔علی گیلانی فرشتہ نہیں تھا۔چندلمحوں کے لئے مان لیتے ہیں کہ ان کے اپنے تعصبات ہوسکتے تھے اورناقص فیصلے بھی،ان کی ہر رائے اورہراقدام سے اتفاق ضروری نہیں،نہ اس سے اختلاف کرنے والوں کی نیت پرشبہ کرنے کاکوئی جوازہے،ہو سکتا ہے ان کی عقلیں وہی کہتی ہوں جس پروہ عمل پیراہیں؟ دنیاکے بدلے ہوئے ناسازگار حالات اورپہاڑجیسی رکاوٹیں، لیکن بزرگ درویش ان سے مختلف ثابت ہوا۔وہ ایک صاحبِ یقین تھااور صاحبِ یقین کبھی مرجھاتااور مایوس نہیں ہوتا۔وہ اپنی ذات سے اوپراٹھ جاتاہے اورایک برتر مقصدکیلئے ہرچیزکوتیاگ دیتاہے۔قوموں کو ایسے لوگ انعام کے طورپرعطاکئے جاتے ہیں اور کوئی الٹالٹک جائے ان کی راہ کھوٹی نہیں کرسکتا، اسی لئے وہ جدوجہدآزادی کاکامیاب استعارہ بن گیا۔
سیدعلی گیلانی نے حریت کانفرنس کی درماندہ قیادت اوراس کے عقب میں سازشیں کرنے والے بھارتیوں اورشاطرامریکیوں کو بالآخرشکست سے دوچارکردیاجب استعمارسارازور کشمیریوں کوتنہا کرنے کے لئے صرف کررہاتھا،جبکہ پاکستانی حکومت بھی تھک چکی اوردیگرادارے بھی راستہ بھول چکے ہیں۔شاہ محمودقریشی نے بطوروزیرخارجہ امریکی ایماپرکشمیرکی بندر بانٹ کرنے کے لئے کشمیری لیڈرمیرواعظ کے ساتھ سازبازشروع کرتے ہوئے خصوصی طورپرواشنگٹن میں آصف زرداری کے ساتھ اس کشمیری لیڈرکی ملاقات بھی کروائی تھی تویہ مردِ مجاہد سیدگیلانی ہی تھے جنہوں نے بروقت اس سازش کی دہائی دیتے ہوئے ہمیشہ کی طرح کشمیریوں کی مددسے اس مذموم منصوبے کوکامیاب نہیں ہونے دیا۔
ان دنوں بھی ٹیلی فون پرمیری جب ان سے بات ہوئی توانہوںنے پاکستانی حکمرانوں کوبھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانے پراپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی فرمایاتھاکہ ممبئی میں دہشت گردی کاشورمچانے والابھارت اب بلوچستان،سرحد،کراچی اورپاکستان کے دیگر دوسرے بڑے شہروں میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے مسلسل دہشت گردی کاارتکاب کرتے ہوئے پاکستان کی سلامتی کے لئے ایک مستقل سنگین خطرات پیداکررہاہے اور پاکستانی حکومت ان کے ساتھ دوستی کے لئے مرتی جارہی ہے۔میں ان کی آوازکاکرب بڑی شدت اور ندامت کے ساتھ محسوس کر رہاتھااوردکھ کی بات تویہ ہے کہ سقوط کشمیرکامعاملہ بھی عمران خان کے اسی وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی کے دورمیں ہوا۔
اب ضرورت اس امرکی ہے سقوط کشمیرکے ذمہ داران کے خلاف کڑی تحقیق کے لئے انہیں احتساب کے کٹہرے میں کھڑاکرکے کشمیریوں کویقین دلایاجائے کہ کشمیرکاوکیل آئندہ انہیں کبھی بھی مایوس نہیں کرے گااور اس کے ساتھ ہی اقوام عالم کویہ واضح طورپربتائے کہ سفاک مودی کشمیرمیں خونی کھیل کی آڑمیں کشمیرکی آبادی کاتناسب بدلنے کی جوکوششیں کررہا ہے اس سے اگرخطے میں جنگ کاآتش فشاں پھٹ گیاتونہ صرف جنوبی ایشیامیں تباہی وبربادی ہوگی بلکہ یہ عالمی جنگ کابھی پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔5 اگست کو آرٹیکل370ختم کرنے کے بعدبھارت نے کشمیرکواپناحصہ بنانے کے لئے وہی حکمتِ عملی اپنائی ہے جوکبھی اسرائیل نے فلسطین پرقبضہ کرنے کے لئے بنائی تھی کہ سب سے پہلے کچھ اسرائیلی فلسطین جاکرآبادہوئے پھرانہوں نے اپنی آبادی میں اضافہ شروع کیااورمقامی فلسطینیوں سے منہ مانگی قیمتوں پرزمینیں اورجائدادیں حاصل کرنا شروع کی اس کے بعدانہیں لالچ دیا اورپھر تیزی سے منہ مانگی قیمت پرزیادہ سے زیادہ زمینیں خریدنے لگے اورزیادہ ترفلسطینی علاقوں پراپناتسلط قائم کرلیا۔مودی نے فیصلہ کرلیاہے کہ تحریک حریت کوبندوق کے زورپرکچل دیاجائے۔ایک مختصرحدیث سن لیں:’’اہل ہندکے مسلمان پہلے اہل کفرہندسے جنگ کریں گے اوران کے امرااور روسا کوگرفتارکریں گے پھرشام میں مریم کے بیٹے کاساتھ دیں گے‘‘۔گویایہ پاکستان کی منزل یاتقدیرپہلے سے طے ہوچکی ہے ۔جومرضی کرلیں۔ اب یہ آپ پرمنحصرہے کہ تندی بادمخالف کاساتھ دیناہے یا منافقین غم گسارکا۔اب مخالفین جوکچھ مرضی کرلیں، جتنامرضی زورلگالیں،قدرت کے اٹل فیصلوں کوٹالانہیں جاسکتا۔خطے میں ایسے حالات پیداکئے جارہے ہیں کہ پاک وہند کامحاذایساگرم ہوجس کے جواب میں مکمل جنگ ہواور میرے آقا کافرمان مکمل ہوکررہے گا۔ حدیث کے دوسرے حصے کے مطابق شام میں جانے سے مراداسرائیل کے ساتھ مکمل جنگ کی پیشگوئی ہے۔یہ وقت اورموقع کب آئے گا ، اس کے لئے فی الحال وقت کاتعین مشکل ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایساہوگاضرور،چاہے ہمارے اپنے دورمیں ہو،یاآنے والی نسل کویہ معرکہ درپیش ہوکیونکہ کتاب لکھنے والے نے اس حقیقت سے آگاہ کردیاہے اورلکھنے والے نے توزمانے کی قسم کھاکر،وقت کو گواہ بناکرخبردارکیاہے اورزمانے میں پیش آنے والے سارے واقعات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ میرارب اپنے اپنے وعدے کی خلاف ورزی کبھی نہیں کرتااوراس کے احکام کی تکمیل میں کہاجانے والا ’’کن‘‘فوری طورپر’’فیکون‘‘میں تبدیل ہوجاتاہے۔
سید علی گیلانی کی سوچ وفکراوران کے قافلے کومیرا،ایک عام پاکستانی کاسلام پہنچے۔انہوں نے اپنے عمل سے ہماری ساری مایوسی دھوڈالی ہے۔ ہمارے لئے انہوں نے ایک تابہ فلک ایک مشعل فروزاں کردی ہے اورہمیں یاددلایاہے کہ انسانیت کامستقبل ابلیس اورمایوسی پھیلانے والے اس کے کارندوں کے پاس نہیں بلکہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔اللہ جو امیدکارب ہے اورجس کی کتاب برملایہ کہتی ہے کہ ’’کیا اللہ اپنے بندوں کے لئے کافی نہیں‘‘۔ابھی میں یورپی یونین کے ہیومن رائٹس گروپ کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات سے واپس لوٹ رہاہوں۔اس کانفرنس میں ایک خصوصی ملاقات میں انسانی بنیادی حقوق پرنگاہ رکھنے والی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل،واچ ڈاگ، ہیومن رائٹس انٹرنیشنل،اینٹی سلیوری انٹرنیشنل اورگلوبل رائٹس کوکشمیریوں پرہونے والی زیادتیوں سے جب آگاہ کیاتومعلوم ہواکہ یہ تمام ادارے بھی کشمیریوں کے انسانی حقوق اوردیگرحقوق تلفی کانہ صرف اعتراف کرتے ہیں بلکہ ان کی ثابت قدمی پربھی نازاں ہیں اور ایک بارپھرکشمیریوں کے حقوق کی بازیابی کے لئے سرگرم ہونے کایقین دلایاہے۔ سید صاحب!آپ تواپنے کرداراورعمل کے ساتھ جاوداں ہوگئے اوراپنے پیچھے ٓنے والوں کوایک ایساراستہ دکھاگئے جہاں جان بھی چلی جائے تویہ سودہ مہنگانہیں۔آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ کاتذکرہ ہمیشہ ہمیں بھولاہواسبق یاددلاتارہے گا۔

یہ بھی پڑھیں