نئی نسل ایک سوال بڑی شدت سے اٹھا رہی ہے کہ پاکستان لا لہ ا لا اللہ کے نعرے کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا اور اسے شعوری طور پر اسلام کی تجربہ گاہ بنانے کی خاطر حاصل کیا گیا تھا تو پون صدی گزرجانے کے بعد بھی اسلام یہاں اجنبی اور اسلام کے نام لیوا مضطرب کیوں ہیں؟ ہر چند سال بعد یہاں تحفظ ختم نبوت کی جنگ کیوں لڑنا پڑتی ہے؟ یہ سوال تشنہ رہاتو اس ملک کے وجود پر، ہمارےبزرگوں کی قربانیوں اور نظریہ پاکستان پر عدم اعتماد بن جائے گا ، لیکن اس کےجواب کی خاطر ہمیں تھوڑا پیچھے، ماضی میں جانا اور تاریخ کو کھنگالنا پڑےگا ۔
تحریک پاکستان کا جائزہ لیں تو مسلم لیگ کے پرچم تلے آزادی کی اس جنگ میں تین دھارے ایک دوسرے سے الگ پہچانے جا سکتےہیں، تینوں کا رنگ ڈھنگ ،نظریاتی پس منظر اور مقاصد مختلف بلکہ متضاد تھے۔ ان میں مسلم لیگ کا اصل جوہر اورقائداعظمؒ کی قوت وہ عام مسلمان تھے، جو کلمے کی بنیاد پر اکٹھے ہوئے، اسی نعرے کو حرزجان بناتے ہوئے جنگ میں اترے، تمام تر قربانیاں بھی انہی نے دیں، آزادی کےاصل ہیرو اور فاتح ہی نہیں قائداعظمؒ کی فکر کے وارث بھی یہی لوگ تھے ۔ دوسرا دھارا وہ تھاجو تیل کی دھار دیکھ کر اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر، ہندومہاجنوں کے پاس گروی رکھی اپنی جائدادوں کی واگزاری کے لئے عین آخری لمحات میں تحریک پاکستان کاحصہ بنا، لیکن اپنے سیاسی اثر ورسوخ کی بنیاد پر اگلی صفوں تک جا پہنچا ، اس طبقے نے دھیلے کی بھی قربانی نہیں دی لیکن قیام پاکستان کے وقت یہاں سے جاتے ہوئے ہندووں اور سکھوں کے ساتھ ساتھ لٹ پٹ کر آنے والے مسلمانوں کو بھی جی بھر کر لوٹا اور متروک املاک پر قبضے کئے،آج بھی ان کی نسلیں اوقاف پر قابض دیکھی جا سکتی ہیں ۔ تیسرا دھارا ان لوگوں پر مشتمل تھا، جنہیں بھاگتے ہوئے انگریز نے اپنی باقیات کے تحفظ کی خاطر بڑی فنکاری کے ساتھ اس ملک پر مسلط کیا۔المیہ یہ رہا کہ ملک بن جانے کے بعد ریاست کا نظم ونسق چلانے کی خاطر آزادی کے اصل وارث اس پہلے طبقے کے پاس کوئی تجربہ ، کوئی مہارت کوئی تربیت یافتہ ورک فورس ہی نہ تھی جو ریاست کے زمام کار کو سنبھالتی لہٰذا قائدؒ کو اپنی جیب کے کھوٹے سکے انہی موخر الذکر طبقات پر انحصار کرنا پڑا۔ قائد ؒکی زندگی نے وفا نہ کی لیکن لیاقت علی خان نے آئین پاکستان کے دیباچے کے طور پر قرار داد مقاصد منظورکروا کے اپنے تئیں ریاست کو اس کی اصل بنیادوں اور مقاصد پر استوار کرنے کی کوشش ضرور کی ، جلد ہی انہیں راستے سے ہٹادیا گیا۔ اس کے بعد وہ کھیل شروع ہوا جس کی بدولت اسلام کے نام پر، اسلام کے قلعہ کی حیثیت سے قائم ہونے والی ریاست میں پون صدی بعد بھی اسلام اجنبی ہےاور تحفظ ناموس رسالت کی جنگ ہر چند سال بعد لڑنا پڑتی ہے۔
14سو برس کی تاریخ گواہ ہے کہ ختم نبوت اور اسلامی شعائر کا تحفظ ہمیشہ اسلامی حکومت نے خود کیا ، خاتم النبین حضرت محمد مصطفیﷺ کی عزت وناموس کے تحفظ کے لیے سب سے پہلےسیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بطور سربراہ مملکت شمشیرحق بلند کی اور منکرین ختم نبوت کے خلاف جہاد کیا۔ پاکستان میں یہ معاملہ الٹ ہے، یہاں ہر دور میں ختم نبوت اور دیگر شعائر اسلامی کادفاع عوام ،خصوصاً دینی جماعتوں کوکرنا پڑا۔صرف گنتی کے صرف دوحکمران ایسے ملتے ہیں کہ جنہوں نے ختم نبوت پر کم ازکم عوامی تشویش کو سمجھا اور بامر مجبوری ہی سہی اپنا کردار ادا کیا ،ورنہ حکومت بطورادارہ ہمیشہ فتنہ پردازوں کی پشت پناہی کرتی پائی گئی۔وجہ صرف یہ ہے کہ جب ریاست اور ریاستی اداروں کی بنیادیں اٹھائی جارہی تھیں ، جب ریاست کا مزاج طے ہورہا تھا ، اس وقت اک ہمہ جہتی سازش کے تحت پاکستان بنانے والے طبقہ اول کو کارحکومت سے اس طرح الگ کردیا گیا ، جیسے مکھن میں سے بال اور اقتدار و اختیاکلی طور پر قائدؒ کی جیب کے کھوٹے سکوں کے سپرد کردیا گیا ، جن کی سر پرستی اور قیادت قادیانی گماشتہ ظفراللہ خان کررہا تھا،بیوروکریسی میں اسے بنگال کے میرجعفر کے پڑپوتے سکندر مرزا کی حمائت حاصل تھی، عسکری میدان میں جنرل گریسی اور سیاسی محاذ پر 1946کے بعد مسلم لیگ میں شامل ہونے والے انگریز کے ٹوڈی خاندان دل وجان سے اس کے دست وبازو تھے ۔ باالفاظ دیگر جنہیں قائدؒنے کھوٹے سکے قراردیا ، ریاست کا مقدرلکھنے کا کام انہوں نےاپنے قبضے میں لے لیا ۔محسن بھوپالی کے بقول :
نیرنگئی سیاست دوراں تو دیکھئے
منزل انہیں ملی جوشریک سفرنہ تھے
انگریز کے ساختہ و پرداختہ اسی ٹولے نےدانستہ طور پراسلام کے نام پر قائم اس ریاست کو اسلام کی روح سے خالی اور متصادم نظام کے سانچے میں ڈھالا بلکہ قادیانیت کی حمائت اس کی بنیادوں میں شامل کردی گئی ۔ اسی چنڈال چوکڑی کی حمائت سے قادیانی جماعت کے اس وقت کے سربراہ مرزا بشیرالدین ملعون نے 1948 میں بلوچستان کو قادیانی صوبہ بنانے کا اعلان کیا ، اس پرحکومت خاموش نہیں رہی بلکہ اس کی معاون بنی ،ظفر اللہ کی قیادت میں بیوروکریسی سے لے کر وزارت خارجہ تک بھرتی اور ترقی صرف ان کا مقدر تھی جو قادیانی تھے ، قادیانی نواز تھے یا کم ازکم اسلام بیزار ۔ انہی ایام میںمعروف صحافی اور دانشور حمید نظامی مرحوم نے کہا تھا کہ’’دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانے قادیانیت کی تبلیغ کے اڈے بن چکے ہیں ‘‘ اور یہ بات سو فیصد سچ تھی ۔
(جاری ہے)