Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

دفاعِ وطن کے بڑے دائرے

(گزشتہ سے پیوستہ)
میں نے دفاع وطن کا دوسرا دائرہ یہ عرض کیا ہے کہ اپنی تہذیب کا دفاع اور تحفظ بھی دفاعِ وطن کا تقاضہ اور پاکستان کے دفاع کا ایک مستقل دائرہ ہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ ۱۷۵۷ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہم پر قبضہ کیا تھا۔ وہ یہاں معیشت اور تجارت کے نام پر داخل ہوئے تھے، انہوں نے یہاں لڑائیاں شروع کر دی تھیں اور قبضہ کر لیا تھا۔ وہ بڑھتے بڑھتے دہلی تک آئے تھے اور پورے انڈیا کو کنٹرول کر لیا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی تجارتی کمپنی تھی، فوج نہیں تھی، اس نے فوج یہاں آ کر بنائی تھی اور یہ بڑی تلخ حقیقت ہے کہ اس کی فوج ہم خود بنے تھے۔ یہاں تک کہ برصغیر کے اکابر علماء کو انگریزی فوج میں بھرتی ہونے کو حرام قرار دینے کا فتویٰ جاری کرنا پڑا تھا۔ تجارت اور معیشت کے نام پر ایسٹ انڈیا کمپنی نے یہاں قبضہ کیا جو ایک سو سال رہا، پھر برطانیہ خود آ گیا اور ایک سو نوے سال ان کا قبضہ رہا۔ اس کا آغاز معیشت پر قبضے سے تھا۔ آج ہماری معیشت اسی پوزیشن پر واپس چلی گئی ہے۔ اس لیے میں اصحابِ فکر و دانش کو دعوت دوں گا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہمارے ساتھ معیشت کے میدان میں سو سال کیا کیا تھا؟ اور آج آئی ایم ایف ہمارے ساتھ معیشت کے میدان میں کیا کر رہی ہے؟ کسی کو ان دونوں میں فرق نظر آتا ہو تو نشاندہی فرما دیں۔ آج وہی معاملہ ہمارے ساتھ آئی ایم ایف کا ہے جو ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہمارے ساتھ کیا تھا۔ ہماری معیشت ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے۔ ہم پر مہنگائی اور قرضے مسلط ہیں۔
ہمارے پڑوس میں افغانستان ہے، وہ کسی سے کچھ نہیں مانگ رہے۔ ایک تازہ رپورٹ ہے کہ ڈالر میں بہتر (۷۲) افغانی ہیں اور سوا تین سو (۳۲۵) روپے ہیں۔ وہ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا رہے۔ عالمی بینک، ورلڈ بینک کی رپورٹ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی تیس فیصد معیشت بحال کر لی ہے۔ جبکہ ہماری معیشت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ میں تفصیلات میں نہیں جاتا، صرف یہ عرض کر رہا ہوں کہ آج ہم معیشت کے میدان میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے غلام ہیں اور ہماری معیشت ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ سٹیٹ بینک ہمارا سرکاری اور ریاستی بینک ہے، اس پر کنٹرول کس کا ہے، کس کی نگرانی ہے، اس کی پالیسیاں کون بناتا ہے؟ یعنی دکان میری ہے، اس میں سارا سامان میرا ہے، کاروبار میرا ہے، گلہ میرا ہے، لیکن اس کی چابی آئی ایم ایف کے پاس ہے۔ آج ملک کی معیشت کو آزاد کرائے بغیر ہم ملک کے دفاع کی بات کریں گے تو اپنے آپ کو دھوکا دیں گے۔ ہمیں دھوکے کی فضا سے نکلنا چاہیے۔ ہمیں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی پالیسیوں کا دوٹوک سامنا کرنا پڑے گا اور ملک کی معیشت کو ان کے چنگل سے نجات دلانے کے لیے ہمارے دو طبقوں کو بطور خاص اسٹینڈ لینا ہوگا۔ ایک طبقہ عیاش طبقہ ہے جس کو عیاشیاں چھوڑنی ہوں گی اور دوسرا طبقہ عوام کا ہے کہ عوام کو متحد ہونا ہوگا۔
میں یہاں ایک فارمولا ذکر کرنا چاہوں گا کہ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ جب امیر المومنین بنے تو ان کو بھی اسی قسم کے مسائل درپیش تھے۔ انہوں نے سب سے پہلے یہ کیا کہ تمام اَپر کلاس کے پاس بیت المال کے جو اثاثے تھے وہ سب ضبط کر کے بیت المال میں شامل کیے اور خود اپنی ذاتی زندگی میں تعیش چھوڑ کر سادہ زندگی پر آئے۔ اس لیے ہمارا عیاش طبقہ خواہ وہ کسی وردی میں ہو جب تک عیاشی نہیں چھوڑیں گے، ملک کی آزادی کا تحفظ ممکن نہیں ہے، عیاشی چھوڑنی پڑے گی اور غیر ملکی مداخلت سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا۔
حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے دوسرا کام یہ کیا کہ بہت سے ٹیکس ختم کیے۔ یہ تاریخی واقعہ ہے کہ انہوں نے جب عوام پر کئی ٹیکس ختم کیے تو وزارتِ خزانہ نے اعتراض کیا کہ پیسے کہاں سے آئیں گے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک سال انتظار کرو۔ ایک سال کے بعد کی رپورٹ انہوں نے وزارتِ خزانہ کے سامنے رکھی اور کہا یہ دیکھو جب ٹیکس تھے تو ملک کی آمدنی دو کروڑ سالانہ تھی، اب ٹیکس نہیں ہیں تو بارہ کروڑ سالانہ آمدنی ہے۔ اس لیے ہمیں مغربی معیشت کے اصولوں کو چھوڑنا ہوگا، اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوگا، قناعت اختیار کرنی ہوگی اور آئی ایم ایف کے سامنے اسٹینڈ ایک دفعہ تو لینا ہی ہوگا۔ میں نے تیسرا دائرہ یہ عرض کیا ہے کہ ملک کی معاشی خود مختاری جب تک بحال نہیں ہوگی قومی آزادی مکمل نہیں ہوگی۔
چوتھا دائرہ نظریاتی ہے۔ ہم نے پاکستان بنانے سے پہلے یہ وعدہ کیا تھا کہ یہاں پر اللہ و رسول کی حکومت قائم کریں گے اور پاکستان بننے کے بعد قرارداد مقاصد میں بھی یہ طے کیا تھا کہ یہاں اللہ و رسول کی حاکمیت ہوگی۔ عوام کے منتخب نمائندے حکومت کریں گے اور قانون قرآن و سنت کا ہوگا۔ شریعت کے قوانین نافذ کرنا اور سود کا خاتمہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ہم یہ نہیں کر رہے اور ہمیں اس محاذ پر بھی بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے۔ آج بین الاقوامی حلقے، لابیاں، این جی اوز، یورپی یونین اور امریکہ آئی ایم ایف سمیت ہم سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ پاکستان کو سیکولر ملک بناؤ اور قرارداد مقاصد کو پیچھے ہٹاؤ، قرآن و سنت کی بالادستی اور سود کے خاتمے کی شرط ختم کرو۔
سب سے بڑی بات یہ کہ ہم نے اپنے عقیدے کے تحفظ کے لیے ۱۹۷۴ء میں ختمِ نبوت کے دفاع کا متفقہ قومی فیصلہ کیا تھا۔ ہم پر سب سے زیادہ دباؤ اس معاملے میں ہے۔ پاکستان کے نظریاتی دفاع کا تقاضا ہے کہ ہم قرارداد مقاصد، دستور کی اسلامی دفعات اور ختم نبوت کے مسئلے پر قومی فیصلوں کا تحفظ کریں اور اس کے لیے شعور کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ عمومی ماحول پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ یہ کوششیں کچھ جماعتیں ہی کر رہی ہیں۔ اس لیے میں یہ بات پھر دہراؤں گا کہ فیصلہ قوم کے تمام طبقوں اور اداروں نے کیا تھا۔ قرارداد مقاصد کسی علماء کی جماعت نے نہیں بلکہ پارلیمنٹ نے منظور کی تھی۔ ۱۹۷۳ء کے دستور میں اسلامی دفعات علماء نے شامل نہیں کی تھیں بلکہ پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر شامل کی تھیں۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ علماء کا تھا یا پارلیمنٹ کا فیصلہ تھا؟ پارلیمنٹ کا فیصلہ قومی فیصلہ ہوتا ہے۔ اب قوم کے باقی طبقات کدھر ہیں ؟تاجر برادری، وکلاء حضرات اور وہ جماعتیں کہاں ہیں جنہوں نے قرارداد مقاصد، ۱۹۷۳ء کے دستور اور ختم نبوت کے فیصلے پر دستخط کیے تھے؟ میرا سوال ہے کہ جب فیصلہ کرنے میں سب اکٹھے تھے تو دفاع کرنا صرف مولوی کا کام کیوں ہے؟ اب جبکہ ان قومی فیصلوں کو چیلنجز درپیش ہیں تو ملک کے دوسرے طبقات کیوں سامنے نہیں آ رہے؟ ملک کے متفقہ فیصلے کو چیلنج ہو رہا ہے اور آپ آرام سے گھروں میں بیٹھے ہیں کہ مولوی صاحب! تم کام کرو ثواب ہوگا۔ ثواب تو مولوی کو ہوگا میں اس سے انکار نہیں کر رہا لیکن یہ سب کی متفقہ ذمہ داری ہے۔
میں نے آج دفاع پاکستان کے تقاضوں کے حوالے سے چار دائرے عرض کیے ہیں۔ ہم نے ملک کی سرحدوں کی تکمیل کرنی ہے، ان کا دفاع کرنا ہے۔ ہم نے مسلم تہذیب کا دفاع کرنا ہے اسے بحال رکھنا ہے اور انگریزی تہذیب کا اسی طرح مقابلہ کرنا ہے جس طرح ہندو تہذیب کا مقابلہ کیا تھا۔ ہم نے پاکستان کی معاشی خود مختاری بحال کرنی ہے تاکہ قومی خود مختاری قائم رہے۔ اور ہم نے ملک کے دستوری و نظریاتی فیصلوں کا تحفظ کرنا ہے۔ آج ہم اس کے لیے اپنے عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ ہم جب تک زندہ ہیں ان شاء اللہ العزیز یہ کام کرتے رہیں گے اور اس کے لیے جو قربانی ہم سے ہو سکی، دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس وطن کو، اس کے فیصلوں اور اس کے امتیاز کو سلامت رکھیں اور ہمیں اس کا دفاع کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔

یہ بھی پڑھیں