(گزشتہ سے پیوستہ)
حکومتی سر پرستی میں آنجہانی مرزا بشیر الدین محمود نے 1952 کو قادیانیت کا سال قرار دیا تو خودقادیانی وزیر خارجہ سر ظفراللہ خان نے مئی 1952 میں کراچی میں قادیانیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اسلام کو ایک سوکھے ہوئےدرخت اور قادیانیت کوخدا کے لگائے ہوئے پودے سے تشبیہ دی۔ اس پر تحریک چلی ، تمام مکاتب فکر نے اس تحریک میں حصہ لیا، جسے دبانے کی خاطر پاکستان کی سرزمین پر پہلا مارشل لاء لگایا گیا اور اس کاجبر 1953 میں تحریک مقدس ختم نبوت پر آزمایا گیا۔ قادیانی دہشت گرد تنظیم فرقان بٹالین نےفوج کی وردیوں میں مسلمانوں کےخون سے ہولی کھیلی اوراس وقت کے حکمرانوں نےریاستی مشنری کے ذریعے دس ہزار سے 13 ہزار تک نہتے مسلمانوں کےمقدس خون سےہاتھ رنگے ۔ یہی وہ بنیادیں تھیں جن پر ریاست پاکستان کا ڈھانچہ اٹھایاگیا،اس سے توقع ہی کیا رکھی جائے، بقول صائب تبریزی :
چـون گـذارد خـشـت اول بـر زمـین مـعـمـار کـج
گـر رسـانـد بـر فـلـک، بـاشـد همـان دیوار کـج
مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر صرف تین واقعات واقعات سے ریاست کے مزاج کو سمجھنا آسان ہوجائے گا ۔ 1953میں تحریک ختم نبوت نے جس میں تمام مکاتب فکر کی قیادت شامل تھی، کراچی میں وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین سے مذاکرات کئے، انہیں قائل کرنےکی کوشش کی تو وزیراعظم پاکستان خواجہ ناظم الدین نے کہا ’’بات تو آپ کی ٹھیک ہے ، لیکن اگر قادیانیوں کے حوالہ سےآپ کے مطالبات مان لیے گئےا ور ظفراللہ خان کو وزارت خارجہ سے ہٹادیا گیا تو امریکہ گندم نہیں دے گا ۔‘‘یعنی اس وقت بھی مسئلہ امریکی راتب تھا ،اب بھی وہی ہے ۔
باوجود اس کے کہ خواجہ ناظم الدین کی قیادت میں 1953کاخونی منظر نامہ لکھا گیا ، انہیں صرف اس لئے برطرف کردیاگیا کہ وہ سفاکیت کی حدیں پار کرنے کو تیار نہ تھے ۔ سردار عبد الرب نشتر کو بھی صرف ان کے اسلامی رجحان کی پاداش میں کابینہ سےنکال دیا گیا تھا۔ میاں مشتاق احمدگورمانی وزیر داخلہ تھے ،مولانا ظفرعلی خان کی شدید علالت کے پیش نظر ان کے صاحبزادے مولانا اختر علی خاں کی رہائی پربات چیت ہو رہی تھی ، گورمانی ایک حد تک متفق نظر آئے، اسی دوران وہاں سکندر مرزا آگئے۔مرزا ان دنوں ڈیفنس سیکرٹری تھے ، بھڑک اٹھے، مولانا ظفرعلی خان اور ان کے بیٹےدونوں کو گالیاں دیں اور کہا ’’دونوں کو مرنے دو ، رہا نہیں ہونے دوں گا‘‘ اور وفاقی وزیرداخلہ گورمانی ایک سیکریٹری کے آگے بھیگی بلی بن کر رہ گیا ۔ سکندر مرزانے پھنکارتے ہوئے کہا ’’کابینہ کی غلطی ہے کہ اس نے ان ملاوں کو پھانسی نہیں دی۔ پندرہ بیس کو دار پر کھنچوادیاجاتا یا گولی سے اڑا دیا جاتا تو ہمیشہ کے لیے جان چھوٹ جاتی۔‘‘ عینی شاہدین کی گواہی تاریخ کا حصہ ہے کہ 1953 کے خونی آپریشن کی شب گورنمنٹ ہاوس لاہور میں سکندر مرزا کا ایک ہی جملہ تھا ۔’’مجھے یہ نہ بتاو فلاں جگہ ہنگامہ فرو ہو گیا یا فلاں جگہ مظاہرہ ختم کردیا گیا۔مجھے یہ بتاو وہاں کتنی لاشیں بچھائی ہیں ۔کوئی گولی بیکار تو نہیں گئی ؟‘‘
ریاست کا یہ مزاج کیوں بنا؟ اور اب تک کیوں ہے؟ اس کا جواب ذوالفقار علی بھٹو کی اس تاریخی تقریر میں موجود ہے جو قادیانیوں کو کافر قرار دینے کے بعد انہوں نے قومی اسمبلی میں کی اور کہا ’’ امریکہ قادیانیوں کی پاکستان میں وہی حیثیت چاہتا ہے، جو امریکہ میں یہودیوں کی ہے ۔‘‘ چونکہ ریاست کی بنیاد ہی قادیانیت نوازی پر رکھی گئی ہےاور بصد معذرت ملک کی دینی قیادت نے اس پون صدی میں ایک بار بھی سنجیدگی کے ساتھ اس نظام کو سمجھ کر ، اس میں شامل ہو کر اسے تبدیل کرنے کا سوچا تک نہیں ، لہٰذا یہ ایسے ہی ہے اور ایسے ہی رہے گا۔ حکومت کوئی بھی ہو وہ ختم نبوت کا تحفظ نہیں کرے گی ، جب تک عوام کا دبائو امریکی دبائو سے زیادہ نہیں ہوگا ۔ختم نبوت اور دینی شعائر کا تحفظ اور دفاع عوام نے کرنا ہے ، دینی جماعتوں نے کرنا ہے ، یہ میرے رب نے ان کی ڈیوٹی میں شامل کر دیا ہے ، انہیں ہمہ وقت اسی طرح چوکس رہنا ہوگا جیسے دشمن ملک سے ملتی سرحد پر کھڑا سپاہی چوکس رہتا ہے ،البتہ کوئی حکمران ایسا آجائے جس سے اللہ رب العزت کام لینے کی ٹھان لے تو ذوالفقار علی بھٹو اور ضیاء الحق کی طرح عوامی دبائو کو قانون کا درجہ دے سکتا ہے ، اس سے زیادہ کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔
ذوالفقار علی بھٹو کے قادیانیوں کو کافر قرار دینے کے کارنامے سے انکار نہیں لیکن ان کا یہ کارنامہ علماء اور عوام کی دہائیوں پر مشتمل قربانیوں، 1953کی مقدس تحریک کے دوران ہونےو الی شہادتوں اور 1974 میں ربوہ ریلوے سٹیشن پر قادیانی غنڈہ گردی کے خلاف اٹھنے والی تحریک کی شدت کا نتیجہ تھا، ذاتی سوچ نہیں ۔ اسی طرح جنرل ضیا الحق نے 26 اپریل 1984 کو امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا، جس کے مطابق قادیانیت کی تبلیغ و تشہیر، قادیانیوں کا خود کو مسلمان ظاہر کرنا، اذان دینا، اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کہنا اور شعائر اسلام استعمال کرنا جرم قرار دے دیا گیا، یہ ایک بڑا اقدام تھا بلا شبہ ضیاء الحق کا بڑا کارنامہ ،لیکن نہیں بھولنا چاہئے کہ یہ بھی علما ء کی قیادت میں اٹھنے والی تحریک کی صورت عوام کےدبائو اور دینی قوتوں کے متحرک اور متحد ہو کر جدجہد کے سبب ممکن ہو سکا تھا ۔ آج اگر چیف جسٹس نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا ہے ، حکومت نے دبائو ڈالا ہے تو اس سب کی وجہ بھی صرف دینی جماعتوں کی بیداری اور بروقت متحرک ہونا ہے ، ورنہ واردات تو ہوچکی تھی ۔
اسلام کے نام سے معرض وجود میں آنے والے ملک پاکستان میں قادیانی اور یہودی ایجنڈے کی مزاحمت کبھی ختم نہیں ہو سکتی کیونکہ پون صدی سے حکومتی راہداریوں میں گھسے سکہ بند قادیانی عناصر، ضمیر فروش اور بےدین سیاستدانوں اور نام نہاد لبرل طبقات کو مہرے کے طور پر استعمال کررہے ہیں ۔ انہیں ہر حکومتی ادارے میں اپنے کام کے بندے اتفاقاً نہیں مل جاتے بلکہ ان بندوں کو لایا ہی اسی مقصد کے لئے جاتا ہے ، باقاعدہ پالا جاتا ہےاور بوقت ضرورت استعمال کیا جاتا ہے ۔
اس تمام بحث کے بعد منطقی طور پر یہ سوال پید ا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب ایسے ہی چلے گا ؟ یقینا ً ایسے ہی چلے گا ۔ تبدیلی کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ جس راستے سے ریاست کو ایک خاص رنگ اور سوچ میں ڈھالا گیا ہے ،اسی راستے سے اس سوچ کو ختم کیا جائے ، یعنی پر امن طریقے سے طویل مدتی پالیسی کے تحت دینی سوچ کے حامل افراد کار کی تیاری ۔اس کے سوا سب بڑھکیں ہیں ، نعرے ہیں ، اور سیاسی بیانات ۔