Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

مینار پاکستان ! تحفظ ختم نبوت ﷺکا عظیم اجتماع

7ستمبر1974ء پاکستان کی قومی اسمبلی کے قادیانیوں کو متفقہ طور پر کافر قرار دیا تھا، چنانچہ اس دن کو پاکستان کے مسلمان یوم ختم نبوتﷺ کے طور پر مناتے ہیں، 7ستمبر 2024ء ہفتہ کے دن قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دئیے جانے کے 50سال مکمل ہوئے، اس گولڈن جوبلی کے موقع پر ملک بھر میں اس دن کو یوم فتح کے طور پر منایا گیا، اس حوالے سے لاہور مینار پاکستان کے سائے تلے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوتﷺ کے زیراہتمام ایک بڑی ختم نبوتﷺ کانفرنس منعقد ہوئی، بلامبالغہ اس کانفرنس میں لاکھوں فرزندان توحید شریک ہوئے، کانفرنس سے مرکزی خطاب جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کیا۔
یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ قادیانی گروہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے 50سال تو مکمل ہوئے، لیکن اس فتنہ پرور گروہ کی فتنہ انگیزیاں جس طرح 50سال پہلے تھیں، اسی طرح آج بھی ہیں، 50سال پہلے بھی یہ گروہ شعائیر اللہ پر شب خون مارنے کی جسارت کیا کرتا تھا۔ مسلمانوں کے عقیدہ ختم نبوتﷺ پر ڈاکہ زنی کرتا تھا اور آج 50سال بعد بھی یہ گروہ مسلمانوں کے عقیدہ ختم نبوتﷺ اور شعائیر اللہ پر ڈاکہ ڈالنے سے باز نہیں آرہا۔
پاک سرزمین پر بسنے والے اس گروہ کے وابستگان نے ان 50سالوں میں ایک دن کے لئے بھی اس ملک کے آئین کو تسلیم نہیں کیا، یہ فتنہ پرور گروہ ایسا ’’انوکھا لاڈلا‘‘ ہے کہ ’’آئین‘‘ کو تسلیم نہ کرنے کے باوجود اس گروہ کے ہرکارے پاکستان میں دندناتے پھرتے ہیں، یہ فتنہ پرور گروہ روز اول سے ہی پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے، اس فتنہ پرور گروہ کے سینکڑوں افراد اسرائیلی فوج میں بھی شامل ہیں، اس گروہ نے دنیا میں ’’پاکستان‘‘ کو بدنام کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی، لیکن اس سب کے باوجود آئینی مناصب پہ بیٹھی ہوئی بعض شخصیات قادیانیوں کی سہولیت کاری کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں، جس کی وجہ سے پاکستان میں انتشار پیدا ہوتا ہے،7ستمبر1974ء کے 50سال بعد یعنی 7ستمبر2024ء کو مینار پاکستان پر لاکھوں عشاق ختم نبوتﷺ نے جمع ہو کر اور صرف لاہور میں ہی نہیں، بلکہ راولپنڈی، آزاد جموں وکشمیر، کراچی سمیت ملک کے دیگر سینکڑوں چھوٹے بڑے شہروں میں کروڑوں مسلمانوں نے یوم ختم نبوتﷺ کو بڑے تزک احتشام سے منا کر یہ بات ثابت کر دی کہ قادیانی اور ان کے سہولت کاروں کی ہر سازش کا راستہ روکنے کے لئے مسلمان تیار تھے، تیار ہیں اور تیار رہیں گے، ان شاء اللہ
سیدھی سی بات ہے کہ اگر قادیانی گروہ کو ’’اذان‘‘ اچھی لگتی ہے، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور قربانی اچھی لگتی ہے تو اسے چاہیے کہ مرزا غلام قادیانی پر لعنت بھیج کر آقا و مولیٰﷺ کی ختم نبوتﷺ کے دامن سے وابستہ ہو جائے، امت مسلمہ کے لئے اس سے بڑی خوشی کی خبر کوئی دوسری ہو ہی نہیں سکتی، لیکن اگر غیر مسلم قادیانی گروہ، صلیبی، صہیونی طاقت کے بل بوتے پر زور، زبردستی مسلمانوں کی صفتوں میں گھسنے کی کوشش کرے گا تو ’’مسلمان‘‘ کسی قیمت پر نہ برداشت کریں گے اور نہ اس کی اجازت دیں گے، پاکستان کے عوام بالخصوص مسلمان اپنے آپ کو آئین اور قانون کا پابند سمجھتے ہیں، مینار پاکستان پر لاکھوں فرزندان توحید و سنت کے اجتماع میں مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’7ستمبر1974ء کے 50سال بعد 7ستمبر 2024ء کے دن ہم دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ رسول اکرمﷺ کی ختم نبوتﷺ پر شب خون مارنے والوں کو اپنی عاقبت کا اندازہ کرلینا چاہیے کہ پاکستان کے عوام اپنے رسولﷺ کی ختم نبوتﷺ کا دفاع کس انداز کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔
آج کے اس عظیم اجتماع نے قادیانی اور لاہوری فتنے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، اب ان کو نہ امریکہ قدوقامت دے سکتا ہے نہ یورپ ان کی کمر سیدھی کر سکتا ہے اور نہ اسرائیل ان کو پناہ دے سکتا ہے۔ ہم نے اس فتنے کا تعاقب کیا ہے، تعاقب کرنا جانتے ہیں،74 کے بعد 50 سال گزرنے کے باوجود آج بھی قوم کے جذبے میں کوئی کمی نہیں آئی اور اللہ کے فضل و کرم سے آئندہ صدی میں بھی قادیانیوں کی کمر اسی طرح ٹوٹی رہے گی اور دنیا کی کوئی طاقت رسول اللہﷺ کی ختم نبوتﷺ پر شب خون مارنے کی جرات نہیں کر سکے گی، انہوں نے کہا کہ میں اسلامی دنیا کے حکمرانوں کو اہل پاکستان کی طرف سے پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا اور اتنے زیادہ انسانوں کا خون بہانے کے بعد بھی کیا امریکہ جس کے ہاتھوں سے فلسطینیوں کا خون ٹپک رہا ہے جس کے ہاتھوں سے عراقیوں، افغانوں اور لیبیاء کے عوام کا خون ٹپک رہا ہے، کیا اس کے بعد بھی امریکہ کو انسانی حقوق کی بات کرنے کا حق حاصل ہے؟
اہل پاکستان اس بات کا اعلان کر رہے ہیں کہ امریکہ انسانی حقوق کا قاتل تو ہوسکتا ہے…انسانی حقوق کا علمبردار نہیں ہوسکتا، مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ چیف جسٹس نے اگر غلطی کا ادراک کرکے اپنی غلطی کا اعتراف کیا ہے اور انہوں نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا ہے تو پھر قوم منتظر ہے تفصیلی فیصلہ جلدی سامنے آئے، ہم امید رکھتے ہیں کہ تفصیلی فیصلہ بھی مختصر فیصلے کے عین مطابق ہوگا، انہوں نے کہا کہ آج کا یہ اجتماع ملکی وحدت کی علامت ہے، ہم ہر تحریک کو اس بات کا حق ضرور دیتے ہیں کہ وہ اپنے حقوق کی بات کرے، لیکن اگر وہ پاکستان سے علیحدگی کی بات کریں گے تو یہ اجتماع انہیں پیغام دے رہا ہے کہ ہم ملکی سلامتی پر قطعاً سودا بازی کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے، یہ ملک ہمارا ہے، اس ملک میں اسلام کی قدروں کو بلند کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں