عورت کو معاشرے میں جان بوجھ کر تعلیم صحت اور وراثت سے محروم رکھا جاتا ہے، عورت معاشرے کی ہوس ناک نگاہوں کا شکار رہتی ہے، عورت کو دوسرے درجے کا انسان سمجھا جاتا ہے، یہ سب درست اور زمینی حقائق ہیں ، سوال یہ ہے کہ ان مسائل کا حل کیا ہے،کیا مغربی تہذیب ہو یا ہندو تہذیب ،ان میں ان مسائل کا حل موجود ہے ؟ہر گز نہیں ،کیونکہ دیکھنے میں یہ آیا ہے،عورت کا جتنا استحصال یورپ میں ہو رہا ہے،شائد ہی کسی دوسرے خطے میں ہو رہا ہو،میرا جسم میری مرضی اینڈ کمپنی کا تو اصل ایجنڈا ہی یہ ہے کہ جس طرح سے بھی ممکن ہو پاکستانی عورتوں کو جنس بازار بنا دیا جائے ،کوئی عورتوں کے حقوق کے نام پر ڈالروں کی بھیک لینے والے خرکاروں سے پوچھے کہ تم نے کبھی عورتوں کو اشتہارات کی زینت بنانے والی اشتہاری کمپنیوں کے خلاف مظاہرے کیے اور اگر نہیں تو کیوں ؟؟ عورت کو انسانی تاریخ میں جو عزت و حرمت اسلام اور اسلامی تعلیمات نے دی کوئی اور مذہب اور معاشرہ اس کی مثال نہیں دے سکتا، سمجھدار اور دینی شعور رکھنے والے گھرانوں میں الحمدللہ بچیوں کی پیدائش پہ بچوں سے زیادہ خوشی منائی جاتی ہے ،کیونکہ وہ بیٹیوں کوخدا تعالیٰ کی رحمت سمجھتے ہیں،عورت کے وجود سے کائنات کا حسن ہے، عورت کو جائیداد اور وراثت سے حصہ دینے کا حکم شریعت نے دیا ہے، اگر عورت کو وراثت سے محروم رکھا جاتا ہے،تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ عورت دینی احکامات سے یا معاشرتی اقدار سے بغاوت پر اتر آئے ، ضروریات دین اور ضروریات زندگی کا علم حاصل کرنا ہر مرد عورت کا مساوی شرعی حق ہے اگر اس میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے تو وہ حق تلفی ہے، جس کا سدباب ضروری ہے، مگر جو تعلیم عورت کو بے حیا شرعی حدود و قیود سے آزاد مرد کو بے غیرت اور آوارہ کردے اس سے جہالت اچھی، ایک مسلمان مملکت اور معاشرے میں خواتین کی دینی و دنیاوی تعلیم کے لئے الگ سے باپردہ تعلیمی ادارے علاج معالجے کے لئے شفا خانے تفریح کی مختلف سرگرمیوں کے لئے با پردہ ماحول فراہم کرنا حکومت، ریاست کی اور معاشرے کی اولین ذمہ داری ہے۔
عورت کو مرد کی برابری کے چکر میں جس طرح سے گھن چکر بنا دیا گیا وہ انتہائی افسوس ناک ہے ، عورت کو اس کی تمام ضروریات زندگی گھر کی دہلیز پر مہیا کرنا مرد کے ذمے اور مرد کے فرائض میں شامل ہے، مادر پدر آزاد این جی اوز کے راتب خور سیاپا ڈالتے ہیں مرد عورتوں پر ظلم ڈھاتے ہیں، جزوی طور پر اگر اسے تسلیم بھی کر بھی لیا جائے تو ساس بہو کی صدیوں پرانی لڑائیوں کو کس مر د کے کھاتے میں ڈالا جائے ؟نند، بھاوج، دیورانی جیٹھانی کی خوفناک لڑائیوں کا ذمہ دار کون سا مرد ہے،؟ کیا آج تک عورتوں کے حقوق کے کسی مامے چاچے نے عورتوں کے ان مسائل کو موضوع بحث بنایا؟ ہاں عورت کو اپنے مستقبل کے لئے جیون ساتھی کے انتخاب میں پورا پورا حق حاصل ہے، جسے ہمارا معاشرہ زمانہ جاہلیت کی طرح یکسر نظر انداز کردیتا ہے دنیا بھر میں اور مسلمان معاشروں میں بھی عورت کے حقوق غصب کئے جاتے ہیں، جن کا سدباب شریعت مطہرہ پر عمل کر کے ہی کیا جا سکتا ہے ، عورت کا انسانی اور شرعی حق ہے دوسری طرف اس وقت مسلمان کہلانے والی عورتوں کوبھی یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ یورپ کا تھوکا ہوا چاٹنا ذلت ورسوائی کے سوا کچھ نہیں، باقی آزادی نسواں کے خوشنما نعرے کے پیچھے عورت کی عزت و ناموس کی چادر تار تار کی جاتی ہے، عورت کو گھر سے نکال کر حیا اور اخلاق باختہ معاشرے کے حوالے کرنے کے نت نئے انداز پرموٹ کیے جا رہے ہیں۔
اسلام نے عورت کو گھر کی چار دیواری میں عزت و حیا کی ملکہ بنایا ہے، اس لئے ڈالر خور این جی آوز کے خوش نما مگر غلیظ نعروں سے متاثر ہونے کی بجائے اسلام کی چادر رحمت پر قناعت کریں، موجودہ دور میں جہاں دیگر بے شمار برائیاں عام ہو رہی ہیں وہاں اس پرفتن دور کی ایک خطرناک برائی ’’سحر‘‘ہے جو کہ عورتوں کے ذریعے عام ہو رہی ہے، ’’سحر‘‘ یعنی جادو ایسا شیطانی عمل ہے جس کے ذریعے ایک انسان سب سے پہلے ایمان جیسی قیمتی دولت سے محروم ہو جاتا ہے۔دنیا کی چند روزہ زندگی میں محض حسد کی بنا پر اپنے ایمان کو چند ٹکوں کے عوض بیچ دینا سب سے بڑی محرومی ہے،یہ صرف انسان اپنی ذات کا نقصان کرتا ہے ورنہ ومکروا ومکراللہ واللہ خیر الماکرین اور ظالم کی اپنی زندگی دنیا و آخرت میں عبرت بن کر رہ جاتی ہے۔ ظالم کوئی ہو اور ظلم کیسا ہی ہو مظلوم کوئی بھی ہو اللہ تعالیٰ انتقام لیتے ہیں اور دنیا آخرت میں لیتے ہیں اپنے دشمنوں کو اللہ کے حوالے کردیں۔درد جانے دوا جانے خدا جانے۔ اللہ ظالم کو ایک وقت تک ڈھیل دیتا ہے لیکن جب رسی کھینچتا ہے تو اسے نشانہِ عبرت بنا دیتا ہے۔
حاسد کی زندگی بھی کتنی عبرتناک ہوتی ہے دنیا جانتی ہے حاسدین دنیا میں اپنے حسد کی آگ میں جلتے ہیں اور موت کے بعد جہنم کا ایندھن بن جاتے ہیں اور حسد کی بنا پر ایمان کا سودا کر کے ہمیشہ والی جہنم اپنا مقدر بنا لیتے ہیںزندگی تو اتار چڑھا اچھے اور برے حالات مختلف نشیب و فراز سے گزرنے کا نام ہے اور یہ ذندگی کا حسن ہے کامیاب انسان وہ ہے جو مشکل ترین حالات میں کہ جہاں محسوس ہوتا ہو کہ اب اس تاریکی سے واپسی ممکن نہیں استقامت دکھائے اپنے ایمان پر قائم رہے اللہ پر اس کا یقین اور بھروسہ قائم رہے اور جب اللہ کی طرف سے آئی ہوئی آزمائشوں ، دنیا کے دیئے ہوئے غموں پریشانیوں اور ظلم و جبر اور حسد و عداوت کے باوجود بھی انسان کا یقین اللہ پر قائم رہتا ہے اور اس کی نگاہ پورے یقین کے ساتھ اسی کی طرف اٹھتی ہے تو اللہ تعالیٰ پھر آسانیاں دیتے ہیں سکون اور اطمینان خوشی و مسرت کی نعمت سے نوازتے ہیں لہذا ہر حال میں اللہ پہ بھروسہ رکھیں کبھی اس کے دامن رحمت سے مایوس نہ ہوں۔