Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

یہ بھوک،افلاس تنگ دستی تمہاراہی مقدرکیوں؟

(گزشتہ سے پیوستہ)
انہوں نے قنب کی کھپت سے متعلق ایک قانونی بحث کی بھی حمایت کی جس کے مطابق قنب کی تجارت میں حکومت کو اجارہ داری حاصل ہوگی۔ ان کاکہناتھاقنب کی کھپت زیادہ پریشان کن بات نہیں، اصل مسئلہ منشیات کی تجارت ہے۔تاہم اپنی مقبولیت کی کمی کے باعث انہیں زیادہ پریشانی اس لیے نہیں ہوئی کیونکہ انہوں نے 2014ء کے انتخابات میں دوبارہ حصہ لینے سے انکارکردیاتھا جبکہ ان کے جیتنے کے امکانات 70 فیصدسے زائد تھے۔وہ77سال کی عمر میں سیاست سے ریٹائر ہو گئے۔اپنی ریٹائرمنٹ کے بعدانہیں ریاست کی جانب سے جوپنشن مل رہی ہے، اپنے محدودخرچ کے بعدانہیں کسی مشکل کاسامنانہیں اوروہ اب بھی اپنے کچھ غریب دوستوں کی خاموشی سے مددکررہے ہیں۔
سوال یہ پیداہوتاہے کہ آخرہمارے تمام سیاستدان بخوبی جانتے ہیں کہ ملک کی معاشی حالات کاکون ذمہ دارہے اوران کااپنا کردار کیاہے؟بیرونِ ملک ان کے محلات اورآف شور کمپنیوں میں ان کے ساری دنیامیں پھیلے ہوئے کاروبارکی تفصیلات بھی موجودہیں۔پانامامیں آف شورکمپنیوں میں249 پاکستانیوں کے نام شامل تھے لیکن مقدمہ صرف نواز شریف کے خلاف ہی سامنے آیااورقوم توباقی افرادکے ناموں سے بھی اب واقف نہیں۔اس وقت بھی یہ مطالبہ کیاگیا تھا کہ حکومت اوراپوزیشن کااحتساب ایک ساتھ شروع کیا جائے لیکن اپوزیشن نے شدیدمخالفت کی، آخرکیوں؟
پانامالیکس کی تحقیقات کے لئے جوڈیشنل کمیشن کاقیام اپوزیشن کاہی متفقہ مطالبہ تھا،بالکل اسی طرح سب سے پہلے نواز شریف اوران کے اہل خانہ کااحتساب بھی اپوزیشن کامتفقہ مطالبہ تھاجس کے بعددوسروں کے خلاف تحقیقات کی جانی چاہئے تھی۔اس سلسلے میں پارلیمنٹ میں حزبِ مخالف کی جماعتوں کے دومئی کے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم کے مستعفی ہونے پرتواتفاق نہ ہوسکالیکن اگلے دن ایک متفقہ ٹرمزآف ریفرنس میں تین ماہ میں وزیر اعظم اوران کے تمام خاندان کے احتساب اوراپوزیشن کے افرادکے لئے ایک سال کاوقت کامطالبہ کیاگیاجوکہ یقیناعوام کوبھی ایک دھچکالگاکہ آخرملکی دولت کولوٹنے والوں کے لئے دوہرامعیارکیوں؟
کوئی اعتزازاورفاروق نائیک جیسے قانون دانوں سے یہ توپوچھے کہ ان کی پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کے پاس اٹھارہ بلین سے زائدکے اثاثے کیسے آئے؟سرے پیلس سے مکمل لاتعلقی اوربعدازاں برطانیہ کی عدالت میں اس کی فروخت کے موقع پراس کی ملکیت کادعوی، نیب کے مفرورواجدشمس الحسن کوبرطانیہ میں سفیرمقرر کیا جس نے حق نمک ادا کرتے ہوئے سوئٹزرلینڈ سے زرداری کی کرپشن کاتمام ریکارڈحکومت کے نمائندے کے طورپرموصول کرکے غائب کردیا۔ ان مقدمات پرقومی خزانے سے کروڑوں روپے اٹھ گئے لیکن کیاکسی نے اس کاحساب پوچھا؟ کیا آج وہی ہمارے حکمران نہیں جواربوں روپے کا قومی خزانے کوچونالگانے کے الزامات میں مقدمات کاسامنا کر رہے تھے اورجونہی حکومت میں آئے توسب سے پہلے نہ صرف اسمبلیوں سے وہ قانون منظورکروائے جس سے ان تمام مقدمات یکسرختم ہو گئے بلکہ قومی خزانے سے کھربوں روپے لوٹنے والوں کو ایوانِ صدربلاکرہلال قائداعظم جیسے میڈل پہنائے گئے۔قوم کوبتایاگیاکہ تمام کابینہ کوہرقسم کی مراعات ختم کردی گئی ہیں لیکن اب بھی چاردرجن گاڑیوں کے پروٹوکول میں اسی عوام کے درمیان سے گزرتے ہیں جن کی خدمت کرنے کادعویٰ کرتے ہیں۔غربت،مہنگائی اوربجلی کے بلوں کے ہاتھوں لوگ خودکشیاں کررہے ہیں اوریہاں ایوانِ صدرسے منسلک چہل قدمی کے باغات کابجٹ سالانہ6کروڑروپے مختص کردیاگیا ہے۔
بجٹ میں ایوان صدراور صدر ہاؤس کے لئے 1ارب11کروڑ23لاکھ 42ہزار،وزیراعظم ہائوس اور پبلک سیکرٹریٹ کے لئے 31کروڑ 32لاکھ 51 ہزارروپے اضافہ کردیاگیا۔ صدر کی تنخواہ میں اضافہ نہیں کیاگیا،وزیراعظم کی سالانہ تنخواہ میں 5لاکھ روپے اضافہ کیا گیا۔پارلیمنٹ سے منظوری کے بعدوزیراعظم کی تنخواہ 2لاکھ 46ہزار750روپے ہوگئی ہے ، اس مدمیں29 لاکھ61ہزارروپے بجٹ مختص کیاگیا۔ ایوان صدروہاس کے لئے کل2ارب28 کروڑ1 لاکھ 5ہزارروپے،وزیراعظم آفس وہاؤس کے لئے اب65کروڑ 42 لاکھ 62 ہزار بجٹ مختص کیاگیا۔
پانامالیکس کے بارے میں سب سے زیادہ احتجاج کرنے والے عمران خان کاخودبرطانیہ میں ایک آف شور کمپنی کی ملکیت کااعتراف اورزمان پارک میں اپنے آبائی وسیع و عریض گھررکھنے کے باوجود 2اپریل 1987ء کواسی نوازشریف سے اپنے ذاتی گھرکے لئے درخواست گزارہوکرپلاٹ حاصل کیا،اپنی ہی پارٹی کے افرادکی آف شورکمپنیوں پرشورمچانے کی بجائے ستائش کی۔کل کاناقدعمران خان آج ملک کے سب سے بڑے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کی برطانیہ کی طرف سے منی لانڈرنگ کی مدمیں 190ملین پانڈکی وصولی کے جواب میں ملک ریاض سے عبدالقادرٹرسٹ کے نام پرزمین حاصل کرنے کے مقدمے کاسامناہے؟توشہ خانہ کے علاوہ تین درجن دیگرکرپشن کے مقدمات میں ان کی اہلیہ کے خلاف بھی ٹھوس ثبوتوں کاانبارفیصلوں کامنتظر ہے۔اب سپریم کورٹ نے بھی عمران خان کی درخواست پرفیصلہ سنادیاہے کہ درخواست اورسپریم کورٹ کافیصلہ آئین کے مطابق نہیں،موجودہ مقدمے میں بھی ترامیم غیرآئینی ہونے کے حوالے سے ہم قائل نہیں ہوسکے،ان ترامیم میں سے بہت سی ترامیم کے معمارعمران نیازی خودتھے،بانی پی ٹی آئی نے نیک نیتی سے درخواست دائرنہیں کی۔
یادرکھیں کہ دنیاکے بڑے لوگ اورلیڈراس لئے عظیم کہلائے کہ انہوں نے مواقع پانے کے باوجوددولت بنانے سیگریز کیا اورذاتی مفادات کی بجائے عوامی مفادات کوترجیح دی اورغربت کی زندگی گزارکراپنی قوم کے مستقبل کوروشن کردیا۔ آخرہمارے موجودہ حکمران اوراپوزیشن یوراگوئے کے سابق صدرسے سبق حاصل کیوں نہیں کرتے کہ انہیں لیڈربنناہے یاڈیلر؟
اے مرے دیس کے لوگو!شکائت کیوں نہیں کرتے؟
تم اتنے ظلم سہہ کربھی بغاوت کیوں نہیں کرتے؟
یہ جاگیروں کے مالک اورلٹیرے کیوں چنے تم نے؟
تمہارے اوپرتم جیسے ہی،حکومت کیوں نہیں کرتے؟
یہ بھوک،افلاس تنگ دستی تمہارا ہی مقدر کیوں؟
مقدر کو بدلنے کی جسارت کیوں نہیں کرتے؟

یہ بھی پڑھیں