Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

قسمت کاماتم

تاریخ کوخون آلودراہداریوں میں ایک محل اورقصرشاہی کے دربارمیں پڑاایک پتھربدلتے دنوں میں انسانوں کی بربریت،ظلم وجوراورحیوانیت کی کہانی مدتوں بیان کرتارہا۔اس پتھر پرسب سے پہلے اعلائے کلم الحق کے سالارِقافلہ شہیدکربلا سیدناامام حسین ؓ کامقدس سرابن زیاد کےسامنے رکھا گیا۔پھراسی پتھرپرابن زیادکاسرمختاربن ثقفی کے سامنے پیش کیا گیا۔یہی پتھرمختاربن ثقفی کے خون کی گواہی بناجب اس کاسرعبداللہ بن زبیرکے سامنے پیش کیا گیا پتھر پرعبداللہ ابن زبیرکاسرحجاج بن یوسف کے روبروتاریخ کی بربریت کی شہادت دیتا رہا۔ سربریدہ لاشوں کی بے حرمتی،کٹے ہوئے سروں کی نمائش ان لوگوں کافعل رہاجن میں بربریت،انسانی احترام پرغالب تھی یاپھر جن کے انتقام کی آگ نے انہیں ان لوگوں کی پیروی کرنے پرمجبورکردیاجن کے خلاف وہ حق کی آوازبلندکرتے تھے۔
میں آج بھی جب تاریخ کی یہ کہانیاں پڑھتا ہوں توانسانی شقاوت کی اس درندگی پر لرز جاتاہوں اورحیرت میں ڈوب کرسوچتاہوں کہ اگرمیرے پوتے پوتیوں نے تاریخ اسلام پڑھتے ہوئے اپنے سوالوں کے تیروں کارخ میری طرف موڑدیاتوانہیں ایساکیاجواب دوں کہ ان کامعصوم ذہن ظلم وستم کی ان کثافتوں سے پاک رہے۔احد کی وادیوں میں سیدنا حمزہ ؓکی مقدس لاش کامثلہ کرنے پرسید الانبیاﷺکاکرب اوردکھ میری آنکھوں میں گھوم جاتاہے جب میرے آقااپنے دودھ شریک چچاکی لاش کودیکھ کربے اختیارپھوٹ پھوٹ کرروتے رہے اورمدینے کے انصاراور مہاجرین اپنے شہداء کوچھوڑکرفورانبیﷺکوپرسہ دینے کے لئے پہنچ گئے۔وہ کیا منظر ہوگاجب رحمت العالمینﷺاپنے چچاکے چھوٹے بیٹے کو گودمیں لے کر ان کی اہلیہ کو ان کے شوہراوربچوں کوان کے والدکی شہادت کی خبردیتے ہوئے باربارآبدیدہ ہوتے رہے،یہ تحریر کرتے ہوئے یہ دکھ میری آنکھوں میں گھوم جاتاہےاور قلم بھی بال کھولے نوحہ کرناشروع کردیتاہے۔
مجھے وہ ہدایات یادآجاتی ہیں جوآپﷺ لشکرکوجہادپرروانہ کرتےہوئے فرمایاکرتے تھے۔ کسی فصل کوتباہ نہ کرنا،کسی لاش کا مثلہ نہ کرنا،کسی عورت اوربچے پرہاتھ نہ اٹھانا لیکن ان سب ہدایات کاتمسخرتاریخ میں جس طرح اس امت مسلمہ نے اڑایاوہ میری روح پربوجھ توتھاہی لیکن اپنی ہی زندگی میں اس تمسخرکی آنکھوں دیکھی گواہی کے مسلسل عذاب میں مجھے گرفتارہونا پڑے گا،اس کرب کا تجربہ میں گزشتہ چاردہائیوں سے کررہاہوں اورمیراالمیہ یہ ہے کہ یہ سب وہ لوگ کررہے ہیں جواسی رحمت اللعالمین ﷺکی سنت کے دعویدار اوراس کے دین مبین کے علمبردارہیں اورجن کی زبان ان کے ساتھیوں اوران کے گھرانے سے محبت میں رطب اللسان رہتی ہے۔
میں وہ دن کیسے بھول سکتاہوں جب پانچ جولائی1985میں کوئٹہ میں شریعت کے نفاذ کے لئے ایک جلوس نکلناتھا۔ضیاالحق کا دوراسلام کے نفاذکاعلمبردار لیکن صرف اسی تعبیر پر قائم جو اس کے حواری اسے بتاتے تھے،دوسری جانب مخالفین۔ آمریت کا خاصہ ہے کہ آواز کو بزور طاقت سے دبایاجائے۔پولیس کی بھاری نفری جلوس کے راستے کی رکاوٹ بنی کھڑی ہے۔ مذاکرات جاری تھے،اوپرسے احکامات تھے کہ جلوس کسی صورت میں نہیں نکلنا چاہئے ۔ اوپربات ہوئی،ان سے دست بدستہ عرض کیاگیاکہ خون خرابے سے بچنے کے لئے یہ بہترین حل ہے لیکن آمریت کوانسانوں کی جان اورعزت وآبروکے مقابلے میں حکومت کی رٹ کی پروا ہوتی ہے۔ایک مجسٹریٹ نے میگافون پرجلوس کےغیرقانونی ہونے کا اعلان کیااورپھر وہ علاقہ میدان جنگ بن گیا۔آنسو گیس،لاٹھی،گولی سب چلنے لگی۔شام تک پوراعلاقہ دھواں دھواں تھااوراس کے درمیان کھمبوں پرپولیس والوں کے سرکاٹ کر لٹکائے ہوئے تھے۔ کیا آمریت کاظلم،جبراورتشدد کسی کوانتقام کی اس سطح پرلے جاسکتاہے کہ وہ اس فعل کی پیروی کرنے لگےجس کے خلاف صدیوں سے احتجاج کرتارہاہو۔
اب اورآگے بڑھتے ہیں،اگست1989ء میں پشین کے شہرمیں اللہ کی راہ میں جہادکرنے والے دوکمانڈروں میں اختلاف ہوا،بندوقیں تن گئیں، روزلاشیں گرنے لگیں،ہرکوئی ایک دوسرے کو منافق، زندیق اورروس کاایجنٹ کہنے لگا۔سرخاب کاکیمپ میدان جنگ بن گیا۔آخر ایک گروپ وہاں سے بھاگ کرافغانستان چلاگیا۔ فاتح افغان مجاہدین کے کمانڈرکی آتشِ انتقام سردنہ ہوئی،اس نے ’’جہاد‘‘سے سرشارایک دستے کوقندھارروانہ کیاکہ ان کا قلع قمع کیاجائے۔انتقام کی آگ کوجذبہ جہادکہنے والے یہ سرفروش قندھارگئے ،خوفناک اورخونریز لڑائیاں ہوئیں اور پھراس گروپ کے دوکمانڈروں کوقتل کردیاگیا۔ علامت کے طورپران کے سرکاٹ کرپیازکی بوریوں میں چھپائے اورپاکستان کے شہرپشین کے سرخاب مہاجرکیمپ میں لاکردرختوں پر لٹکادئیے۔یہ نشان عبرت ایک ایسی انسانی تذلیل تھی کہ جس کی نہ ان اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں سے کوئی توقع رکھتاتھااورنہ ہی کوئی برداشت۔
لوگ گنگ تھے،نہ کسی مسجدکے لائوڈسپیکرسے اس کی مذمت ہوئی اورنہ کسی منبرسے صدائے احتجاج بلندہوئی۔سروں کی نمائش اورسربریدہ لاشوں کی بے حرمتی کوئی منتقم مزاج بے دین اوربے راہ روکرے تواس کے نسلی تعصب پرماتم کیاجاسکتا ہے۔قاتل اورخاندانی انتقام میں اندھے ایسااکثرکرتے ہیں۔میں نے8سال کی عمرمیں گجرات میں میاں اکبرکے قتل کی لرزہ خیز واردات دیکھی ہے۔میں اپنے والدکے ساتھ جمعہ کی نمازپرھنے جارہاتھاتوراستے میں قتل کی جگہ سے قبرستان تک لاشیں گھسیٹنے سے خون کی لکیریں بن گئیں تھیں کیونکہ قتل کرنے والے مقتولین کی لاشیں اپنے باپ کی قبرتک اس گواہی کے لئے لے گئے تھے کہ ہم نے قتل کرکے انتقام لے لیالیکن وہ جن کی زندگیاں اسلام کے اصول جنگ، امن، صلح وآشتی کے پیغام سناکے گزریں،جن کی اول روز سے تربیت رحمت اللعالمینﷺکی حدیثیں سنتے ہوئے ہوئی،ان کے جذبہ انتقام کے بپھرتی نفرت سے جب سوات کے بازاروں میں سربریدہ لاشوں کی نمائش اوربےحرمتی کی خبریں سنیں توپتانہیں کیوں مجھے اپنی بدقسمتی پر رونا آیا۔میں سوچ میں پڑگیاکہ ہم پرجوامریکاکی غلامی،بدترین آمریت اور بے راہ روقانون کاعذاب نازل ہواہے،یہ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہی تو ہے۔
تھوڑااورآگے چلتے ہیں کہ میراقلم نجانے کیوں ایک اورقیامت کاتذکرہ کرنے کے لئے اکسارہاہے۔ آپ کوبھی دل دہلادینے والاواقعہ توضروریادہوگاجب پشاورکی سڑکوں پر اچانک چیختی چنگھاڑتی سائرن بجاتی ایمبولنسوں کا اژدہام جہاں قیامت صغری کاسماں پیش کررہاتھاوہاں پوری قوم بلکہ پوری دنیاغم واندوہ اورشدیدصدمے اور سکتے کی حالت میں گم صم اپنے رب کے حضورگڑگڑاکررحم وکرم کی فریادکررہی تھی۔یہ دلدوزخبرسنتے ہی ننگے سراورپاؤں ماں باپ اپنے پیاروں معصوموں کودیوانوں کی طرح ڈھونڈنے کے لئے سڑکوں پردوڑ رہے تھے کہ وہ آنے والی قیامت صغریٰ کواپنے سینے پر روک کراپنے بچوں کوبچالیں۔
کیا خوب پسندہے تیری اے فرشتہ اجل
پھول بھی وہ چنے جو گلشن کو ویران کر گئے
16دسمبرکی دلخراش یادوں میں ایک اور اضافہ ہوگیاجب پھولوں کے شہرپشاورمیں پھولوں کومسل کررکھ دیا گیا،وہ جواپنے ہاتھوں میں قلم اورکتاب تھامے اپنے نبیﷺکے احکام کی تعمیل میں علم حاصل کررہے تھے،ان کو اتنی بھی مہلت نہ ملی کہ اپنی ماں سے یہ کہہ سکیں کہ دیکھ ماں!میرے لباس پراس لہورنگ روشنائی ہم سب کی عقبی وآخرت کی نجات کاوسیلہ بن گئی ہے۔آج دل ایک مرتبہ پھردردسےپھٹتاجارہاہےبلکہ دردجیسالفظ بھی ماتم کررہاہے،ایک ایسازخم ہےجس کامداواہوتانظرنہیں آتا،جسم تھرتھرارہاہے،ہاتھوں کی لرزش اور کپکپاہٹ نےدماغ کوماؤف کردیاہے۔وہ تمام مناظرمیراتعاقب کررہےہیں کہ ملک میں دہشت گردی میں ملوث وہ افرادتھےجن کی برسوں میزبانی کاشرف ہمیں حاصل رہااور آج بھی یہی مٹھی بھرافراد اسی سرزمین سے ہمیں لہولہان کررہےہیں جن کی حفاظت کے لئے ہم نے نہ صرف برابرکاخون بہایابلکہ اگرپاکستان ہمسایہ نہ ہوتاتوآج ازادی کاتاج ان سے کوسوں دورہوتا۔
میرےرب نےفرمایاجس طرح کے تم ہوگے ویسے ہی تمہارے حاکم۔جہاں راست بازوں پرجذبہ انتقام غالب آجائےاوروہ اسلاف کی ہدایت ترک دیں وہاں قسمت کاماتم کرنے کےسواکیاکیاجا سکتاہے۔ شریعت کےنفاذکی دھن میں مست لوگوں کوسیدناعلیؓ کاوہ واقعہ شایدیادہوکہ آپ ایک کافرکوپچھاڑکرسینے پرسوارہو گئے،اس نےآپ کےچہرے پرتھوک دیا،آپ اس کاسرکاٹنے کی بجائے نیچے اترآئے،کہااب اگرمیں نےتمہیں قتل کیاتواس میں اللہ کےراستےمیں جہادکےساتھ میراانتقام بھی مل جائے گا۔کاش ایسے میں مسجد کے لاؤڈسپیکرسے،کسی منبرسے،کسی عالم دین کی خطابت کےجوش سے ایک بات بلندہوہم ظلم وجور،جبروزیادتی، اورلادینیت کامقابلہ صرف اللہ کے لئےکرتے ہیں،اس میں اگرانتقام کی ذراسی کھوٹ یاملاوٹ بھی آگئی تواعمال توضائع ہوں گے ہی،دنیابھی ہماری تعلیمات سے نفرت کرنے لگے گی۔

یہ بھی پڑھیں