Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

اقبالؒ،تصوروطنیت وقومیت

وطن کی محبت ایمان کا تقاضا ہے۔ انسان کا اپنی جائے ولادت اور مسکن کے ساتھ محبت و یگانگت کا تعلق ایک فطری عمل ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی احادیثِ مبارکہ میں مکہ المکرمہ سے والہانہ محبت کا اظہار اسی حب الوطنی کا ثبوت ہے۔’’اے مکہ!توکتناپیاراپیارا شہر ہے،تومجھے کس قدرمحبوب ہے،اگرمیری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی تومیں تیرے سواکسی دوسرے مقام پرسکونت اختیار نہ کرتا‘‘۔ کسی چیزکے ساتھ خالص محبت ترجیحات کے عملی تعین کی متقاضی ہوتی ہے۔اگرکسی مرغوب جگہ یاچیزکے ساتھ محبت والہانہ ہوتوفوقیات وترجیحات اورہوجاتی ہیں۔
اقبالؒ کے اشعارسے ہی اس کاآغازکرتاہوں جہاں وہ فرماتے ہیں:
اس دورمیں مے اورہے،جام اور ہے اورجم اور
ساقی نے بِناکی روشِ لطف وستم اور
مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور
تہذیب کے آزرنے ترشوائے صنم اور
ان تازہ خداں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے
موجودہ نظریہ قوم پرستی کومغربی طاقتیں ایک ہتھیارکے طورپراستعمال کرتی ہیں۔یایوں کہاجائے کہ وہ دیرینہ خواب جس کی تعبیرصلیبی جنگوں سے ان کوحاصل نہیں ہوسکی،وہ قوم پرستی سے حاصل کرناچاہتی ہیں۔ ملتِ اسلامیہ کوتوڑنے میں استعماری قوتیں کافی حدتک کامیاب ہوگئی ہیں۔تاریخ شائد ہے کہ دنیامیں بہت سی ایسی قومیں گزری ہیں جن کی مادی شان وشوکت سے دوسری قومیں لرزتی تھیں،مگربایں ہمہ گردشِ ایام انہیں حرفِ غلط کی طرح مٹادیا۔اس کی وجہ دین سے بیزاری اورنسلی و جغرافیائی طریقہ زندگی کوفوقیت دیناہے۔اس لیے کہ وطنیت،چاہے رنگ ونسل کی بنیادپرہو یا علاقائی حدبندی کی بنیادپر،انسانوں کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ کرکے ہوس پرست بنادیتی ہے۔علامہ اقبالؒ مسلمانوں کے ملی تصورکواجاگرکرنے فرماتے ہیں:
فرد قائم ربطِ مِلت سے ہے، تنہاکچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
اپنی اصلیت سے ہو آگاہ اے غافل کہ
قطرہ ہے لیکن مثالِ بحربے پایاں بھی ہے
یقین افراد کا سرمایہ تعمیر ِملت ہے
یہی قوت ہے جو صورت گر ِتقدیر ملت ہے
قوم پرستی کا آغازمغرب میں انقلابِ فرانس یعنی 1789ء کے بعدہوا۔مشہورقوم پرست جان جیک روسواس بات پرمصرتھا کہ انسان کوسب سے زیادہ تعلق اپنے گھراورملک سے ہوناچاہیے۔اس کاعقیدہ تھاکہ فردیاگروہ کی محبت اوروفاداری کامرکزومحوراس کا وطن ہوناچاہیے۔اس نے نوعِ انسانی کی اجتماعی،دینی اورسماجی نظام سے وابستگی کی شدید مخالفت کی۔مغربی مصنفین کی تحریروں سے عیاں ہے کہ وہ قوم پرستی، زبان،ملک اورنسل کووحدت کی بنیادقراردیتے تھے۔ان کااصرارہے کہ غیرکے مقابلے میں وطن کادفاع کرنا زیادہ ضروری ہے،چاہے اس کاموقف صحیح ہویاغلط۔ چنانچہ قوم پرستی عوام کے جذبات سے کھیلنے، فوجوں کوحرکت میں لانے،ہمسایہ ملکوں کواپنی جارحیت کانشانہ بنانے،توسیع پسندی،قتل وغارت گری، بدعنوانی اورظلم وجبرکا ایک ذریعہ بن گئی ہے۔
لیکن اس کے مقابلے میں اسلام اپناایک مستقل نظامِ فکررکھتاہے۔وہ انسان کی عملی،سیاسی، اجتماعی اورروحانی زندگی پرمحیط ہے۔اسی وجہ سے قوم پرستی کاملتِ اسلامیہ کے ساتھ ٹکراناناگزیرہے۔دونوں نظریات ایک دوسرے کے بالکل برعکس ہیں۔ملتِ اسلامی کی وحدت کی بنیادایک بین الاقوامی تصور پر مبنی ہے اوراس کی تشکیل عقیدے کی بنیادپرہوئی ہے۔اسی وجہ سے علامہ اقبال ؒنے مذہب کوریڑھ کی ہڈی قراردیاہے۔
قوم مذہب سے ہے،مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذبِ باہم جو نہیں، محفلِ انجم بھی نہیں
پھرایک اورجگہ فرماتے ہیں:
مذہب سے ہم آہنگیِ افراد ہے باقی
دِین زخمہ ہے، جمعیت مِلت ہے اگر ساز
پانی نہ مِلا زمزمِ مِلت سے جو اس کو
پیدا ہیں نئی پود میں الحاد کے انداز
جب مختلف قومیں کسی خاص مقام یاکسی ایک مرکزمیں اپنی قدرتی اورمناسب ترکیب وترتیب کے ساتھ مل جاتی ہیں توایک اجتماعیت وجودمیں آتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے جابہ جااجتماعیت کو قومی زندگی کی سب سے بڑی بنیاداورانسانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے بڑی رحمت و نعمت قراردیا ہے۔ ارشاد فرمایا: سب مل کراللہ کی رسی کومضبوطی سے پکڑلو اورتفرقہ میں نہ پڑو،اوراللہ کی اس نعمت کویادکروکہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے،اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیداکردی اوراس کی نعمت سے تم بھائی بھائی بن گئے۔ (آل عمران:103)
دورِجدیدمیں لوگوں نے قوم پرستی(یاوطن پرستی)سے متاثرہوکراخوت کے رشتے کوبری طرح پامال کیاہے۔اس کے نتیجے میں بنی نوع انسان قبیلوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔علامہ اقبالؒ نے جب اس تصورکو مسلمانوں میں پنپتادیکھاتوانہوں نے وطنیت پرزبردست تنقید کی:
گفتارِ سیاست میں وطن اور ہی کچھ ہے
ارشادِ نبوت میں وطن اور ہی کچھ ہے
اقوامِ جہاں میں ہے رقابت تواسی سے
تسخیر ہے مقصودِ تجارت تو اسی سے
اقوام میں مخلوقِ خدا بٹتی ہے اس سے
قومیتِ اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے
خالی ہے صداقت سے سیاست تو اسی سے
کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے
یہ بت کہ تراشیدہ تہذیبِ نوی ہے
غارت گرِکاشانہ دینِ نبویؐ ہے
میں یہاں یہ بھی وضاحت کردوں کہ جدید مغربی افکار میں وطنیت اورقومیت قریب قریب ہم معنی ہیں۔ اقبال نے وطنیت کے سیاسی تصورکوجس بناپر رد کیاتھاوہی وجہ مغربی نظریہ قومیت سے ان کی بدظنی کی بنیادبنی۔ان کاخیال تھاکہ قومیت کی ایک سیاسی نظا م کی حیثیت قطعاغیرانسانی اقدارپرمشتمل ہے۔اوراس کی بنیادپرایک انسانی گروہ دوسرے انسانی گروہ سے کٹ کررہ جاتاہے۔ اوربلاوجہ تنازعات کی بنیادپڑجاتی ہے جوبعض اوقات قیمتی انسانی جانوں کے اتلاف اور بلاخیزتباہی پرمنتج ہوتی ہے۔اسی نظام کو انہوں نے دنیائے اسلام کے لئے خاص طورپرایک نہایت مہلک مغربی حربے کی حیثیت سے دیکھااورجب ترکوں کے خلاف عرب ممالک نے انگریزوں کی مددکی توانہیں یقین ہوگیاکہ وطنیت اور قومیت کے مغربی تصورات مسلمانوں کے لئے زہرقاتل سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہورہے ہیں چنانچہ انہوں نے قومیت کے مغربی تصورکے مقابلہ میں ملت اسلامیہ کاتصورپیش کیااوریہ ثابت کیاکہ مسلمانانِ عالم کے لئے بنیادی نظریات اوراعتقادات کی روسے ایک وسیع ترملت کاتصورہی درست ہے اور قومیت کے مغربی نظریہ میں بحیثیت ملت ان کی تباہی کے بے شمار امکانات پوشیدہ ہیں۔اقبالؒ قوم اورملت کومترادف الفاظ کے طورپراستعمال کرتے ہیں اور مسلمان قوم سے ان کی مرادہمیشہ ملت اسلامیہ ہوتی ہے۔
اس بارے میں وہ اپنے مضمون میں تحریر فرماتے ہیں۔میں نے لفظ ملت قوم کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عربی میں یہ لفظ اور بالخصوص قرآن مجید میں شرع اوردین کے معنوں میں استعمال ہواہے لیکن حال کی عربی،فارسی اورترکی زبان میں بکثرت سندات موجودہیں جن سے معلوم ہوتاہے کہ ملت قوم کے معنوں میں بھی مستعمل ہے۔آگے چل کرلکھتے ہیں: ان گزارشات سے میرا مقصدیہ ہے کہ جہاں تک میں دیکھ سکاہوں،قران کریم میں مسلمانوں کیلئیامت کے سواکوئی لفظ نہیں آیا۔ قوم ’’رجال‘‘ کی جماعت کانام ہے۔یہ جماعت بااعتبارقبیلہ، نسل،رنگ، زبان،وطن اوراخلاق ہزارجگہ اورہزار رنگ میں پیداہوسکتی ہے۔لیکن ملت سب جماعتوں کوتراش کرایک نیااورمشترک گروہ بنائے گی۔گویا ملت یاامتجاذب ہے اقوام کی،خودان میں جذب نہیں ہوتی۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں