Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

اقبالؒ،تصوروطنیت وقومیت

(گزشتہ سے پیوستہ)
اقبالؒ قومیت کے اس تصورکے خلاف ہیں جس کی بنیادرنگ،نسل،زبان یاوطن پرہو کیونکہ یہ حدبندیاں ایک وسیع انسانی برادری قائم کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ان کی قومیت کے اجزائے ترکیبی وحدت مذہب،وحدت تمدن وتاریخ ماضی اور پرامید مستقبل ہیں۔ جہاں تک مذہب کاتعلق ہے اسلام اسی ملت کی اساس ہے اوراسلام کاسب سے بڑااوربنیادی اصول توحید خداملی وحدت کا ضامن ہے۔اس کا دوسرا رکن رسالت ہے اوریہی دونوں اساس ملت ہیں۔نہ کہ وطن جوجنگ اورملک گیری کی ہوس پیداکرتاہے۔اسلام نے عالمِ انسانیت میں ایک انقلابِ عظیم کوبپاکرکے انسان کورنگ ونسل،نام ونسب اورملک وقوم کے ظاہری اور مصنوعی امتیازات کے محدوددائروں سے نکال کرایک وسیع ترہیئت اجتماعیہ میں متشکل کیا۔اقبالؒ کے نزدیک یہہیئت اجتماعیہ قائم کرنا اسلام ہی کانصب العین تھا مگربدقسمتی سے یہ وحدت قائم نہ رہ سکی اورمسلمان مختلف فرقوں،گروہوں اور جماعتوں میں بٹتے چلے گئے۔اقبال مسلمانوں کوپھراسی اخوت اسلامی کی طرف لوٹنے کی تلقین کرتے ہیں اورایک ملت میں گم ہو جانے کاسبق سکھاتے ہیں۔وہ ایک عالمگیرملت کے قیام کے خواہشمندہیں جس کاخدا،رسول، کتاب، کعبہ ،دین اور ایمان ایک ہو:
منفعت ایک ہے اسی قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کانبی دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی، اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
یہاں یہ بتادینابھی ضروری ہے کہ علامہ اقبالؒ امت اسلامیہ کے اتحادمیں مغربی تصورِقومیت کونہایت تباہ کن خیال کرتے ہیں۔ان کے ہاں کارواں سے مرادمسلمانوں کی عظمت گزشتہ ہے وہ کہتے ہیں کہ رنگ، نسل،وطن،ذات اوربرادری اسلامی اتحاد قائم کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ انہوں نے امت کو عالمگیریت کادرس دیا۔امت اسلامیہ کااتحادوحدت مذہب وتمدن پرقائم ہے۔ علامہ اقبال جس قومیت کے قائل ہیں،اس کادائرہ اسلام کے اندرہے اوراس کی بنیادوہ دینی معتقدات پررکھتے ہیں۔لہذا وہ کہتے ہیں
قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذب باہم جو نہیں، محفلِ انجم بھی نہیں
تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سے
نشہ مے کو تعلق نہیں پیمانے سے
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم ِ رسولِ ہاشمی
دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں
اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی
ارادی طورپران پرعمل پیراہوناتاریکی کی جانب راغب ہونے کے مترادف ہے۔ دراصل کاروان سے مرادملت اسلامیہ ہے جوہرطرح کے جغرافیائی تصور سے بالاترہے۔ متاع کارواں دراصل تہذیب اسلامی ہے اوریہ تہذیب خدامرکزتہذیب ہے اوراسی وجہ سے یہ انسان مرکزتہذب بھی ہے۔دنیاکواسلام بطورمذہب قبول ہے لیکن بطورنظام زندگی قبول نہیں ہے۔اقبال کافلسفہ خودی اوراسلام کاتزکیہ نفس کاتصور ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔
سفریورپ کے بعدعلامہ کی شاعری نے قوم کوبیدارکردیا۔علامہ اقبالؒ مسلمانوں کورنگ وخون کے بتوں کوتوڑکر ایک ملت کی شکل میں متحد ہونے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ یہی ایک صورت ہے جس کے ذریعے مسلمان ایک زندہ قوم کی حیثیت سے اپناوجودبرقراررکھ سکتے ہیں ۔ ملک،قوم،نسل اور وطن کی مصنوعی حدبندیوں نے نوعِ انسانی کاشیرازہ منتشرکرکے رکھ دیاہیاوراس کاعلاج سوائے اس کے اورکچھ نہیں کہ اسلامی معاشرے کے تصور کورائج کیاجائے اورکم ازکم مسلمان خودکواسی معاشرے کاحصہ بنالیں.۔
جب اقبالؒ کے ذہن میں ملت کا تصورا بھرا، اس وقت دنیائے اسلام کی حالت ایک بیمارجسم کی سی تھی۔پہلی عالمی جنگ کے بعد مسلم ریاستیں حقیقی معنوں میں آزاداورخودمختارریاستیں نہ تھیں۔ترکی کی حالت ایک مڑے تڑے تاش کے پتے کی سی تھی۔ایران کے شمالی حصوں پرروس اورجنوبی حصوں پربرطانیہ کی حکمرانی تھی۔ افریقہ اورمصرپر یورپی اقوام قابض تھیں ۔ افغانستان کے والی یوں توامیر کہلاتے تھے،مگران کی حیثیت وظیفہ خوار اور نوابینِ اودھ سے زیادہ نہ تھی۔انڈونیشیا ولندیزیوں کے زیرسایہ سیاسی بیداری سے بے خبرتجارتی کاموں سے زیادہ مصروف تھا۔اورہند میں مسلمان اقلیتوں کی زندگی بسرکررہے تھے۔اس حالت میں اقبالؒ کاتصورِ ملت محض انقلابی نعرہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی تاریخ کاحامل ہے۔
وطن دوستی کے شیدائی اقبال نے دیکھاکہ اقوام عالم وطن پرستی کے بھیس میں دوسری اقوام پرظلم کررہی ہیں۔علامہ اقبالؒ کے عمرانی اورسیاسی افکار کے مطالعہ سے ہم جس نتیجہ پرپہنچتے ہیں وہ یہ ہے کہ علامہ اقبالؒ مغربی جمہوریت کواس کے سیکولراور مادرپدرآزادہونے کی وجہ سے ناپسندکرتے تھے مگر جمہوری روح جس میں حریت فکراورآزادی رائے عام ہے کوقبول کرتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں میں نہ توسیکولر جمہوریہ آئے نہ لبرل ازم کے نام پربے راہ روی پیداہومگرعصرِحاضرمیں مسلمان جمہوری روح سے استفادہ کرکے خوداپنے نظام خلافت اجتہادکے ذریعہ ایک ایسے منتخب نظام میں بدل دیں جس میں فردسے زیادہ جماعت مقتدرہو۔ریاستِ اسلامی کی سیاسی،عمرانی اور معاشی معاملات چلانے کیلئیایک منتخب ایوان تشکیل پائے جو ہماری عظیم فقہی روایات سے اصولی رہنمائی لے کرجدید عصری تقاضوں کے مطابق خودایک جدید فقہی نظامِ مدنیت یانظامِ حیات متشکل کرے۔یہ ایک ایسا اصول ہوجس سے فرد کا روحانی استخلاص ہوسکے اوراس بنیادی اصول کی عالمگیریت سے انسانی معاشرے کاارتقابھی روحانی اساس پرہوتا رہے ۔فردکے روحانی استخلاص اور انسانی معاشرے کے ارتقاکے اس بنیادی اصول کااستخراج اقبال کے ہاں کائنات کی روحانی تعبیر پرہے جومادے کے بارے میں جدیدطبیعات کے اس انکشاف کے بعدکہ مادہ قابل تحویل بھی ہے اورقابلِ فنابھی۔اقبال ؒنے قرآن کے تصورِ توحیدپرایک نئی مابعدالطبیعات کو ایقان دیتے ہوئے اپنائی۔
ان باتوں سے ظاہرہوتاہے کہ اقبالؒ اخوت کے قائل ہیں لیکن اس کی بنیاداسلام پررکھتے ہیں کیونکہ اسلام ضابطہ حیات ہے جس کے پاس وسیع انسانی مسائل کا حل موجود ہے وہ قومیت کو اسلام کے دائرہ میں اس لیے رکھتے ہیں کہ ان کے نزدیک صحیح انسانی معاشرہ صرف اسلامی اصولوں پرعمل پیراہونے سے وجودمیں آسکتاہے چنانچہ ان کے تصورقومیت کی بنیاد اسلامی معتقدات پرہے۔اس لئے جب انہوں نے تمام عرب کوخلافتِ عثمانیہ کے خلاف انگریزوں کی مددکی توانہیں یقین ہوگیاکہ وطنیت اورقومیت کے مغربی تصورات مسلمانوں کے لئے زہر قاتل ہیں۔ چنانچہ انہوں نے قومیت کے مغربی تصورکے مقابلہ میں ملت اسلامیہ کاتصورپیش کیااوریہ ثابت کیاکہ مسلمانانِ عالم کیلئے بنیادی نظریات اور اعتقادات کی روسے ایک وسیع ترملت کا تصورہی درست ہے۔آج ہم جن مشکلات کاشکار ہیں، ان سے نکلنے کایہی طریقہ ہے کہ ہم بحیثیت مسلم امہ اقبال کے وسیع ترملت کواپناایمان اورایقان بنا لیں۔پھرہمیں امریکاجیسی سپرپاورسے خطرہ ہو گانہ معاشی مسائل کا سامناہوگا بلکہ مسلم امہ خودایک سپر پاوربن کرابھرے گی۔

یہ بھی پڑھیں