Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

توحیدکارقصِ بسمل،نظریات کی خوشبو

لفظ بھی بچوں کی طرح ہوتے ہیں،معصوم اور بھولے بھالے بچوں کی طرح،بہت محبت کرنے والے،لاڈوپیارکرنے والے،ناز واداوالے،تنگ کرنے والے،روٹھ جانے والے اورپھربہت مشکل سے ماننے والے یاہمیشہ کے لئے منہ موڑ لینے والے۔ کبھی تو معصوم بچوں کی طرح آپ کی گود میں بیٹھ جائیں گے پھرآپ ان کے بالوں سے کھیلیں،ان کے گال تھپتھپائیں تووہ کلکاریاں مارتے ہیں،انہیں چومیں چاٹیں بہت خوش ہوتے ہیں وہ۔آپ ان سے کسی کام کاکہیں تووہ آمادہ ہوجاتے ہیں۔محبت فاتح عالم جو ہے۔کبھی تنگ کرنے پرآجائیں توان کارنگ انوکھاہوجاتاہے۔ آپ ان کے پیچھے دوڑدوڑکرتھک جاتے ہیں لیکن وہ ہاتھ نہیں آتے کہیں دم سادھے چھپ کربیٹھ جاتے ہیں اورآپ انہیں تلاش کرتے رہتے ہیں۔ آپ ہلکان ہوں توہوجائیں وہ آپ کوتنگ کرنے پراترے ہوتے ہیں اورجب آپ کی ہمت جواب دے جاتی ہے تووہ دیکھومیں آگیاکہہ کرآپ کے سامنے کھڑے مسکرانے لگتے ہیں۔
بچوں کی طرح لفظوں کے بھی بہت نازنخرے اٹھانے پڑتے ہیں اوراگراللہ نہ کرے وہ روٹھ جائیں اورآپ انہیں منانے کی کوشش بھی نہ کریں تب توقیامت آجاتی ہے۔ایک دم سناٹا،تنہائی اداسی،بے کلی آپ میں رچ بس جاتی ہے،آپ خود سے بھی روٹھ جاتے ہیں۔ ہاں ایساہی ہوتا ہے۔ آپ کاتومیں نہیں جانتا،میرے ساتھ توایساہی ہے۔میں کئی ہفتوں سے اسی حالت میں ہوں۔کچھ سجھائی نہیں دیتا،بے معنی لگتی ہے زندگی، دوبھر ہوگیا ہے جینا لیکن ویکن پھروہی جبرکہ بڑا مشکل ہے جینا،جئے جاتے ہیں پھربھی!تھوڑی دیرکے لئے ای میل دیکھنے کی کوشش کرتاہوں توان گنت، ہزاروں دعاگومحبتوں کے پھول سجائے میرااس طرح استقبال کرتے ہیںکہ اپنے کریم ورحیم رب کے کرم ورحم کی بارش میں مکمل طورپر بھیگ جاتا ہوںاور خودمیں دوبارہ اتنی قوت محسوس کرتاہوں کہ اپنے اردگردکی بھی خبرلے سکوں۔
مزاحمتی قوت گرتے ہوں کوپیروں پرکھڑاکرتی ہے،ڈوبتے ہوں کوتیرنے کاحوصلہ دیتی ہے اورسا حل پرلاپٹختی ہے۔اللہ کے حکم سے بیمارکوبیما ری سے جنگ میں فتح یاب کرتی ہے لیکن تا ریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ د نیاوی کامیا بی کے حصول کے لئے مزاحمت کمزورپڑ کر سرد ہو جاتی ہے لیکن اگر مزاحمت کے ساتھ’’ایمان باللہ‘‘ شامل ہوجائے تومزاحمت کبھی سردنہیں پڑتی،راکھ میں کوئی نہ کوئی چنگاری سلگتی رہتی ہے جہاں مزاحمتی قوت بیدارہو تویہ چنگاری بھڑک اٹھتی ہے لیکن کیایہ ضروری ہے کہ یہ مزاحمتی قوت اس وقت بیدارہو جب خطرہ حقیقت بن کرسامنے آجائے،جب سرپرلٹکتی تلوارکی نوک شہہ رگ کوچھونے لگے،جب سرحدوں پرکھڑے مہیب اوردیوہیکل ٹینکوں اورطیاروں کی گڑگڑاہٹ سڑکوں اورچھتوں پرسنائی دینے لگے۔جب ڈیزی کٹر،کروزاورٹام ہاک بم بارش کے قطروں کی طرح برسنے لگیں۔جب بہت کچھ’’گنواکر‘‘کچھ بچانے کے لئے ہم مزاحمت پراترآئیں گے؟
کیاپاکستانی ذمہ داروں نے دوچارخطرہ کو ’’لب بام‘‘سمجھنے کی کوئی کوشش کی ہے جس سے دشمن بھی بخوبی سمجھ لے کہ ان کوچھیڑناگویاموت کودعوت دیناہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی قوم لڑے بغیرہی شکست تسلیم کرلیتی ہے تویہ جسمانی نہیں ذہنی پسپائی ہوتی ہے۔ایسی قوم کوجسمانی طورپرزیرکرنے کے لئے دشمن کوزیادہ مشکل نہیں اٹھانی پڑتی۔ہلاکوخان کی فوجیں کھوپڑیوں کے میناریوں ہی نہیں تعمیرکرلیاکرتی تھیں۔صلاح الدین ایوبی نے جب’’ملت اسلا میہ‘‘کانام لیاتو ایک غدار طنزیہ مسکرااٹھا،کون سی ملت اسلامیہ؟یہ ذہنی پسپائی کی سب سے گری ہوئی شکل تھی کہ ایک دیوہیکل انسان اپنے ہی وجودسے انکاری تھا۔لیکن صلاح الدین ایوبی نے مزاحمت کی قوت کے ساتھ ایمان کوجمع کرکے خلیفہ ثانی حضرت عمرفا روق کے بعدبیت المقدس ناپاک ہاتھوں سے چھین لیا۔
معاشی کمزوریوں اورسیاسی انارکی وابتری کے باوجودآج ہمیں ثابت قدمی سے میدان میں کھڑادیکھ کرہمارادشمن(انڈیا،اسرائیل اورامریکا) ٹرائیکاپہلے سے بڑھ کرمصیبت مول لے چکاہے۔ ایک یقینی شکست کے امکان کے باوجودمحض دنیاپر ظاہری غلبے کی خو اہش نے اسے ایک ایسی دلدل میں اتاردیاہے جہاں اگلاقدم اس کی ظاہری شان وشوکت اور مصنوعی ہیبت کاجنازہ نکال کررکھ دے گا۔
کیاہم نے کبھی سوچاہے کہ ہمیں گھروں میں بیٹھے ہیبت زدہ کرنے کی ناکام کوشش کے بعدوہ سارے لاؤلشکرکے باوجود زیادہ خوفزدہ ہے۔اس کی چڑھائی میں شیرجیسی بے جگری نہیں بلکہ لومڑی جیسی عیاری ہے۔اب وہ ہمیں دیوارسے لگانے کے لئے پس پردہ دوسرے اقدامات کرنے سے بازنہیں آئے گایعنی ہمیں سیاسی اور معاشی فتنوں میں مبتلاکرے گا، پس آج ہمیں اپنی مزاحمتی قوت کوسمجھنے کی ضرورت ہے جس کی بنیاد ’’ایمان‘‘ہے اوراس قوت کومضبوط کرنے والی قوت’’اللہ کی نصرت‘‘ ہے اوراللہ کی نصرت کے لئے اس کی مکمل حاکمیت کاعملی اعلان کرناہوگا۔جب مومن اپناسب کچھ اپنے رب کی رضا کے لئے لگادیتا ہے تو مزاحمت میں اللہ کی نصرت نازل ہوکراس کوکامیابی سے ہمکنارکرتی ہے۔تاریخ اسلام کے صفحات پرایسی روشن مثالیں ان گنت تعداد میں جگمگارہی ہیں جب نہتے مسلما نوں کی مزاحمت نے وقت کے فرعونوں کوزخم چاٹنے پر مجبورکردیا۔آج بھی دنیا بھر میں مزاحمتی تحریکیں پوری شان سے جاری ہیں۔ پتھرنے ٹینک سے شکست نہیں کھائی،دنیاکشمیر اورغزہ میں دیکھ رہی ہے کہ معمولی پتھروں سے جدید ٹیکنالوجی کامقابلہ جاری ہے۔جتناظلم بڑھتا جارہاہے، اتنی ہی شدت سے مزاحمت بڑھتی جارہی ہے۔
لیکن کیامزاحمت کی صرف ایک ہی صورت ہے؟جب کوئی جابروقت اپنے لشکروں کے زعم میں کسی قوم پرچڑھ دوڑتاہے توہرمظلوم ہاتھ ہتھیاراٹھا لیتا ہے۔یہ یقینی امرہے کہ ایسے وقت میں اس کے بغیر مزاحمت کی کوئی اورصورت نہیں ہوتی لیکن اس سے بھی پہلامرحلہ کبھی نہیں بھولناچاہئے اورہمیں یادرکھناہوگاکہ مزاحمت’’ایمان‘‘کے بغیرکچھ نہیں۔لہندا ایسا کڑاوقت آنے سے پہلے ’’ایمان‘‘ کوبچانااورقائم رکھنااشدضروری ہے۔ایمان کی کمزوری ہی ذہنی غلا می اورپسپائی کی طرف لیجاتی ہے، لہنداہراس وارکی مزاحمت ضروری ہے جس کانشانہ آج ایمان بن رہا ہے۔ ہمارے نظریات وافکار،ہماراطرزِ زندگی، ہماری تعلیم، ہماری معیشت،ہمارامیڈیایہ سب وہ میدان ہائے کارزار ہیں جوہماری مزاحمتی قوت کے شدت سے منتظر ہیں۔یہ ڈوب رہے ہیں، ان کوساحل پرکھینچ لانے کے لئے بھرپور توانائیوں کی ضرورت ہے۔آج وہ خطرناک مرحلہ آچکاہے جب نحیف ونزارمریض زندگی کی ڈور سلامت رکھنے کے لئے اس پوشیدہ قوت پرانحصارکرتاہے جواس کے جسم میں بجلی کی سی طاقت بھردیتی ہے ۔گو نگے،بہرے اوراندھے بھی اس نا زک دورکی شدت سے کچھ کرگزرنے کو تیارہوجائیں توجن کواللہ نے تمام ترتوانائیوں سے نوازرکھاہے،ان کواپنی صلاحیتوں سے بھرپورفائدہ اٹھانے سے کس نے روک رکھاہے؟
وطنِ عزیزکی طرف نگاہ اٹھتی ہے تودل میں ایک کسک سی پیداہوجاتی ہے کہ آخرہم کہاں جارہے ہیں؟پھرسوچتاہوں کوئی بھی ہو،جب طاقت ہواس کے پاس،ہتھیاربندجتھہ ہو،حکم بجالانے والے خدام ہوں،راگ رنگ کی محفلیں ہوں،جام ہوں، عشوہ طرازی ہو،دل لبھانے کاسامان ہو،واہ جی واہ جی کرنے والے خوشامدی اوربغل بچے ہوں، دیدے شرم وحیاسے عاری ہوجاتے ہیں۔شرم وحیاکااس سے کیا لینا دینا! چڑھتاسورج اوراس کے پوجنے والے بے شرم پجاری جن میں عزت ِنفس نام کوبھی نہیں ہوتی۔بس چلتے پھرتے روبوٹ،۔تب طاقت کانشہ سرچڑھ کربولتاہے۔کل جو جلسہ میں دہمکیاں دیکراصلاح کامشورہ دے رہاتھا، جوبینڈباجے کے ساتھ گھرمیں گھسنے کی بات کررہاتھا ،چند گھنٹوں میں یہ حیوانِ نطق اپنا سافٹ وئیراپ ڈیٹ ہونے پربالکل خاموش ہے کہ وہاں کیاکھویااورکیا پایا ہے۔اب دھڑلے سے ایسے ہی بے شرمی کامظاہرہ کرتے آنے والے دنوں میں کھل کرچہرہ سامنے آجائے گا۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں