Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

توحیدکارقصِ بسمل،نظریات کی خوشبو

لیکن مجھے آج ان کے برعکس کرداروں کا ذکر کرناہے کہ جن کاذکرآنکھوں کی ٹھنڈک ،دلوں کاسکون اوراطمینان وفرحت بخش ہے۔ہاں کوئی بھی ہو،کہیں بھی ہو،انکارسنناتواس کی لغت میں ہی نہیں ہوتا۔ انکارکیا ہوتاہے،وہ جانتاہی نہیں ہے لیکن ہوتا یہی آیاہے، ہوتایہی رہے گا۔منکر پیدا ہوتے رہتے ہیں۔نہیں مانتے کانعرہ مستانہ گونجتا رہتاہے، تازیانے برستے رہتے ہیں،کھال کھنچتی رہتی ہے، خون بہتارہتاہے لیکن عجیب سی بات ہے، جتنی زیادہ شدت سے نہیں مانتے کی آوازکو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے،ہرجتن ہرحربہ اپنایاجاتا ہے ،وہ آوازاسی شدت سے گونجنے لگتی ہے چاروں طرف۔نہیں مانتے کارقص ،۔رقص ہی نہیں رقصِ بسمل، نہیں مانتے نہیں مانتے کانغمہ اورگھومتاہوارقاص۔
کیابات ہے جی،کھولتے ہوئے تیل کے اندر ڈالاجاتاہے،تپتے صحرامیں لٹاکر،سینے پرپہاڑجیسی سلیں رکھی جاتی ہیں،برفانی تودوں میں کودجاتے ہیں لیکن نعرہ مستانہ بلندہوتا رہتا ہے۔رقص تھمتاہی نہیں اوریہ توحیدکارقص،جنوں تھمے گابھی نہیں۔ زمین کی گردش کوکون روک سکاہے!بجافرمایاآپ نے،بندوں کوتوغلام بنایاجاسکتاہے،ان پررزق روزی کے دروازے بندکیے جاسکتے ہیں،یہ دوسری بات ہے کہ ہم نادان صرف روپے پیسے کوہی رزق سمجھ بیٹھے ہیں۔بندوں کوپابہ زنجیرکیاجاسکتا ہے، قیدخانوں میں ٹھونس سکتے ہیں آپ، عقوبت خانوں میں اذیت کاپہاڑان پرتوڑسکتے ہیں۔پنجروں میں بندکرسکتے ہیں، معذورکرسکتے ہیں،بے دست وپاکر سکتے ہیں،ان کے سامنے ان کے پیاروں راج دلاروں کی توہین کرسکتے ہیں،انہیں گالیاں دے سکتے ہیں،سب کچھ کرسکتے ہیں لیکن سپاہی مقبول حسین 40سال مکاردشمن بھارت کی جیل میں گزارکراپنے وطن کی خاک کوچوم کرجس شان سے لوٹا،اپنے نامورسپوت سپاہی مقبول حسین کوجس شان سے پاک سپاہ نے اسے وطن کی خاک کے سپردکیاکہ فلک بھی یہ پاک نظارہ دیکھ کرعش عش کراٹھا۔
صدیوں سے انسان یہ دیکھتاآیاہے،انکار کرنے والوں کوبھوکے کتوں اورشیروں کے آگے ڈال دیاجاتاتھا۔اس جگہ جہاں چاروں طرف خلق خداکاہجوم ہوتااورایک جابرتخت پر براجمان ہوکریہ سب کچھ دیکھتا اور قہقہے لگاتااورخلق خداکویہ پیغام دیتاکہ انکارمت کرنا، کیاتوپھریہ دیکھویہ ہوگا تمہارے ساتھ بھی۔ہرفرعونِ وقت اپنی تفریح طبع کے لئے یہ اسٹیج سجاتا ہے ،سجاتا رہے گا۔ایسااسٹیج جہاں سب کرداراصل ہوتے ہیں،فلم کی طرح اداکارنہیں۔لال رنگ نہیں،اصل بہتاہواتازہ خون ،زندہ سلامت انسان کا،روناچیخنابھنبھوڑنا کاٹنا سب کچھ اصل،بالکل اصل۔ہوتارہاہے اورہوتا رہے گا،فرعونیت توایک رویے کانام ہے، ایک بیماری کانام ہے۔ایک برادری ہے فرعونوں کی، فرعونوں کی ہی کیا۔۔۔ہامان کی ،شدادکی،قارون کی،ابولہب کی، ابوجہل کی۔یہ برادری کانام ہے جس میں کسی بھی وقت کسی بھی مذہب وملت کے لوگ ہوسکتے ہیں۔بس بچتاوہ ہے جس پر رب کی نظرکرم ہو۔
سب کچھ قیدکیاجاسکتاہے،سب کچھ لیکن ایک عجیب سی بات ہے،اسے قید نہیں کیاجاسکتا،بالکل بھی نہیں،مشکل کیاممکن ہی نہیں ہے۔عجلت نہ دکھائیں، خوشبوکوقیدنہیں کرسکتے آپ ! اورپھر خوشبوبھی توکوئی ایک رنگ ایک مقام نہیں رکھتی ناں، بدلتے رہتے ہیں اس کے رنگ،خوشبوکے رنگ ہزار،۔بات کی خوشبو،جذبات کی خوشبو،ایثار ووفا کی خوشبو ، بس اب آپ چلتے رہئے اوران تمام خوشبوں کی رانی ہے ہمارے شہدا کی خوشبو جنہوں نے اپناآج ہمارے کل پرقربان کردیا،یہ ہے ان کی عقائد کی خوشبوجنہوں نے اس معجزاتی ریاست جس کانام پاکستان ہے،اس سے محبت کودین کا لازمی جزو سمجھاکہ اس کاقیام 27رمضان الکریم کی مبارک شب کوہوا،دین کی خوشبو،نظریات کی خوشبو۔یہ خوشبو قیدنہیں کی جا سکتی۔جب بھی دبائیں ابھرتی ہے۔وہ کیایاد آگیا، ’’جتنے بھی توکرلے ستم،ہنس ہنس کے سہیں گے ہم‘‘۔جتناخون بہتاہے اتنی ہی خوشبوپھیلتی ہے۔ پھرایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب دردخودہی مداوابن جاتاہے دردکا۔دیکھئے پھرمجھے یادآگیا ’’رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے،دردپھولوں کی طرح مہکے اگر تو آئے‘‘۔
یہ سب کچھ میں آپ سے اس لیے کہہ رہاہوں کہ مجھے وہ دن یادہے جب میں نے یہ خبرپڑھی تھی، یقیناآپ نے دیکھی،پڑھی یاسنی ہوگی۔اگرنہیں، تویاددہانی کی سعادت شائد میرے حصے میں آرہی ہے لیکن نہیں،یہ تواس کاکمال ہے جس نے ہم جیسے بے خبروں کوبتایاہے۔(نیویارک ۔آن لائن) امریکی آرمی کے ایک اسپیشلسٹ میٹری ہولڈ بروکس گوانتاناموبے کے عقویت خانے میں کلمہ شہادت پڑھ کر حلقہ بگوشِ اسلام ہوگئے۔نوجوان فوجی افسرہولڈبروکس نے جن کی ڈیوٹی صرف چھ ماہ تک کیوبا کے عقوبت خانے میں مسلمان قیدیوں کی نگرانی اوربعض اوقات انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ لیجاتے وقت رہنمائی کرنا تھی،مسلمان قیدیوں کے اخلاق اورعبادات سے متاثرہوکر اسلام قبول کرلیا۔ ہولڈ بروکس نے ایک مختصرسی ای میل میں تسلیم کیاکہ مراکشی اوردیگرمسلمان قیدیوں کے حسنِ اخلاق اورتلاوت ِقرآن پاک جووہ عقوبت خانے کی سخت ترین جالیوں کے عقب میں کرتے تھے،کی مانیٹرنگ کرتے ہوئے وہ بے حدمتاثرہوئے تھے۔اورکیابات باقی رہ گئی جناب۔
دیکھئے!چراغ کوتوپھونک مارکربجھایا جا سکتا ہے، نورکوکون بجھاسکتاہے!جی جناب نورکوتوپھونک مارکرنہیں بجھایاجاسکتا ۔اسلام نورہے،قرآن حکیم نور ہے،روشنی ہی روشنی،صراط مستقیم کھراسودا، اسی قرآن کونافذکرنے کے لئے توپاکستان جیسی معجزاتی ریاست عطاہوئی تھی جس نے یہ سکھایاکہ اس ملک کے لئے جان قربان کردیناسب سے بڑااعزازہے اور ماں باپ، بیوی بچے اورپوری قوم کے علاوہ ملائکہ بھی استقبال کے لئے جمع ہوجاتے ہیں کہ بندے نے اپنے رب سے وفاداری کا جوحلف اٹھایاتھااس میں یہ کامیاب ہوگیا۔ہم بھلا گیاری سیکٹرسیاچین میں اپنے 135نوجوان جوبرف کے پہاڑوں میں دفن ہوگئے تھے،انہیں کیسے بھول سکتے ہیں۔آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔ دنیا کے ماہرین نے اپنی تمام تربہترین جدید ٹیکنالوجی، کوششوں اور تجربات کی روشنی میں برف میں دفن افرادکی بازیابی کوناممکن قراردیتے ہوئے ہاتھ اٹھالئے لیکن صدآفرین ہے ان کے بہادرساتھیوں پرکہ انہوں نے ان تمام پاک پوترشہداکونہ صرف بازیاب کیابلکہ دنیاکے ناممکن کوممکن ثابت کرکے دکھادیااوریہ ناممکن کوممکن کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہواکہ اب تک آٹھ ہزارسے زائد نوجوان ان سردترین وادیوں کارزق بن گئے ہیں کہ انہوں نے یہ حلف اٹھایاتھاکہ اس ملک کی سرحدوں کی ہرحالت میں حفاظت کریں گے۔بابااقبال کیاخوب فرماگئے:
وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے
مرے بت خانے میں کعبے میں گاڑو برہمن کو
آپ سن لیجیے پاکستان بھی نورہے اوراس کے لئے جان قربان کرنے والے اسی نورکے وہ چراغ ہیں جنہوں نے ملک کو دشمنوں کی پھیلائی ہوئی تمام ظلمتوں سے پاک کردیاہے،آپ نے سنابھی ہے اورباربار سنا ہے، میرے رب نے اعلان کردیا ہے ،اس کافرمان ہے:شہدازندہ جاوید ہیں۔اپنے رب سے رزق پاتے ہیں اورقادرِمطلق نے خبردار کیاہے کہ کبھی مردہ گمان بھی مت کرنااوراب آپ ذرادل تھام کرسنئے:جب بدترین تشددکے بعدبھی وہ قیدی اورایسے جاںگسل حالات میں وطن کی حفاظت کرنے والے نوجوان مسکرارہے ہوں تووہ کون سی طاقت ہوتی ہے جس سے ان کے پائے استقلال میں ذرہ بھربھی جنبش نہیں ہوتی،کیا ایساتونہیں کہ کوئی شہیداسے تحسین کی نظرسے دیکھ رہاہو،بدری شہدا یا میدان احدکے شہداکی مثالیں جب ان کے دلوں کومنورکردیتی ہوں توپھربھلا خوف کیسا۔ہمارے ان جانبازوں اورشہدانے آج اپنی اس طاقت کے اس رازکوپالیاجس کانام خدادادمملکت پاکستان کی محبت سے جڑے ایمان کاپختہ جزوہے اوریہ وہ مورچہ ہے جس میں پناہ لینے والوں کے لئے دائمی فتح کی خوشخبریاں ہیں۔ ایمان کی آبیاری وقت کی اولین ضرورت ہے۔مزاحمت ایما نی قوت سے مشروط ہے،اس کوکھو دیاتوسب کچھ چھن جائے گا!ہمارے یہ تمام شہداہمارے سروں کے تاج اوراللہ کاانمول تحفہ ہیں۔یادرکھیں کہ اللہ کوپاکرکبھی کسی نے کچھ نہیں کھویااوراللہ کوکھوکرکبھی کسی نے کچھ نہیں پایا۔
’’ہمیں پیارہے پاکستان سے،اورہمیں پیارہے اپنے شہد ا سے‘‘۔

یہ بھی پڑھیں