Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

خادم ومخدوم

میں نے عرض کیا ’’اللہ کو کیسے راضی رکھا جا سکتا ہے‘‘۔ مسکرا کر نرم آواز میں بولے’’دنیا میں اللہ کو راضی رکھنا سب سے آسان کام ہے۔ یہ کام اتنا آسان ہے جتنا ریموٹ کنٹرول سے اے سی آن کرنا یا ٹیلی ویژن کا چینل بدلنا یا پھر اٹھ کر لائٹ جلانا لیکن اللہ کو راضی رکھنے کی تکنیک سمجھنا بہت مشکل ہے‘‘۔ میں حیرت سے ان کی طرف دیکھنے لگا اور چند لمحے رک کرعرض کیا ’’جناب آپ نے بھی عجیب بات کہی،کام توآسان ہے لیکن اس کی تکنیک بہت مشکل ہے،مجھے آپ کی بات سمجھ نہیں آئی‘‘۔ وہ مسکرائے اور چند لمحوں کے توقف کے بعد بولے’’میرے بچے یہ بات سمجھنے کیلئے تمہیں تخلیق کارکی نفسیات سمجھنا ہوگی‘‘۔ میں نے عرض کیا ’’جناب تخلیق کارکی نفسیات کیا ہوتی ہے، وہ بولے: تم نے ایڈی سن کانام سن رکھا ہے؟ میں نے فورا عرض کیا ’’جی ہاں! یہ وہ شخص تھاجس نے بلب ایجاد کیا تھا، جس نے ریلوے کیلئے سگنل کاسسٹم بنایاتھا‘‘،وہ فورا بولے ’’بالکل ٹھیک میرے بچے، میں اسی ایڈی سن کی ایک بات تمہیں سنانا چاہتا ہوں۔ وہ ایک دن بازار سے گزر رہا تھا، اس نے دیکھا لالٹین بنانے والا ایک کاریگر اس کی تخلیق کو گالیاں دے رہا ہے، لالٹین بنانے والے کا کہنا تھا ایڈی سن کی ایک احمقانہ تخلیق نے اسے اور اس کے بہن بھائیوں کو بے روزگار کر دیا ہے۔ ایڈی سن اپنی تخلیق کی بے توقیری برداشت نہ کرسکا اور وہ اس کاریگرسے الجھ پڑا، یہ توتکار ہاتھاپائی تک پہنچ گئی۔ پولیس آئی اورایڈی سن کو پکڑ کر لے گئی، اس کے بعدجس بھی شخص نے یہ واقعہ سنااسے یقین نہ آیا کیونکہ کسی نے کبھی ایڈی سن کولڑتے یاجھگڑتے نہیں دیکھاتھا لیکن اس کے باوجود یہ واقعہ حقیقت تھا۔
وہ دم لینے کیلئے رکے اورچند لمحے بعددوبارہ بولے’’یہ بظاہرایک چھوٹا سا واقعہ ہے لیکن اس میں تخلیق کارکی ساری نفسیات چھپی ہیں۔ دنیا کاہرتخلیق کاراپنی تخلیق کے بارے میں حساس ہوتاہے،وہ اپنی بے توقیری توسہہ لیتاہے لیکن اس سے اپنی تخلیق کی بے عزتی برداشت نہیں ہوتی۔ تم نے مصوروں،افسانہ نویسوں،شاعروں اورموسیقاروں کو دیکھا ہوگا، یہ لوگ گھنٹوں اپنی دھنوں،شعروں، افسانوں اور تصویروں کی تعریف کرتے رہتے ہیں اورانہیں ہروہ شخص اچھالگتاہے جوان کی تخلیقات کی مداح سرائی کرتاہے۔تم کسی شاعر کے سامنے بیٹھ کراس کے شعروں کی تعریف شروع کردو،وہ تمہیں وہاں سے اٹھنے نہیں دے گا ،یہ بھی تخلیق کارکی نفسیات ہوتی ہے‘‘۔میں خاموشی سے سنتارہا۔وہ بولے’’دنیاکے ہر تخلیق کارمیں دوچیزیں ہوتی ہیں، وہ اپنی تخلیق کی تعریف سن کرخوش ہوتاہے اوراسے اپنی تخلیق کی بے عزتی پر شدید غصہ آتاہے‘‘۔
میں نے بے چینی سے کروٹ بدلی اورعرض کیا’’ جناب میراسوال یہ تھا کہ اللہ کوکیسے راضی رکھاجاسکتا ہے لیکن آپ نے موضوع ہی بدل ڈالا‘‘۔ وہ مسکرائے اورمیری طرف اس طرح دیکھاجیسے فلسفی جاہلوں اوربے وقوفوں کی طرف دیکھتے ہیں پھربولے’’تم مجھے پہلے یہ بتاؤ جب اللہ کسی شخص پرراضی ہوتاہے تووہ اسے کیا دیتاہے؟میں نے عرض کیا’’جناب میراعلم بہت محدود ہے،میں آپ ہی سے وضاحت کی درخواست کرتاہوں‘‘۔وہ مسکرا کر بولے’’اللہ کی ذات جب کسی شخص پرراضی ہوتی ہے تووہ اس پر رزق کشادہ کردیتی ہے،وہ اسے امن، خوشی،سکون دیتی ہے اوروہ اس کے اقتدار کو وسیع کر دیتی ہے اور جب وہ ناراض ہوتاہے تویہ ساری چیزیں ریورس ہوجاتی ہیں، اقتدار مختصر ہو جاتا ہے، زندگی سے سکون خارج اورخوشی ختم ہو جاتی ہے،امن غارت اوررزق دورہوجاتاہے اوروہ گھر،کمپنی، فیکٹری، دکان یاپھر ملک،تمام برباد ہو جاتے ہیں‘‘۔میں خاموشی سے سنتارہا،وہ بولے’’ اللہ خالق کائنات ہے وہ اس کائنات کاسب سے بڑا تخلیق کارہے اور انسان اس کی محبوب ترین تخلیق، چنانچہ جب تک کوئی شخص اس کی محبوب ترین تخلیق سے محبت نہیں کرتااللہ اس وقت تک اس سے راضی نہیں ہوتااور جس سے اللہ راضی نہ ہواس دنیامیں اس شخص کارزق، خوشی، سکون، امن اوراقتداروسیع نہیں ہوتا‘‘۔وہ رکے اور دوبارہ بولے: اللہ نے انسان، جانور ،پودے، جھیلیں، پہاڑ اور کائنات کی ہرشے تخلیق کی لیکن انسان اللہ کی تخلیقی فہرست میں پہلے نمبر پر آتاہے اور دنیا کاجو ملک، معاشرہ، نظام اورشخص اللہ کی وضع کردہ ترجیحات کے مطابق اس کی تخلیقات سے محبت اور عزت کرتا ہے ،انہیں ان کاجائزمقام دیتاہے اللہ بھی اس سے اتناہی راضی ہو جاتا ہے اوردنیا میں اسے اتناہی امن،سکون، خوشی،رزق اور اقتدار مل جاتاہے‘‘۔ میں خاموشی سے سنتارہا۔
وہ چندلمحے رک کربولے’’تم اب اس حقیقت کوسامنے رکھ کردنیاکے مختلف ممالک کاجائزہ لوتوتمہیں معلوم ہوگا دنیا کے جتنے ملکوں میں لوگوں کااحترام،ان کے حقوق کاخیال، شہریوں کی عزت نفس محفوظ، بیماروں کو دوا،بے روزگاروں کو روزگار، جاہلوں کوعلم اور مظلوموں کوانصاف ملتاہے،وہ ملک خوشحال بھی ہیں،ان میں امن، رزق، خوشی اوراس ملک کے اقتدارکی سرحدیں بھی وسیع ہیں لیکن جن ممالک میں انسانوں کی قدرنہیں،جن میں غریب غریب تر اور امیرامیرترہوتاجارہاہے اورجوملک طبقاتی نظاموں میں جکڑے ہوئے ہیں، وہ ملک تیسری دنیا کہلارہے ہیں،وہ ملک بھکاری بن کرخوشحال ملکوں کے دروازوں پربیٹھے ہیں اوران ملکوں کے حکمران اپنے اقتدار کے دوام کیلئے ان کی خوشامدمیں مصروف رہتے ہیں۔ تم اللہ کی تخلیق سے محبت کے اس سلسلے کو ذرا سامزید وسیع کرکے دیکھو اور سوچو دنیا میں اس وقت کون کون سے ملک ترقی کررہے ہیں،وہ کون سے ملک ہیںجوسپر پاور بنتے جارہے ہیں؟؟تم یہ دیکھ کرحیران رہ جاؤ گے، دنیا میں وہ ملک بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں وہاں انسانوں کے بعد جانوروں، درختوں، ندیوں، نالوں، جھیلوں،دریاں اورپہاڑوں تک کاخیال رکھاجاتا ہے،وہاں بے بس انسان پرظلم اور درخت کاٹنا دونوں جرم ہیں چنانچہ اللہ ان ممالک سے پوری طرح راضی ہے اوریوں یہ ممالک آگے بڑھ رہے ہیں‘‘۔ وہ رکے اوردوبارہ بولے’’انسان کی سلطنت اور اللہ کی کائنات کاآئین بہت مختلف ہے،دنیامیں انسان ان لوگوں کو زیادہ اہمیت دیتاہے جو صحت، رزق اور اختیار میں برتر ہوتے ہیں اوران لوگوں سے دوررہنے کی کوشش کرتاہے جومرتبے میں چھوٹے ہوتے ہیں لیکن اللہ کا نظام اس سے بالکل الٹ ہے،وہ محروم لوگوں کے قریب اور خوشحال لوگوں سے دورہوتاہے،وہ بے زبانوں کی زبان اوربے کسوں کی بے بسی میں رہتاہے چنانچہ جولوگ اس کے محروم لوگوں کاخیال رکھتے ہیں،جو محروم لوگوں کوراضی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، اللہ ان سے راضی ہوتاجاتاہے‘‘۔وہ خاموش ہوگئے۔
میں نے عرض کیا’’جناب یہ فلسفہ توشایدملکوں اور معاشروں کیلئے ہے،یہ نسخہ شاید حکمرانوں کیلئے وضع کیا گیا ہے، اگرعام شخص اللہ کوراضی کرناچاہے تواسے کیا کرنا چاہئے”؟ وہ مسکرائے اورزوردے کربولے’’اللہ کے قوانین اٹل ہوتے ہیں،وہ عام شخص سے لے کر حکمران تک سب سے ایک جیسی توقعات رکھتاہے۔تم اگراللہ کوراضی کرناچاہتے ہوتواس کے غریب،بے بس،بے کس اور محروم لوگوں کے قریب ہوجاؤ،اللہ تمہارے قریب ہوجائے گا،تم محروم لوگوں کواپنی خوشی، سکون، امن، رزق اوراقتدارمیں شریک کرلواللہ تمہیں رزق، امن، سکون اورخوشی میں شریک کرلے گااورتم اللہ کی خوشی اوراقتدارکی وسعت کا اندازہ بخوبی لگاسکتے ہو۔حکمرانوں کیلئے بھی یہی فارمولاہے،جس ملک کاحکمران اللہ کے بے بس لوگوں کیلئے کام کرتاہے، اللہ اس حکمران کیلئے کام شروع کردیتاہے اورجس ملک کی حکومت بیمار کو دوا، رزق، روزگار،تعلیم،امن اورخوشی دیتی ہے،اللہ اس حکومت کے اقتدار کووسعت دے دیتاہے اوریہ ایک بہت چھوٹااورآسان فارمولاہے۔تم آج گھرسے باہر نکلو اورکسی بھوکے کوکھلاناکھلادو،تم یہ دیکھ کرحیران رہ جاؤ گے، شام تک تمہارے گھررزق وسیع ہوچکاہو گااورتم اور تمہارے اہل خانہ بے شماردردوں سے رہائی پاچکے ہوں گے۔ تم یہ کرکے دیکھ لو۔تم ایک باراللہ کوراضی کرکے دیکھ لو،تمہیں عالمی استعمار کوراضی کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔تم اصلی مخدوم بن جاؤگے۔

یہ بھی پڑھیں