ایک ہاتھ سے ٹوپی سنبھالے بھاگتاہواآدمی سامنے شیڈمیں کھڑی چمکدارکارکے ڈرائیورکے کان میں سرگوشی کرتاہے توفوراً باہر کے ماحول میں ایک سراسیمگی اورحرکت پیداہوجاتی ہے۔وہ چمکدارگاڑی جوکچھ دیر پہلے ایک شیڈکی چھائوں میں دفترکے سامنے کھڑی تھی، جس پروقفے وقفے سے ڈرائیوراس کی دیکھ بھال کرتے ہوئے گرد صاف کررہاتھا،مکھی تک کو بیٹھنے نہیں دیتاتھا،وہ فوراًگاڑی چوکس حالت میں ممکن حدتک دفترکے دروازے کے قریب لاکرکھڑی کردیتاہے اور ڈرائیور باہرنکل کر نگاہیں نیچے کرکے مودب، دفترکی طرف منہ کرکے کھڑا صاحب کاانتظارکرتاہے۔ اتنے میں بڑے دفتر کادروازہ کھلتاہے۔چپراسی بریف کیس اور صبح کی اخباریں ہاتھ میں لئے باہرآتاہے اوردوسراآدمی ہاتھ میں کچھ فائلیں لئے اس کے پیچھے پیچھے چل رہا ہے۔ ڈرائیورکے پیچھے والی سیٹ کادروازہ کھول کرنہائت سلیقے سے پہلے فائلیں اوراس کے ساتھ بریف کیس کے اوپر اخباریں رکھ دی جاتی ہیں۔پھر ڈرائیورکے ساتھ والی سیٹ کوزورلگا کرآخرممکن حدتک آگے کردیاجاتاہے تاکہ پچھلی سیٹ کے سامنے کافی جگہ آرام سے ٹانگیں پھیلانے کے لئے میسرآجائے ۔ گرمی کاموسم ہوتو ائیرکنڈیشن صاحب کے دفتر سے نکلنے سے بیس منٹ پہلے چلادیاجاتاہے ۔
صاحب بہادرایک شانِ بےنیازی سےبرآمد ہوتے ہیں،اردگردموجودلوگ ایک دم ساکت وجامدہو جاتے ہیں،گفتگوکرنے والابات کرنا بھول جاتاہے، بے ترتیب یونیفارم والا ٹوپی سیدھی کرلیتاہے اورسگریٹ پیتاہواشخص سگریٹ پھینک دیتاہےیاکہیں چھپادیتا ہے۔ پچھلا دروازہ جو ڈرائیور سے دوسری سمت والاہےاسے کھول کر سرجھکائےکوئی شخص کھڑاہوتاہے۔صاحب بہادر تشریف رکھتے ہیں،اشاروں کامنتظرگاڑی کوخراماں نکالتاہوامنظرسے غائب کر دیتا ہے۔ پوراراستہ صاحب بہادریاتواخباروں کی ورق گردانی کرتے ہیں یاپھر اگرکوئی فائل ضروری محسوس ہوتواسے دیکھا جاتا ہے۔وہ حتی الامکان کھانسنے سے بالکل پرہیزکرتاہے اوراگر ایسا ہو جائے توکھانسنے کی تکلیف سےفارغ ہوتے ہوئےاپنی اس حرکت پربڑانادم اور شرمسار دکھائی دیتاہے۔
اس پورے سفرمیں ڈرائیورکی حیثیت ایک کل پرزے سے زیادہ نہیں ہوتی۔یوں لگتاہے کہ کمپنی نے سٹیئرنگ،گیئریاسیٹ کی طرح اسے بھی فکس کردیاہے جسے صرف احکامات سننے اوراس پرعمل کرناہے۔وہاں روک دو،ادھر لےچلو،میرایہاں انتظار کرو،میں واپس آرہا ہوں ، مجھے یہاں تین گھنٹے لگ جائیں گے اورڈرائیورروبوٹ کی طرح سرہلاکریا پھر منہ سے سعادت مندی کے الفاظ نکالتارہتاہے۔یہ منظرآپ کوہراس دفتریاادارے کے باہرملے گاجہاں کوئی صاحبِ اختیار تشریف رکھتاہے۔کسی سرکاری یاغیر سرکاری کاکوئی امتیاز نہیں۔ وزیرکادفتریاسیکرٹری کا،جرنیل کاہیڈکوارٹر یاعدلیہ کی عمارات،کسی پرائیویٹ کمپنی کے دفاترہوں یا بینک کی شاندارعمارت،سب جگہ صاحبانِ طاقت اوروالیانِ حیثیت کے لئے ایک ہی سیٹ مخصوص ہے۔ان کی گاڑی کہیں پہنچے ،لوگ وہی دروازہ کھولنے کے لئے لپکتے ہیں۔پاکستان میں جب میں یہ سارے مناظردیکھتا ہوں تو اکثرمیرے ذہن میں یہ سوال اٹھتاہے کہ یہ سب لوگ ڈرائیورکے ساتھ والی سیٹ پرکیوں نہیں بیٹھتے۔کیاوہ آرام دہ نہیں،کیا وہاں ائرکنڈیشن کی ہواصحیح طورپرنہیں پڑتی،کیاوہاں سے راستہ،اردگرد کی عمارتیں یا لوگ ٹھیک طرح سے نظرنہیں آتے؟ لیکن ان سب سوالوں کاجواب نفی میں ملتاہے۔یہ سامنے والی سیٹ زیادہ آرام دہ بھی ہے اور ائیرکنڈیشن کی ہوا بھی اگلی سیٹ پرزیادہ لطف دیتی ہے،باہرکامنظربھی صحیح طورپر نظر آتاہے توپھراگلی سیٹ خالی کیوں رہتی ہے یاپھراس میں سٹاف آفیسریاپی اے کیوں بٹھایاجاتاہے؟
دراصل یہ کہانی اس نفرت اورتکبرکی ہے جس میں ڈرائیورکی حیثیت ایک انسان سے کم ہوکربادشاہوں کے رتھ اورمہاراجوں کی بڑی بڑی سواریاں چلانے والوں کی ہواکرتی تھیں ۔ یہ کیسے ہوسکتاہے کہ ایک اعلیٰ مرتبہ اورمقام رکھنے والی شخصیت ڈرائیور کے برابرآکر بیٹھ جائے اوردیکھنے والے ان دونوں میں تمیزتک نہ کرسکیں کہ کون افسرہے اورکون معمولی حیثیت کا ڈرائیور۔ ایک زمانہ ان متکبرافسران،وزرا،جج،جرنیل اوراعلیٰ عہدیداروں پر ایسا آیاکہ ان کو چھوٹی سوزوکی پرسفرکرنا پڑاجس کی پچھلی سیٹ انتہائی بے آرام اورکم جگہ والی تھی لیکن تکبراپناراستہ خودبناتا ہے۔اگلی سیٹوں کومکمل طورپرفولڈکیاجانے لگا اور آقاومالک کی تمیزکوبرقرار رکھنے کے نئے نئے طریقے دریافت کئے گئے۔
یہ رویہ ان ساری قوموں پرگزراہے جنہوں نے انسانوں کوغلام اورمحکوم بنانے کے ڈھنگ ایجادکئے تھے۔امریکامیں’’جم کرو‘‘کے قوانین کے تحت بسوں میں کالوں کی سیٹیں گوروں کی سیٹوں سے علیحدہ یعنی پچھلی طرف ہوتیں اوراگرکوئی کالااگلی سیٹ پر بیٹھ جاتاتواسے گولی ماردی جاتی اوراگرکوئی گوراپچھلی سیٹ پربیٹھنے کی جسارت کرتاتولوگ اسے طعنے مارمار کرماردیتے ۔لندن شہرمیں آج بھی کالےرنگ کی ٹیکسیوں کارواج ہےجس میں ڈرائیورکی سیٹ اورسواریوں کے درمیان شیشے کی دیوار فکس ہے جس کی کھڑکی صرف مسافرکھول سکتا ہے تاکہ ڈرائیورکی حیثیت،مرتبہ اوراس سے بات کرنے کاتعین بھی وہی کرے جوپچھلی سیٹ پر براجمان ہے۔ صدیوں تک فرعونوں، شہنشاہوں، آمروں، ڈکٹیٹروں اوران کے چھوٹے چھوٹے کارپردازوں کی سواریاں بھی ایسی تھیں کہ ان کاعام لوگوں سے کوئی تعلق نہ رہے۔ دھول اڑاتی یہ سواریاں جہاں عوام الناس کا مذاق اڑاتی تھیں وہاں ان سواریوں پرسفرکرنے والے بھی انسانوں کے درمیان تمیز،فرق اورآقااورغلام کے قانون میں بٹے ہوئے تھےلیکن اس کے ساتھ ساتھ کئی ایک مناظرایسے بھی یہاں دیکھنے کوملتے ہیں جس کو دیکھتی آنکھیں اپنے اندرصدیوں محفوظ کر لیتی ہیں۔چندسال پہلے پاکستان کے فوراسٹار جنرل میرے ساتھ گاڑی میں جارہے تھے کہ اچانک ٹریفک سگنل پرگاڑی کھڑی کی توساتھ والی لین میں برطانیہ کے وزیراعظم بھی اشارہ کھلنے کے منتظر تھے۔میں نے فوری طور پراپنے مہمان کو ساتھ والی لین کی طرف دیکھنے کی دعوت دی اورکہا،کیاآپ جانتے ہیں کہ اس گاڑی میں پچھلی سیٹ پربیٹھاہواشخص اس ملک کاوزیرِاعظم ہے ۔میں نے وزیراعظم کی طرف دیکھ کرجونہی ہاتھ ہلایاتواس کے جواب میں اس نے کئی مرتبہ ہاتھ ہلاتے ہوئے شکریہ اداکیااور اسی اثنا میں ٹریفک سگنل کھل گیااورہم دونوں اپنی اپنی راہ پرچل دیئے۔ میرے مہمان نے باقی ساراسفر نہائت خاموشی میں گزارا، پتہ نہیں اس خاموشی میں کوئی ندامت تھی یا میرے سوال کاان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
ہمارے ہاں صدراوروزیراعظم اول توعوام سےکوسوں دورہیں لیکن اگرکبھی نکلناپڑے تو سینکڑوں گاڑیوں کے سائرن بجاتے ہوئے قافلے کے جلومیں نکلتے ہیں۔اعلی عدلیہ کے چیف جسٹس بھی بیس گاڑیوں کے سکواڈمیں آتے جاتے ہیں،ملک کے وزیرِداخلہ جن کے ذمے اس ملک کے شہریوں کی سلامتی کی ذمہ داری ہے،وہ اس وقت کہیں نہیں جاتے جب تک ایک بھاری سیکورٹی گارڈان کوچاروں طرف سیکورٹی فراہم نہیں کرتے۔اب تومعمولی وزرابھی سیکورٹی اورسائرن والی گاڑیوں کے بغیرسفرنہیں کرتے۔تکبر،غروراور گھنٹوں ساتھ چلنے،آرام پہنچانے والے شخص سے کراہت اور دوری کے اس ماحول میں پتہ نہیں کیوں مجھے اپناماضی یاد آجاتا ہے اوراسلاف کے وہ معیارآنکھوں کے سامنے گھومنے لگتے ہیں ۔روم کے بادشاہوں کی طرح رہن سہن اورلباس پہننے والوں عیسائیوں کے بیت المقدس پرجب پھٹے پرانے کپڑے پہننے والے مسلمانوں نے فتح حاصل کی توشہرحوالےکرنےکے لئے خلیفہ وقت حضرت عمرفاروق کاانتظارتھا۔ایک گھوڑاجس کے سم گِھس کربیکارہوچکے تھے،رک رک کرقدم رکھتاتھا،اس کے ساتھ خلیفہ وقت اورفاتح ایران وشام عمرابن خطاب اورغلام موجود۔طے ہواکہ آدھاراستہ غلام سواری کرے گااورآدھاراستہ خلیفہ ۔بیت المقدس قریب آیاتوباری غلام کی آگئی اورپھرتاریخ نے انسانی احترام کاعجیب و غریب منظردیکھا۔غلام گھوڑے پرسواراور خلیفہ وقت باگ تھامےبیت المقدس میں داخل ہوئے۔شاہی کروفراورلباس پہنے رومی عیسائی صرف ایک فقرہ بول سکے”ایساہی شخص عزت کا مستحق ہے اورایسے ہی شخص کوفتح نصیب ہواکرتی ہے۔اس تاریخی فقرے کے بعدبھی اگر کوئی مجھ سے سوال کرتاہے کہ ہم دنیامیں ذلیل ورسواکیوں ہیں،بے آبرواوربے آسراکیوں ہیں،تومجھے کوئی حیرت نہیں ہوتی!
ہمارے وزیراعظم امریکہ 21ستمبرکوبرطانیہ اورامریکہ کے دورے پرروانہ ہورہے ہیں جہاں ان کی ملاقاتیں عالمی مالیاتی اداروں سے بھی ہونی ہیں جن کے بارے میں ان کوکہناہے کہ یہ ادارے ناک کی لکیریں نکلوانے کے بعدسودی قرض جیسی لعنت دینے کاوعدہ کریں گے۔
رہے نام میرے رب کاجس کے ہاتھ میں عزت وذلت ہے۔